انسانی حقوق کا ایک ہفتہ کیا ہماری سوچ کو تبدیل کر سکتا ہے؟
انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ، جسے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 10 دسمبر 1948 کو منظور کیا تھا، جو اعلامیہ دوسری جنگ عظیم کے تجربے کا نتیجہ تھا۔ اس جنگ کے خاتمے، اور اقوام متحدہ کے قیام کے ساتھ، بین الاقوامی برادری نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اس تنازعہ جیسے مظالم کو دوبارہ کبھی نہیں ہونے دیں گے۔ عالمی رہنماؤں نے ہر جگہ ہر فرد کے حقوق کی ضمانت کے لیے ایک روڈ میپ کے ساتھ اقوام متحدہ کے چارٹر کی تکمیل کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے جس دستاویز پر غور کیا، اور جو بعد میں انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ بن گیا، اسے 1946 میں جنرل اسمبلی کے پہلے اجلاس میں اٹھایا گیا تھا۔
پچھتر سال پہلے، انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے نے دنیا میں ایک اجتماعی امید کی کرن پیدا کردی اور اس کرن پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ دنیا کے مختلف خطوں، عقائد اور فلسفوں کی نمائندگی کرنے والے لوگوں نے ایک مسودہ تیار کیا جسے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اپنایا، جس کو ہم انسانی حقوق کا نظریہ کہتے ہیں۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ امریکہ کی بنیاد ایک نظریہ پر رکھی گئی تھی، جو کہ دنیا کی تاریخ میں اب سب سے طاقتور ترین نظریہ بن گیا ہے جسے انسانی حقوق کا نظریہ کہتے ہیں۔ آج، امریکہ اپنے شراکتی اداروں اور اتحادیوں کے ساتھ بنیادی آزادیوں اور انسانی حقوق کا دفاع جاری رکھے ہوئے ہے۔ آج اس نظریے کے ماتحت آزادی کا شعلہ اب بھی ہر جگہ آزاد لوگوں کی روحوں کو روشن کرتا ہے۔
آج، جب ہم انسانی حقوق کا ایک ہفتہ منا رہے ہیں، اور جس ملک میں ہم رہتے ہیں وہاں انسانی حقوق کی بات کرنا جرم سمجھا جاتا ہے۔ کیوں کہ آئین کی پاسداری کیے بغیر حقوق کا تحفظ نہیں ہو سکتا۔ آئین ملک کا ہو یا اقوام متحدہ کا ہو ہر آئین انسانی تحفظ اور انسانی حقوق کی پاسداری کرتا ہے۔
اس اعلامیے کا اعلان 10 دسمبر 1948 کو پیرس میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے کیا تھا اور اس میں پہلی بار بنیادی انسانی حقوق کا عالمی طور پر تحفظ کیا گیا تھا۔ جسے کمیشن برائے انسانی حقوق مختلف سیاسی، ثقافتی اور مذہبی پس منظر سے تعلق رکھنے والے اٹھارہ ارکان پر مشتمل تھا۔ امریکی صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ کی بیوہ ایلینور روزویلٹ نے ڈرافٹنگ کمیٹی کی سربراہی کی۔ ان کے ساتھ فرانس کے رینے کیسین تھے، جنہوں نے اعلامیہ کا پہلا مسودہ تیار کیا، لبنان کے کمیٹی کے نمائندے چارلس ملک، چین کے وائس چیئرمین پینگ چنگ چانگ اور کینیڈا کے جان ہمفری، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ڈویژن کے ڈائریکٹر، جنہوں نے اس کو تیار کیا۔
اعلامیہ کا خاکہ لیکن مسز روزویلٹ کو اعلامیہ کو اپنانے کی محرک قوت کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ تب سے انسانی حقوق کے تحفظ کے ایک توسیعی نظام کی بنیاد کے طور پر کام کر رہا ہے۔
انسانی حقوق کی بات کرتے ہوئے اکثر نوجوانوں کو اپنے حقوق کے استعمال میں خاص چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جب کہ نوجواں اکثر انسانی حقوق کی سرگرمی میں سب سے آگے ہوتے ہیں، نوجوانوں کی شمولیت اس اقدام کا ایک اہم جز ہے۔ اس طرح کی شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے، یوتھ ایڈوائزری گروپ قائم کیا گیا۔ جو انسانی حقوق 75 کی سرگرمیوں کے ڈیزائن، نفاذ اور پیروی میں حصہ لیتا ہے۔ انسانی حقوق کا دن گزشتہ دہائی کے دوران امتیازی سلوک، تنوع، تعلیم، آزادی، غربت اور مساوات جیسے اہم مسائل پر بھی توجہ دیتا ہے، ان حقوق میں سماجی، اقتصادی اور سیاسی مسائل شامل ہیں۔
(ایلینور روزویلٹ، امریکی نمائندہ اور کمیشن برائے انسانی حقوق کے چیئرمین نے 9 جون 1947 کو کمیشن کے تیسرے اجلاس میں یو ایس ایس آر کے نمائندے پروفیسر ولادیمیر ایم کورٹسکی کا خیرمقدم کیا۔ )
بین الاقوامی انسانی حقوق کا قانون ان ذمہ داریوں کا تعین کرتا ہے جن کا احترام ریاستیں کرنے کی پابند ہیں۔ بین الاقوامی معاہدوں کا فریق بن کر، ریاستیں بین الاقوامی قانون کے تحت انسانی حقوق کا احترام، تحفظ اور ان کی تکمیل کے لیے ذمہ داریاں اور فرائض سنبھالتی ہیں۔ احترام کی ذمہ داری کا مطلب یہ ہے کہ ریاستوں کو انسانی حقوق میں مداخلت یا اس میں کمی کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ تحفظ کی ذمہ داری ریاستوں سے تقاضا کرتی ہے کہ وہ افراد اور گروہوں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے تحفظ فراہم کریں۔
بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں کی توثیق کے ذریعے ملکی قانونی نظام انسانی حقوق کا بنیادی قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے جس کی بین الاقوامی قانون کے تحت ضمانت دی گئی ہے۔ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی معیارات کا مقامی سطح پر واقعی احترام کیا جائے، ان پر عمل کیا جائے اور نافذ کیا جائے۔
مگر ہم جس ملک میں زندگی بسر کر رہیں ہیں ہر روز انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ قانون اور آئین کا مذاق کوئی ہم سے سیکھے ہم قانون بناتے بھی ہیں اور خود توڑتے بھی ہیں۔
عالمی ادارے کی جانب سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے، جہاں ریاستی اور غیر ریاستی عناصر انسانی حقوق کے کارکنان کو دھمکا رہے ہیں۔
2021 میں عورتوں، مذہبی اقلیتوں اور خواجہ سراء افراد کو تشدد، امتیازی سلوک اور مظالم کا سامنا رہا جبکہ حکام انہیں مناسب تحفظ دینے اور مجرموں کی سرکوبی کرنے میں ناکام رہے۔
پاکستان بھر میں عورتوں اور لڑکیوں پر تشدد بشمول ریپ، قتل، تیزاب کے حملے، گھریلو تشدد اور جبری شادی ایک سنگین مسئلہ بنا رہا ہے۔ انسانی حقوق کے دفاع کاروں کے اندازے کے مطابق، ہر سال ایک ہزار عورتوں کو نام نہاد عزت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے۔
پاکستان میں ابھی بھی 18 فیصد لڑکیاں 18 برس کی عمر سے پہلے بیاہ دی جاتی ہیں جبکہ 4 فیصد کی شادی 15 برس کی عمر سے پہلے ہو جاتی ہے۔ مذہبی اقلیتوں کی عورتیں خاص طور کا نشانہ بنتی ہیں۔ حکومت نے اس قسم کی شادیوں کی روک تھام کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے۔
یہاں تک کہ کوویڈ 19 وبا سے پہلے بھی، پاکستان میں پرائمری تعلیم والی عمر کے پچاس لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اسکولوں کی قلت، تعلیم کے ساتھ جڑے اخراجات، بچپن کی شادی، بچوں کی خطرناک مشقت، اور صنفی امتیاز کی وجہ سے بچیاں اسکول نہیں جا پاتیں۔

