جریب کش اور یولکا: یوگوسلاویہ سے آئیو ایندریک کا افسانہ
آج صبح جریب کش ”پ“ نے جس کا تعلق ”س“ سے تھا، میری دہلیز پر اپنا تعارف کرایا۔ وہ ان ملاقاتیوں میں سے ایک تھا جو ضد یا اپنی ثابت قدمی کے ذریعے زبردستی گھر میں داخل نہیں ہوتے، بلکہ نچلی منزل پر واقع نشست گاہ میں اچانک نمودار ہو جاتے ہیں، غالباً وہ تحمل اور سکون سے مالا مال ہوتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ ہوش میں آتا، اس ملنسار اور بن بلائے مہمان کو اپنے سامنے بیٹھے دیکھا۔ وہ ایک ادھیڑ عمر، پستہ قد اور وضع قطع سے ایک بے کشش آدمی تھا۔ ہم خاموش بیٹھے تھے۔ اس کی نظریں فرش پر مرکوز تھیں اور میں اس کا جائزہ لے رہا تھا۔ وہ سادہ، لیکن صاف ستھرا لباس پہنے ہوئے تھا، جیسا کہ صوبائی قصبوں میں چھٹیوں پر لوگ پہنتے ہیں۔
”جریب کش پ۔ س سے۔“ اس نے ہر لفظ پر زور دیتے ہوئے پھر دہرایا۔
میں نے پھر اپنی یادداشت پر زور ڈالا، لیکن میری یادوں کے نہاں خانوں میں پرانے اور موجودہ واقف کاروں میں یہ نام یا چہرہ موجود نہیں تھا۔ میرا مہمان نہ صرف صبر سے انتظار کرتا رہا، بلکہ میری مدد کرنے کی کوشش بھی کی۔ وہ بہت عرصہ پہلے۔ بلغراد سے نووی سد تک کے درمیان ریل میں کسی ملاقات کے بارے میں بات کر رہا تھا۔ مجھے یاد کرنے میں کچھ دقت اور وقت لگا۔ پھر دھیرے دھیرے میری یادوں میں جنگ کے بعد کا دور ابھر آیا۔ اس جنگ کے بعد، یعنی ہماری صدی کی بیسویں دہائی، موسم گرما، جولائی کی گرمی، جو صرف ڈینوب کے میدان کا خاصہ ہے۔ دن کا درمیانہ حصہ، بلغراد ریلوے اسٹیشن، جہاں ہمیشہ کچھ نہ کچھ توڑا اور بنایا جاتا ہے، آج گرمی کی وجہ سے موقوف ہو چکا ہے۔
میں نووی سد کی جانب عازم سفر ہوں۔ جوں ہی تیسرے درجے کے ڈبے میں داخل ہوتا ہوں۔ وہ مجھے خالی نظر آتا ہے۔ یہ بتیس نشستوں والی کشادہ گاڑیاں ہیں، بغیر کسی پارٹیشن کے، ان میں ہوا اور روشنی بہت زیادہ ہے، گویا یہ اجتماعی سیاحت یا شادی کی برات کے لیے خصوصی طور پر بنائی گئی ہیں، ان میں مسافر آزادانہ نقل و حرکت کر سکتے ہیں، جگہ تبدیل کرنے کے ساتھ باتیں، گلے لگنا اور گا بھی سکتے ہیں۔ ڈبے کے داخلی دروازے کے پیچھے ایک آدمی گھبراہٹ میں سوٹ کیس کے تالے کو اپنی انگلیوں سے چھیڑ رہا ہے، جسے اس نے گود میں رکھا ہوا ہے۔
وہ یوں کھڑا ہوتا جیسے میرے لیے اپنے پاس جگہ بنانا چاہتا ہو۔ میں اس کے قریب صرف ایک لمحے کے لیے ٹھہرتا ہوں اور اس ارادے سے ڈبے پر نظر دوڑاتا ہوں کہ کہیں دور بیٹھ جاؤں۔ تاکہ سکون سے پڑھ سکوں اور ہم سفروں کی بات چیت سننے یا ان میں حصہ لینے پر مجبور نہ ہوں۔ پستہ قد آدمی اس لمحے کا فائدہ اٹھاتا ہے اور رسمی طور پر، لیکن عجلت میں اپنا تعارف کراتا ہے، جیسے وہ یہاں ایک طویل عرصے سے میرا انتظار کر رہا ہے اور مجھے کسی بھی قیمت پر روکنا چاہتا ہے۔ ”جریب کش پ۔ س سے۔“
میں اپنی شناخت ظاہر نہیں کرتا، صرف اتنا جواب دیتا ہوں۔ ”مجھے خوشی ہوئی۔“ اور ڈبے کے دوسرے سرے کی طرف بڑھ جاتا ہوں۔
وہ ایک لمحے کے لیے مایوس اور شش و پنج میں مبتلا کھڑا رہتا ہے۔ پھر اپنا سوٹ کیس سر کے اوپر جال میں پھینکتا ہے اور کونے میں اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھ کر بیٹھ جاتا ہے، مخنی، چھوٹے سر اور سلگتی آنکھوں کے ساتھ آزردہ آدمی، جیسے بھولی ہوئی مخلوق ہو، نمایاں طور پر گھبرایا ہوا، لیکن بالکل بے حرکت۔ میں بیٹھا بظاہر مطالعہ کرتا رہتا ہوں، لیکن جب بھی وقتاً فوقتاً سر اٹھاتا ہوں، میری نظریں ڈبے کے دوسرے سرے پر بیٹھے اس آدمی کی خوفزدہ نگاہوں سے جا ملتیں ہیں۔
یوں لگتا ہے کہ اس کی پیاسی آنکھیں مجھے پکار رہی ہیں اور التجا کر رہی ہیں کہ مجھے جانیں، مجھ سے بات کریں۔ میری ایسی کوئی خواہش نہیں ہے۔ لہذا میں نظریں جھکائے مطالعہ جاری رکھتا ہوں۔ صرف دو تین لوگ زیمون (بلغراد کا قصبہ) سے ڈبے میں سوار ہوتے ہیں، لیکن وہ مجھ سے کچھ فاصلے پر بیٹھ جاتے ہیں، خوش قسمتی سے وہاں کافی نشستیں خالی ہیں۔
ٹرین ایک سادہ مسافر گاڑی ہے۔ وہ بہت آہستہ چل رہی ہے۔ پرانی، پھٹیچر، پرشور، جھٹکے لیتی اور اس قدر لرزتی کہ پڑھنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس کے باوجود میں کتاب کو اپنے سامنے پکڑے رکھتا ہوں، حالاں کہ سطریں ناچتی اور اچھلتی رہتی ہیں۔
آخرکار ہم نووی سد پہنچ جاتے ہیں۔ میں کھڑا ہوتا ہوں، کتاب اپنے تھیلے میں ڈالتا ہوں اور باہر نکلتا ہوں۔ میں جان بوجھ کر گاڑی کے دوسرے کونے کی طرف دیکھنے سے گریز کرتا ہوں، جہاں میرا ہم سفر، زمین کا سروے کرنے والا بیٹھا ہے، جس کی نگاہیں مجھے سارے راستے پریشان کرتی رہی ہیں۔ ڈبے سے نکل کر پلیٹ فارم پر قدم رکھتے ہی مجھے مڑ کر گاڑی کی کھڑکیوں پر نظر ڈالنے کی شدید خواہش محسوس ہوتی ہے، لیکن میں اسے دباتا ہوں اور پلٹ کر نہیں دیکھتا۔
٭٭٭ ٭٭٭

اب وہ یہاں میرے گھر میں میرے سامنے بیٹھا ہے، بالکل اسی طرح جیسے میں نے اسے ایک گرم دن ٹرین میں دیکھا تھا۔ وہ دھیمے اور یکساں لہجے میں بول رہا ہے جیسے کسی اور کے بارے میں بات کر رہا ہو۔
میں جو اس کی بات سمجھا۔ اس کے مطابق اس کی قبر ایک چوتھائی صدی سے ”س“ کے قبرستان میں موجود ہے۔ اسی سال نومبر کے ایک دن جب ہم گاڑی میں ملے تھے۔ اس کے تین دن بعد سروے کرنے والے کی لاش گدلی ندی کے پانی میں دریافت ہوئی تھی۔ س کے تقریباً تمام باشندے جنازے میں شرکت کے لیے آئے اور جنازہ ادا کیا۔ کسی کو شک نہیں تھا کہ اس نے خودکشی کی ہے۔ حالانکہ ڈاکٹر اور جج پر مشتمل کمیشن نے کوئی حتمی نتیجہ نہیں دیا تھا۔ تاہم لوگوں کا خیال تھا کہ یہ شخص بے نام ندی کے گدلے پانی میں ڈوبنے سے پہلے ہی مر گیا تھا۔ اسے قصوروار ٹھہرانا نا انصافی ہے۔ وہ وضاحت کر رہا ہے کہ میرے پاس آنے کی وجہ یہ ہے کہ میں ٹرین میں اس گرم دن کے سفر سے اس گفتگو کا مقروض ہوں۔
برسوں کی ایک لڑی اور قسم قسم کی ذمہ داریاں، رسمی اور حقیقی، مکمل اور نامکمل، ایک گدلے بھنور کی طرح میرے اندر ابھریں۔ ٹرین میں اس بھولی بسری ملاقات پر مجھے پچھتاوا محسوس ہوا۔ پھر دفعتاً مجھ پر انکشاف ہوا کہ لوگوں کے ساتھ ملاقاتیں اور بات چیت سے گریز کرنا اچھا امر نہیں، جس کی وہ اکثر ہم سے توقع کرتے ہیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ بات چیت ہمیں کتنی بے معنی لگتی ہے اور اس سے بھی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کتنی تکلیف دہ ہوتی ہے۔
یہ غیر منصفانہ بات نہیں ہے۔ کیوں کہ اگر خود غرضی اور سکون کی خواہش ہمیں ایسے اعتراف سے بچنے میں مدد دیتی ہے جو ہمارے لیے غیر ضروری ہے، تب بھی بعد میں یہ سب شرمندگی سے سننا پڑتا ہے۔ ایک یاد یا خواب ہمیں ایسا کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ پھر یہ مشکل اور زیادہ ناخوش گوار ہوتی ہے۔ مجھے مہمان کی آواز نے خیالات سے چونکا دیا۔ ”میں یہاں آیا ہوں۔“ وہ سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے قدرے بلند اور پختہ لہجے میں بولا۔ ”میں آپ سے پوچھنے آیا ہوں۔“
”یہاں“ کے لفظ پر کمرے میں ہلکی سی دھند چھا گئی، جو پھر تیزی سے گاڑھی ہوئی اور اسے پوری طرح نگل لیا، بعد ازاں ہم اچانک پرانی تیسرے درجے کی گاڑی میں نمودار ہوتے ہیں جو لڑکھڑاتی اور گرجتی چلی جا رہی ہے۔ بلغراد سے نووی سد تک۔ گاڑی میں صرف میں اور وہ ہیں۔ اس سڑک پر واقع ایک قصبے کا جریب کش۔ اس بار میں اس کے پاس بیٹھا ہوں۔ مختصر تعارف اور کچھ ہچکچاہٹ کے بعد ، اس نے اپنی طویل اور عجیب کہانی شروع کی۔ وہ اس طرح بول رہا تھا جیسے اعتراف کر رہا ہو، اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھے، بغیر اٹکے اور نظریں جھکائے۔ پہلے میں کچھ خجالت اور بے اعتباری سے سنتا رہا، لیکن پھر کہانی کے سحر اور تجسس کے آگے مکمل طور پر جھک گیا۔ میری گود میں وہ کتاب بند پڑی تھی جو میں اپنے ساتھ سفر میں لے کر نکلا تھا۔
٭٭٭ ٭٭٭
اس دور افتادہ قصبے میں جہاں سروے والا اپنی جوان اور غیر معمولی طور پر حسین بیوی کے ساتھ رہتا تھا۔ وہاں کی آب و ہوا اچھی اور صحت مند تھی۔ وہاں لوگ بہت سی تفریحی سرگرمیوں میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے اور آمدنی بھی بہترین تھی۔ جریب کش کو پریشانی یہ تھی کہ وہ کیسے کہہ سکتا تھا؟ کہ وہ شادی شدہ ہے۔ کیونکہ اسے اکثر اپنی بیوی یولکا کو قریبی اور دور دراز شہروں میں ڈھونڈنا پڑتا تھا، جہاں ان کے درمیان ناراضگی کے بعد اسے گھر سے نکل جانے کی عادت تھی۔
(آج بھی وہ ایک ایسے سفر سے خالی ہاتھ لوٹ رہا تھا۔ ) وہ کہہ رہا تھا۔ یولکا آغاز سے ہی اجنبیوں کی طرف راغب ہے اور ہمارے شہر کے لوگ خوش مزاج ہیں۔ اکثر فوجی اور افسران ہیں، لیکن آپ جانتے ہیں کہ امن کے زمانے میں فوج گرمیوں میں چولہے کی طرح ہوتی ہے۔ افسروں کی سیر و تفریح مشہور ہے، فارغ وقت بہت ہے، وہ کہیں بھی آ جا سکتے ہیں۔ آپ ان کو منع نہیں کر سکتے۔ کبھی کبھی وہ آدھی رات کے بعد نکلتے ہیں۔ یہاں سربیا سے سنہرے بالوں والا ایک کپتان ہے، پہلے دن سے میں اسے پسند نہیں کرتا۔
آپ جانتے ہیں میں رقص نہیں کرتا، لیکن وہ گراموفون بجاتے اور رقص کرتے ہیں اور یولکا سب سے زیادہ اس کپتان کے ساتھ ناچتی ہے۔ جب دوسرے ناچ میں مصروف ہوتے ہیں۔ وہ جوڑا اکثر اگلے کمرے میں چلا جاتا ہے اور وہاں ملگجا اندھیرا چھا جاتا ہے۔ بس میز پر ایک نائٹ لیمپ کی روشنی نارنجی ریشم کے نیچے چمکتی ہے۔ ایک دفعہ میں راہداری کے دوسرے دروازے سے اس کمرے میں گیا۔ وہ گھبرا کر کھڑے ہوئے اور ساکت ہو گئے۔ جیسے بے حس ہو گئے ہوں۔ پھر کپتان نے اس کا ہاتھ چوما۔ میں نے قریب جاکر اس سے سنجیدگی سے کہا: ”براہ کرم، میں آپ سے التجا کرتا ہوں!“
میں نے یولکا پر توجہ نہیں دی تھی۔ پھر جوں ہی مہمان گئے۔ میں نے اسے سنجیدگی سے تنبیہ کی: ”یولکا! خود پر قابو رکھو! میری یہاں عزت ہے اور اس عزت کا خیال رکھنا تمھارا فرض ہے۔“
وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ ان الفاظ کا کیا مطلب ہے، لیکن اس نے میری بات کو درخور اعتنا نہ سمجھا، اسے کوئی پروا نہیں تھی۔ اس بات کو ابھی ایک ہفتہ بھی نہیں گزرا، وہ پھر کسی فوجی یا سویلین (اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا) کے ساتھ ملنا جلنا اور سرگوشیاں شروع کر دیتی۔ اسے سمجھنا بہت مشکل ہے، آپ نہیں جان سکتے کہ وہ کیا سوچ رہی ہے، وہ کہاں دیکھ رہی ہے۔
جناب مجھے بہت کام ہوتے ہیں زمین کی پیمائش کے لیے اکثر جگہوں پر جانا پڑتا ہے اور جب میں واپس آتا ہوں تو مجھے گمنام خطوط موصول ہوتے ہیں، یہاں تک کہ رشتہ دار آتے ہیں اور یولکا کی ملاقاتوں کے بارے میں بتاتے ہیں۔ میں نے اسے سمجھایا کہ اس طرح رہنا ممکن نہیں اور یہ اچھی بات نہیں ہے، وہ مجھ سے متفق ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ ہر بات کو جانتی ہے، لیکن کرتی وہ ہے جو اس کا دل چاہتا ہے۔ یہ سب کچھ تین سال سے ہو رہا ہے۔
میں اسے واضح اور قابل فہم انداز میں سمجھاتا ہوں، کوئی شخص اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتا۔ وہ خاموشی سے سنتی ہے، میری طرف دیکھتی ہے، لیکن آپ غور کریں، اس کی نگاہوں کا جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ وہ میری آنکھوں میں نہیں دیکھ رہی، بلکہ پیٹھ کے پیچھے کھلے دروازے سے کچھ فاصلے پر کہیں میلے میں مسخروں اور سرکس کے اداکاروں کے جگمگاتے روشن بوتھ دیکھ رہی ہے۔ میں اس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑتا ہوں اور اسے مجبور کرتا ہوں کہ وہ میری آنکھوں میں دیکھے اور میری بات سنے۔ وہ ہوش میں آ جائے گی، کانپے گی اور شرمندہ بھی ہوگی۔
”ہاں، میں سن رہی ہوں۔“ وہ کہتی ہے۔ کیا فائدہ اگر ایک عورت آدھے منٹ کے لیے بھی اپنے خیالات مجتمع نہ کرسکے۔ ایک پریشان شخص کی بات نہ سن سکے؟ اسے کیا فکر ہے۔ وہ صرف اتنا جانتی ہے کہ ہر وہ چیز جو مجھ سے متعلق ہے، یعنی گھر، خاندان اور سنجیدہ معاملات ان کی اسے کوئی پروا نہیں ہے۔ اگر کبھی وہ میری بات سننے بھی لگے، تو دو منٹ بھی نہیں گزرتے کہ اس کی نگاہیں ہٹ جاتی ہیں اور پیچھے کہیں دور دیکھ رہی ہوتی ہے۔ جہاں سرکس کے میدان میں شیطان ناچ رہا ہوتا ہے۔ میں اس کی آنکھوں کی چمک سے سمجھ جاتا ہوں۔ میں اس کی بے اعتنائی پر جزبز ہوتا ہوں۔ مگر آپ کسی کو اپنی طرف دیکھنے پر کیسے مجبور کر سکتے ہیں؟ ”
بہت غور و خوض کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ وہ میری زیادہ تر باتیں نہیں سنتی۔ وہ سننا اور اپنی سماعت کو پریشان کرنا نہیں چاہتی۔ وہ صرف سننے کا ناٹک کرتی ہے۔ یہ امر نرم مزاج آدمی کو بھی مشتعل کر سکتا ہے۔ وہ شائستگی کو چھوڑ سکتا ہے۔ میں ایسا بالکل نہیں ہوں، میرے لیے شرافت سب سے بڑھ کر ہے۔ میری بات سننا اس کا فرض ہے، لیکن وہ اپنی بصارت اور سماعت دونوں بند کر لیتی ہے۔ وہ خدا جانے کن خیالوں میں گم ہوتی ہے۔ اگر بولے تو ایسا لگتا ہے کہ اس کی جگہ کوئی گراموفون ہے، جو صرف یہ دہراتا ہے : ”ہاں، ہاں۔ یہاں، یہاں۔“
ایک روبوٹ کی طرح۔ میں کبھی کوئی بات کر رہا ہوں۔ وہ سر ہلاتی ہے اور اتفاق کرتی ہے۔ وہ جملے کے اختتام کا انتظار بھی نہیں کرتی کہ میں نے کیا کہا ہے۔ بہرحال یہ آدمی کی توہین ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ خاوند چاہے جتنا پڑھا لکھا اور معصوم فطرت ہو، لیکن حالات ایسے ہو جائیں تو پرورش کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ جب کوئی حقارت بھرا رویہ رکھے، آپ پر توجہ نہ دے، بات نہ سنے اور سوال کا جواب نہ دے، جیسے وہ کسی طفل یا بیوقوف کے ساتھ پیش آ رہا ہو تو خون آپ کے سر کی طرف دوڑنے لگتا ہے۔ آپ کو اپنا دفاع کرنے اور یہ ثابت کرنے کی فوری ضرورت ہوتی ہے کہ آپ ابھی زندہ اور سمجھدار ہیں۔
میں نے ایک دن پوچھا: ”یہ، ہاں ہاں کیا ہے؟“
وہ ایک لمحے تک خاموش رہی، چہرے پر الجھن اور ناراضگی کا تاثر ابھرا، پھر وہ ہکلاتے ہوئے بولی۔ ”اچھا۔ تم کیا کہہ رہے ہو؟“
”میں کیا کہہ رہا ہوں؟“ میں کرسی سے اچھلا اور چیخا۔
وہ اہانت محسوس کر کے رونے لگی ہے۔
٭٭٭ ٭٭٭
بس جناب یہ ایک خاص معاملہ ہے۔ میں آپ کو اس کی سسکیوں، آنسوؤں، متورم ہونٹوں اور سرخ آنکھوں کے بارے میں کیسے بتاؤں؟ اف یہ مایوس کن، بے سبب آنسو! بہرحال، یہ ایک قدرتی آفت ہے جو وقتاً فوقتاً مجھ پر نازل ہوتی ہے اور گھر کی ہر چیز کو الٹ پلٹ کر دیتی ہے۔ بلی کی پیٹھ کوہان کی طرح کھڑی ہوجاتی ہے اور وہ کمروں میں بھاگنا شروع کر دیتی ہے، یولکا کا کتا مسلسل بھونکنے کے ساتھ ہمارے ارد گرد دوڑتا ہے، پڑوسیوں کے دروازے اور کھڑکیاں کھل جاتی ہیں۔ وہ ہمارے گھر کی سمفنی سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں اور سب سے بری بات یہ ہے کہ میں ان آنسوؤں پر ان کی سچائی پر یقین نہیں رکھتا۔ یولکا جیسے اجلی رنگت کے لوگ جب روتے ہیں تو مکمل طور پر بدل جاتے ہیں۔ ان کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے۔
جناب میں آپ کے گوش گزار کر رہا ہوں۔ اس کے آنسو عام خواتین کے آنسو نہیں ہیں، بلکہ ایک زلزلہ ہے، فرق یہ ہے کہ اس سے آسمان بھی ہل جاتا ہے۔ اگر آپ نے کبھی جنگل کی آگ دیکھی ہے تو وہ اس کی طرح ہے، جو کچھ نہیں چھوڑتی اور جسے کوئی چیز روک نہیں سکتی۔ جب وہ روتی ہے تو آپ اس کے قریب نہیں جا سکتے۔ آپ اس سے بات نہیں کر سکتے۔ اس کے رونے کا نہ تو کوئی وقت ہے اور نہ ہی وجہ۔ بس دنیا کا وجود ختم ہوجاتا ہے اور اس کے ساتھ گھر، خاندان اور میں بھی۔ اس کی چیخ و پکار میں سب غائب ہوجاتا ہے۔ مجھے ہمیشہ یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ سب دکھاوا ہے اور وہ اپنے آنسوؤں پر چپکے چپکے لطف اندوز ہوتی ہے۔
”خود پر قابو رکھو، یولکا!“ میں اسے پرسکون کرنے کی کوشش کرتا ہوں، لیکن وہ نئے جوش سے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتی ہے، جیسے میں نے جلتی ہوئی آگ پر پٹرول پھینک دیا ہو۔
جناب! یہ دورے عجیب ہیں، بہت عجیب۔ وہ غیر متوقع طور پر شروع ہوتے ہیں اور اسی طرح اچانک ختم ہو جاتے ہیں۔ ان کو برداشت کرنا مشکل ہے۔ یولکا مہینے میں کم از کم ایک بار جان لیوا ناراضگی کا اظہار کرتی ہے۔ یہ کب ہوتا ہے؟ یہ کہنا مشکل ہے اور اگر آنسو آزادانہ طور پر نہ بہیں تو اس سے بھی بدتر ہوتا ہے۔ وہ اچھلتی ہے، گھر میں غصے میں بھری ادھر ادھر دوڑتی ہے، اپنی چیزیں اکٹھی کرتی ہے اور بغیر کوئی وضاحت دیے، گھر چھوڑ کر اپنی ماں، کسی رشتہ دار، فارم یا پڑوسی شہر کے کسی ہوٹل میں چلی جاتی ہے۔
پھر میرا انتظار کرتی ہے۔ آخرکار جب میں اسے ڈھونڈتا ہوا وہاں پہنچتا ہوں۔ ہم ملتے اور صلح صفائی کرتے ہیں تو میں کوئی وضاحت طلب نہیں کرتا۔ یہاں تک کہ کسی نئے قضیے کے ڈر سے ہکلانے کی ہمت بھی نہیں کرتا۔ اگر آپ اس سے استفسار کریں کہ وہ کیا چاہتی ہے تو اس کا لگ بھگ جواب ہوتا ہے۔ ناچنا، چھوٹی چھوٹی باتیں اور ہر طرح کی بکواس۔ ایک بار جب میں نے اس پر زور دیا کہ وہ سب سے زیادہ کیا چاہتی ہے؟ تو اس نے جوش اور خوشی سے اعتراف کیا کہ وہ سامعین کی کثیر تعداد کے سامنے چمکتی ہوئی روشنی والے سرکس میں تار پر برہنہ رقص کرنا چاہتی ہے۔ وہ یوں بول رہی تھی گویا مجھ سے نہیں بلکہ کسی اجنبی سے بات کر رہی ہو، لیکن پھر فوراً اس بات سے بھی منحرف ہو گئی۔
”نہیں، نہیں میں بالکل نہیں چاہتی اور میں نے ایسا کبھی نہیں کہا۔“ وہ منہ در منہ جھوٹ بول دیتی ہے۔ میں حیران ہوں۔ یہ کیسی عورت ہے؟ اور میں اس کے ساتھ کیسے رہتا ہوں؟ بس تین سال یوں ہی گزر گئے اور حالات بہتر نہیں ہوئے۔ صاحب یہ آسان نہیں ہے! میں ایک خوش اخلاق آدمی ہوں، میرا دل نرم ہے۔ جب کوئی مرغی کا سر کاٹے تو میں منہ موڑ لیتا ہوں، لیکن مجھے لگتا ہے کہ ایک دن میں اپنے لیے کوئی نہ کوئی مصیبت کھڑی کرلوں گا۔ ”
جریب کش خاموش ہو گیا۔ اب وہ پہلے سے زیادہ پژمردہ، اداس اور دل شکستہ دکھائی دے رہا تھا۔ میں نے توقف کا فائدہ اٹھایا اور اس کی کہانی کا جادو جھٹک کر وہاں سے جانے کی تیاری کرنے لگا۔ ہم نووی سد کے قریب پہنچ رہے تھے۔ ٹرین گرجتی اور تیز سیٹیوں کے ساتھ ڈینوب کے پل کو پار کر گئی۔ انجن کے گاڑھے کالے دھویں، دھول اور سرمئی شام کی دھیمی روشنی نے ایسا تاثر پیدا کیا کہ جیسے ہم ٹرین میں نہیں بلکہ ایک لوہار خانے میں ہیں۔ میں گاڑی رکنے کا انتظار کیے بغیر کھڑا ہوا اور جریب کش کو الوداع کہا۔
اس نے اپنا کانپتا ہاتھ میری طرف بڑھایا اور پریشانی سے کہا۔ ”مجھ پر یقین کریں، میں ایسا کبھی نہیں کروں گا۔“
یہاں ہم جدا ہو گئے۔ میں نے اپنا چمڑے کا بیگ سنبھالا اور دروازے کی طرف بڑھا، لیکن ابھی اس تک پہنچا بھی نہیں تھا کہ اچانک تیسرے درجے کی گاڑی غائب ہو گئی۔ ہاں اچانک غائب ہو گئی، یہاں تک کہ دھند بھی نہیں رہی۔
ہم ایک بار پھر اپنی نشست گاہ میں تھے۔ سب کچھ اپنی جگہ پر موجود تھا، بس جریب کش اٹھ چکا تھا اور ایک چمکدار سائے کی طرح تیزی سے دروازے کی طرف بڑھ رہا تھا۔ میں اسے روکنا اور تفصیلی بات کرنا چاہتا تھا، لیکن وہ گویا اپنے وقت کی بہت قدر کرتا تھا۔ جیسے ہی بلغراد اور نووی سد کے درمیان ٹرین میں ہونے والی بات ختم ہوئی۔ اس نے مزید گفتگو سے گریز کیا اور جیسے ظاہر ہوا تھا ویسے ہی خاموشی اور پراسرار طریقے سے غائب ہو گیا اور میں بے قرار، گم سم اور غیر مطمئن بیٹھا رہا۔


