سقوط ڈھاکہ چند کتابوں کے آئینے میں
وہ لوگ جنہوں نے اکہتر سے پہلے ہوش سنبھالا ان کی یادوں اور یادداشتوں میں مشرقی پاکستان بھی ہے اور جو کچھ وہاں ہوا تھا وہ بھی۔ مگر وہ جو اکہتر کے بعد والے پاکستان میں پیدا ہوئے وہ یا تو کچھ جاننا نہیں چاہتے یا جو کوئی بتا دے وہ جان لیتے ہیں۔ کم ہی ایسے ہوں گے جو سچ جاننے کی مشقت جھیلنا چاہیں گے۔ سقوط ڈھاکہ کے بارے میں ہمارے ہان تین نقطہ ہائے نظر پائے جاتے ہیں۔ پہلا یہ کہ بھارت نے سازش کی اور ہمارا وطن ٹوٹ گیا، دوسرا یہ کہ بنگالی غدار اور علیحدگی پسند تھے اس لیے وہ ہم سے علیحدہ ہو گئے اور تیسرا یہ کہ ہم نے ان کو ان کا جائز مقام دینے سے انکار کیا تو یہ حادثہ پیش آیا جو اب ہمارے ماتھے کا داغ ہے اور نجانے کب تک رہے۔ یہ تینوں نقطہ ہائے نظر اگر پورا سچ نہیں بھی بیان کرتے تو اپنے اندر سچ کی جھلک ضرور لیے ہوئے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ سچ کہیں درمیان میں ہو گا اور دوسری معاشرتی سچائیوں کی طرح ذرا الجھا ہوا۔
ہمارے ہاں جب بھی یہ بولا جاتا ”او آئے جناں ٹاکے بمب چلائے (وہ آئے جنہوں نے ڈھاکہ میں بم چلائے تھے )“ تو میں سوچتا اس کا کیا مطلب ہو گا اور ڈھاکہ کون سی جگہ ہوگی۔ بولنے والے فخریہ بولا کرتے تھے۔ وقت گزرتا رہا اور ہم کتابیں پڑھنے کی عمر کو پہنچ گئے۔ ڈسکہ میں ایک لائبریری تھی جو ایک روپے میں تین دن کے لیے کتاب ادھار دیتی تھی، میں نے وہاں سے ادھار لے کر بہت سی کتابیں پڑھیں۔ طارق اسماعیل ساگر کی کتاب ”میں ایک جاسوس تھا“ پڑھی، کتاب نے اپنے اندر جذب کر لیا اور پھر میرے اندر جذب ہو گئی۔ کتاب کے آخر میں ہیرو کہتا ہے کہ میری کوشش لاحاصل رہی کیوں کے میرا ملک ٹوٹ چکا تھا۔ اس کا یہ جملہ میرے دماغ میں ٹھر گیا، میں نے سوچا میرا ملک کیوں ٹوٹا تھا۔
وقت پر لگا کر اڑتا رہا یہاں تک کے رسمی تعلیم کا پہلا دور مکمل ہوا اور غم روزگار کا آغاز ہوا۔ مجھے یہ الجھن ہونے لگی کہ یہ ہم لوگ ایسے کیوں ہیں، تشخص کی بے یقینی کا شکار۔ سوچا تاریخ بہت شروع سے پڑھوں تو کچھ معلوم پڑے۔ جب وہ مقام آیا تو حضرات سے پوچھا ڈھاکہ کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں، کہاں سے شروع کروں۔ کسی نے کہا صدیق سالک کی کتاب ”میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا“ سے شروع کرو اور جہاں تک جا سکو جانا۔ اس سلسلے میں کچھ پڑھا اور کچھ پڑھ رہا ہوں اور جو ملتا گیا پڑھتا رہوں گا جب تک زخم نہ بھر جائیں۔ ایک اور سولہ دسمبر سامنے ہے، سوچا سقوط ڈھاکہ کو چند کتابوں کے آئنے میں دیکھوں اور آپ کو دکھاؤں۔
پہلی کتاب کا نام ہے ”میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا“ اور اس کے مصنف ہیں صدیق سالک جو اکہتر کے ان دنوں میں اپنے وطن کے مشرقی حصے میں اپنی فوج کے ساتھ تعلقات عامہ کے افسر کے طور پر موجود تھے۔ فوجی آدمی ہونے کے علاوہ ایک اعلیٰ درجے کے ادیب بھی تھے، جسے شک ہو وہ ان کی کتاب ”پریشر ککر“ پڑھ لے۔ سالک نے جیسے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا، ویسا ہی بیان کر دیا۔ کتاب اس حوالے سے اہم ہے کہ یہ کم و بیش ہر اس واقعے کا ذکر کرتی ہے جو ان دنوں میں رونما ہوا۔
وہ امن و امان کی ہمارے ہاتھ سے نکلی ہوئی صورت حال ہو، ڈھاکہ یونیورسٹی کا آپریشن، ڈھاکہ میس پر ہونے والا حملہ، غیر بنگالیوں کا مکتی باہنی کے ہاتھوں ہونے والا قتل عام، شہر کے آپریشن سے پہلے اور بعد کے حالات، مکتی باہنی کی پر تشدد کاروائیاں، ان کے خلاف فوج کا آپریشن، گھر گھر کا سرچ آپریشن، لوگوں کی نفرت، جرنیلوں اور سیاستدانوں کی ناعاقبت اندیشی اور بد کرداری، بھارت کی شرمناک مداخلت اور وہ سیاہ دن جب ڈھاکہ ڈوب گیا۔ آپ مصنف کی رائے سے اختلاف کر سکتے ہیں مگر واقعات کے بیان سے نہیں۔ مصنف سب کو ڈھاکہ ڈوبنے کا ذمدار کرار دیتا ہے۔
دوسری کتاب کا نام ہے ”اکہتر کے وہ دن“ اور مصنفہ ہیں جہاں آرا امام، وہ بنگالی مصنفہ اور سیاسی کارکن تھیں۔ ان کا بیٹا رومی اور دوسرے عزیز مکتی باہنی کا حصہ بنے اور اپنے ملک کی فوج کے خلاف لڑتے ہوئے مارے گئے۔ خاوند مکتی باہنی کا جاسوس بنا، فوج کے ہاتھوں گرفتار ہوا اور رہائی کے بعد ہارٹ اٹیک سے فوت ہوا۔ کتاب دراصل جہاں آرا کی ان دنوں پر مشتمل ڈائری کے اوراق پر مشتمل ہے جو وہ لکھتی رہیں۔ ان کی کتاب آپ کو یہ بتائی ہے کہ اس پار کے لوگ واقعات کو کس نظر سے دیکھتے تھے۔ یہ وجہ بھی سمجھ آتی ہے کے نوجوان کیوں اپنے وطن سے غداری پر اتر آئے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ شیخ مجیب کی ہدایت حکم کا درجہ حاصل کر گئی۔ وہ الیکشن کے نتائج پر عمل چاہتے تھے ہم نے کچھ اور سمجھا اور پھر ڈھاکہ ڈوب گیا۔
تیسری کتاب پروفیسر سید سجاد حسین کی یادداشتوں کا مجموعہ ہے جو انہوں نے شیخ مجیب کی قید میں قلم بند کیں، کتاب کا نام ہے ”شکست آرزو The Wastes of Time“ ۔ مصنف ڈھاکہ یونیورسٹی کے آخری وائس چانسلر تھے جن کو ڈھاکہ ڈوبنے کے بعد عوامی لیگ کے لوگ نیم مردہ حالت میں سڑک پر پھینک گئے تھے۔ آپ کو ریڈ کراس کے لوگ ہسپتال لے گئے وہاں سے مجیب کی جیل میں پہنچے۔ کتاب ایک ایسے بنگالی کا بیان ہے جو پاکستانی تھا اور رہا بھی۔
کتاب یہ بتاتی ہے کہ تصویر کا دوسرا رخ کیا تھا۔ مصنف کے خیال میں شیخ مجیب اور عوامی لیگ نا صرف بدمعاشوں کا ٹولہ تھا بلکہ پرلے درجے کے نالائق بھی تھے۔ اگر حکومت اس کے حوالے کر دی جاتی تو صرف چھے ماہ میں وہی بنگالی عوام اسے اٹھا کر باہر پھینک دیتی۔ مصنف گو گلہ ہے کہ پاکستان نے اس معاملے پر کیوں معذرت خوانہ رویہ اپنایا۔ کتاب سے یہ معلوم ہوتا ہے کے اگر ہم نہ چاہتے تو ڈھاکہ کبھی نہ ڈوبتا۔
چوتھی کتاب ہے ”بنگلہ دیش ؛ ان کہی جدوجہد Bangladesh : untold Facts“ اور مصنف ہیں شریف الحق دالم، جناب پاکستان فوج میں کپتان تھے اور ان تین آفیسرز میں سے ایک تھے جو اکہتر میں کوئٹہ میس سے فرار ہو کر براستہ بہاولنگر بھارت پہنچے، وہاں سردار سورن سنگھ، وزیر خارجہ بھارت، سے ملے اور کرنل عثمانی کے ساتھ مکتی باہنی کو منظم کیا اور اپنے وطن سے غداری کی۔ جناب نے بعد میں شیخ مجیب ’کے دردناک قتل میں بھی حصہ لیا۔
بنگلہ دیش کے سفیر بھی رہے اور آج کل شیخ مجیب کے قتل کے سلسلے میں مطلوب ہیں۔ کتاب دو حصوں میں تقسیم ہے، پہلا حصہ مصنف کی پیدائش سے لے کر ڈھاکہ ڈوبنے تک کی کہانی بیان کرتا ہے جبکہ دوسرا حصہ بنگلہ دیش بننے کے بعد کیا ہوا اسے بیان کرتا ہے۔ فوج کے بنگالی آفیسرز کیا سوچتے تھے، مکتی باہنی کیسے بنی، کلکتہ میں بنگلہ دیش کی جلا وطن حکومت کیا تھی، بھارت کا شرمناک کردار کیا تھا، عوامی لیگ کی لیڈرشپ کتنے پست کردار کی مالک تھی یہ سب پہلے حصے میں ہے۔ جبکہ دوسرا حصہ یا بتاتا ہے کہ کیسے شیخ مجیب عوامی توقعات پر پورا نہ اتر سکا، کیسے اس کے اندر کا آمر باہر آ گیا اور پھر کیسے وہ بیدردی سے قتل کر دیا گیا۔ دالم کے خیال میں یحییٰ خان نے درست انتخابات کروائے تھے، مسئلہ صرف اقتدار کی منتقلی نہ ہونے سے پیدا ہوا تھا۔
پانچویں کتاب کا نام ہے ”مرے ہوؤں کی گنتی Dead Reckoning“ اور مصنفہ ہیں شرمیلا بوس جن کا تعلق کلکتہ بھارت سے ہے۔ کتاب دراصل مصنفہ کی پی ایچ ڈی کا مقالہ تھا جو اس نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے مکمل کیا۔ کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ کسی ایک آدمی کی یادداشتوں کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ خالص سائنسی بنیادوں پر لکھی گئی ہے۔ کتاب لکھتے وقت مصنفہ نے پاکستان، بنگلادیش اور بھارت میں موجود کرداروں سے ملاقات اور شواہد کا مطالعہ کیا۔ کتاب کا بنیادی مقصد ان اعداد و شمار کو پرکھنا تھا جو فریقین پیش کرتے رہے ہیں۔ جیسے شیخ مجیب کہتے رہے کہ ان دنوں میں تیس لاکھ بنگالی مارے گئے جبکہ کتاب بتاتی ہے کہ ہر طرف کی ہر طرح کی اموات کی تعداد صرف ہزاروں میں رہی۔ کتاب یہ بھی بتاتی ہے کہ کل آبادی کے صرف اٹھارہ فیصد بنگالیوں نے عوامی لیگ کو ووٹ دیا اور وہ بھی الگ وطن کے لیے نہیں۔ کتاب مختلف واقعات کو زیر بحث لاتے ہوئے فوجی آپریشن کو درست سمجھتی ہے۔
کتاب ان واقعات کو بھی زیادہ تر افسانہ کرار دیتی ہے جن میں پاکستان فوج پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا جاتا ہے۔ مصنفہ نے پاکستان فوجی جوانوں کی شجاعت اور دلیری کو اس بنیاد پر خراج عقیدت پیش کیا ہے کے وہ اپنے گھروں سے دور تھے، اپنے ملک میں اجنبی ہو چکے تھے، ساز و سامان کی قلت تھی پھر بھی وہ جہاں لڑے عظمت کی داستان رقم کی۔
ڈاکٹر شرمیلا لکھتی ہیں جب مجیب کو دھان منڈی والے گھر سے پاکستان فوج نے گرفتار کیا تو وہ پریشان تھا انھیں اجنبی جانتا تھا، اسے جان کا خوف تھا مگر سپاہی اسے احترام کے ساتھ لے گئے اور پھر وہ گھر واپس آ گیا۔ پانچ سال بعد جب بنگلہ دیش کے فوجی اس کے دھان منڈی والے گھر آئے تو وہ ان کو اپنا سمجھتے ہوئے باہر آیا اور بولا میرے بچو بتاؤ کیا ہے، اور انہوں نے اسے اور اس کے خاندان کو جس بیدردی سے قتل کیا وہ اب تاریخ ہے۔ مصنفہ جب جگجیت سنگھ اروڑہ سے ملنے گئی تو وہ 1984ء کے قتل عام پر بھارتی ریاست پر برہم بیٹھا تھا۔ یہ وقت بھی کتنا ظالم ہے۔


