کچھ باتیں احمد سلیم کی
میری احمد سلیم صاحب سے پہلی ملاقات اسلام آباد میں سینئر صحافی مستنصر جاوید صاحب کے دفتر میں ہوئی جہاں پر مجھے بحیثیت ڈیزائنر نوکری کرتے ہوئے چند ماہ ہی ہوئے تھے۔ یہ 1993 کا زمانہ تھا جب میں گجرات شہر سے اسلام آباد کام کی تلاش میں آیا تھا۔ اور مجھے پہلی پناہ مستنصر صاحب کے آستانہ عالیہ پر ملی۔ مستنصر صاحب کے ڈیرے پر اہل قلم، صحافی، شاعر ادیب جیسے لوگوں کا آنا جانا ہمیشہ لگا ہی رہتا تھا۔ کیسی کیسی علمی ادبی ہستیوں سے اس بابرکت دفتر میں ملاقاتیں ہوئیں اور ان سے بات چیت کا موقع ملا۔ چوہدری اعتزاز احسن صاحب سے بھی میری پہلی ملاقات اسی جگہ ہوئی۔
احمد سلیم صاحب ان دنوں ایس ڈی پی آئی اسلام آباد کے دفتر میں سینئر ایڈیٹر کی جاب کرتے تھے اور ان کے ایک مجلے کے مدیر ہونے کے ناتے اپنی مطبوعات کی چھپوائی کے لئے ہمارے دفتر آتے جاتے رہتے تھے۔ احمد سلیم صاحب نے مجھے جب بتایا کہ میری جنم دھرتی بھی ضلع گجرات ہے جس کے گاؤں میانہ گوندل میں ان کا گھر تھا۔ وہ بڑے دعوے سے کہتے کہ بے شک میرا گاؤں ضلع منڈی بہاؤ الدین میں آ چکا ہے لیکن میں خود کو اب بھی گجراتی کہلوانے میں ہی فخر محسوس کرتا ہوں۔ ان دنوں میری پہلی پنجابی شاعری کی کتاب ”وکھ ہون توں پہلاں“ کا مسودہ تیار تھا تو اسے میں نے احمد سلیم صاحب کو ایک نظر دیکھنے کی درخواست کر دی۔ انہوں نے کمال شفقت سے مجھ سے مسودہ لے لیا اور نہ صرف مفید مشورے بھی دیے بلکہ ایک عدد گرانقدر دیباچہ بھی تحریر کر دیا جس میں میرے لئے فخر اور انبساط کا پہلو یہ تھا کو انہوں نے اپنے دہلی کے دورے میں امرتا پریتم جی گھر قیام کے دوران میری کچھ نظمیں امرتا جی کو سنائیں اور میرے لئے وہاں سے داد سمیٹ کر لائے تھے۔ میں نے احمد سلیم صاحب سے ان کی لکھی ہوئی پنجابی، اردو کی بہت ساری کتابیں لے کر پڑھ لیں۔ ان کی کتاب ”باتاں ملاقاتاں“ سے میں بہت متاثر ہوا کہ کیسے وہ ہندوستان کے پنجابی شاعروں، ادیبوں کے پاس آتے جاتے رہتے ہیں، ان سے اپنی ملاقاتوں کے حالات لکھتے ہیں اور ساتھ ساتھ ان ادبی سفر ناموں کی ایک تاریخ مرتب کرتے جاتے ہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ان کی یہ کتاب پڑھ کر میرے دل میں ہندوستان جانے کی خواہش پیدا ہوئی۔ اور پھر میں احمد سلیم صاحب کے پیروں کے نشان پر پاؤں رکھتے رکھتے دہلی حوض خاص میں امرتا پریتم کے گھر جا پہنچا۔ اور کیوں نہ جاتا، میں نے اپنی پنجابی شاعری کی پہلی کتاب امرتا کو ہی سمرپت کی تھی۔ لیکن میرے دہلی پہنچنے سے قبل ہی امرتا اس دنیا سے جا چکی تھی۔
احمد سلیم صاحب کتنی ہی بار میرے گھر آئے اور میرے بیوی بچوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے ہوئے بہت خوش ہوتے۔ جب بھی ہمارے گھر میں گندلاں کا ساگ پکتا، تو ساتھ میں احمد سلیم صاحب کے لئے خاص طور پر گڑ والے چاول بھی پکوا لیتا اور پھر انہیں گھر بلا لاتا۔ ایک بار وہ مجھ سے شغل میں کہنے لگے! پاشا یار، ساگ وغیرہ بھی ٹھیک ہے لیکن میں گوشت بھی شوق سے کھا لیتا ہوں۔ تو میں نے فوراً کہا! میں سمجھا آپ بار بار انڈیا جاکر شاکا ہاری ہو چکے ہیں۔ ایک اور دلچسپ واقعہ یاد آیا، ایک بار میرے ایک شاعر دوست قمر صاحب کو جو کہ اسلام آباد پولیس میں کام کرتے ہیں، انہوں نے احمد سلیم صاحب سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تو میں ان کو اپنے بائیک پر بٹھا کر احمد سلیم صاحب کے دفتر چلا گیا۔ وہ ہمیں خندہ پیشانی سے ملے لیکن جب میں نے اپنے دوست کا تعارف کروایا تو انہوں نے کچھ بیزاری اور تشویش کے سے انداز میں قمر کو کہا سیدھی طرح بتاؤ تم کس ایجنسی کے لئے کام کرتے ہو؟ قمر صاحب ہکا بکا ہو کر رہ گئے۔ دراصل ان دنوں میں سلیم صاحب خفیہ پولیس والوں سے بہت اکتائے ہوئے تھے۔ خیر ہماری یہ ملاقات بہت مختصر رہی اور چلتے ہوئے سلیم صاحب نے مجھے اشارے میں کہا کہ آئندہ اس بندے کو ساتھ مت لانا۔ بعد میں کافی دیر بعد جا کر احمد سلیم صاحب کا قمر صاحب کی جانب سے دل صاف ہوا اور جھاکا بھی کھل گیا پھر اکیڈیمی ادبیات میں قمر صاحب کے ساتھ مل جل کر ادبی پروگراموں میں شرکت بھی کرتے پائے گئے۔
احمد سلیم صاحب نے میٹرک کے بعد پشاور میں اپنی تعلیم کے دوران کافی شاعروں ادیبوں سے تعلقات بنا لئے اسی اثناء میں ایک اردو رسالے افکار کے لئے فیض احمد فیض صاحب پر نظمیں مقابلے کے لئے بھیجیں تو ان کی نظموں کو پہلا انعام ملا۔ فیض صاحب ان دنوں عبداللہ ہارون کالج میں پڑھاتے تھے، انہوں نے ان کی شہرت سن کر اپنے پاس بلایا اور اسی کالج میں ان کو نوکری دلوا دی۔ فیض صاحب اور سلیم صاحب کی قربت 1984 تک فیض صاحب کی وفات تک رہی۔ احمد سلیم صاحب نے فیض صاحب، حبیب جالب، استاد دامن، منیر نیازی، امرتا پریتم، پاش، اجیت کور شیخ ایاز جیسے عظیم لوگوں کے ساتھ یاری دوستی رکھی۔ بائیں بازو کے ترقی پسند ادیب ہونے کے ناتے جتنے بھی بیدار مغز لکھنے والے تھے سبھی ان کے دوست تھے۔ نکسل باڑی تحریک کا نمائندہ پنجابی شاعر ’پاش‘ احمد سلیم صاحب کا بہت مداح تھا اور اس نے اپنی ایک نظم احمد سلیم صاحب کو مخاطب کر کے لکھی ہے۔ ایک بار یوں ہو کہ احمد سلیم صاحب لندن میں تھے تو ان کو کسی نے خبر دی کہ آج اس شہر میں پاش کی یاد میں ایک تقریب ہو رہی ہے۔ سلیم صاحب سن کر فوراً بولے میں بھی وہاں جانا چاہتا ہوں۔ اب یہ وہاں جاکر تقریب میں بن بلائے بیٹھ گئے۔ احمد سلیم صاحب نے بتایا کہ میں اس وقت حیران رہ گیا جب ایک بزرگ لاٹھی ٹیکتا ہوا سٹیج پر آیا اور اس نے آ کر اپنا تعارف پاش کے دادا کے طور پر کرانے کے بعد پاش کی وہ نظم پڑھنا شروع کی جو اس نے مجھ ناچیز (احمد سلیم) پر لکھی ہوئی تھی۔ میری آنکھوں میں آنسو بھر آئے پھر میں نے اپنی نشست سے اٹھ کر اپنا تعارف کروایا۔
احمد سلیم صاحب نے بہت زیادہ کتابیں لکھی اور مرتب کی ہیں ایک مرتبہ میں نے ان کتابوں کی تعداد پوچھی تو بولے، اب میں نے گنتی کرنا چھوڑ دیا ہوا ہے۔ مجھے ان کی ذاتی لائبریری کو دیکھنے اور مستفید ہونے کے کئی مواقع ملے۔ بلاشبہ وہ کتابوں کے ایک بڑے خزانے کے مالک تھے۔ ان کا یہ خزانہ صرف اسلام آباد میں ہی نہیں بلکہ ان کے لاہور والے گھر میں بھی تھا۔ اپنی ذات میں ایک مکمل ادارہ تھے اور کتابوں والا بابا کہلوانے میں خوشی محسوس کرتے۔ اپنی لوک ورثہ اسلام آباد کی نوکری کے زمانے کا ایک لطیفہ سناتے ہوئے بولے، ایک پنجابی لکھاری ان کے پاس آیا جو کہ روزگار کی تلاش میں تھا۔ اس نے لوک دانش پر کوئی کتاب بھی لکھی ہوئی تھی۔ احمد سلیم صاحب نے اپنے ذرائع سے اس کی نوکری لوک ورثے میں ہی کروا دی۔ احمد سلیم صاحب کہتے ہیں، کہ میں نے اسے نوکری دلائی، بدلے میں اس ظالم نے میری چھٹی کروائی۔ احمد سلیم صاحب کا ایک جملہ میرے بہت کام آیا جو انہوں نے مجھے اس وقت بولا جب وہ کسی اور ادیب کے لئے کچھ کام کر چکے اور انہوں نے اپنا معاوضہ طلب کیا تو موصوف نے کہا وہ پراجیکٹ ہی ختم ہو گیا۔ احمد سلیم نے کہا ”یار مجھے سمجھ نہیں آتی ایک لکھاری دوسرے لکھاری کے پیسے کیوں کھا جائے“ مجھے اس جملے کی اہمیت کا اس وقت اندازہ ہو جب اسٹیبلشمنٹ کے ٹاؤٹ اور لفافہ صحافی ندیدے چوہے نے میرے پیسے مار لئے تو میں اس بات کی کھوج میں لگ گیا، کیا وجہ ہو سکتی ہے کہ ایک لکھاری دوسرے لکھاری کی محنت کے پیسے دبا لے؟ پیچھے گاؤں سے تحقیق کرائی تو پتا یہ چلا کہ اس کا دادا بھی اپنے وقت کا بدنام زمانہ پولیس مخبر ہوا کرتا تھا اور وہ کافی گھر اجاڑ چکا تھا۔ بعد میں وہ قتل ہو کر ایسے مرا کہ پورے گاؤں میں اس کا جنازہ پڑھنے والا کوئی نہ تھا۔ اب مجھے احمد سلیم کی کہی ہوئی بات کا جواب مل گیا تھا۔
آج قلم کے اس مزدور نے دنیا کو خیر آباد کہہ دیا ہے اور وہ ابدی نیند سو چکے ہیں تو آئیں ہم سب مل کر ان کی آخرت کی راحتوں کے لئے دعا کریں۔ احمد سلیم صاحب آپ اپنے حصے کا کام پوری ایمانداری اور محنت کے ساتھ کر کے گئے ہیں۔ ادب کی جتنی خدمت آپ نے کی ہے شاید کوئی اور نہیں کر پائے گا اور آپ کا کام آنے والوں کو آپ کی پہچان کراتا رہے گا۔


