کہانی بدلنی ہو گی


بائی گاڈ، بچپن سے ہی ہمیں خود کو کسی کہانی کا کردار سمجھنے کا بڑا شوق تھا۔ کہانیاں پڑھنے کا کیڑا جو تھا۔ سادہ زمانہ تھا۔ آئی پیڈ اور اسمارٹ فون نہیں تھے۔ بس کتابوں مین چھپی یا دادی کی زبان پر آئی کہانیاں ہی تھیں۔ بائی دا وے، ہر کہانی ایک جیسی ہی ہوتی تھی۔ وہی شہزادی جس کی ماں سوتیلی تھی اور باپ کسی دیس کا راجہ۔ خزانہ ہیرے موتیوں کی بہتات سے پھٹنے کو ہوتا لیکن محل کے برتن شہزادی سے ہی دلوائے جاتے۔ شہزادی کی ماں اس کی پیدائش کے وقت ہی جہاں فانی کو جا چکی ہوتی جیسا کہ بیوی کی موت کہنی کی چوٹ جیسی ہوتی ہے، راجہ جی چھٹ دوجا بیاہ رچا لیتے۔ نئی رانی دکھنے میں تو چودھویں کا چاند لگتیں لیکن دل سفید ململ کے اس دوپٹے جیسا میلا ہوتا جو آندھی میں آنگن میں رہ گیا تھا۔ شہزادی کے دو، چار سوتیلے بہن بھائی بھی ہوتے لیکن ان کا ذکر عبث ہے۔ آج ہم ان پر وقت ضائع نہیں کر رہے۔ کسی اور دن سہی۔

اچھا، تو ہم کہاں تھے؟

جی ہاں، کہانی پر جس میں شہزادی برتن دھونے دھوتے بڑی ہو جاتی ہے۔ حسن ایسا جس کا بیاں صرف کہانیوں میں ہی ممکن ہے۔ شیمپو نہ ہونے کے باوجود لمبے چمکیلے بال، بادامی آنکھیں جنہیں کاجل کی ضرورت ہی کیوں ہو، ہونٹ جیسے گلاب کی پنکھڑی ہوں، دمکتی کندن رنگت۔ باقی خاکہ آپ اپنے تخیل کی مدد سے مکمل کر لیجیے۔

پھر کیا ہوتا ہے کہ کہانی میں ایک شہزادہ داخل ہوتا ہے۔ اب آپ کہیں گے شہزادے کی وجاہت کا بھی بیان ہو۔ افوہ بابا، شہزادے کی شکل کون دیکھتا ہے؟ باپ دادا کی برکت سے شہزادہ بن بیٹھا ہے۔ محلوں کا مالک ہے، جب جی چاہے سفید گھوڑا لے کر کسی انجان نگری کو نکل پڑتا ہے۔ اور آپ کا جی ہے کہ اس کی وجاہت ہم اپنی اس حقیر تحریر میں شامل کریں؟ جی نہیں، ضروری نہیں آپ کی ہر آشا پوری ہو۔ تھوڑے کو بہت جانیے۔

تو ہم کہاں تھے؟

جی جی، شہزادے کی انٹری ہو رہی تھی۔ جانتی ہوں آپ اور ہم دونوں ہی وقت کے ہاتھوں پابند ہیں۔ چند گھڑیاں یہی ہیں جو آزاد ہیں۔ لہذا تمہید کی قید سے اجازت چاہوں گی اور کہانی کے اختتام کی طرف آؤں گی جو زیادہ اہم ہے۔ شہزادہ اپنی شاہی مٹرگشتی پر اس دیس کا رخ کرتا ہے۔ شہزادی کی ایک جھلک دیکھتا ہے۔ وہیں اپنا شاہی دل ہار بیٹھتا ہے۔ شہزادی کے عشق میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ شہزادی کو اس کی سوتیلی ماں کے چنگل سے نکالتا ہے اور اپنے محل نمبر 3 کی زینت بنا لیتا ہے۔ ہمیں یہ نہیں معلوم کی شہزادی کا اس بارے میں کیا خیال تھا۔ شاید اس نے بھی وقتی مصیبت ٹالنے کی کوشش کی ہو کہ کل کی کل دیکھیں گے۔ ابھی تو برتن دھونے کے عذاب سے نکلوں۔

یہی کہانی ہر زبان میں، ہر فلم میں استعمال ہوئی۔ وہی بیچاری مظلوم شہزادی اور اس کو بچانے کے لیے آنا والا نیک دل عاشق مزاج شہزادہ۔ اگر کوئی بد بخت بچہ یہ سوال کر بیٹھتا کہ شادی کے بعد کیا ہوا تو الٹے ہاتھ کی کھاتا۔ ارے بھئی، جس سوال کا جواب بڑوں کے پاس نہ ہو وہ پوچھ کر اپنی پٹائی نہیں کرواتے۔ زندگی کے یہ سبق بھی تو ضروری ہیں۔

کوئی کہانی محض کہانی نہیں ہوتی۔ بار بار سنائی جانے والی یہ کہانی ایک دن معاشرتی بیانیے کا حصہ بن جاتی ہے۔ اب ہم یوں تو اس کہانی سے کوئی کامن ٹانکا نہیں لگا سکتے تھے لیکن یہ بات تو ذہن میں آئی کہ کسی بھی مصیبت سے نجات کے لیے ایک مسیحا کی ضرورت ہے۔ درد کی دوا اچھی خوراک میں نہیں بلکہ اس ڈاکٹر کے پاس ہے جو اینٹی بائیوٹک کا کورس کروائے۔ اگر پانی میں ڈوبنے لگیں تو بچانے کے لیے کسی نیک دل ماہر پیراک کی ضرورت ہے جو ناک بند کر کے غوطہ لگانے اور سمندر کی تہہ سے سچا موتی نکالنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ تندور سے اتری دیسی گندم کی تازی روٹی کھانے کا جی چاہے تو کوئی غیبی طاقت وہی روٹی چپڑ کر آپ کی چارپائی پر دھر دے کہ اٹھ میری جان۔ مفت کی روٹی توڑ۔

لیکن وہ کیا ہے کہ عمر بڑھتی رہی اور کم بخت زندگی کا تجربہ بھی۔ وقت نے وہ سکھایا جو شاید جید معلموں کی ٹیم بھی نہ کر پاتی۔ جہاں یہ علم ہوا کہ اب شہزادیاں گھر کے برتن نہیں دھوتیں کیونکہ مینی کیور خراب ہوتا ہے۔ شہزادے گھوڑوں پر نہیں پرائیویٹ جیٹ لیے پھرتے ہیں۔ اور یہ کہ شہزادی شہزادے کے ملاپ کے بعد بھی ایک زندگی ہے جو بالکل بھی گلیمرس نہیں ہے۔

صدر ذی وقار، میاں نے یہ بھی سکھایا کہ کہانیاں کہانیوں میں ہی اچھی لگتی ہیں۔ حقیقی زندگی میں کوئی شہزادہ کسی کو بچانے نہیں آتا۔ انسان جس بھی حال میں ہو، جس بھی صورتحال سے گزر رہا ہو، اس کا مسیحا اس کے اپنے سوا کوئی نہیں۔ اگر دنیا میں ایک شخص آپ کو کسی دلدل سے نکال سکتا ہے تو وہ آپ کی اپنی ذات ہے۔ کسی ناخدا کا انتظار کشتی کو بھنور سے نہیں نکال سکتا۔ زندگی کی سب سے کٹھن لڑائی خود ہی لڑنی ہوتی ہے کہ انسان کی اپنی ذات ہی وہ ون مین/وومن آرمی ہے جو لشکروں کو للکار رہی ہوتی ہے۔ ہمیشہ جیت ممکن نہیں۔ لیکن جہد مسلسل تو انسان کے ہی بس میں ہے۔

کیا آپ کو بھی لگتا ہے کہ ہمیں کہانیاں بدلنے کی ضرورت ہے؟ اگر ہمیں کہانی لکھنی آتی تو ہم ایک ایسی کہانی لکھتے جس میں شہزادی خاموشی سے ماں کا ستم نہ سہتی۔ ہر کسی کو اپنی کہانی سناتی۔ موقع ملتے ہی گھر سے بھاگ جاتی اور دوبئی میں نوکری کرتی۔ مینی کیور کرواتی۔ ڈش واشر میں برتن دھوتی۔ کبھی کبھار باپ سے اسکائپ پر ویڈیو کال کرتی۔ سوتیلی ماں اور اس کے بچوں کو جوتے کی نوک پر رکھتی۔ جو دل چاہتا کھاتی، جو گانا چاہتی سنتی، اور جب دل چاہتا تو جمیرہ بیچ ہر ننگے پاؤں ساحل کی ریت محسوس کرتی۔ موٹر کار پر اسٹیکر لگاتی ”شہزادی آن بورڈ۔“ کیونکہ شہزادی جانتی تھی زندگی نہ ملے گی دوبارہ۔

یہ کہانیاں اور کرن جوہر کی فلمیں ہمیں بھی بہت پسند ہیں۔ لیکن کیا کیجئے کہ ان کہانیوں کی میعاد ختم ہونے کو ہے۔ بالکل اسی دوا کی طرح جو ایکسپائر ہو جائے تو شفا نہیں سزا دیتی ہے۔ ان کہانیاں بدلنی ہوں گی۔ کرداروں کو ہمت بخشنی ہو گی۔ ہر وہ کہانی سننے سے انکار کرنا ہو گا جو کسی انجان مسیحا کی نوید سنائے۔ اب کی کہانیاں بے بسی کی نہیں بلکہ جگرے اور دلیری پر لکھنی ہوں گی۔ وہ جرات کہانی کا مرکزی کردار ہو گی جو صرف شیر کا شکار کرنے والے شکاریوں کا خاصہ نہیں بلکہ ہر اس ماں کی زندگی کا حصہ ہے جو اپنے بچے تنہا پالتی ہے۔ اس مزدور رہنما کی زندگی کا حصہ ہے جو اپنے ساتھیوں کے حقوق کے کیے فیکٹری کے مالک کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن جاتا ہے۔ فاسٹ فوڈ میں کام کرنے والے اس گونگے بہرے نوجوان کا حصہ ہے جو تمام مشکلات کے باوجود چہرے پر مسکراہٹ جمائے رکھتا ہے۔
آئیے، جلدی سے کہانی بدلیں۔ کہیں شام کی چائے ٹھنڈی نہ پڑ جائے۔ آفٹر آل، زندگی نہ ملے گی دوبارہ۔

Facebook Comments HS