18 ویں آئینی ترمیم اور اعلیٰ تعلیم کی عدت

پاکستانی آئین میں 18 ویں آئینی ترمیم 8 اپریل 2010 ء کو قومی اسمبلی سے منظور کی گئی تھی۔ اس وقت ملک میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی 19 اپریل 2010 ء کو صدر کے دستخط کے بعد یہ ترامیم آئین کا حصہ بن گئیں۔ اس ترمیم کے تحت صوبائی خود مختاری میں اضافہ کر دیا گیا۔ وزیر اعظم اور صوبائی وزیر اعلی کے اختیارات میں اضافہ کیا گیا۔ بہت ساری وزارتیں اور محکمے وفاق سے صوبوں کو منتقل کی گئیں۔ صوبوں کو مالی وسائل میں زیادہ حصہ دیا گیا اور انہیں بہت سارے معاملات میں خود مختاری دی گئی۔
اس آئینی ترمیم کو 14 برس ہونے کو ہیں مگر اس کی وہ ثمرات جو صوبوں کو اور عوام کو ملنے چاہئیں تھے وہ نہیں ملے۔ بلکہ اس ترمیم سے ہائر ایجوکیشن اور صحت کے محکموں کا بیڑا غرق ہو گیا ہے۔ سیاحت کا شعبہ تباہ ہو گیا ہے۔ اس ترمیم کی رو سے تعلیم اب صوبائی درد سر ہے لیکن گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ کا عرصہ گزر گیا اعلی تعلیم صوبوں اور وفاق میں زبوں حالی کا شکار ہے۔ مشرف کے دور میں اعلی تعلیم نے جو ترقی کی تھی۔ اس کا خاتمہ ہوا۔
دنیا بھر میں تعلیم اور تعلیمی معیار سازی وفاقی حکومتوں کے پاس رہتی ہے اس لیے کہ ملک کی ترقی میں اس کا کلیدی کردار ہوتا ہے۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد ہائر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد کی فعالیت ختم کرنے کی مسلسل کوششیں ہوتی رہیں۔ جعلی ڈگریوں کا نزلہ بھی اسی ادارے پر ڈالا گیا اور اس میں سیاسی مداخلت اتنی بڑھ گئی کہ یہ ادارہ اپنی حقیقی کام سے پیچھے ہٹتا چلا گیا۔ دو چار برس تو سیاست دانوں نے اس ادارے کو ختم کرنے کی پوری کوشش کی مگر کبھی عدالت اور کبھی یونیورسٹیوں کی اساتذہ تنظیموں نے اس کے خاتمے کا راستہ روکے رکھا۔
اٹھارہویں آئینی ترمیم کو لاگو کرنے کے لیے مشترکہ مفادات کونسل فعال ہوئی اور اس نے اپنے 35 ویں اجلاس میں صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشنز کو مضبوط کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ اس اجلاس کے اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ 18 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد تعلیم بشمول اعلی تعلیم قانونی و آئینی طور پر صوبوں کے دائرہ اختیار میں دیدیا گیا ہے۔ تعلیم اب صوبائی معاملہ ہے جس کے لیے صوبوں کے اعلی تعلیمی کمیشنوں کو مضبوط بنانے کی اشد ضرورت ہے۔
اس اعلامیہ کے مطابق آئین کے آرٹیکل 270 کے تحت قائم کیے گئے دس رکنی کثیر الجماعتی عملدرآمد کمیشن کی سفارشات کے مطابق مشترکہ مفادات کونسل نے 27 اپریل 2011 کو ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا کہ فیڈرل لجسلیٹیو لسٹ کے حصہ دوم کے اندراج نمبر 10 کی روشنی میں وفاقی سطح پر محدود اختیارات کا حامل ایک ادارہ بطور کمیشن برائے معیارات برائے اعلی تعلیمی ادارہ جات کام کرے گا جس کا مقصد صرف اعلیٰ تعلیمی و تحقیقی و سائنسی و تکنیکی اداروں کے لئے معیارات کا تعین کرنا ہے۔
اس اعلامیہ کو سامنے رکھ کر سندھ اور پنجاب نے اپنے اپنے صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشن بنا لیے۔ جبکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ اب ملک کے دو صوبوں میں ان کے اپنے ہائر ایجوکیشن کمیشن ہیں اور دو صوبوں میں نہیں ہیں۔ اختیارات کی اس جنگ میں اعلی تعلیم کا بیڑہ غرق ہو گیا ہے۔ وسائل کی تقسیم اور ہائر ایجوکیشن کا بجٹ دوسرے سرکاری وزارتوں اور محکموں کی طرح بڑھنے کے بجائے کم ہوتا چلا گیا مگر حکومتوں نے سیاسی پوائنٹ سکورنگ اور کلاس فور بھرتی کرنے کے لیے ملک کے کونے کونے میں دھڑا دھڑ یونیورسٹیاں بنانا شروع کر دیں۔
اس مقصد کے لیے نہ تو پلاننگ کمیشن اف پاکستان نے کوئی سکول میپنگ کی اور نہ وفاقی اور صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشنوں نے ایسی کوئی ضرورت محسوس کی۔ سیاست دانوں نے کریڈیٹ لینے کے لیے بعض اضلاع میں ایک ساتھ ساتھ چار چار یونیورسٹیاں بنا ڈالیں۔ جبکہ صوبائی حکومتوں نے اعلی تعلیم کو کالجوں تک توسیع دی اور ہر کالج میں بی ایس ڈگری کے پروگرام شروع کر دیے۔ جس کے لیے کوئی فزبیلٹی رپورٹ تیار نہیں کی گئی۔ صوبوں کے سرکاری کالجز جو پہلے سے انٹر تک کی تعلیم کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں تھے ان کو چار سالہ پروگرام شروع کرنے کا کہا گیا۔
اس سلسلے میں ان کالجوں کو کوئی اضافہ وسیلے، تربیت فراہم نہیں کی گئی جس کے نتیجے میں لاکھوں طالب علم ان کالجوں میں بی ایس کی تعلیم تو حاصل کر رہے ہیں مگر اس تعلیم کا معیار اتنا خراب ہے کہ گزشتہ برس یورپی یونین کے ممالک اور انگلینڈ نے ان ڈگریوں پر اعلی تعلیم میں داخلہ دینے سے انکار کر دیا ہے۔ اور طالب اب ہر ڈگری ہولڈر پر لازم کر دیا ہے کہ وہ ابیلیٹی ٹسٹ پاس کرنے کے بعد ہی وہاں اعلی تعلیم کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
یہ سب کچھ ہوتا رہا مگر ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان نے اس سلسلے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ملک کی تمام یونیورسٹیوں میں تعلیم کا معیار بہ زیادہ خراب ہو گیا ہے۔ کسی بھی یونیورسٹی کے پاس ملازمین کی تنخواہیں دینے تک کے وسائل نہیں ہیں۔ ریسرچ پر گزشتہ کئی برسوں سے یونیورسٹیوں نے کوئی پیسہ خرچ نہیں کیا۔ گزشتہ دو دہائیوں میں ملکی تعلیمی ضروریات کا تعین ہی نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی جامع دستاویز تیار کی گئی۔
جس کا نتیجہ یہ ہے کہ تمام یونیورسٹیاں ان گھسے پٹے مضامین میں آئے روز سینکڑوں شعبہ جات کھول رہی ہیں جن کی اب نہ معاشرے میں ضرورت ہے اور نہ عالمی سطح پر ان کو قبول کیا جاتا ہے۔ جبکہ دنیا نے گزشتہ دہائی میں جو ترقی کی ہے اس کے نتیجے میں سینکڑوں ایسے علوم متعارف ہوئے ہیں جن کے بغیر کوئی قوم مستقبل میں جانے کا سوچ ہی نہیں سکتی مگر ہمارے ملک میں ان کا نام بھی کسی نے نہیں سنا۔ دنیا مصنوعی ذہانت کی ترقی اور استعمال میں کہاں پہنچ گئی ہے اور پاکستانی جامعات اب بھی ویب ون کی تعلیم سے آگے نہیں بڑھیں۔
اسی وجہ سے ہم انڈیا اور بنگلہ دیش سے ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ پاکستان میں سرمایہ دار بہت تیزی کے ساتھ تعلیم کو بطور ایک فائدہ مند تجارت کے اپنا رہے ہیں اور رئیل سٹیٹ سے کمایا گیا کالا دھن اس شعبہ میں لاکر سفید کر رہے ہیں، جس سے پاکستان میں تعلیمی معیار مزید گر رہا ہے۔ سرکاری یونیورسٹیوں میں تعلیم کے شعبہ سے وابستہ ماہرین کو جان بوجھ کر سہولیات سے محروم کیا جا رہا ہے تاکہ وہ یونیورسٹیوں کی ملازمت چھوڑ کر ان کے کاروبار میں ان کا ساتھ دے سکیں۔
تعلیمی شعبوں میں شخصی پیسے بنانے کے لیے روز نت نئے ٹسٹ اور تحقیقی مقالوں کی اشاعت کے لیے پرائیویٹ سطح پر رسائل کا اجراء کرایا جا رہا ہے جس کا تعلیم اور تحقیق سے دور دور تک کا واسطہ نہیں ہے بلکہ یہ فوری پیسے کمانے کا ذریعہ ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے ہو رہا ہے کہ تعلیم کو اٹھارہویں ترمیم کے نتیجے میں وفاق سے طلاق کے بعد گزشتہ چودہ برسوں سے حالت عدت میں رکھا گیا ہے۔ یا تو حلالہ کر کے اسے واپس وفاق کی عقد میں دینا چاہیے یا پھر اس کا عقد ثانی کلیتاً صوبوں کے ساتھ کر دینا چاہیے تاکہ یہ شعبہ ترقی کرسکے اور آگے بڑھ سکے۔
اس لیے کہ نا وفاق نان نفقہ دے رہا ہے اور نہ صوبے اخراجات اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔ چاروں صوبوں اور وفاق میں اگر پانچ ہائر ایجوکیشن کمیشن بنائے گئے تو صرف ان کمیشنوں کے اپنے اخراجات اتنے ہوں گے کہ موجودہ بجٹ سے اسے پورا نہیں کیا جا سکے گا۔ اس لیے حکومت کو سوچنا چاہیے کہ اعلی تعلیم کا بجٹ یونیورسٹیوں اور ریسرچ پر خرچ ہو نہ کہ ان کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے جو ادارے بنائے گئے ہیں ان کے شاہی اخراجات پر۔
ملک میں مزید یونیورسٹیاں بنانے پر اگلے پانچ برس تک مکمل پابندی لگائی جائے اس عرصہ میں پورے ملک کی مکمل سکول میپنگ کی جائے۔ موجودہ یونیورسٹیوں کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔ ان یونیورسٹیوں میں کوئی کلاس فور بھرتی نہ کیے جائیں۔ ان تمام یونیورسٹیوں کو جدید کمپیوٹر بیسڈ منیجمنٹ سسٹم پر لایا جائے۔ ان یونیورسٹیوں میں بوسیدہ تھیوریٹکل تعلیم کا خاتمہ کیا جائے۔ پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے لیے سخت ترین قوانین بنائے جائیں تاکہ وہ تعلیم کو تجارت نہ بنائیں۔
بی ایس کی جگہ کالجوں کو پوری دنیا کی طرح ایسوسی ایٹ ڈگری پروگراموں تک محدود کیا جائے۔ یونیورسٹیوں کو دنیا کی طرح خودمختاری دی جائے اور ان کو سیاسی اور بیوروکریسی کی مداخلت سے پاک کیا جائے۔ تعلیم سے وابستہ اعلی تعلیم یافتہ اساتذہ کو راغب کرنے اور ان کا برین ڈرین روکنے کے لیے ان کو دیگر شعبوں کے لوگوں کی طرح پرکشش مراعات دی جائیں۔ یونیورسٹیوں کو دنیا کی دیگر یونیورسٹیوں سے منسلک کیا جائے جیسے انڈیا اور بنگلہ دیش نے گزشتہ کچھ برسوں میں کیا ہے۔
جدید مہارتوں خصوصاً آئی ٹی اور ڈیٹا سائنس پر زیادہ توجہ دی جائے۔ ملک میں روایتی کالجز بنانے کا سلسلہ ختم کیا جائے اور کمیونٹی کالجوں کا سلسلہ شروع کیا جائے جس میں ضرورت کے مطابق علوم پڑھائے جائیں اور عملی تربیت کا انتظام ہو۔ ملک کی تمام انڈسٹریز کو دنیا کی طرح پابند کیا جائے کہ وہ کسی ایک یونیورسٹی کے ساتھ مل کر کام کریں اور وہ اپنے سرمایہ کا پانچ فیصد اس یونیورسٹی میں لگائیں۔ ہر یونیورسٹی میں کم از کم دس انکیوبیشن سینٹر بنائے جائیں۔
جہاں سے عملی تربیت کے بعد لوگ ملازمت کے اہل ہوں۔ یہ وہ کام ہیں جو ہائر ایجوکیشن کمیشن کے کرنے کے ہیں۔ کیا ان میں سے کوئی ایک کام یہ ادارے کر رہے ہیں۔ نہیں ان میں سے کوئی کام ان اداروں سے نہیں ہو رہا تو پھر ان کو اربوں خرچ کرنے کے لیے رکھا ہوا ہے۔ ان سے کام لیں ان کو ٹارگٹ دیں۔ اس وقت ہمارے ہائر ایجوکیشن کی تمام پالیسیاں ان نام نہاد کنسلٹنٹس نے بنائی ہیں جنہوں نے ملکی اور علاقائی ضروریات کا کوئی سروے نہیں کرایا۔ انہوں نے یورپ، کینیڈا اور امریکہ کی پالیسیاں اٹھا کر اس میں جہاں جہاں ان ممالک کے نام تھے وہ ہٹا کر پاکستان کا نام لکھ کر اربوں روپے لیے ہیں اور ان پالیسیوں کا نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ پاکستان میں دنیا کی طرح تمام مضامین اور کورسز ایکریڈیٹ ہونے چاہئیں۔ مگر ایسا نہیں ہے جس کے دل میں جو آتا ہے وہ پڑھاتا ہے۔ جیسا جی میں آتا ہے اس طرح اس کو ایویلیویٹ کرتا ہے۔ اس لیے کہ کسی بھی یونیورسٹی کے پاس ایکریڈیٹ کورسز ہی نہیں ہیں۔
یہ کام مسجد کا مولوی تو نہیں کرے گا۔ یہ کام جن کا ہے وہ سب درباری ہیں۔ انہیں پروفیشنل بننا پڑے گا۔ تب کہیں جاکر یہ نظام درست ہو سکتا ہے۔ اٹھارہویں ترمیم کو از سر نو دیکھنا چاہیے۔ اگر اعلی تعلیم کو واپس وفاق کے حوالے کیا جائے اور اس کو ملکی ترقی کا محور مانا جائے تو یہ ملک ترقی کر سکتا ہے۔ ورنہ یہ جو صورتحال ہے یہ ہمیں چند برسوں میں فاقوں پر مجبور کردے گا اور جنہوں نے اس صورتحال کا فائدہ اٹھا یا ہے اور اٹھا رہے ہیں وہ دوسرے ملکوں میں جاکر بس جائیں گے۔ اٹھارہویں ترمیم جہاں جہاں جن جن طاقتور لوگوں کا فائدہ تھا ان میں تو ترامیم ہو گئیں ہیں مگر اعلی تعلیم کسی کی ترجیحات میں نہیں ہے۔

