مشرقی پاکستان کی علیحدگی: میں منفی رویوں سے ہی تقسیم ہوا ہوں

”جن معاشروں میں علم و حکمت سے شناسائی کا فقدان ہو وہاں غلطیوں پر احساس زیاں ناپید ہوجاتا ہے۔ جہاں احساس زیاں ناپید ہو جائے وہاں دانائی کا گزر نہیں ہو سکتا ۔ جس جگہ دانائی کا کوئی وجود نہ ہو وہاں زندگی بے معنی ہوجاتی ہے۔“ ابن خلدون نے جو حقیقت بیان کی ہے اسے سانحہ مشرقی پاکستان کے تناظر میں دیکھیں تو آج ہم جن بحرانوں کا شکار ہیں ان کے اسباب آسانی سے سمجھ آسکتے ہیں۔
پاکستان دولخت ہوا مگر اس سے بڑا سانحہ یہ ہوا کہ پاکستانی حکمرانوں نے اس سانحے کو پاکستانی قوم کے شعور میں نقش نہیں ہونے دیا۔ جس کے باعث پاکستانی قوم میں وہ احساس زیاں پیدا ہی نہ ہو سکا جو قوموں کو بدلتا اور مستقبل میں سانحات سے بچاتا ہے۔ پاکستان کی بنیاد ”نظریہ“ تھا۔ تحریک پاکستان صرف 7 سال میں کامیاب ہوئی اور قیام کے صرف 24 سال بعد پاکستان ٹوٹ گیا۔ عموما ”اقلیتیں“ اکثریت سے الگ ہوتی ہیں، مگر 1971 ء میں ”اکثریت“ اقلیت سے الگ ہوئی۔ 24 سال میں ایسا کیا ہوا کہ دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست دو ٹکڑے ہو گئی؟ اس سوال کا سیدھا جواب یہ ہے کہ پاکستان کو نظریہ ہی بچا سکتا تھا، مگر پاکستان کے حکمرانوں نے قیام سے دسمبر 1971 ء تک ”نظریۂ پاکستان“ کی جانب دیکھا اور نہ اب تک اس جانب رخ کیا۔
کیا یہ ایک تاریخی حقیقت نہیں کہ مسلم لیگ 1906 ء میں ڈھاکہ میں قائم ہوئی۔ تحریک پاکستان میں بنگالی رہنماؤں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ قرارداد پاکستان بھی ایک بنگالی مولوی فضل حق نے پیش کی۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ 1906 ء سے 1947 ء تک تو بنگالی اسلام، مسلمانوں اور پاکستان کے ”وفادار“ ہوں لیکن 1971 ء تک وہ ”غدار“ بن جائیں! بنگالی مجموعی آبادی کا 56 فیصد تھے، مگر ان سے کہا گیا کہ مساوات کے اصول کے تحت تمہاری آبادی 50 فیصد ہے۔ بنگالیوں نے پاکستان کے اتحاد کی خاطر اسے بھی دل سے قبول کر لیا۔
1960 ء تک، 56 فیصد کا فوج میں وجود ہی نہ تھا۔ کہا گیا کہ بنگالیوں کے قد بہت چھوٹے ہیں اور وہ فوج میں شامل ہونے کے قابل نہیں، حالانکہ جدید جنگی ہتھیاروں نے قدوقامت اور جسمانی قوت کو بے معنی بنا دیا۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ 1965 ء میں پاک فضائیہ کا سب سے بڑا ہیرو بنگالی ایم ایم عالم تھا۔ جس نے دو منٹ میں بھارت کے پانچ طیارے گرائے۔ 1970 ء تک فوج اور بیوروکریسی میں بنگالیوں کی تعداد 10 سے 15 فیصد تھی۔
صدیق سالک نے اپنی کتاب ”میں نے ڈھاکا ڈوبتے دیکھا“ میں 1971 سے دو سال قبل کا واقعہ لکھا: کہ وہ 1969 ء میں ڈھاکا پہنچے تو ہوائی اڈے پر ایک ”بنگالی پورٹر“ نے میرا سامان گاڑی تک پہنچایا۔ میں نے اسے کچھ روپے دینے کے لیے جیب میں ہاتھ ڈالا تو فوجی نے کہا: ان ”حرام۔۔۔“ کا دماغ خراب نہ کریں۔ ”بقول نجف شاہ بخاری:
دولخت ہوا ہوں، کبھی تنظیم ہوا ہوں۔
میں منفی رویوں سے ہی تقسیم ہوا ہوں۔
ایک واقعہ ممتاز بیوروکریٹ سید شاہد حسین نے اپنی تصنیف What was Once East Pakistanمیں تحریر کیا ہے۔
”مشرقی پاکستان میں ریل کے ائرکنڈیشنڈ کمپارٹمنٹ سے دیکھا ہوا منظر میں کبھی نہیں بھول سکتا جو آج بھی مجھے دہلا دیتا ہے۔ آشوروی ریلوے اسٹیشن پر کھانا پیش کیا گیا۔ میں نے دیکھا کہ ٹرین کے ڈبے کے سامنے نیم برہنہ بھوکے لڑکے لڑکیوں کا جمگھٹا لگا ہوا ہے۔ جب ملازم ہمارے چھوڑے ہوئے ٹرے اٹھا کر ڈبے سے پلیٹ فارم پر اترا تو بچے ہمارا چھوڑا ہوا کھانا حاصل کرنے کے لیے لپکے۔ لیکن ویٹر نے بچا کھچا کھانا یہ کہتے ہوئے گندے پلیٹ فارم پر پھینک دیا کہ انہیں دینے کے بجائے کتوں کو ڈال دینا بہتر ہے۔ مجھے یہ منظر کبھی نہیں بھولتا کہ بھوکے بچے کس طرح زمین پر پڑے ہوئے کھانے کی طرف دوڑے تاکہ کتوں کے آنے سے پہلے جو کچھ ممکن ہو سکے اٹھا لیں۔
آصف جیلانی لکھتے ہیں کہ:
” اکتوبر 1954 ء میں گورنر جنرل غلام محمد نے دستور ساز اسمبلی توڑی، اس اقدام کو اسپیکر مولوی تمیز الدین نے سندھ چیف کورٹ میں چیلنج کیا۔ چیف جسٹس کانسٹنٹائن کی عدالت میں یہ مقدمہ چل رہا تھا، ایک دن میں اور چند صحافی کینٹین میں چائے پی رہے تھے۔ اتنے میں سابق وزیر تجارت فضل الرحمان جن کا تعلق مشرقی پاکستان سے تھا، قریب سے گزرے۔ ہم نے انہیں بلایا اور سوال کیا کہ اب کیا ہو گا؟ انہوں نے بلا توقف جواب دیا“ اب پاکستان ٹوٹ جائے گا ”۔
ہم نے وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ بہت جلد ملک میں مارشل لاء لگ جائے گا۔ مشرقی پاکستان کے عوام کے ذہنوں سے یہ حقیقت نہیں مٹائی جا سکے گی کہ مغربی پاکستان ان پر حکمرانی کر رہا ہے اور مشرقی پاکستان کے لوگ اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے اور بالآخر پاکستان ٹوٹ جائے گا۔ ہم سب کا دل دھک سے رہ گیا۔ اٹھارہ سال بھی نہیں گزرے تھے کہ پاکستان دولخت ہو گیا“ ۔
مولانا مودودی نے دو سال قبل مشرقی پاکستان کے دورے سے واپسی پر کہا کہ حالات یہی رہے تو ملک متحد نہیں رہ سکے گا۔ میجر صدیق سالک 1969 ء میں ڈھاکا پہنچے تو انہوں نے اپنے فوجی ساتھیوں سے بینک اکاؤنٹ کھولنے کی بات کی، تو انہوں نے کہا کہ اکاؤنٹ کینٹ کے کسی بینک میں کھولیں، سول علاقوں میں نہیں۔ وجہ پوچھی تو ساتھیوں نے کہا کہ ہمیں کسی بھی وقت مشرقی پاکستان چھوڑ کر بھاگنا پڑ سکتا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ 1969 ء میں ہی لوگ محسوس کر رہے تھے کہ پاکستان ٹوٹ سکتا ہے۔
پاکستان کے حکمران طبقے نے یہ بیانیہ ”ایجاد“ کیا، کہ پاکستان بھارت نے توڑا۔ بھارت نے تو دسمبر 1971 ء کے اوائل میں مداخلت کی۔ بلاشبہ بھارت کی مداخلت کے بغیر پاکستان ٹوٹ نہیں سکتا تھا، مگر ہم نے اپنا گھر خود خراب کیا تو بھارتی بھی کامیاب ہوئے۔ ریٹائرڈ میجر جنرل حکیم ارشد قریشی اپنی تصنیف The 1971 Indo Pak war A Soldiers Narrative میں لکھتے ہیں :۔
”پاکستان ٹوٹنے کے طویل عرصہ کے بعد بھی بحث مباحثے کی شدت میں کمی نہیں آئی۔ خود کو بری الذمہ ثابت کرنے کے لیے بودے اور بے بنیاد دلائل گھڑے جاتے ہیں۔ حقائق سے راہ فرار اختیار کے لیے ہم نے یہ وتیرہ اختیار کر لیا ہے کہ ہم تاریخ کی من چاہی تعبیر اس انداز میں کرتے ہیں کہ اس سے حاصل ہونے والا تجزیہ ہمارے نقطہ نظر سے مطابقت رکھتا ہو۔ حمود الرحمٰن کمیشن کے سامنے پیش ہونے والے لوگ محض اس کوشش میں مصروف رہے کہ کسی طرح ذمہ داری دوسرے پر ڈال دیں۔“
”میں نے اگست 1970 ء میں مشرقی پاکستان میں فرنٹیئر فورس رجمنٹ کی 26 ویں بٹالین کی کمان سنبھالی۔ مجھے مسلح محافظوں کے بغیر سفر سے منع کیا گیا، لیکن میں تنہا رنگ پور جانے کے لیے ٹرین میں سوار ہو گیا۔ جدھر نظر جاتی تھی، نیم برہنہ لوگوں کا ایک سمندر تھا۔ ان کی غربت چھپائے نہیں چھپتی تھی، صاف نظر آتا تھا کہ برطانیہ سے آزادی ان کے لیے محض ایک سراب ثابت ہوئی، میں یہ سب دیکھ کر لرز گیا۔
مشرقی پاکستان کی پٹ سن نے پاکستانی معیشت کو بدترین معاشی دور میں بڑا سہارا دیا، مگر حکمران طبقہ مشرقی پاکستان کو ”معاشی بوجھ“ سمجھتا تھا۔ بقول آصف جیلانی 16 دسمبر 1971 ء کو جب ڈھاکہ میں جنرل نیازی نے جگجیت سنگھ اروڑا کے ساتھ بیٹھ کر شکست نامہ پر دستخط کیے تو اس وقت لندن میں پاکستانیوں کو دھاڑیں مار مار کر روتے دیکھ کر مجھے 1954 ء میں فضل الرحمان کی پیش گوئی بے حد یاد آئی۔ انتخابات ہوئے تو پاکستان کے حکمرانوں نے بنگالیوں کی اکثریت تسلیم کرنے اور اقتدار شیخ مجیب الرحمٰن کو منتقل کرنے سے انکار کر دیا۔ سید شاہد حسین لکھتے ہیں۔
”کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ پاکستان انتخابات کی وجہ سے ٹوٹا، حالانکہ پاکستان اس لیے ٹوٹا کہ انتخابات کے نتائج حکمرانوں کے لیے قابل قبول نہ تھے“ ۔ کیا اس کے بعد بھی کوئی شک رہ جاتا ہے کہ پاکستان ”خود ٹوٹا“ ، اسے ”توڑا“ نہیں گیا ”۔
آصف جیلانی 1973 ء میں (جب بھٹو سرکاری دورے پر لندن میں تھے ) سے ملے اور ان سے پوچھا کہ انہوں نے یحییٰ خان کے خلاف مقدمہ کیوں نہیں چلایا؟ تو انہوں نے کہا: مجھے امریکیوں نے صاف کہہ دیا تھا کہ میں یحییٰ خان کو ہاتھ نہ لگاؤں کیوں کہ انہوں نے چین امریکہ تعلقات کی استواری میں اہم رول ادا کیا ہے۔ خود بھٹو بھی نہیں چاہتے تھے کہ یحییٰ خان کے خلاف غداری کا مقدمہ چلے، کیوں کہ بھٹو بھی اس مقدمے میں اپنے رول کی جواب طلبی سے نہیں بچ سکتے تھے۔ اسی لیے حمودالرحمٰن کمیشن کی رپورٹ کو انہوں نے جیتے جی ہوا نہیں لگنے دی۔ ”خدا کرے کہ آئندہ احساس زیاں سے گریز پائی سے بچ سکیں تاکہ دانائی ہمارا اثاثہ بن جائے اور ہم ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرسکیں۔

