ریویو کتاب: “One and one make eleven "
کچھ دن قبل خالد سہیل نے ایک ملاقات میں اپنے زمبیل نما، مخصوص کالے رنگ کے بیگ پیک میں سے پہلے کی طرح ایک کتاب نکالی۔ کتاب کی چمک کو میرے سینسز نے فوراً جانچ لیا۔ کہ ایک نئی کتاب ہے۔ انہوں نے اس اچھے خاصے حجم والی نئی تخلیق کا ٹائٹل پیج اپنی طرف رکھتے ہوئے اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ میری طرف دیکھا۔ اور میں ان کے کچھ بولنے سے پہلے بول پڑی۔ ایک اور کتاب؟
اور انہوں نے اسی معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ کچھ کہے بغیر اثبات میں سر ہلا دیا۔ پھر انہوں نے کتاب کا ٹائٹل پیج دکھاتے ہوئے اپنا ایک تاریخی جملہ دہرایا۔ جس کو میں ابھی نہیں دہراؤں گی۔
انہوں نے پہلے صفحے پر پہلے کی طرح اپنے خوبصورت الفاظ لکھ کر نیچے اپنا دستخط کیا۔
اگلے دن چھٹی کا دن تھا، میں نے کتاب اٹھائی اور اپنی عادت کے مطابق آگے پیچھے دیکھی۔ فہرست دیکھی۔ پاکستان اور کینیڈا کے جھنڈے میں سے کاٹے گئے ایک اور ایک گیارہ کے پیچھے کی تصویر دیکھی۔
خالد سہیل اور زہرا زبیری کی مشترکہ کتاب۔
ٹائٹل کو دیکھتے ہی پہلا خیال یہ آیا کہ ڈاکٹر صاحب پچھلے کتنے سالوں میں کتنے لکھنے والوں کو ایک اور ایک گیارہ بنا چکے ہیں اور اسی سعی میں لگے ہیں۔
خالد سہیل کو جہاں میں پچھلے چند سالوں سے بہت حد تک جان چکی ہوں، اسی قدر زہرہ زبیری کو میں رسمی سلام دعا اور کسی ادبی محفل میں مختصر بات چیت سے زیادہ نہیں جانتی تھی۔
شاعری سے میرا لگاؤ نثری ادب کی نسبت زیادہ ہے۔ لہذا ان کی شاعری کا سیکشن کھول کر چند نظمیں پڑھیں اور پھر میرا تجسس بڑھا۔ چھوٹا سا یہ نمونہ میرے لئے کافی تھا ان کی تخلیقی شخصیت کا اندازہ کرنے کے لئے۔
میں ان کے بارے میں مزید جاننا چاہتی تھی۔
زہرہ زبیری کے بارے میں جاننا میرے لئے خوشی کے علاوہ انسپایریشن ہے۔
میں یہ سمجھتی ہوں کہ عورت کی جتنی صلاحیت ہے، اسی کے خوف سے معاشرے نے عورت کو کئی کرداروں میں تقسیم کر کے، اور اس کی برین واشنگ کر کے اسے چند محدود دائروں میں بند کر رکھا ہے۔ اور نہ صرف ان دائروں میں محدود رکھا ہے بلکہ وہاں رہنے میں ان کی بڑھائی کا یقین دلا کر انہیں دائروں میں خوش رہنے کی تلقین کی ہے۔ لیکن جب بھی اس صنف نازک کو اپنی اصل شناخت دریافت کرنے کا موقع ملا ہے، اس نے اپنی صلاحیت کا لوہا منوایا ہے۔ زہرہ زبیری کی شخصیت اور ان کے تخلیقی رنگ دیکھ کر میں یقیناً پہلے حیران اور پھر بہت خوش ہوئی۔
کتاب کے پہلے حصے میں ان کی نثری نظمیں ہیں۔ میں جیسے جیسے ان کی نظمیں پڑھتی گئی، ان کی سوچ اور تخلیقی صلاحیت سے متاثر ہوتی گئی۔ مثلاً ان کی اس نظم سے بہت کچھ واضح ہوتا ہے۔
There ’s a room for you
In the replica of our global village
There ’s a special room
Where the East meets west
North greets South and
Light dispels darkness
Through the mysterious corridor
You spiral down the dark stairway
To descend in order to … Ascend
This exclusive venue is inclusive
Of all the races
Ordinary people come to perform
Extraordinary deeds!
This Replica differs from the outside world,
Complete harmony exists
This is a room where you bring your basket full
Empty it and refill till it overflows
No matter what color you are
Tears are all the same
Laughter alike,
The I less significant
We and us matter, and
There is room for you
And to think
This grand global gathering
Started in my home basement
اور پھر ایک اور نظم Dewdrops میں وہ نہایت گداز لہجے میں کہتی ہیں
Dew drops
Gently place the hand,
Of your caring nature,
On the shoulder
Of my spiritual sensuous being
Like dewdrops upon a rose petal,
You will feel my fragrance enhance
In response ..
Life is too short
جتنا جتنا میں پڑھتی گئی، میرا ان کو جاننے کا شوق بڑھتا گیا۔ یہاں تک کہ ان کی سوانح عمری جو the other I کے ٹائٹل سے ابھی حال ہی میں چھپ چکی ہے۔ اور جب مجھے معلوم ہوا تو میں نے ایک کاپی منگوا کر اپنی ریڈنگ لسٹ پر رکھی تھی کہ اس کی باری آئی گی تو پڑھوں گی۔ مجھے اب ان کو مزید جاننے کے لئے اس کو پڑھنے کا شوق ہوا اور زیر گفتگو کتاب کے ساتھ ساتھ میں نے ان کی سوانح عمری کا بھی بیشتر حصہ پڑھ لیا۔
زہرہ زبیری نے جہاں دنیا کے بیشتر ممالک کا سفر کر کے اپنے ذہن کے کینوس کو کافی وسعت فراہم کی ہے وہاں پاکستان اور کینیڈا جیسے دو ممالک کے کلچر میں رہتے ہوئے ان کی شخصیت اور سوچ میں انسانوں کے رہن سہن، خیالات، مذہبی رجحانات، زبان اور کئی اور انسانی پہلوؤں کی آگہی نے گہرائی پیدا کی ہے۔ اس لئے ان کی تحریروں میں یونیورسیلٹی (universality ) کا تاثر ملتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی پڑھنے والے کو یہ بھی صاف نظر آتا ہے کہ ان کے یہاں تک پہنچنے کے سفر میں انہیں اپنے پل صراط کو طے کرنا تھا جو کسی صورت آسان نہیں تھا۔ ایک مشرقی روایتی عورت کا سفر، ایک مغربی معاشرے کی طرف، اور ان دونوں معاشروں کو بالکل اس قدر ضم کرنا کہ جہاں زندگی کسی ایک طرف غیر ضروری اور مصنوعی جھکاؤ کی بجائے ایک خوبصورت امتزاج پر آ کر رک جائے۔ ایک بہترین درمیان، جس پر پہنچ کر ایک نیا اور خوبصورت رنگ جنم لیتا ہے۔
اس کتاب میں ان کی شاعری، ان کی ڈائری کے صفحات، ان کے ڈرامے، اور ان کے مضامین شامل ہیں اور ان کو پڑھ کر جہاں آپ کو ان کی تخلیقی صلاحیت کے رنگ قوس قزح کے رنگوں کی مانند نظر آتے ہیں وہاں ایک اجتماعی پیغام، انسانی محبت، انسانی کردار کی مضبوطی اور امن اور سلامتی کا ملتا ہے۔
خالد سہیل!
خالد سہیل کو میں پچھلے آٹھ سالوں سے جانتی ہوں، اور جیسے جیسے وقت گزرتا ہے۔ میری ان سے ان سپاریشن بڑھتی جاتی ہے۔
اس کتاب میں سے خالد سہیل کا لکھا ہوا ایک باب پڑھ رہی تھی۔ انہوں نے امن پسند لیڈروں کا ذکر کیا تھا۔ ان میں سے وہ گاندھی، مارٹن لوتھر کنگ، اور لیوٹالسٹائے کی مثالیں دیتے جا رہے تھے۔ اور میری بے چینی بڑھ رہی تھی، کہ آگے کیا لکھا ہے۔ چیپٹر ختم ہونے پر مجھ سے رہا نہیں گیا اور میں نے فوراً ان کو ٹیکسٹ میسیج لکھا۔
ڈاکٹر خالد، آپ نے امن پسند لیڈرز میں سے اتنے لیڈرز کا نام لکھا ہے لیکن آپ نے ان ناموں کی فہرست سے باچا خان کو نکال دیا ہے۔ کہتے ہیں بات اپنے گھر سے شروع ہونی چاہیے۔ میرا یقین ہے کہ تاریخ نے ان جیسے انسانیت پرست، سچے اور امن پسند لیڈر کم دیکھے ہیں۔ وہ نہ صرف آپ کے ملک سے بلکہ اس علاقے سے تعلق رکھتے تھے جہاں آپ نے اپنا بچپن، لڑکپن اور جوانی کا کافی سارا حصہ گزارا ہے۔ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ آپ ان کو پسند کرتے ہیں، اور ان کے عدم تشدد کے فلسفے کے علمبردار ہیں۔ اور یہ بھی کہ، کئی لوگوں کی طرح ان کے حوالے سے غلط بیانی پر آپ کی برین واشنگ نہیں ہوئی ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ آپ ذہنی طور پر آزاد ہیں۔ کیا آپ واقعی آزاد ہیں؟ کیا آپ نے ان کا نام کسی مصلحت کے تحت پیچھے نہیں چھوڑا؟
انہوں نے اپنی مخصوص ٹھنڈے حوصلے سے میرا میسیج پڑھا اور اگلی صبح انہوں نے اپنا وہ کالم مجھ سے شیئر کیا جس میں انہوں نے تفصیل سے باچا خان کی شخصیت اور انسانیت کے نظریے پر لکھا تھا اور ہم سب میگزین میں شائع کیا تھا۔
نہ صرف یہ بلکہ پچھلے ہفتے انہوں نے ایک اور لکھنے والے دوست کو بھی باچا خان کے بارے میں کالم لکھنے پر آمادہ کیا۔ یہ سب اپنی جگہ، لیکن میرا سوال اس کتاب کے حوالے سے تھا۔ پھر انہوں نے مجھے فون کر کے بتایا کہ لکھنے کی روانی میں کبھی کچھ چیزیں بھول جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ اور کوئی وجہ نہیں۔ اور اس طرح انہوں نے میری تسلی کی۔ تو یہ ہیں خالد سہیل، دوستوں کے دوست، راستہ تلاش کرنے والوں کے رہنما اور خاموشی سے اپنا نقطہ نظر ثابت کر نے والے۔
ایک ایسا انسان جو اصل معنوں میں ہیومنسٹ ہے۔ زندگی کے باقی معاملات اور دوستی کو میں اگر ایک طرف رکھوں اور صرف ادب پر توجہ کروں۔ تو وہ ادب کی دنیا میں بھی کسی قسم کی خودغرضی سے مبرا انسان ہیں۔ ان کا بس نہیں چلتا کہ ہر انسان کو اس کے تخلیقی جوہر کی نشاندہی کرائے اور اسے یقین دلائے کہ وہ کتنا کچھ کر سکتا ہے۔
یہاں ایک اور ایک گیارہ کا ٹائٹل بالکل صحیح پڑتا ہے۔ کیونکہ انہوں نے اب تک کتنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر خوبصورت ادبی تخلیقات کی ہیں جو یقیناً ایک اور ایک گیارہ کی مصداق ہیں۔
ان کی ہمہ رنگ تخلیقی شخصیت کے رنگ اس کتاب میں ان کی شاعری، ان کے افسانوں کے نمونوں، ان کے پیشہ ورانہ اور فلسفیانہ مضامین اور بہت ساری دوسری تخلیقی تحریروں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ خالد سہیل کی تحریریں زندگی سے بھرپور ہوتی ہیں۔ ان کے آس پاس نا امیدی دم توڑ دیتی ہے۔ جہاں میں ان کی کتابوں اور کالمز کی ریگولر قاری ہوں وہاں میں ان کے زندگی کی جانب مثبت روئے، امن پسندی اور انسانوں سے محبت کے پیغام سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی۔ اور میں اپنے آپ کو خو قسمت سمجھتی ہوں کہ میرا ان سے دوستی کا رشتہ ہے۔
میری نظر میں اس کتاب کی سب سے زیادہ پرکشش خاصیت اس میں جمع کیے گئے ادب کے مختلف رنگ ہیں، جو قاری کو اکتانے نہیں دیتے۔ میں دونوں مصنفین کو اس کی اشاعت پر مبارکباد پیش کرتی ہوں۔
میں اپنی بات خالد سہیل کی ایک نظم پر ختم کرتی ہوں۔ جو بقول ان کے، انہوں نے ایک دوست سے دور ہونے کے بعد لکھی تھی جو میری پسندیدہ ہے کیونکہ اس میں آپ حساس اور محبت کرنے والے خالد سہیل کو دیکھ سکتے ہیں۔
جس کا عنوان ہے
My Inspiration
My Alter-ego, My inspiration
You came and you left,
You are so far and yet so close,
Sometimes I feel as if you never came or never left,
When you were here I was silent,
And now that you are gone,
I talk to you in my heart and in my mind,
You are my alter-ego,
With whom I can converse,
With my words and my silences,
There is so much to share,
And there is so little time,
The evening of life is approaching,
I feel sad when I think,
I might never see you again,
But I feel joyful,
That I have a special connection with you
A creative connection,
A connection that transcends time and distance,
A connection that brings out the best in both of us,
You have been a great inspiration in my life.




دلچسپ