سولہ دسمبر اور میرے دشمن کے بچے


آئیے دشمن کے بچوں کے بجائے ذرا اپنے بچوں کی خبر لیتے ہیں۔ اکیسویں صدی میں بھی ہمارے اپنے بچے اپنے ملک کی شرحِ خواندگی کے حوالے سے پریشان ہیں۔ فی الحال شرحِ خواندگی کی پریشانی تک ہی رہیے اور تعلیم و تربیت کی تو بات ہی نہ کیجئے۔ ہمارے بچے سمجھتے ہیں کہ ہمارا موجودہ معاشرتی انحطاط، ناخواندہ اور ان پڑھ لوگوں کی وجہ سے ہے۔ انہوں نے یہ سوچا ہی نہیں کہ اس مُلک میں جس اینٹ کو اٹھاؤ اُس کے نیچے تازہ اور رِستا ہوا خون کیوں ہے؟ جی ہاں! کہیں بے گناہ انسانوں کا خون اور کہیں عدل و انصاف کا۔ اپنے بھائیوں کا خون بہانے اور خون میں نوالے تر کر کے کھانے کی یہ تعلیم ہمارے بچوں کو کس نے دی؟

تین صدیوں تک ہندوستان پر صرف مغل بادشاہوں نے حکومت کی۔ ان سے پہلے تیموری بادشاہ، سلطنت دہلی کے بادشاہ، خاندان سوری کے بادشاہ، عادل شاہی سلطنت کے بادشاہ اور دکنی بادشاہتوں کی بات کی جائے تو سالہاسال بادشاہوں نے ہندوستان میں عیش و عشرت، شکم و شہوت اور موج مستی کی تاریخ رقم کی۔ ان سب نے ہندوستان میں اپنی اپنی بڑائی اور بزرگی کا لوہا تو منوایا لیکن یہاں کے بچوں کے لئے کوئی نظامِ تعلیم وضع نہیں کیا۔ صاحبانِ دانش جانتے ہیں کہ نظامِ تعلیم سے مراد صرف درسی کتابیں نہیں۔ تعلیمی اداروں کا ماحول، اساتذہ کی قابلیت و تربیت، اساتذہ اور طلبا کا طریقہ انتخاب، در و دیوار پر کنندہ نقوش و عبارات، ورزش، ہم نصابی سرگرمیاں، مالی نظام، درسی منصوبہ بندی، نظام الاوقات ﴿ٹائم ٹیبل﴾ کو مرتب کرنے سے لے کر درسی کتابوں کا امتحانی طریقہ کار، حضور و غیاب کا اندراج اور سزا و حوصلہ افزائی یہ سب کچھ نظامِ تعلیم میں آتا ہے۔

ہندوستان میں صاحبِ ثروت اور صاحبِ حیثیت لوگ اپنے بچوں کے لئے کچھ اُجرت مقرر کر کے اتالیق یا اساتذہ رکھتے تھے۔ صد ہا سال یہ اتالیق زیادہ تر بڑے لوگوں کے گھروں میں جا کر اُن کے بچوں کو کچھ نہ کچھ لکھنا پڑھنا اور صرف و نحو سکھاتے رہے۔ اکثر لوگ اتالیق کا بندوبست نہیں کر سکتے تھے، لہذا اُن کے بچے اگر تعلیم حاصل کرنا چاہتے تو دور دراز کے مدارس یا خانقاہوں کا رُخ کر نے پر مجبور تھے۔ رہا انگریزوں اور ایسٹ انڈیا کمپنی کا زمانہ تو اُنہیں صرف اپنے نظم و نسق سے غرض تھی۔

جب 1830 میں لارڈ میکالے ہندوستان آیا تو ہندوستان میں عوام کے لئے کوئی سرکاری نظامِ تعلیم تھا ہی نہیں۔ اگر کچھ لوگ اپنے طور پر کوشش اور جدوجہد کر کے کسی علمی مقام یا منصب تک پہنچتے بھی تھے تو انہیں بھی یہ ڈکٹیٹر اور آمر بادشاہ مذہبی مناظروں اور فرقہ ورانہ جھگڑوں میں الجھا کر رکھتے تھے۔ لوگ مذہبی مناظروں میں ڈھول بجاتے، دھمال ڈالتے، علما کی فرقہ ورانہ لڑائیوں اور بادشاہوں کی جارحانہ مہمات میں اپنی جانیں گنواتے اور ڈکٹیٹر حضرات رنگ رلیاں مناتے۔

چنانچہ برصغیر پاک و ہند میں لارڈ میکالے نے 1830 میں ایک ایسا اسکول سسٹم متعارف کرایا جو بنیادی طور پر صرف ایسٹ انڈیا کمپنی اور انگریز سرکار کے لئے مقامی نوکر اور دیسی تابعدار پیدا کرنے کے لئے تھا۔ ظاہر ہے فارسی، سنسکرت اور عربی زبان میں ایسے افراد اور ایسے آلہ کار تیار نہیں ہو سکتے تھے۔ اس کے لئے انگریزی زبان کا سہارا لیا گیا۔ لارڈ میکالے کا یہ نظامِ تعلیم فقط ہندوستانیوں کے لئے تھا جبکہ خود انگلستانی بچوں کے لئے ایک جُدا نظامِ تعلیم تھا۔

ہمارے ہاں تقسیمِ ہند تک یہی لارڈ میکالے کا نظامِ تعلیم رائج رہا۔ 1947 میں ہندوستان تقسیم ہوا۔ اس کے بعد پاکستان میں جتنی اہمیت جنگی ترانوں، کرکٹ، میوزک، ملالہ، عافیہ صدیقی اور مہسا امینی کو دی گئی اگر اتنی بھی نظامِ تعلیم کو دی جاتی تو آج ہماری قومی حالت ایسی نہ ہوتی۔

کہنے کو تو 1947 میں ہی پہلی آل پاکستان ایجوکیشنل کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ ایک اندازے کے مطابق 1947 ء سے لے کر آج تک وطن عزیز میں تقریباً 22 تعلیمی کانفرنسز منعقد اور آٹھ تعلیمی پالیسیاں مرتب ہو چکی ہیں۔ یہ تمام کانفرنسز اور تعلیمی پالیسیاں لارڈ میکالے کی بنائے ہوئے سسٹم پر عملاً بالکل اثر انداز نہیں ہو سکیں۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ یکساں سرکاری معیاری تعلیمی نظام جتنا بھی مفید ہو اس سے ہمارے سیاستدانوں، وڈیروں، جاگیرداروں، سرمایہ داروں، اربابِ اقتدار و اختیار اور صاحبانِ مال و جاہ کو کیا غرض! ان کے اپنے بچوں کے لئے بہترین اور مہنگے تعلیمی ادارے موجود ہیں۔ باقی رہے غریبوں کے بچے تو غریبوں کے بچوں کی تعلیم کے لئے نہ ہی تو بجٹ ہے اور نہ ہی آسمان سے کوئی من و سلوی نازل ہوتا ہے۔

ویسے بھی غریبوں کی تعلیم و تربیّت سے ہمیں کیا ملے گا؟ اگر روٹی، کپڑا اور مکان چاہیے تو جان لیجیے کہ ہمارے ہاں روٹی، کپڑے اور مکان کا تعلیم و تربیت سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم لوگ تو اوپر کی کمائی، ڈھٹائی، بے حیائی، ملاوٹ، کرپشن، رشوت، بھیک، دھونس اور فراڈ کو تعلیم کہتے ہیں۔ آج ہمارے بچے اتنے تعلیم یافتہ ہیں کہ وہ ڈاکٹر بن کر بھی لوگوں کو بے ہوش کر کے اُن کے گردے نکال لیتے ہیں اور تھانے و کچہریوں میں عوام کے لہو سے لقمے تر کر کے کھاتے ہیں۔ ہمیں اس حال تک پہنچانے میں بڑے بڑے تعلیم یافتہ اور پالیسی میکرز کا ہاتھ ہے۔ تفتان سے لے کر ریمدان بارڈر تک ہر طرف ہماری اعلیٰ تعلیم کے ڈنکے بج رہے ہیں۔ اسٹریٹ کرائم، اسمگلنگ، منشیات، دہشت گردی اور لینڈ مافیا کے بعد اب سائبر کرائم کی بھرمار! کیا ناخواندہ یا ان پڑھ لوگ ملک کو اس طرح نوچ اور لوٹ رہے ہیں؟ جُرم کو نفع بخش کاروبار میں ناخواندہ عوام نے بدلا ہے یا ہمارے نام نہاد تعلیم یافتہ طبقے نے؟

سنا ہے ہمارا دشمن ان دِنوں بہت پریشان ہے! ۔ اُسے جب سے یہ خبر ہوئی ہے کہ ہم نے اُس کے بچوں کو پڑھانے کا عزم ِ صمیم کر لیا ہے تب سے اُس کی نیندیں حرام ہو گئی ہیں۔ اگرچہ اُس کا تاریخی خلائی مشن ’چندریان۔ 3‘ چاند پر لینڈ کر گیا ہے لیکن اُس کے بچے کیا جانیں کہ برادر کُشی کتنا منافع بخش کاروبار ہے؟

Facebook Comments HS