سولہ دسمبر کا اندوہ ناک دن

یوں تو دنیا میں بہت سارے سانحات ہیں جنہیں دیکھ کر پڑھ کر اور محسوس کر ایک حساس انسان ممکن ہی نہیں کہ وہ دکھی نہ ہو جائے لیکن ان واقعات میں ایک اجتماعیت کی سی کیفیت نظر آتی ہے۔ مگر 16 دسمبر 2014 کا جو سانحہ کا دکھ ہے یہ ایک حساس انسان برداشت کریں ممکن نہیں ہے۔ پھول جیسے بچوں کو مارنا اور ان پر گولی چلانا ان کے والدین یہ برداشت کریں کیسے ممکن ہے اور اس دکھ کی سبب ان کی زندگی ختم ہو چکی ہیں اب تو وہ ایک زندہ لاش کی طرح زندگی بسر کر رہے ہیں۔ میرا تعلق ایک ایسے خطے سے ہے جہاں پہلے دہشت ( چاہے یہ دہشت جس حوالے سے بھی ہو) کو سنہری طریقے سے اس قدر پھیلایا کہ معاشرے میں ہر ذہن اس دہشت نے متاثر کیا اور پھر اس دہشت کو پھلنے پھولنے کے لئے یہ کام دہشت گردوں کے ہاتھوں سونپ دیا گیا۔
لکھنے پر آ جائے تو لکھنے کو بہت کچھ ہے لیکن اس لکھے کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ مجھے قربان کیوں کیا جا رہا ہے۔ کون ہے وہ کردار جو میری قربانی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ میں اس تشویش میں ہوں کہ مجھے قربان کیوں کیا جا رہا ہے اور میری قربانی سے کچھ ہوتا کیوں نہیں ہے۔ وہ ہمارے بزرگ جو چھوٹی چھوٹی باتوں کو لے کر عذاب الہٰی ٹھہراتے ہیں وہ اس درد ناک سانحات پر خاموش کیوں ہوتے ہیں وہ جو چھوٹی چھوٹی mismanagement کی تباہیوں کو لڑکیوں کی بے حیائی اور جینز پہننے سے جڑتے ہیں ان کو یہ سانحات دیکھتے کیوں نہیں، اگر وہ دانستہ طور پر ایسا کر رہے ہیں تو اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ یہ فیکٹر بھی اس المیہ میں براہ راست کردار ادا کر رہا ہے۔
قربانی کے بعد وہ جو شہادت کے اوپر مختلف قصیدے گھڑتے ہیں وہ تو ان شہادتوں کے لئے ہوتی ہیں جنہوں نے رضامندی سے شہادت کو اپنا نصب العین قرار دیا لیکن یہاں تو کوئی رضامندی نہیں تھی یہاں تو بس قربانی تھی اور قربانی کو ایسے مقدس الفاظ پہنانے کے پیچھے بھی انہی کے مفادات ہوتے ہیں جنہوں نے ان سانحات کے رونما ہونے میں باقاعدہ کردار ادا کیا۔ سوال یہ ہے کہ وہ معصوم بچے جو قربان ہوئیں (کسی طبقے کی مخصوص مفادات کے لیے ) اس سانحے پر ہمارے نام نہاد دانشور، نام نہاد جرنلسٹس اور نام نہاد میڈیا اور ان کے کارندوں نے تو کوئی کردار ادا نہیں کیا بالخصوص خاموشی اختیار کی۔
اے پی ایس کا سانحہ تو نسلی تھا، نہ سیاسی اور نہ ہی مذہبی بلکہ سراسر ایک انسانی مسئلہ تھا پھر ہماری اکثریت اس سانحہ پر ہم آواز کیوں نہ ہوئیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پورے پاکستان سے لوگ نکلتے اور انسانی مسئلے کو اٹھاتے اس میں ملوث تمام کرداروں کو بے نقاب کرتے اور لواحقین کو انصاف حق دلانے کی بات کرتے لیکن حیف ہے کہ ایسی حرکت اس بدبخت دھرتی کو نصیب ہو۔ جمیل خان اپنی کتاب ظلمت شب میں کہتا ہے کہ ہمارے لوگ بریانی کے بڑے دسترخوان پر اکٹھے تو ہوسکتے ہیں لیکن کسی مسئلے پر کبھی ایک ساتھ اکٹھے نہیں ہوتیں۔ دراصل ہمارے لوگوں کی بے حسی اور ظرافت کا پیمانہ یہ ہے کہ انہیں زخم تب محسوس ہوتا ہے جب وہ خود کسی سانحے کا شکار ہوتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ہم انفرادیت کا شکار ہو کر سخت مفادات ہو چکے ہیں اور جب کوئی واقع رونما ہوتی ہے اکثریت کو اس بات سے کوئی فرق پڑتا نہیں کہ ہوا کیا ہے بلکہ شکر ادا کر کے یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ ہم بچ گئے ہیں۔ ان کے لئے کسی واقعے تک رسائی صرف تماشا تک ہوتی ہے اس کے پس منظر کو سمجھنے اور ان سے ہونے والی تباہی سے آگاہ ہونا ہمارے لوگوں کا شیوہ نہیں ہے۔ لیکن یہ بات سب کو یاد رہنا چاہیے کہ دھرتی پر لگی جو آگ ہے یہ ہر گھر تک پہنچے گی اور ہر گھر اور خاندان کو متاثر کرے گا۔ کیونکہ آگ لگانے والوں کی چہرے پوشیدہ ہیں اور ان کو صرف مفادات سے غرض ہے اور مفادات کی آڑ میں یہ سب کچھ جائز سمجھتے ہیں۔ لہذا اس آگ کو بجھانا ناگزیر ہو چکا ہے اور اگر اس کو بجھانے کی کوشش نہ کی گئی تو ہم میں سے کوئی بھی نہیں بچ پائے گا۔

