ایک پر اسرار کائنات : 95 فیصد کائنات تو پوشیدہ ہے؟

جب ہم آنکھوں سے یا انتہائی جدید ترین دوربین سے آسمان کی طرف دیکھتے ہیں تو ایک ناقابل یقین حد تک بڑی کائنات ہمارے سامنے ہوتی ہے۔ سورج، سیاروں اور ان کے چاندوں پر مشتمل پورا سیاروں کا نظام ہے، وہاں اربوں ستارے ہیں جو کہکشائیں بناتے ہیں، اور کھربوں کہکشائیں ہیں۔ معمول کے ستاروں کے علاوہ، نیوٹران ستارے، سپر نووا، اور بلیک ہولز جیسے دیگر اجسام فلکی بھی ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی اور وسیع کائنات ہے۔ ہمیں یہ یقین کرنے حق بجانب ہیں کہ ہم جو کچھ دیکھتے ہیں، یہ ہی کل کائنات ہے۔
ہماری کائنات کے بارے میں سب سے چونکا دینے والا اور حیرت انگیز مشاہدہ یہ ہے کہ ہم جو کچھ دیکھتے ہیں یا دیکھنے کے قابل ہیں وہ کائنات کے پانچ فیصد سے بھی کم حصہ ہے۔ باقی کائنات، پچانوے فیصد سے زیادہ، ہم سے پوشیدہ ہے۔ یہ تاریک مادے اور تاریک توانائی پر مشتمل ہے جس کے اثرات ہم دیکھتے ہیں لیکن انہیں براہ راست یا بالواسطہ طور پر دیکھ یا ناپ نہیں سکتے۔ فی الحال ہمیں ان کی ساخت کے بارے میں کچھ پتہ نہیں ہے۔ یہ ایک گہرا معمہ ہے۔
آج سائنس دانوں کے سامنے سب سے زیادہ حیران کن سوالوں میں سے ایک یہ ہے کہ: تاریک مادہ جو کائنات کا پچیس فیصد ہے، اس کی نوعیت کیا ہے اور اسی طور تاریک توانائی جو معلوم کائنات کا مزید ستر فیصد حصہ بناتی ہے، اس کی اصلیت کیا ہے؟
کہکشاؤں کی تشکیل، کہکشاؤں کے جھرمٹ، اور کائنات کی حتمی تقدیر کی ایک مربوط اور تفصیلی تصویر تاریک مادے اور تاریک توانائی کی نوعیت اور خصوصیات کو جانے بغیر نہیں بن سکتی۔ تاریک مادے اور تاریک توانائی کے معمہ کو حل کیے بغیر کائنات کی تصویر ادھوری رہے گی۔
ہم کس بنیاد پر یہ سمجھتے ہیں کہ پچانوے فیصد کائنات ہم سے پوشیدہ ہے؟ یہ اس مضمون کا موضوع ہے۔
تاریک مادے کی دریافت دو مراحل میں ہوئی۔
پہلے، 1933 میں، ایک امریکی ماہر فلکیات فرٹز زوکی نے کہکشاؤں کے ایک جھرمٹ، جسے کوما کلسٹر کہتے ہیں، پر اپنے مطالعے کی بنیاد پر تاریک مادے کی موجودگی کا اندازہ لگایا۔ کوما کلسٹر ہماری کہکشاں سے تقریباً تین سو ملین نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے اور ہزاروں کہکشاؤں کا مسکن ہے جس میں ہر کہکشاں کروڑوں ستاروں پر مشتمل ہے۔ یہ کائنات میں سب سے زیادہ مشہور کہکشاں گروپوں میں سے ایک ہے۔
کہکشائیں ستاروں اور کہکشاں کے اندر موجود دیگر بڑے فلکی اجسام کے درمیان کشش ثقل کی بدولت اکٹھی رہتی ہیں۔ اگر کشش ثقل کمزور ہو تو ستاروں کا کہکشاؤں میں اکٹھے رہنا ممکن نہیں رہتا اور ستارے بکھر جاتے ہیں۔
ستاروں کے درمیان کشش کمزور ہوتی ہے کیونکہ عام طور پر وہ ایک دوسرے سے بہت دور ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، سورج سے قریب ترین ستارہ تقریباً چار نوری سال دور ہے۔ تاہم، اگر ستاروں کی کثافت اور کہکشاں کے اندر کمیت کی مقدار کافی زیادہ ہے، تو کہکشاں کو کشش ثقل کی قوت سے ایک ساتھ رکھا جا سکتا ہے۔ زیادہ تر ستارے اپنی کہکشاں کے مرکز کے گرد گھومتے ہیں۔ مثال کے طور پر، سورج ملکی وے کے مرکز کے گرد چکر لگا رہا ہے اور ایک چکر تقریباً دو سو ملین سالوں میں مکمل ہوتا ہے۔ اگر کہکشاں کے اندر کمیت، اور اس کے نتیجے میں کشش ثقل کی کھینچ، کم ہو تو ستاروں کو ایک ساتھ رکھنا ممکن نہیں ہو گا اور کہکشاں منتشر ہو جائے گی۔
بالکل اسی طرح، کہکشائیں دوسری کہکشاؤں کی کشش ثقل کی وجہ سے ایک جھرمٹ کے اندر موجود رہتی ہیں۔ کہکشائیں ایک جھرمٹ کے اندر حرکت کر سکتی ہیں۔ حرکات کا تعین دوسری کہکشاؤں کی موجودگی اور ان کی کشش ثقل کی وجہ سے ہوتا ہے۔
زویکی نے ایک پیمائش کے ذریعے مشاہدہ کیا کہ کوما کلسٹر کے اندر کہکشائیں کتنی تیزی سے حرکت کر رہی ہیں۔ انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ کلسٹر میں مشاہدہ شدہ مادّہ اس قابل نہیں ہے کہ کوما کلسٹر کو یکجا رکھ سکے۔ سوال یہ تھا کہ آخر پھر یہ کہکشائیں کس طرح یکجا ہیں؟ زویکی نے اس سوال کی ایک عجیب و غریب توجیہہ پیش کی۔ انہوں نے تجویز کیا کہ ان کہکشاؤں میں کل مادہ اس سے کہیں زیادہ ہے جو ہم دیکھ سکتے ہیں۔ یہ باقی مادہ ہم کسی طور اپنے پیمائش کے آلات سے نہیں دیکھ سکتے۔ صورت حال کچھ اس طرح ہے جیسے ہم کمرے میں کوئی چیز معلق دیکھیں۔ اس وقت ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ کچھ مادہ ایسا ہے جس نے اس چیز کو اپنے مقام پر سنبھال رکھا ہے لیکن ہم اس مادے کو دیکھنے سے قاصر ہیں۔ زویکی نے اس مادے کو جو ہمارے تمام آلات کی نظر سے اوجھل ہے، ’تاریک مادے‘ کا نام دیا۔ انہوں نے اپنی پیمائش سے اندازہ لگایا کہ کوما کلسٹر کا تقریباً نوے فیصد حصہ تاریک مادے کی شکل میں ہے۔
یہ ایک چونکا دینے والا انکشاف تھا۔
اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ تھی کہ تقریباً تیس سال تک دوسرے سائنسدانوں نے اس اہم دریافت میں دلچسپی نہیں لی۔ اس عرصے کے دوران، فلکیاتی طبیعیات کے ماہرین زیادہ تر کائنات کی توسیع اور کائنات کی تخلیق سے وابستہ بگ بینگ تھیوری میں دلچسپی رکھتے تھے۔
1970 کی دہائی میں، ویرا روبن اور کین فورڈ ہماری اپنی کہکشاں، ملکی وے، میں ستاروں کی حرکت کا مطالعہ کر رہے تھے۔ توقع یہ تھی کہ ایسی کہکشاؤں میں زیادہ تر کمیت کہکشاں کے مرکز کے قریب مرتکز ہوتی ہے۔ اس طرح کشش ثقل مرکز کے قریب زیادہ ہو گی اور جیسے جیسے مرکز سے فاصلہ بڑھتا جائے گا، کشش ثقل کمزور ہوتی جائے گی۔ اس طور توقع تھی کہ کہکشاں کے مرکز کے قریب ستاروں کو کہکشاں کے کنارے پر موجود ستاروں کی نسبت زیادہ تیزی سے حرکت کرنی چاہیے۔
لیکن جو مشاہدہ کیا گیا وہ یہ تھا کہ جیسے جیسے ستارے کہکشاں کے مرکز سے دور ہوتے جاتے ہیں، ان کی گردش کی رفتار کم نہیں ہوتی، بلکہ کہکشاں کے کنارے تک تقریباً ایک جیسی رہتی ہے۔ یہ بات کافی حیران کن تھی اور کوئی توجیہہ اس مشاہدے کی تاویل دینے سے قاصر تھی۔ ان نتائج کی وضاحت کرنے کا واحد طریقہ یہ تھا کہ یہ فرض کیا جائے کہ کہکشاں میں اس سے کہیں زیادہ مادہ موجود ہے جس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ تاریک مادہ ستاروں کی حرکت کی کامیابی سے وضاحت کر سکتا تھا۔ یہ تاریک مادے کی تلاش کی طرف پہلا قدم تھا۔
اس مشاہدے نے تاریک مادّے کی منظم تلاش کا آغاز کیا۔ تاریک مادے کا مطالعہ کرنے کے لیے استعمال کیا جانے والا ایک بڑا ذریعہ کشش ثقل کا لینسنگ اثر تھا جس کی پیش گوئی آئن اسٹائن کے نظریہ اضافیت نے کی تھی۔
اکیسویں صدی کی سائنس کا سب سے اہم سوال یہ ہے کہ تاریک مادہ کیا ہے؟
یہ کس چیز پر مشتمل ہے؟
”تاریکی“ کا مطلب ہے کہ یہ مادہ ہمیں نظر نہیں آتا۔ تاہم، اس بات کا امکان موجود ہے کہ یہ ان اشیاء کی شکل میں موجود ہو جو ہمیں براہ راست نظر نہیں آتیں۔ سب سے زیادہ سنجیدہ امیدوار بلیک ہولز ہیں۔ بلیک ہولز کو کسی بھی طرح سے براہ راست نہیں دیکھا جا سکتا۔ ان کا مشاہدہ کرنے کے لیے بالواسطہ طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ بلیک ہولز کی ایک بڑی تعداد ہو جہاں یہ بالواسطہ طریقے کام نہیں کرتے اور ہم سے پوشیدہ ہیں۔
بلیک ہولز ہی واحد ایسے اجسام فلکی نہیں ہیں جن کو براہ راست دیکھنا ممکن نہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ بعض وائٹ ڈوارف کی روشنی اتنی کم ہو کہ ہمارے مشاہداتی آلات ان کا پتہ نہیں لگا سکتے۔
جیسا کہ میں نے ایک سابقہ مضمون میں بحث کی تھی، ایک دور دراز ستارے سے آنے والی روشنی کشش ثقل کی بدولت سورج کی طرف جھکتی ہے جس کی وجہ سورج کے قرب و جوار میں زمان و مکاں کی خمیدگی ہے۔ یہ آئن سٹائن کے عمومی نظریہ اضافیت کی پیشین گوئیوں کو جانچنے کے لیے ایڈنگٹن کے کلاسک تجربے کا نچوڑ تھا۔ جس طرح شیشے کا عدسہ فوکسنگ اثر دے سکتا ہے، اسی طرح کہکشاں جیسی بڑی چیز بھی ایک محدب عدسے کی مانند روشنی کو ایک نقطے پر مرکوز کر سکتی ہے۔ اس اثر کو بلیک ہول جیسے ان فلکی اجسام کو بالواسطہ دیکھنے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
فرض کریں کہ ایک بلیک ہول یا وائٹ ڈوارف زمین اور ستارے کے درمیان حرکت کرتا ہے۔ جب تک یہ زمین اور ستارے کے درمیان ہوتا ہے اس وقت وہ محدب عدسے کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس دوران ستارہ زیادہ روشن دکھائی دیتا ہے۔ جب یہ بلیک ہول گزر جاتا ہے تو ستارہ اپنی معمول کی چمک پر واپس آ جاتا ہے۔ اس میں چند گھنٹے سے چند دن لگ سکتے ہیں۔ تحقیقی ٹیموں نے اس قسم کے افلاکی اجسام کی تلاش میں لاکھوں ستاروں کا مشاہدہ کیا ہے۔ اس طور کئی بلیک ہول کا پتہ چلا ہے لیکن وہ اتنی مقدار میں نہیں ہیں جو ہماری کہکشاں، ملکی وے میں موجود تاریک مادے کی وضاحت کر سکیں۔
ایک اور امکان یہ ہے کہ تاریک مادہ ایسے ذرات پر مشتمل ہے جنہیں Axions کہتے ہیں۔ Axions کا تصور پہلی دفعہ 1977 میں اس مضبوط قوت سے وابستہ کچھ مسائل کو حل کرنے کے لیے پیش کیا گیا جو ایٹم کے نیوکلیئس کو مستحکم رکھتی ہے۔ تاہم، ان ذرات کا کبھی مشاہدہ نہیں کیا گیا۔
اس کے علاوہ کچھ اور بھی امکانات ہیں لیکن جب تک مشاہدہ نہیں کیا جاتا، یہ قیاس آرائیوں کی حد تک موجود ہیں۔ یہ بات انتہائی حیرت انگیز ہے کہ تاریک مادے کی تشکیل کرنے والا پراسرار مادہ جو ہماری مشاہدہ کردہ کائنات میں موجود تمام ستاروں اور کہکشاؤں میں موجود مادے سے کہیں زیادہ ہے، اب تک اس کا پتہ چلانے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکی۔
لیکن پر اسراریت یہیں ختم نہیں ہوتی۔
جیسا کہ ایک پچھلے مضمون میں بتایا گیا کہ کائنات بگ بینگ سے اب تک پھیل رہی ہے۔ 1990 کی دہائی کے اواخر تک، ماہرین فلکیات کو یہ معلوم نہیں تھا کہ کیا کائنات کا یہ پھیلاؤ ہمیشہ کے لیے جاری رہے گا یا کیا کائنات کے پاس مادے اور توانائی کی اتنی مقدار موجود ہے کہ وہ اس توسیع کو پلٹ کر اسی قسم کے نقطے پر واپس لوٹ جائے جس نے بگ بینگ کا آغاز کیا تھا۔
1990 کی دہائی میں، سائنسدانوں کی دو نے ان سوالات کے جوابات دینے کے لیے مشاہدات کا آغاز کیا۔ ان کا مقصد کچھ دور کے اجسام فلکی سے نکلنے والی روشنی کا تجزیہ کر کے کائنات کے پھیلاؤ کا مطالعہ کرنا تھا۔ ان اجسام فلکی میں ستاروں کے پھٹنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سپرنووا بھی شامل تھے۔ ان سپرنووا سے نکلنے والی روشنی کی چمک اس بات کا پیمانہ ہے کہ یہ اجسام کتنی دور ہیں۔ اگر روشنی مدھم ہے تو یہ سپرنووا دور ہیں اور اگر روشنی تیز ہے تو یہ اجسام ہم سے قریب ہیں۔ خاص طور پر، انہوں نے ایک مخصوص قسم کے سپرنووا کی تلاش کی، جسے سپرنووا 1 a کہا جاتا ہے، جو سب ایک ہی توانائی کے ساتھ پھٹتے ہیں۔ اس طرح کے سپرنووا کی چمک ماہرین فلکیات کو کائناتی فاصلوں کا تعین کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اگر ان روشن اجسام کا فاصلہ بگ بینگ ماڈل کی پیشن گوئی سے کہیں زیادہ پایا جاتا ہے، تو کائنات ہمارے اصل اندازے سے زیادہ تیزی سے پھیل رہی ہوگی۔ سپرنووا سے آنے والی روشنی یہ معلومات فراہم کر سکتی ہے کہ کائنات کتنی تیزی سے پھیل رہی ہے۔
1999 میں، دونوں گروپوں نے اپنے نتائج شائع کیے۔ انہوں نے جو پایا وہ یہ تھا کہ یہ سپرنووا، چھ یا سات بلین نوری سال کے فاصلے پر، اتنے روشن نہیں تھے جتنا کہ وہ صرف کشش ثقل کی قوتوں پر مبنی بگ بینگ ماڈل کی بنیاد پر توقع کر رہے تھے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ یہ سپرنووا توقع سے کہیں زیادہ فاصلے پر تھے۔ ان بڑے فاصلوں کی واحد وضاحت یہ ہے کہ کائنات اس مدت کے دوران، جو کائنات کی عمر کے تقریباً نصف کے برابر ہے، توقع سے کہیں زیادہ پھیلی ہے۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ کائنات کی توسیع کی شرح کم نہیں ہو رہی ہے۔ درحقیقت، یہ تیز ہو رہی ہے۔ یہ ایک چونکا دینے والا نتیجہ تھا۔
سوال یہ ہے کہ کائنات کی اس بڑھتی ہوئی توسیع کا منبع کیا ہے؟
اس نتیجے کا مطلب یہ تھا کہ کائنات کے ارتقا میں غالب عنصر کشش ثقل نہیں۔ کچھ ’تاریک توانائی‘ ہے جو اس غیر واضح توسیع کے لیے ذمہ دار ہے۔ ایک پراسرار نتیجہ یہ نکلا کہ بگ بینگ کے سات یا آٹھ ارب سال بعد تک کائنات کا پھیلاؤ سست ہو رہا تھا جو کہ اجسام فلکی کے درمیان کشش ثقل کی وجہ سے متوقع تھا۔ لیکن یوں لگتا ہے کہ پھر کچھ نامعلوم وجوہات کی بناء پرایک پر اسرار کشش ثقل مخالف قوت نے غلبہ حاصل کرنا شروع کر دیا۔ یوں توسیع کی رفتار تیز ہونا شروع ہو گئی۔ پر لمٹر، ریس اور شمٹ کو اس دریافت کے لیے 2011 کا نوبل انعام دیا گیا۔
تاریک توانائی کیا ہے؟
یہ جاننے کے علاوہ کہ کائنات کا تقریباً 68 فیصد حصہ تاریک توانائی ہے جو کائنات کے پھیلاؤ کو متاثر کرتی ہے، اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے۔ یہ کائنات کے سب سے بڑے اسراروں میں سے ایک ہے۔ کائنات کے مستقبل کے بارے میں کسی بھی سوال کا اس وقت تک تسلی بخش جواب نہیں دیا جا سکتا ہے جب تک ہم تاریک مادے اور تاریک توانائی، جو کائنات کے 95 فیصد سے زیادہ حصہ پر مشتمل ہیں، ان کی نوعیت اور خصوصیات جان سکیں۔
تاریک توانائی کے بارے میں بہت سے جواب طلب سوالات ہیں۔
سائنسدانوں نے تاریک توانائی کے لیے کئی ممکنہ وضاحتیں تلاش کی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ تمام وضاحتوں میں مسائل ہیں۔
ایک وضاحت یہ ہے کہ تاریک توانائی خلا کی خاصیت ہے۔ جب کائنات کی توسیع کے عمل میں نئی جگہ پیدا ہوتی ہے، تو نئی پیدا ہونے والی خالی جگہ اپنی توانائی رکھ سکتی ہے۔ یہ ایک دلیل ہے جو بنیادی طور پر آئن سٹائن نے دی تھی جب انہوں نے عمومی نظریہ اضافیت کی مساوات لکھی تھی۔ ہمیں یاد ہے کہ ان مساواتوں کا نتیجہ یہ تھا کہ کائنات جامد نہیں تھی، یہ مادے اور توانائی کی ساخت کے لحاظ سے پھیل سکتی ہے یا سکڑ سکتی ہے۔ آئن سٹائن نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ کائنات پھیل نہیں رہی ہے، ایک کاسمولوجیکل کانسٹینٹ متعارف کرایا۔ اس مفروضے کی موجودگی میں جب کائنات پھیلتی یا سکڑتی ہے تو مثبت یا منفی توانائی پیدا ہوتی ہے اور یہ توانائی خلا کی خاصیت ہے۔ اس طور ایک جامد کائنات کو یقینی بنانا ممکن ہو سکا۔ لیکن ہبل کے مشاہدات کو جاننے کے بعد جن کے مطابق کائنات پھیل رہی ہے، آئن سٹائن نے اس مفروضے کو ترک کر دیا، اور اسے اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی قرار دیا۔ تاریک توانائی کی دریافت کے بعد ، کاسمولوجیکل کانسٹینٹ اور اس سے وابستہ گمشدہ توانائی کا جواز تلاش کرنے کی کوشش جاری ہے۔ یہ بات کتنی دلچسپ ہو گی اگر آئن سٹائن بالآخر صحیح ثابت ہو جائیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس بات کی کوئی توجیہہ نہیں کہ کاسمولوجیکل کانسٹینٹ کیوں موجود ہونا چاہیے۔ اس سے بھی زیادہ مسئلہ یہ ہے کہ اس کی مقدار کائنات کی توسیع کی مشاہدہ شدہ شرح کے بالکل مطابق کیونکر ہو۔
ایک اور امکان یہ ہے کہ شاید تاریک توانائی ایک نئی قسم کا سیال ہے جو تمام جگہ کو بھر دیتا ہے۔ اس سیال کی نوعیت، اگر یہ موجود ہے، تو بہت ہی عجیب ہے۔ کائنات کی توسیع پر اس کا اثر عام مادے اور توانائی کے بالکل برعکس ہے۔
اور پھر یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ آئن سٹائن کا عمومی نظریہ اضافیت ہی درست نہ ہو۔ اگر ایسا ہوا، گو کہ اس کا امکان اس وقت بہت کم محسوس ہوتا ہے، تو کائنات کے بارے میں ہمارے تصورات ایک بار پھر انقلابی دور سے گزریں گے۔
تسلی بخش وضاحت کی عدم موجودگی میں، ہماری نظروں سے پوشیدہ کائنات سے وابستہ اسرار، شاید بنی نوع انسان کی تاریخ کا سب سے بڑا راز ہے۔
یہ کائنات سے وابستہ اسرار کے موضوع پر لکھی گئی سیریز کا آخری مضمون تھا۔ میں ان تمام قارئین کا شکر گزار ہوں جنہوں نے ان مضامین کو پڑھنے کی زحمت گوارا کی، اور خاص طور پر ان کا جنہوں نے اپنے تاثرات سے نوازا۔
(یہ مضمون میری کتاب A Mysterious Universe (Oxford University Press 2023 ) سے ماخوذ ہے۔ )

