سہیل وڑائچ اور عرفان صدیقی کا مباحثہ

مسلم لیگ نون کے سینیٹر اور جادوئی قلم کے مالک عرفان صدیقی بڑی تندہی سے اپنی جماعت اور اسٹیبلشمنٹ کا مقدمہ ایک ساتھ لڑ رہے ہیں۔ عرفان صدیقی کے نزدیک 9 مئی کا سانحہ کسی طور 9 / 11 سے کم نہیں اور اب پی ٹی آئی کو مکافات اعمال تاحیات بھگتنے ہوں گے۔
دوسری طرف ٹھنڈے مزاج والے اور صلح کُل کے داعی سہیل وڑائچ سیدھے نواز شریف سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ کھلاڑی خان اور پی ٹی آئی کے گناہ معاف کر کے فتح مکہ والی سنت زندہ کر دیں۔ عرفان صدیقی کا ماننا ہے کہ نواز شریف کے پاس یہ خدائی اختیار موجود ہی نہیں ہے۔ چابی بردار کوئی اور ہے۔ اس سے بات کرو۔
8 نومبر 2023 کو سہیل وڑائچ نے کالم ”تُسی اُچے، اَسّی قصوری“ کے عنوان سے کالم لکھا۔ کالم میں پیرِ راولپنڈی کو اشتعال انگیز انداز میں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بھائی آپ اگر جمہوری طور پر برسرِ اقتدار آ رہے ہیں تو آئین و قانون کی پاسداری کریں۔ مصلحت کیشی کا دامن تھامیں۔ صلح جوئی سے کام لیں۔ اگر کسی انقلاب فرانس یا انقلاب روس کی راہ پر چل کر آ رہے ہیں تو پھر مٹی پاؤ کے بجائے تُن دیو والا رویہ اپنا لیں۔
اس کالم میں قصوری نے اچے کو ان کا تلخ ماضی یاد دلایا جہاں عرفان صدیقی تحریک طالبان کے ساتھ مذاکراتی ٹیم کے سربراہ بن کر خونخوار درندوں سے صلح صفائی کی دہائیاں دے رہے تھے۔ سہیل وڑائچ کا سوال ہے کہ طالبان سے بات چیت ہو سکتی تھی تو عمران خان سے کیوں نہیں؟ کیا ان کا جرم معصوم بچوں کے قاتلوں سے بھی بڑھ کر ہے؟
اگر تحریک انصاف نے غلطی کی ہے تو ماضی میں ذرا جھانک کے دیکھ لو۔ دوسری جماعتوں سے بھی ایسی فاش غلطیاں سرزد ہوئی ہیں۔ پی پی پی نے طیارہ اغوا کیا اور مسلم لیگ نون نے سپریم کورٹ پر چڑھائی کی تھی۔
سہیل وڑائچ نے کالم کا اختتام اس تنبیہ پر کیا: یاد رکھیں کہ اگر لڑنے سے نہ رکے تو پھر آپ کا مقدر بھی مرنا ہو گا۔ انصافیوں کو تو نہ مار سکو گے کل نونیوں کی باری بھی ضرور آئے گی، یہی قدرت کا اٹل فیصلہ ہے۔
عرفان صدیقی نے اس کے جواب میں کالم لکھا: ”نواز شریف سے نہیں،“ چابی برداروں ”سے رجوع کریں“ ۔ انہوں نے سہیل وڑائچ کے حکیمانہ مشوروں کو خلط مبحث کا شاہکار قرار دیا۔ بقول عرفان صدیقی، 9 مئی گناہِ کبیرہ ہے اور سپریم کورٹ پر حملہ گناہِ صغیرہ۔ ساتھ ہی یہ نشاندہی بھی کر دی کہ نواز شریف کے ہاں معافی تلافی کا دربار نہیں لگا۔ درِ کعبہ کہیں اور کھلا ہے اور توبہ گاہ کہیں اور ہے۔ ادھر جا کر چادریں چڑھاؤ۔ منتیں پوری کرو۔ شاید لڑکوں کے دل پھسل جائیں اور در گزر کر دیں۔
اپنے طالبان کے ساتھ مذاکرات اور پی ٹی آئی کے ساتھ صلح جوئی کا موازنہ کیا تو یہ اچھوتی دلیل لے آئے کہ طالبان ایک باغی جتھا تھا۔ تحریک انصاف ایک سیاسی پارٹی ہے۔ اگر سیاسی پارٹی اپنے ماتھے پر 9 مئی جیسا کالک مل لے تو یہ نا قابلِ برداشت عمل ہو گا۔ یہ کوئی چھوٹی موٹی چوک نہیں۔ ایک منصوبہ بندی کے تحت سب کچھ ہوا۔
کالم کے آخر میں لکھا: ”نواز شریف نے اُن کے خلاف کوئی ایف۔ آئی۔ آر نہیں کٹوائی۔ لہٰذا بات اُن سے کی جائے جو حقیقی فریق ہیں۔ مفاہمت یا معافی تلافی کی ایک چابی ملزم یا مدعا علیہ کی جیب میں اور دوسری چابی مدعی یا فوج کی جیب میں۔ نواز شریف بیچ میں کہاں سے آ گیا؟ بہتر ہو گا کہ ’مبلّغینِ مفاہمت‘ ، ’خلطِ مَبحَث‘ کے بجائے چابی برداروں سے رجوع کریں۔“
جواب آں غزل میں سہیل وڑائچ شکوہ کناں ہیں کہ ہم جمہوری لوگ ہیں۔ عوام ہیں۔ ہم سے کیوں کہا جا رہا ہے کہ ایک غیر جمہوری قوت سے رجوع کریں۔ ہمارا قبلہ جی ایچ کیو نہیں۔ راؤنڈ میں بیٹھے سیاسی لوگ ہیں۔ ہم انہیں سے مخاطب ہوں گے۔ سیاسی معاملات سیاست کے ایوانوں میں طے ہوتے ہیں۔ نہ کہ مقتدرہ کی توپوں کے سایہ تلے۔
کالم ”دیر آید، غلط آید“ میں سہیل وڑائچ کچھ پرسنل ہو گئے ہیں۔ عرفان صدیقی کے کالم کو غیر آئینی، غیر جمہوری اور غیر سیاسی قرار دیتے ہوئے لکھا: ”کیا اقتدار ملنے کا نشہ اتنا ہوتا ہے کہ انسان آئین، جمہوریت اور سیاست کے بنیادی تقاضوں کو ہی بھول جائے؟ عوام ہوں یا صحافی، جمہوریت میں ہماری خواہشات کا محور و مرکز صرف سیاست دان ہیں ہم انہیں ہی مشورے دیں گے اور انہی سے رجوع کریں گے یہ ہمارا جمہوری حق ہے، البتہ پیرِ راولپنڈی پہلے بھی اپنے شاگرد جرنیلوں کو مشورے دینے میں فخر محسوس کرتے تھے اب بھی یہ کام جاری رکھیں، ہمیں اس آئینی گناہ میں شریک نہ کریں۔ وہی جنرل باجوہ جن کو آج آپ مطعون کر رہے ہیں ان کو آپ اپنے شاگرد کے طور پر متعارف کرواتے تھے اور انہیں مسلسل مشوروں سے نوازتے تھے یہ الگ بات ہے کہ آپ کے یہ مشورے میاں صاحب کو ہمیشہ الٹے پڑے۔“
آگے چل کر سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ سیاسی مفادات نے عرفان صدیقی کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی ہے۔ نہ اصول دیکھتا ہے۔ نہ جمہوری روایات۔ یہ کھلا تضاد ہے۔ جس ”الذوالفقار“ کو وہ پی پی پی کی شاخ قرار دے کر دونوں کو دہشت گرد کہہ رہے تھے، آج اس کو پی پی پی سے الگ کر رہے ہیں۔ ماضی میں آپ ضیا الحق کے ساتھ مل کر پی پی پی کو ختم کرنے اور پھانسی چڑھانے کے گناہ میں شریک تھے۔ طالبان کے نظریات کے ساتھ کھڑے تھے۔ وغیرہ وغیرہ۔
جواباً عرفان صدیقی نے ذاتی حملوں اور طعن و تشنیع کا دبے الفاظ میں شکوہ کرنے کے بعد عرض کیا کہ برادر یہ 9 مئی والا سانحہ کوئی سیاسی معاملہ نہیں ہے۔ سوچی سمجھی سازش ہے۔ منصوبہ بند سازش۔ یہ سازش نواز شریف کے خلاف نہیں رچائی گئی اور نہ ہی نواز شریف یہ مجال رکھتے ہیں کہ اس سازش پر مٹی ڈال کر آگے بڑھے۔ کئی مقدمات عمران خان پر درج ہیں۔ ایک بھی نواز شریف نے درج نہیں کیا۔ خود عمران خان سمجھتے ہیں کہ اس کی لڑائی لڑکوں سے ہے۔ ادھیڑ عمر نواز شریف سے نہیں۔
اس کے بعد صدیقی صاحب نے نواز شریف کی گرم جوشی اور عمران نوازی کے گُن گا کر کہا: ”آج اگر نواز شریف کے سینے میں فرشتے کا دِل بھی ہو تو وہ کیا کرے؟ کیا وہ سینہ سپر ہو کر فوج کے سامنے کھڑا ہو جائے اور 9 مئی کی خوں رنگ شام کے دفاع میں تلوار سونت لے؟ کیا 9 مئی کوئی روایتی قبائلی جھگڑا تھا؟ کیا یہ گاؤں کی کوئی“ سوکنانہ ”لڑائی تھی کہ کوئی بڑا بوڑھا پنچایت لگا کر فتویٰ جاری کر دے؟“
یہاں تک تو بات معقول نظر آتی ہے مگر پیرِ راولپنڈی فوجی بھائیوں کا مقدمہ بھی اسی ایک سانس میں لڑ رہے ہیں۔ ان کے بقول اگر عمران خان کو لڑکوں نے معاف کر دیا تو مستقبل میں کوئی اور جتھا ایسی سازش رچا سکتا ہے۔ شہدا کی بے حرمتی، دھاوا بولنا اور فوجی علامتوں کو نشانہ بنانا، یہ وہ گناہ ہیں جن سے صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا۔ عرفان صدیقی باقاعدہ طور پر بپھرے فوجی بھائیوں کو اُکسا رہے ہیں اور اشتعال دلا رہے ہیں۔
عرفان صدیقی نے سہیل وڑائچ کے سامنے چار سوال رکھے ہیں۔ 1۔ فوجی تنصیبات پر حملے، سیاسی معاملہ ہے یا منصوبہ بند سازش اور اس کا ماسٹر مائنڈ کون تھا؟ 2۔ کچھ فوجی اعلٰی افسران کو سزا دی گئی۔ مبلغین مفاہمت صرف عمران خان کا مقدمہ لڑ رہے ہیں۔ اس مظلوم مخلوق کے حق میں آواز کیوں نہیں اٹھا رہے؟ 3۔ کیا ایسا بھیانک جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو محض اس لیے معاف کر دینا چاہیے کہ مجرموں کا تعلق ایک رجسٹرڈ سیاسی جماعت سے ہے؟ 4۔ اگر معاملہ دو فریقین کے بیچ ہے تو نواز شریف کیا کر سکتا ہے اور کیوں کرے؟
سہیل وڑائچ نے اگلے کالم میں ان سوالوں سے تو خیر صرفِ نظر کیا مگر یہ دھمکی ضرور دی کہ جو کچھ وہ بو رہے ہیں، وہی کاٹیں گے۔ آج عمران خان کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، کل نواز شریف کے ساتھ یہی کچھ ہو گا۔ ذاتی حملوں کو نظریاتی حملہ قرار دیا اور عرفان صدیقی سے کہا کہ قصوری نے اچے کی ذات کو کچھ نہیں کہا۔ متضاد رویوں اور مفاد پرستانہ نظریات کو نشانہ بنایا ہے۔ آگے چل کر بولے کہ میں صرف یہ مطالبہ کر رہا ہوں کہ عمران خان کو لیول پلیئنگ فیلڈ ملے۔ بس۔ اس پر آپ کیوں آتش زیر پا ہیں؟
آخر میں استدعا کی آپ اچے ہیں۔ اقتدار میں آ رہے ہیں۔ مگر چھوٹوں کی باتوں کا برا نہ منائیں۔ ہمارا کام ہی یہی ہے۔ کنٹرول۔ کنٹرول۔
عرفان صدیقی نے ”بوئے خان، کاٹے نواز شریف“ میں کہا کہ ہمارا کالماتی مکالمہ دائروں میں گھوم رہا ہے۔ سہیل وڑائچ متعین سوالوں کے جواب نہیں دے رہے اور ہم موضوع سے ہٹ رہے ہیں۔ اس لیے بہتر ہے کہ چپ سادھ لی جائے۔
مگر انہوں نے چپ سادھ نہیں لی۔ کلاس لی ہے۔ اس آخری کالم میں صدیقی صاحب کافی جارحانہ نظر آ رہے ہیں۔ اس کی وجہ شاید یہ کہ سہیل وڑائچ سے بات بن نہیں رہی اور صدیقی کو فری ہٹ کا موقع مل رہا ہے۔ بقول عرفان صدیقی، آج عمران خان جس مصیبت میں ہیں، نواز شریف کا بویا نہیں کاٹ رہا۔ یہ انہوں نے خود بویا تھا۔ نواز شریف سرے سے فریق ہی نہیں ہیں۔ اس کے بعد حسبِ معمول نواز شریف کی لازوال قربانیوں اور لڑکوں کے ہاتھوں ناکردہ گناہوں کی سزا پانے کی داستان سنا کر، فوج کے ساتھ اصولی اختلافات اور نظریاتی جنگ و جدل کو سویلین بالادستی کے کھاتے میں ڈال کر اور عمران خان کی مفاد پرست سیاست اور فوج نوازی کی کہانی بیاں کر کے آخر میں پوچھا:
”باسی بھوسے کی جُگالی اور مُرجھا جانے والی دلیلوں کے گل دستے سجانے کا بے ذوق تماشا کب تک؟“
اگلے کالم میں سہیل وڑائچ کافی شکستہ دل نظر آتے ہیں۔ شروعات ہی یہاں سے کرتے ہیں :
”میرے کئی مخلص دوستوں نے مجھے مشورہ دیا ہے کہ عرفان صدیقی سے میرا“ کالمانہ مباحثہ ”نہیں بنتا۔ ان کی رائے ہے کہ ایک تو اس طرح کی بحث میری افتادِ طبع کے خلاف ہے اور دوسرا ان کی رائے ہے کہ عرفان صدیقی صاحب اپنی پارٹی کے ترجمان ہیں جبکہ آپ صحافی ہیں آپ تو جو چاہے آزادانہ رائے دے سکتے ہیں لیکن عرفان صدیقی صاحب پارٹی پالیسی کے پابند ہیں اور وہ ظاہر ہے وہیں کہیں گے جو ان کے اور ان کی پارٹی کے مفاد میں ہے ایک بے غرض صحافی اور ایک مفادات فریق کا مکالمہ بنتا نہیں ہے“
پھر شکوہ کیا کہ میں عرفان صدیقی کو اچھا خاصا دانشور سمجھ بیٹھا تھا۔ وہ اگر میری حق سچ رائے کو تسلیم نہ بھی کریں خاموش تو ہو سکتے تھے۔ مگر آرزو خاک شد۔
سہیل وڑائچ نے عرفان صدیقی کے ”مبلغین مفاہمت“ کے جواب میں ان کو ”مبلغ محاذ آرائی“ کا خطاب عطا کیا۔ کالم ”مصالحت یا محاذ آرائی: بہتر کیا ہے؟“ میں وڑائچ صاحب پھر سے اصل نکتے سے ہٹ کر لکھتے ہیں کہ پیرِ راولپنڈی کہتے ہیں نواز شریف عمران خان سے مصالحت کیوں کرے، جب کہ میں کہتا ہوں سیاسی استحکام اور کامیاب حکومت چلانے کے لیے نواز شریف کو مصالحت و مفاہمت سے کام لینا ہو گا۔ موضوع سے مزید ہٹتے ہوئے فتح مکہ کی مثال دیتے ہیں اور بد ترین دشمنوں کو معاف کرنے کی استدعا کرتے ہیں۔ اُدھر عرفان صدیقی کا گلا بیٹھ گیا ہے یہ کہتے کہ بھائی نواز شریف کے ساتھ عمران خان نے ایسا کچھ نہیں کیا جس کو وہ معاف کرے اور نہ ہی ان کے پاس یہ اتھارٹی ہے۔
تاہم سہیل وڑائچ نے اپنے سخت موقف میں اتنی تبدیلی ضروری کی ہے کہ اقتدار ملنے کے بعد یا پہلے ملک کی خاطر مفاہمت اور صلح جوئی ضروری ہے۔ میاں صاحب سے یہ سفارش بھی کر رہے ہیں کہ مقتدرہ تک ہماری رسائی نہیں ہے۔ آپ لڑکوں کو کچھ سمجھائیں کہ محاذ آرائی سے نہ ملک چل سکتا ہے اور نہ ملکی معیشت۔
آگے یہ تنبیہ بھی کرتے ہیں کہ اگر آپ نے عمران خان کو دیوار سے لگا کر اقتدار کی عمارت کھڑی کی تو یہ شاخ نازک پر آشیانہ ہو گا۔ عمران خان اکیلا نہیں ہے۔ اس کے ساتھ عوام ہیں۔ کالم کا اختتام کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
” 75 سال کے تجربے کے بعد اب ہمیں بالغ ہو جانا چاہیے اور ایک دوسرے پر محاذ آرائی کی تلواریں چلانے کی بجائے قومی مفاہمت کا راگ الاپنا چاہیے خان صاحب کو بھی لڑائی ترک کر کے ڈائیلاگ کی طرف آنا چاہیے۔ اگر پولیٹکل کلاس نے مفاہمت نہ کی تو یاد رکھئے گا کہ پھر سیاستدانوں کی داستان تک نہ ہو گی داستانوں میں۔“
یہ کالماتی مباحثہ فی الحال اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے۔ عرفان صدیقی نے گزشتہ منگل کو شائع ہونے والے کالم میں سہیل وڑائچ کو جواب نہیں دیا۔ لگتا ہے مبلغ مصالحت اور مبلغ محاذ آرائی دونوں نے چپ سادھ لے لی ہے۔
سہیل وڑائچ اور عرفان صدیقی کے کالماتی مکالمہ کافی دلچسپ رہا۔ یہ کہنا کسی حد تک درست ہے کہ اس بحث میں عرفان صدیقی کا پلڑا بھاری رہا۔ سہیل وڑائچ کے آخری کالم میں لچک اور تبدیلی اس کا مظہر ہے۔ ورنہ وہ شروع میں سیدھے نواز شریف سے مطالبہ کر رہے تھے کہ آپ ہی مدعی، آپ ہی وکیل ہیں۔ سب کچھ آپ کو کرنا ہے۔ عرفان صدیقی نے کافی محنت مشقت کے بعد سمجھایا کہ بھائی جنگ ہماری اور عمران خان کی نہیں ہے۔ مقتدرہ اور عمران خان کی ہے۔
سہیل وڑائچ کی یہ بات بھی بڑی آئڈیل قسم کی ہے کہ نواز شریف سیاست کے بجائے مفاہمت کا پُل بن جائے۔ نواز شریف سیاست دان ہیں اور وہ کوئی نواب نصراللہ خان ٹائپ کے سیاست دان بھی نہیں ہیں۔ عمران خان کی شکست میں ہی نواز شریف کی جیت ہے۔ یہ تو کوئی win win گیم نہیں ہے۔ آپ بھی جیت جائیں۔ میں بھی جیت جاؤں۔
عرفان صدیقی نے خود کو نواز شریف کی وکالت تک محدود کیا ہوتا تو بہتر تھا۔ وہ بیک وقت اسٹیبلشمنٹ کا مقدمہ بھی لڑتے رہے۔ حالانکہ لڑکے اس معاملے میں خود کفیل ہیں۔ ان کو کسی کی ہیلپ نہیں چاہیے۔ عمران خان کے گناہوں کو پیرِ راولپنڈی بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ نواز شریف کے ظلم خانہ خراب پر ایسا پردہ ڈالتے ہیں جیسے ایک ماں اپنے اکلوتی بیٹے کو ممتا میں چھپا لیتی ہے۔ یہ سیاسی مجبوری بھی ہے۔ مگر اسٹیبلشمنٹ کا ترجمان بننا کوئی سیاسی مجبوری نہیں۔ یہ درد سر انہوں نے خود اپنے سر لے لیا ہے۔ انہیں ہنری کسنجر بننے کی ضرورت نہ تھی۔
سہیل وڑائچ کے ایک اعتراض سے عرفان صدیقی صرفِ نظر کرتے رہے۔ وہ طالبان، حافظ سعید اور الذوالفقار کے بارے میں ان کے ماضی کے خیالات تھے۔ ماضی اور آج کے عرفان صدیقی میں بقول وڑائچ کھلا تضاد ہے۔ الذوالفقار کو چھوڑ کر باقی کے بارے میں عرفان صدیقی سافٹ کارنر رکھتے تھے۔ عمران خان کے گناہ ان سے کم ہونے کے باوجود وہ اس بات پر مصر ہیں کہ معاف نہ کیا جائے۔ نواز شریف کو حق و باطل کے معرکے سے باہر کر کے لڑکوں کو فوڈ آف تھاٹ دینے اور رائے عامہ قائم کرنے سے یہ کھل کر سامنے آ جاتا ہے کہ ایک جائز اور معقول موقف اختیار کرنے کے باوجود وہ متضاد رویے اور محاذ آرائی کے مبلغ بن رہے ہیں۔
جہاں تک زبان و بیاں کا تعلق ہے، شاید اس باب میں عرفان صدیقی کا کوئی جواب نہیں۔ ادبی چاشنی، استعارے، تشبیہات، اسلوب اور اندازِ بیاں لاجواب ہے۔ استدلال اور موقف میں بھی مجموعی طور پر انہی برتری حاصل ہے۔ بادی النظر میں سہیل وڑائچ نے کالمانہ مباحثے کی شروعات کر کے اپنے اور پی ٹی آئی کے ساتھ کچھ اچھا نہیں کیا۔ نواز شریف اور مسلم لیگ نون کا موقف صراحت کے ساتھ سامنے آ گیا اور اس میں وزن بھی نظر آتا ہے۔ زیر بحث موضوع سے ہٹ کر اور پرسنل اٹیک کر کے وڑائچ صاحب نے اپنا قد کاٹھ کچھ مزید کم کر دیا۔ ان کے ساتھ اس لیول کی باتیں اور ایسی مناظرانہ روش جچتی نہیں۔

