جنگ کی ڈائری (دوسرا حصہ)


یرغمالی

میں تم کو مارنے آیا تھا لیکن
تمہارے سامنے یہ انگلیاں شل ہو گئی ہیں جو
ٹریگر کو دبانے کے لئے بیتاب تھیں اب تک
ڈرو مت مجھ سے
آؤ بیٹھ جاؤ سامنے میرے
میں یہ تم کو بتانا چاہتا ہوں
تمہاری شکل میری ماں سے ملتی ہے

مجھے معلوم ہے
باہر سے تم کو جو اشارے مل رہے ہیں
کہ تم اک یرغمالی ہو
نہایت ہوشیاری سے
تمہیں مصروف رکھنا ہے مجھے اس وقت تک
جب تک کہ میں ہتھیار نہ ڈالوں
انہیں کہہ دوکہ میں ہتھیار کب کا رکھ چکا ہوں
انہیں کہہ دو میں تم کو مارنے آیا تھا لیکن
تمہاری شکل میری ماں سے ملتی ہے
وہی آنکھیں وہی چہرہ وہی انداز چلنے کا
یقیں اب آ گیا مجھ کو کہ دنیا کی سبھی مائیں
خدا نے ایک جیسی ہی بنائی ہیں

تھکا ہارا ہوا میں گھر جب آتا تھا
تو ماں مجھ سے اسی انداز میں کہتی تھی
”بھوکے ہو؟ میں کچھ لاؤں؟“
اسی انداز سے
جیسے کہ تم نے آج پوچھا ہے
تمہارے ہاتھ کے یہ چائے بسکٹ اور میٹھا گیت
جو میری زباں میں تم نے گایا ہے
یہ میرے آخری دن کا بہت نایاب تحفہ ہے
میں حیراں ہوں محبت کس قدر چالاک ہوتی ہے
یہ ہر جذبے کے آگے جیت جاتی ہے

مجھے بیٹا کہا تم نے تمہارا شکریہ اے ماں
تمہارے ساتھ میں جو آخری کچھ پل بتاؤں گا
تمہارے واسطے اک گیت عبرانی میں گاؤں گا
بنی نوع بشر کی آخری امید یہ نغمہ
نبی داؤد کا تحفہ
یقیں ہے مجھ کوتم اس گیت کومحفوظ
رکھو گی
—-————————
(21 اکتوبر 2023 ء : بی بی سی کی ایک خبر کے پس منظر میں لکھی گئی نظم)

https://www.humsub.com.pk/527620/bbc-2329/

Facebook Comments HS