پاکستان کی اقلیتی برادری کی سیاست میں موروثیت کے اثرات
پاکستان کے سیاسی نظام پر موروثیت کے بہت گہرے اثرات ہیں۔ با اثر خاندانوں نے ایسا سیاسی کلچر متعارف کروایا ہے جس کی وجہ سے سیاست ان کے گھر کی باندی بن کر رہ گئی ہے۔ موروثیت کی وجہ سے کسی عام شہری کا سیاست میں حصہ لینا اور پھر کامیابی حاصل کرنا اس قدر دشوار ہو گیا ہے کہ عام شہریوں پر سیاست کے دروازے بند ہوتے نظر آتے ہیں ’اور ایسا صرف اکثریتی برادری کے ساتھ نہیں ہے‘ پاکستان کی اقلیتی برادری بھی سیاست کے حوالے سے موروثیت کی زد میں ہے۔
اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کا کہنا ہے چند مخصوص خاندان ہی ہیں جو اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کے ذریعے اسمبلی میں پہنچتے ہیں ’ان کے علاوہ اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے کسی عام شہری کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ بھی اپنی کیمونٹی کی نمائندگی کے لئے انتخابی عمل کا حصہ بن سکے۔ اگر چہ پاکستان میں موروثیت پر تنقید کی جاتی ہے اور اسے منفی اصطلاح کے طور پر لیا جاتا ہے مگر اس کے باوجود یہ ایک حقیقت ہے‘ اور اسی حقیقت کی وجہ سے پاکستان کی اقلیتی برادری کے بہت سے لوگوں ایوانوں کا حصہ بنتے رہے ہیں اور مستقبل میں بھی ان ایوانوں کا حصہ بنتے رہیں گے۔
لاہور انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اینڈ اکنامک الٹرنیٹوز کی ریسرچ کے مطابق امریکی کانگریس میں 1996 میں موروثی سیاست کا حصہ کم و بیش چھ فیصد تھا ’بھارت کی لوک سبھا میں 2010 تک اٹھائیس فیصد جبکہ پاکستان کی قومی اور پنجاب کی صوبائی اسمبلی میں موروثی سیاست دانوں کا حصہ 53 فیصد تھا‘ یہ وہ شرح ہے جو کہ جمہوری روایت کے لئے کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے مگر اس کے باوجود معاشرتی طور پر ہم اسے قبول کیے بیٹھے ہیں جس کی وجہ سے بظاہر تو موروثیت کے ذریعے سیاسی عمل کا حصہ بننے والے افراد کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے مگر ان کو عوامی نمائندگان کا درجہ بھی دیا جاتا ہے ۔ جس سے موروثیت کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے ۔
سیاسی عمل میں موروثیت کا بڑا نقصان حقیقی عوامی نمائندگان کا سیاسی عمل سے دور رہنا ہے۔ جن افراد یا خاندانوں کی سیاسی نظام تک رسائی ہو جاتی ہے موروثیت کے بل بوتے پر وہ کسی اور کو آگے نہیں آنے دیتے ہیں ’اس کا بڑا مظاہرہ اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کے حوالے سے دیکھنے کو ملتا ہے۔ نیشنل مینارٹیز الائنس کے چیئرمین لالہ روبن ڈینئل کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں تک رسائی حاصل کرنے کے بعد اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والا اگر کوئی شخص مخصوص نشست کے لئے ٹکٹ حاصل کر لیتا ہے تو اس کی خواہش ہوتی ہے تاحیات وہی اس ٹکٹ کو حاصل کرتا رہا اور اگر ایسا نہیں ہے تو اس کا بیٹا‘ بیوی ’بہو یا خاندان کا ہی مخصوص نشست کے ذریعے اسمبلی میں پہنچ سکے‘ اتحاد لیبر اینڈ سٹاف یونین کے صدر ابرار سہوترہ کا کہنا ہے کہ مخصوص نشستوں کے چناؤ کے لئے جو طریقہ کار مقرر کر دیا گیا ہے اس سے اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے کوئی عام فرد الیکشن میں حصہ لینے بارے سوچ بھی نہیں سکتا ہے ’ماضی اور حال کی ایسی بہت سے مثالیں موجود ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سیاسی عمل کے حوالے سے پاکستان کی اقلیتی برادری بھی موروثیت کی زد میں ہے۔
سابق وزیرمملکت پیٹر جان سہوتر مرحوم جداگانہ طریقہ انتخاب کے تحت رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے جس کے بعد وہ ”ن“ لیگ میں شامل ہو گئے۔ اس دوران انہوں نے ”ن“ لیگ کے بڑوں سے ایسے تعلقات استوار کیے کہ ان کے بعد نہ صرف ان کے صاحبزادے جوئیل عامر سہوترہ مخصوص نشست پر رکن اسمبلی منتخب ہوتے رہے بلکہ پیٹر جان سہوترہ کی سالی محترمہ رضیہ جوزف بھی رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئیں اور یوں یہ مخصوص نشست ایک ہی خاندان کی میراث بن کر رہ گئی۔
سابق ایم این اے طارق سی قیصر اقلیتی نشست پر رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے‘ ان کے بیرون ملک منتقل ہونے کے بعد ان کے بھائی رستم سی قیصر رکن اسمبلی بن گئے۔ سابق ممبر پنجاب اسمبلی روفن جولیس بھی جداگانہ طریقہ انتخاب کے ذریعے رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے تھے تاہم بعد ازاں انہوں نے اپنی اہلیہ جوئیس جولیس کو مخصوص نشست کے لئے نامزد کر دیا اس طرح روفن جولیس کے بعد ان کی اہلیہ جوئیس جولیس رکن اسمبلی منتخب ہوتی رہیں اور یوں یہ مخصوص نشست بھی موروثیت کی نظر ہو گئی۔
پنجاب کی اقلیتی نشست پر کامیاب ہونے والے سابق ممبر پنجاب اسمبلی چودھری فتح جنگ کے بعد ان کے بھائی چودھری شمعون قیصر بھٹی پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور تاحال اس نشست پر وہی امیدوار ہیں۔ سابق پارلیمانی سیکرٹری برائے امور خارجہ جارج کلیمنٹ مرحوم جداگانہ طریقہ انتخاب کے تحت رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے انہوں نے اپنے صاحبزادے فرحان کلیمنٹ کو اپنے جانشین کے طور پر متعارف کروایا ہے جو کہ آئندہ جنرل الیکشن میں اقلیتوں کی مخصوص نشست کے لئے امیدوار ہیں۔
اس طرح سابق صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور خلیل طاہر سندھو ’سابق سینٹر کامران مائیکل‘ سابق ایم پی اے پرویز رفیق سمیت رمیش سنگھ اروڑا اور سابق ایم پی اے جمشید تھامس سمیت اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے کئی ایسے سیاسیات دان موجود ہیں جو کہ ایک بار اسمبلی کے رکن منتحب ہوئے ہیں مگر اب وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ مخصوص نشست ان کی میراث میں شامل ہے اور اس کی وجہ سے اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے کسی عام شہری کا اس موروثیت کی وجہ سے اسمبلی میں پہنچنا ناممکن ہو گیا ہے ’تاہم اس حوالے سے سیاسی جماعتوں اور الیکشن کمشن کا موقف مختلف ہے۔
مسلم لیگ ”ن“ کے جنرل سیکرٹری احسن اقبال کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی میں ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے مخصوص طریقہ کار موجود ہے جس کے تحت پارلیمانی بورڈ ٹکٹ کا جاری کرتا ہے اور ٹکٹ کے اجراء کے وقت صرف اور صرف پارٹی سے وابستگی اور کارکردگی کو دیکھا جاتا ہے ‘ پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکرٹری حسن مرتضی کا کہنا ہے پیپلز پارٹی وہ واحد جماعت ہے جو موروثیت کے خلاف ہے ’پیپلز پارٹی نے اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والی کرشنا کوہلی جیسی عام لڑکی کو سینٹرز بنایا ہے اس لئے یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی موروثیت کی وجہ سے اس پارٹی کا ٹکٹ حاصل کر لے‘ اس حوالے سے الیکشن کمشن حکام کا کہنا ہے کہ ٹکٹوں کی تقسیم سیاسی جماعتوں کا اپنا معاملہ ہے اس حوالے سے الیکشن کمشن کے پاس اگر کوئی شکایت آئے تو وہ اس کا جائزہ لیتا ہے تاہم مخصوص نشستوں کے حوالے سے ابھی تک الیکشن کمشن کو کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔


