الیکشن ولیکشن پیار ویار میں نہ مانوں رے
ہمارے یہاں افراتفری اور بدنظمی کا پہلے ہی دور دورہ ہے الیکشن کے انتظام اور بندوبست اسے ہزار گنا بڑھاوا دے دیتے ہیں۔ نسلی، لسانی، مذہبی اور سیاسی پارٹیوں کی وہ آپس کی لڑائیاں اور جھڑپیں جو پورے سال گلی محلوں، قصبوں اور شہروں میں چھوٹے چھوٹے میچوں کی صورت جاری رہتی ہیں الیکشن ان کا ملک گیر مقابلہ ہے۔
کسی بھی قوم میں خواتین ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ قوم اور خواتین دونوں مونث ہیں اس لیے انھیں پیچھے، ریڑھ کی ہڈی کے مقام پر رکھا جاتا ہے۔ تاہم الیکشن کے مثبت نتائج کے حصول کے لئے خواتین کو مردوں کے آگے رکھا جاتا ہے۔ باچا خان نے ایک مرتبہ ”میرا قوم“ کہا تھا۔ ویسے تو پٹھانوں کی تذکیر و تانیث کی غلطی پکڑنا بجائے خود غلطی ہے لیکن صحافی کہاں باز رہتے ہیں۔ صحافیوں نے انھیں مطلع کیا کہ حضور قوم مذکر نہیں مونث ہے۔
اس پر خان صاحب بولے ”میں کسی مونث قوم کا لیڈر نہیں ہوں میرا قوم مذکر ہے“ تاہم الیکشن کے وقت ہر جماعت کی ترجیع مذکر کم اور مونث زیادہ ہوتی ہیں۔ ہر جماعت مونث ووٹرز کی مونس نظر آنے کی تیزرفتار دوڑ میں شامل ہوتی ہے۔ جس لیڈر کو دیکھیں چا ہے وہ کسی دینی جماعت کا ہی مہاتما ہو، ماؤں، بہنوں، بیٹیوں اور بیویوں کو گھر کی چاردیواری سے زیادہ سے زیادہ باہر نکالنے کی کوشش میں ہوتا ہے۔
پہلے لوگ اتنے سادہ ہوتے تھے کہ فلموں میں مرنے کے سین دیکھ کر رونے لگتے تھے حالانکہ وہ ایکٹنگ ہوتی تھی۔ جب کہ اداکار کا مرنا نہیں مرنے کی ایکٹنگ ایسی ہوتی تھی کہ اسے دیکھ کر رویا جائے۔ الیکشن کے موقع پر اربوں روپے کے محلات سے نکل کر کروڑوں کی گاڑیوں میں بیٹھ کر جب لیڈر جلسہ گاہ میں غریبوں کے لئے مرنے کے دعوے کرتے ہیں تو حقیقت یہ ہے کہ انھیں مارنا چاہیے۔ لیکن عوام تالیاں بجا رہے ہوتے ہیں شاید اس بات پر کہ ان کی حکومتوں میں اب تک زندہ ہیں۔
ہمارے لیڈر دنیا کی ہر بات سمجھ لیتے ہیں سوائے عوام کی مشکلات اور مصائب کے حل کے۔ ہندؤں کو جس چیز کی سمجھ نہیں آتے اسے دیوتا بنا لیتے ہیں، ہمارے لیڈر اسے عوام گمان کرتے ہیں۔ ہمارے یہاں تو شاعر، ادیب اور مولوی بھی اسے بڑا سمجھا جاتا ہے جس کی بات سمجھ نہیں آتی۔ کسی بے وقوف سے بے وقوف سے بھی پوچھیں بشرطیکہ وہ مفکر اور دانشور نہ ہوا سے حالیہ الیکشن میں نواز شریف کی کامیابی یقینی نظر آتی ہے۔ بعض دانشور ایسے بھی ہیں جنھیں کسی بھی شخص کی اچھائی بس یہی نظر آتی ہے کہ وہ نواز شریف کو پنجابی کہے اور اس کی تعریف نہ کرے۔
نواز شریف کو جس طرح ترلے منتیں کر کے اور مقدمات سے ریلیف کی یقین دہانی کر کے لایا گیا ہے اس کو دیکھتے ہوئے الیکشن میں کامیابی کے لئے انھیں اتنی تگ و دو کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن خود نواز شریف کا یہ حال ہے کہ انھیں عوام کی سمجھ نہیں آ رہی۔ وہ پختونخوا اور بلوچستان سے لے کر کراچی تک قبل از انتخابات ہی سیاسی جماعتوں سے اتحاد کرتے نظر آرہے ہیں۔
ایک لڑکا اپنے باپ سے جب بھی شادی کی خواہش کا اظہار کرتا باپ یہی کہتا ”ابھی تم اتنے عاقل و دانا نہیں ہوئے ہو کہ تمھاری شادی کردی جائے“ ایک دن تنگ آ کر بیٹے نے کہا ”آخر میں کب عاقل و دانا ہوں گا“ ”جب تم شادی کی خواہش کرنا چھوڑ دو گے“ باپ نے جواب دیا۔ اگر یہی واحد کوالیفیکیشن تسلیم کی جائے تو پھر ہر مرد شادی کے بعد ہی شادی کے لیے کوالیفائی کر سکتا ہے۔ اقتدار کے لیے بھی یہی قابلیت شرط ہونی چاہیے۔ کسی بھی فرد کو تب ہی اقتدار دیا جائے جب وہ اس کا خواہش مند اور طلب گار نہ ہو۔
مہدی حسن مرحوم نے ایک مرتبہ کہا تھا بھارت میں ہم دیوتا ہوتے ہیں جب کہ پاکستان میں میراثی۔ یہ حقیقت ہے۔ گلوکار شہزاد رائے کا کہنا ہے کہ ان کے گروپ کو ایک وڈے زمیندار کے بیٹے کی شادی پر بھاری معاوضے کے عوض مدعو کیا گیا۔ بڑا کامیاب پروگرام رہا۔ خوب ناچ گانا ہوا۔ زمیندار صاحب فنکاروں کے آگے بچھے جا رہے تھے۔ ان کی خاطر مدارات اور عزت میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ رات کو آرام کرنے کے انتظام بھی زبردست تھے۔
شہزاد رائے کی آنکھ صبح جلدی کھل گئی۔ وہ کھڑکی میں آ کر کھڑے ہو گئے۔ دیکھا زمیندار صاحب نوکر سے کہہ رہے تھے ”ویکھیں کنجراں دے ناشتے دا انتظام ٹھیک ٹھاک ہونا چاہیے“ ۔ دنیا بھر میں الیکشن کی جو بھی وقعت ہو پاکستان میں الیکشن کی اتنی ہی عزت ہے۔ الیکشن عوام کی زندگی میں کوئی مثبت پیش رفت اور آسانی لے کر تو آتے نہیں سوائے وقتی ہنگاموں اور شور و غوغا کے۔
ہمارے ایک دوست ہیں وہ الیکشن کو اس سنجیدگی سے لیتے ہیں جیسے ہمارے یہاں واقعی الیکشن ہوتے ہیں۔ ووٹ اتنی ذمہ داری سے ڈالتے ہیں جیسے واقعی ووٹ ڈالنے سے فرق پڑتا ہو۔ حکومت کا ذکر اس احتیاط سے کرتے ہیں جیسے واقعی ہمارے یہاں حکومت ہوتی ہے۔ ایک اسی نوے برس کے کے بوڑھے نے ووٹ ڈالنے کے بعد الیکشن افسر سے پوچھا ”کیا ہماری بیگم ووٹ ڈال گئیں“ الیکشن افسر نے کہا ”حیرت ہے آپ کو اپنی بیوی کی خبر نہیں کہ اس نے ووٹ ڈالا کہ نہیں ڈالا“ بوڑھا بولا ”بیٹا میری بیوی کو مرے بیس برس گزر چکے ہیں۔ ہر مرتبہ الیکشن کے موقع پر ووٹ ڈالنے آتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ مجھ سے پہلے ووٹ ڈال کر چلی گئی۔ اس مرتبہ میرا خیال تھا کہ شاید اس سے ملاقات ہو جائے لیکن لگتا ہے آج بھی وہ مجھ سے پہلے ووٹ ڈال کر چلی گئی“
عرب ممالک میں جس کے ایک بیوی ہو اسے غریب سمجھا جاتا جب کہ دنیا بھر میں جہاں الیکشن نہ ہوں اسے عرب ملک سمجھا جاتا ہے۔ عرب چار بیویوں پر گزارا کر رہے ہوں تب بھی انھیں غریب سمجھا جاتا ہے۔ الیکشن بھی جب تک چاروں سطح پر قومی سے لے کر صوبائی اسمبلی، بلدیاتی اور سینیٹ کی سطح تک نہ ہوں نامکمل تصور ہوتے ہیں۔ جمہوری جماعتوں میں ان ورکرز کو پیار ویار سے دیکھا جاتا ہے جن کے انگوٹھوں پر ان مٹ سیاہی ہو جسے مٹا کر وہ بار بار ووٹ ڈال سکیں۔
بندہ کوئی سیاسی پارٹی جوائن کر لے تو اپنے نام کے ساتھ پارٹی لیڈر پارٹی کا نام اور جھنڈے کی تصویر اس طرح لگاتا ہے جیسے بیویاں اپنے نام کے ساتھ شوہر کا نام لگاتی ہیں۔ شوہر اور پارٹی بدلنے میں پریشانی یہ ہے کہ کارڈ دوبارہ چھپوانے پڑتے ہیں اسی لیے بعض لوگوں کے پاس ذاتی کارڈوں کے ڈھیر لگ جاتے ہیں
ایک صاحب کی بیوی اتنی خوبصورت تھی کہ اسے ساتھ لے کر گھومنا پھرنا کراچی میں کیش لے کر گھومنے کے برابر خطرناک تھا۔ الیکشن میں بغیر کیش گھومنا خطرناک ہوتا ہے۔ جسے دیکھو بری نظر سے دیکھتا ہے۔ الیکشن میں بغیر پیسے کے شرکت ایسی ہی ہے جسے انڈین فلم میں آئٹم سونگ نہ ہو۔ کامیابی مشکل بلکہ کسی حد تک ناممکن ہوتی ہے۔ الیکشن کے دن جو چیز سب سے بری سمجھی جاتی ہے وہ کنگلا امیدوار ہوتا ہے۔ کنگلا امیدوار الیکشن کے لیے مس فٹ ہے۔ بغیر بریانی، برگر کھائے اور جیب گرم کیے ووٹ کیسے کاسٹ کیا جاسکتا ہے؟

