غزہ: گونگوں، اندھوں اور بہروں کے نام


میں اپنی اس تحریر کو پیدائشی گونگوں، اندھوں اور بہروں کے نام کر رہا ہوں۔ میرے دل کے نہاں خانے میں ان کے لیے بڑی ہمدردی، نہایت ادب اور بڑے احترام کے جذبات موجود ہیں۔

اس تحریر کے اصل مخاطب وہ آنکھوں والے ہیں جو آنکھیں ہونے کے باوجود فلسطینوں پر ہونے والے ظلم کو دیکھ نہیں پا رہے۔ میرے مخاطب وہ اہل زبان ہیں جو زبان رکھنے کے باوجود بول نہیں سکتے، کچھ کہہ نہیں سکتے۔ میں ان سے کچھ کہنا چاہتا ہوں جنہیں کان ہونے کے باوجود معصوم غزہ کے بچوں، عورتوں اور بے گناہوں پر ہونے والی بمباری اور چیخیں نہیں سنائی دے رہی ہیں۔ میرے یہ الفاظ اور صدا انھیں لوگوں کے لئے ہیں۔

سات اکتوبر سے لے کر آج تک ہزاروں فلسطینی عورتیں، بچے اور بزرگ شہید ہو چکے ہیں اور لاکھوں بے گھر۔ غزہ قبرستان میں بدل چکا ہے اس کے باوجود اسرائیل مسلسل بمباری کر رہا ہے اور کوئی روکنے والا نہیں ہے۔ روکے گا بھی کون جب روکنے والوں کی ہی اس سارے عمل کو غیر مشروط حمایت ہو۔ اس کھیل میں غیر تو غیر اپنے بھی مسلسل بیگانگی اور خاموشی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ آپ مسلم ممالک کا رویہ دیکھ لیں آپ کو سب سمجھ آ جائے گا۔ سب کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے بیٹھے ہوئے ہیں اور اپنے آپ کو محفوظ سمجھ رہے ہیں۔

ایک تماشا ہے جو سب کے سامنے لگا ہوا ہے۔ یہ ظلم سب کے سامنے ہو رہا ہے اور اس کو کوئی رکنے والا اور ختم کرنے والا نہیں ہے۔ اقوام متحدہ جس کا یہ بنیادی فرض ہے کہ وہ اس دنیا میں بنیادی انسانی حقوق کو پامال نہ ہونے دے اور دنیا میں جنگ بندی کے لیے مسلسل اقدامات کرے۔ تا ہم اس کی کوئی سن نہیں رہا۔ سنیں گا بھی کون جب سننے والے ہی بہرے اور گونگے ہوں۔

فلسطین جل رہا ہے اور نہ جانے کب تک جلتا رہے گا۔ سوال یہ نہیں کہ یہ آگ کیسے؟ کس نے کیوں اور کس لیے لگائی؟ سوال یہ ہے کہ انسانی اور عالمی ضمیر کب جاگے گا اور اس بھڑکتی اور جلتی ہوئی آگ کو کون کیسے بجھائے گا۔ بچوں، عورتوں، بزرگوں اور غیر مسلح افراد کا اس میں کیا قصور ہے؟ کیا سات سال کا بچہ بھی دہشت گرد ہے؟ کیا بزرگ جو ایک لاٹھی کے سہارے بھی چل نہیں سکتا وہ بھی دہشت گرد ہے؟

فلسطین پر اسرائیلی جارحیت ایک بات تو روز روشن کی طرح واضح کرتی ہے وہ یہ کہ اس دنیا میں انصاف بالکل بھی نہیں ہے اور انصاف ہوتا ہوا نظر بھی نہیں آ رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر کب تک یہ تماشا جاری رہے گا؟ ایک ہی دفعہ اسرائیل یہ سارا تماشا کر کے دکھا کیوں نہیں دیتا۔ دنیا بھر میں یوں تو ہر روز مظاہرے، جلسے جلوس اور ریلیاں نکالی جا رہی ہیں۔ لیکن اس کا فائدہ؟ یہ سب نقار خانے میں طوطی کی آواز ثابت ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ جنگ بندی کی قراردادیں منظور کر کر کے تھک گیا ہے لیکن بڑی طاقتیں اسے ویٹو کر دیتی ہیں اور اسرائیل مسلسل کہہ رہا ہے کہ ہم جنگ نہیں روکیں گے۔

کیا مشرق وسطیٰ میں اسرائیل گریٹر اسرائیل کے خواب پورا ہونے تک مسلسل ایسی جنگ کرتا رہے گا اور کیا یہ جنگ یہاں ختم نہیں ہوگی؟ لگ ایسا ہی رہا ہے۔

عالمی ضمیر ہی نہیں فلسطین کے معاملے پر انسانی اور انفرادی ضمیر بھی مردہ ہو چکا ہے۔
آخر میں فلسطین اور غزہ کی صورتحال پر ایک نظم آپ کی نذر؛
اور تم دیکھ رہے ہو
میرا گھر جل رہا ہے اور تم دیکھ رہے ہو
دیوار و در جل رہا ہے اور تم دیکھ رہے ہو
ایک قیامت برپا ہے فلسطین میں شب و روز
اور اکثر جل رہا ہے اور تم دیکھ رہے ہو
غزہ، نابلس، خان یونس، یروشلم و اقصیٰ
شام و سحر جل رہا ہے اور تم دیکھ رہے ہو
آگ *برس* رہی ہے سکولوں، ہسپتالوں پر
اندر و *باہر* جل رہا ہے اور تم دیکھ رہے ہو
اے دنیا کے منصفو، راہبرو، راہنماؤں
دھر جل رہا ہے اور تم دیکھ رہے ہو

Facebook Comments HS

اسلم بھٹی

اسلم بھٹی ایک کہنہ مشق صحافی اور مصنف ہیں۔ آپ کا سفر نامہ ’’دیار ِمحبت میں‘‘ چھپ چکا ہے۔ اس کے علاوہ کالم، مضامین، خاکے اور فیچر تواتر سے قومی اخبارات اور میگزین اور جرائد میں چھپتے رہتے ہیں۔ آپ بہت سی تنظیموں کے متحرک رکن اور فلاحی اور سماجی کاموں میں حصہ لیتے رہتے ہیں۔

aslam-bhatti has 45 posts and counting.See all posts by aslam-bhatti