نقاب اُترتے چہرے

جب نظریات شکست کھانے لگیں اور قلم منافقت کی زبان بولنے لگے، تب سچ کو بچانے کے لیے ایک نئی جنگ لڑنا پڑتی ہے۔ بھارت کی سر زمین پر جن شخصیات کو ہم علم، عقل اور آزادی اظہار کے سفیر سمجھتے تھے، جب وہی نفرت، تعصب اور منافقت کے علمبردار بن کر سامنے آتے ہیں، تو یقین کی دیواریں لرزنے لگتی ہیں۔ یہ صرف ایک سیاسی تبدیلی نہیں، بلکہ ایک تہذیبی زوال ہے جس میں انسانیت دم توڑ رہی ہے،

Read more

ریاستی بیانیہ: رہنمائی یا گرفت؟

ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں بیانیہ صرف رہنمائی کا ذریعہ نہیں رہا، بلکہ اب یہ بعض اوقات اختلاف رائے کے آگے ایک دیوار بن جاتا ہے۔ نظریات، جنہیں کبھی سوچ کی آزادی اور فکری بلوغت کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا، رفتہ رفتہ ایسی صورت اختیار کر چکے ہیں کہ ان پر سوال اٹھانا دشوار ہو گیا ہے۔ دو قومی نظریہ، جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک الگ شناخت دینے میں کلیدی کردار ادا کیا،

Read more

کیا جلسے الیکشن جتوانے کی ضمانت ہوتے ہیں؟

پاکستانی سیاست میں جلسوں کو ہمیشہ غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے۔ رنگ برنگے جھنڈے، گونجتے نعرے، قائدین کی پُرجوش تقاریر، اور عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر۔ یہ سب کچھ کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے فتح کا منظرنامہ پیش کرتا ہے۔ لیکن جب اصل میدان یعنی بیلٹ بکس کھلتے ہیں، تو اکثر وہی ہجوم خاموش ہو جاتا ہے، اور نتیجہ حیران کن نکلتا ہے۔ تو سوال یہ ہے : کیا جلسے واقعی الیکشن جتوانے کی ضمانت ہوتے ہیں؟ حقیقت

Read more

قرارداد لاہور اور بے بنیاد دعوے

قرارداد لاہور کے متعلق کئی دہائیوں سے ایک مخصوص بیانیہ گڑھا جاتا رہا ہے، جس میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ قرارداد دراصل برطانوی حکومت کی ایماء پر تیار کی گئی تھی، اور اس کے مصنف سر ظفر اللہ خان تھے۔ ولی خان نے اپنی کتاب حقائق در حقائق میں اس نظریے کو فروغ دیا، اور پرویز پروازی سمیت کچھ دیگر مصنفین نے بھی اسے دہرانے کی کوشش کی۔ لیکن جب ہم تاریخی شواہد، مسلم لیگ کے اصل ریکارڈز

Read more

جی ایم سید: تحریکِ پاکستان سے علیحدگی تک

جی ایم سید اور آل انڈیا مسلم لیگ کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کی جڑیں درحقیقت اس سیاسی کشمکش میں پیوست تھیں جو 1944 ء کے بعد شدت اختیار کر گئی تھی۔ مسلم لیگ اور جی ایم سید کے راستے اس وقت جدا ہونا شروع ہوئے جب سندھ مسلم لیگ نے صوبے کے معاملات میں مرکزی قیادت کی مداخلت کے خلاف آواز اٹھائی۔ جی ایم سید کو یہ شکوہ تھا کہ مسلم لیگ کی اعلیٰ قیادت جاگیرداروں کی پشت

Read more

بے بس مائیں، گمشدہ صدائیں

ماں کے وجود سے جنم لینے والی دنیا نے ہمیشہ اسی ماں کو صبر کا درس دیا، قربانی کا بوجھ دیا، اور خاموشی کی زنجیروں میں جکڑ دیا۔ وہ جو سب کے لیے روشنی کا مینار بنی، خود اندھیروں میں دھکیل دی گئی۔ وہ بہن جو بھائی کے لیے دعا کرتی رہی، وہ بیٹی جو باپ کے سائے میں پروان چڑھی، وہ بیوی جو شوہر کے لیے زندگی کا سہارا بنی۔ مگر جب اس نے اپنے لیے جینے کی خواہش

Read more

دانش کا کارواں : یاسر پیرزادہ کے ساتھ

ہمیشہ کہا جاتا ہے کہ کتابیں انسان کی بہترین ساتھی ہوتی ہیں، مگر جب کوئی صاحبِ علم شخصیت خود آپ کے درمیان آ کر علم کے چراغ روشن کرے تو وہ لمحے کتابوں سے بھی زیادہ قیمتی بن جاتے ہیں۔ کچھ ایسا ہی لمحہ ہمارے اسٹڈی سرکل میں اس وقت آیا جب کہنہ مشق کالم نگار اور بیوروکریٹ یاسر پیرزادہ صاحب نے ہماری دعوت قبول کی۔ وہ شخص جو اپنے لفظوں سے معاشرتی پیچیدگیوں کو سادہ بنا دیتا ہے، جب

Read more

روشنی کا شاعر، شعلوں کی نذر ہو گیا

آکاش انصاری محض ایک شاعر نہیں تھے، وہ ایک خواب تھے جو دھرتی کے ہر ذرے میں بسا ہوا تھا، ایک صدا تھے جو ہر دبے ہوئے دل میں ارتعاش پیدا کر سکتی تھی، اور ایک چراغ تھے جو خود جل کر دوسروں کو روشنی دیتا تھا۔ ان کی شاعری ان کا عکس تھی۔ کبھی نرم، کبھی سخت، کبھی دھیمے لہجے میں محبت کی باتیں کرتی، اور کبھی آندھی بن کر فرسودہ نظام کو جڑوں سے ہلا دیتی۔ وہ سندھ

Read more

کشمیر کا الم

کشمیر کا مسئلہ ایک تاریخی اور سیاسی پیچیدگی ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس ہوتے ہیں۔ ایک طرف بھارت کی سرکشی ہے، جو کشمیر میں اپنی فوجی موجودگی کو برقرار رکھے ہوئے ہے، اور دوسری طرف کشمیری عوام کی بے مثال قربانیاں ہیں، جنہوں نے آزادی کے لیے اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا۔ کشمیریوں کی یہ قربانیاں محض ایک قومی مسئلہ نہیں، بلکہ انسانی حقوق کے ایک سنگین معاملے کی صورت اختیار کر چکی ہیں۔ کشمیر کا

Read more

تعلیم، سیاست اور محرومی

تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کا دروازہ کھولنے والی کنجی ہے، لیکن پاکستان میں یہ کنجی زنگ آلود ہو چکی ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں نوجوانوں کی اکثریت ہے، جہاں خوابوں کی فصل ہر گلی، ہر محلے میں اگتی ہے، وہاں تعلیم کی زبوں حالی کسی المیے سے کم نہیں۔ حکومتیں آتی ہیں، وعدے کیے جاتے ہیں، پالیسیاں بنتی ہیں، مگر زمینی حقیقت یہی رہتی ہے کہ لاکھوں بچے اب بھی تعلیم سے محروم ہیں، اور جو اسکول جاتے

Read more

حکمتِ وقت

افغانستان میں طالبان کی واپسی نے نہ صرف عالمی سطح پر سیاسی اور اقتصادی منظرنامے میں ایک زبردست تبدیلی کی، بلکہ بھارت کے لیے یہ ایک نیا چیلنج اور موقع بھی ثابت ہوا۔ بھارت کی حکمت عملی نے عالمی تعلقات، اقتصادی مفادات اور جغرافیائی سیاست کے پیچیدہ تانے بانے کو دیکھتے ہوئے ایک متوازن راستہ اختیار کیا۔ طالبان کے اقتدار کے بعد بھارت کی پوزیشن ایک عجیب توازن کا شکار تھی، اسے اپنے عالمی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو برقرار

Read more

نفرت کے سائے

بھارت، جو کبھی اپنی تنوع میں خوبصورتی اور کثیر الثقافتی ہم آہنگی کا نمونہ تھا، آج مذہبی انتہاپسندی کے ایک ایسے بھنور میں پھنس چکا ہے جس سے نکلنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرنے والا یہ ملک، آج ایک مخصوص سیاسی نظریے کے زیرِ سایہ اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں، کے لیے تاریک ترین دور کی مثال بن چکا ہے۔ بھارتی مسلمانوں کی کہانی اب صرف ایک قوم کی کہانی

Read more

دہشت گردی کی جڑیں

دہشت گردی کا ہر واقعہ صرف ایک تباہی نہیں لاتا، بلکہ یہ انسانیت کے لیے ایک اذیت بھی ہوتی ہے۔ جب ایک بم پھٹتا ہے، تو وہ صرف ایک جسم کو نہیں چیرتا، بلکہ ایک قوم کے دل کو بھی زخمی کرتا ہے۔ وہ لوگ جو ان حملوں کا شکار ہوتے ہیں، ان کی زندگی کے سچے معنی نہیں ہوتے، بلکہ وہ اس بات کی علامت بن جاتے ہیں کہ دنیا نے ان کو اس قدر نظر انداز کیا کہ

Read more

دو سال: سوالوں کے عشق میں کھوئی ہوئی زندگی

یونیورسٹی کی چار سالہ ڈگری کا پہلا نصف مکمل ہو چکا ہے، لیکن یہ دو سال صرف ایک تعلیمی مدت نہیں تھے ؛ یہ زندگی کو سمجھنے، خوابوں کو پرکھنے، اور خود کو دریافت کرنے کا شاندار موقع تھے۔ یہ دو سال میرے لیے ایک ایسا سفر تھے جہاں ہر لمحہ، ہر قدم، اور ہر واقعہ میری شخصیت کے نکھار کا حصہ بنا۔ یونیورسٹی کی دہلیز پر پہلا قدم رکھتے ہی ایک عجیب سا ملا جلا احساس تھا۔ خوف، تجسس،

Read more

خالد احمد کی یادگاری تقریب میں ایک ملاقات

خالد احمد صاحب کی یاد میں اسلام آباد کے بلیک ہول میں منعقد ہونے والا پروگرام ایک ایسا لمحہ تھا جو میری زندگی کا ایک سنگ میل بن گیا۔ یہ محض ایک تقریب نہیں تھی، بلکہ ایک یادگار تجربہ تھا جس میں علمی، ادبی اور صحافتی دنیا کے ایک عظیم شخصیت کی خدمات کا اعتراف کیا گیا۔ اس محفل میں جب خالد احمد صاحب کی تحریروں، ان کے صحافتی اصولوں اور ان کے انسانیت کے لیے کیے گئے کاموں پر

Read more

منزل دور نہیں

زمانی اور مکانی حدود سے بالاتَر، ہر عہد میں، ہر زمانے میں، ہر شہر اور ہر بستی میں اچھے، خوبصورت، محبت کے قابل اور احترام کے مستحق لوگ ہوتے ہیں۔ ڈھلتی ہوئی شام کو میری نظریں ریل کی پٹری کے اوپر تھیں اور میں بے تابیِ سے ریل کا انتظار کر رہا تھا میرے ساتھ میڈیا منڈی کے مصنف اکمل شہزاد گھمن صاحب تھے سنا تھا کہ اب ریل کی آمد اور روانگی میں کچھ باقاعدگی دَر آئی ہے مگر

Read more

شہرِ گل کے خس و خاشاک سے خوف آتا ہے

ہمارے عہد کے نادِرِ روزگار شاعر جناب افتخار عارف کے بعض اشعار ضرب المثل کا درجہ پا چکے ہیں۔ موجودہ دور کے پاکستانی سماج کی مجموعی نفسیات کا تجزیہ کرتے ہوئے انہوں نے ایک شعر میں ایسی گہری بات کہی ہے کہ جس کا بیان کئی کتب کا متقاضی ہوتا۔ یہ شاعر کا اوج کمال ہے۔ رحمتِ سیدِ لولاک پہ کامل ایمان امتِ سیدِ لولاک سے خوف آتا ہے ہم نے برسوں پہلے چمن آرائی کے لیے جو فصل اپنی

Read more

فیض سے فیض تک

آج کل پاکستان میں اگر مگر کی گفتگو آسمان کی بلندیوں کو چھو رہی ہے کہ اگر یہ ہو جاتا تو شاہد یہ نہ ہوتا اور نہ ہی دوسرے آئین کی ضرورت ہوتی اور نہ ہی سقوط ڈھاکہ ہوتا اور نہ ہی آج ہم فیض حمید کے فیلڈ کورٹ مارشل کے متعلق بات کر رہی ہوتے۔ شہر اقتدار کنٹینروں کا جنگل بن چکا ہے اقتدار کے ایوانوں کے طرف جانے والی شاہراہوں پہ کنٹینروں کی بھرمار ہے، یہ بڑے بڑے

Read more

پرویز ہودبھائی: بات سے بات نکلے گی

گزشتہ ہفتے سندھی اسٹوڈنٹ سوسائٹی اسلام آباد کے زیر اہتمام اسٹڈی سرکل کے گیسٹ اسپیکر عصر حاضر کے سقراط (ڈاکٹر پرویز ہودبھائی) صاحب تشریف فرما ہوئے، ڈاکٹر صاحب عصر حاضر کے قد آور اکابر سے چونچ لڑانے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں، علمی اور ادبی حوالے سے ڈاکٹر صاحب کا تعارف لکھنا سورج کے آگے دیا رکھنے کے مترادف ہے لیکن پھر مختصراً بیان کرتا چلوں کہ ڈاکٹر صاحب دنیا کی بہترین یونیورسٹی

Read more

بھارت کے انتخابات کیوں دنیا بھر کے لئے دلچسپی کے حامل ہیں؟

بھارت میں 2024 ء کے عام انتخابات جن کا انعقاد 19 اپریل سے لئے کر یکم جون تک ہو گا۔ دنیا کے سب سے بڑی الیکشن کا معرکہ کل سجے گا۔ بھارت کو نہ صرف دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک قرار دیا جاتا ہے بلکہ اس جنوب ایشیائی ملک میں ہونی والے پارلیمانی انتخابات کو بھی دنیا کا سب سے بڑا الیکشن قرار دیا جاتا ہے۔ اس کی بار یہ انتخابات سات مرحلوں میں منعقد ہوں گے۔ رجسٹرڈ

Read more

یوم جمہوریہ سے یوم پاکستان کا سفر

پاکستان میں 23 مارچ کے دن کو یوم پاکستان کے طور پر منایا جاتا در حقیقت 23 مارچ کا دن یوم جمہوریہ کا دن ہے، 23 مارچ 1940 ء پاکستان کا تاریخی وہ دن ہے جسے یوم جمہوریہ پاکستان کہنا مناسب ہو گا۔ آل انڈیا مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس اس جگہ ہوا جہاں آج مینار پاکستان لاہور ہے۔ جس میں ہندوستان بھر سے مسلمانوں نے شرکت کی اس تاریخی اجلاس میں مسلمانوں کی آزاد ریاست کے لیے ایک قرارداد

Read more

سینیارٹی نظر انداز کرنے کی تاریخ

پاکستان میں زیادہ تر سینیارٹی کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور پاکستان کے آئین کو بنے ہوئے تقریباً 51 سال مکمل ہونے کو ہیں مگر آج بھی عملی طور پر یہ طے نہیں ہو سکا کہ اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ اور انتظامیہ اپنے اپنے دائرہ کار میں کیسے سفر کریں۔ عدلیہ کی بدترین تاریخ کے موجد جسٹس منیر تھے جس کے الفاظ یہ تھے کہ ”ضرورت غیر قانونی کام کو قانونی بنا دیتی ہے،“ جسٹس منیر نے نظریہ ضرورت ایجاد کیا

Read more

جمہوریت ہی بہترین انتقام ہے!

پاکستان میں جمہوریت نے بڑا جبر سہا ہے، ابھی بھی وہی ڈرامہ چل رہا ہے اور رچایا جا رہا ہے، پاکستان میں ایک تو جمہوریت ہے نہیں اگر ہے وہ صرف نام کی جمہوریت ہے۔ ہاں پاکستان میں کبھی کبھار جمہوریت آہی ہے وہ صرف اپنی ہنی مون کے دن گزارنے کے لیے، آپ بخوبی واقف ہوں گے کہ پاکستان آزاد ہونے کے آٹھ سال کے بعد انتخابات ہوئے وہ بھی صوبائی سطح پہ صوبہ بنگال میں وہاں پاکستان بنانے

Read more

تاریخ کا گمشدہ ہیرو حر سپہ سالار شہید امین فقیر

جو قومیں اپنے شہیدوں کو یا ہیروز کو بھول جاتی ہیں وہ مٹ جایا کرتی ہیں لیکن زندہ قوموں کا شیوہ رہا ہے کہ وہ اپنے ہیروز کو کبھی نظر انداز نہیں کرتیں اور ان کو نہ صرف زندہ رکھتی ہیں بلکہ ان کے کارہائے نمایاں سے سیکھتی ہیں اور پھر قومی تقاضوں کے پیش نظر ان کے چھوڑے ہوئے ورثہ سے استفادہ کرتی ہیں مگر ہم وہ حرماں نصیب قوم ہیں جو قومی ہیروز کو ان کی زندگی میں

Read more

بھٹو ہمیشہ زندہ کیوں رہے گا؟

ذوالفقار علی بھٹو نے سوچ سمجھ کر کے موت کو گلے لگایا، بھٹو صاحب اپنی جیل میں لکھی ہوئی آخری کتاب ”اگر مجھے قتل کر دیا جائے“ میں لکھتے ہیں کہ تاریخ کے ہاتھوں مرنے کے بجائے میں فوج کے ہاتھوں مرنا پسند کروں گا۔ اگر بھٹو صاحب فوج سے ڈیل کر لیتے تو فوج کے ہاتھوں بچ جاتے اور تاریخ کے ہاتھوں مارے جاتے۔ ہاں وہ ایک الگ موضوع ہے کہ آج کی پیپلز پارٹی کو بھٹو صاحب کے

Read more

پیر پگاڑا اور سیاست

پیر سید شاہ مردان شاہ دوئم عرف پیر پگاڑا، 22 نومبر، 1928 کو پیر جو گوٹھ، سندھ میں پیدا ہوئے۔ آپ کا اصل نام سید سکندر شاہ تھا۔ پیر سید صبغت اللہ شاہ ثانی (سورہیہ بادشاہ) کی شہادت کے بعد برطانوی راج نے وقت کے کلیکٹر حیدر آباد محمد بخش کے ذریعے اپنے کسی حامی کو سجادہ نشین بنانے کے لیے سیاسی انجنیئرنگ کی ناکام کوشش کی، کہا جاتا ہے کہ وہ شخص پیر علی محمد راشدی تھے۔ پیر پگاڑا

Read more