بنا بنایا اداکار سنجیو کمار


بارے جب ان کا ذکر اٹھا تو کچھ نہ سوجھے ہے بھئی، کہ اٹھاوٴں کہاں سے اور اخیر کیا کی جاوے۔ عزیزو! وہ کوئی بے نوا تھا جو ایشور کی دھرتی ماتا پر آیا اور کیا ہی اپنی دھن میں بے مثال زندہ شبد چھوڑ گیا ارے واہ رے، کبھو تو لگتا ناکتخدا اپنی تلی ہوئی زبان بولتا ہے ولے ہر ویلے ہمرے دماغ میں یہ بھی آوے کہ وہ جو بول بولتا ہے شبد شاستر کہویں، پر نہیں یار فکاہیہ خدا بولتا ہے۔ ہر منظر پر عین اداکاری کے جوہر دکھائے کہیں بھی نہیں سوجھتا کہ بدیہی کوئی نہائی واقعہ ہے جو انکھیوں کے سامنے پھر گیا ہے پر جبھو لگتا باقاعدہ کسی انکھیارے کی منظم دوڑ دھوپ ہے۔ لیجؤ بھئی ہماری سمجھ میں تو نہ آتا وے شاید کسی بدھی وان کو یہ دعوی ہو چلا ہو تو کجھ نہ کہوا سکتے، پر ابھی تک ہمارے بھانڈے میں تو نہ آوے، پر اتا معلوم کہ وہ کون وہ کیا وہ دھرتی دلار، راجکمار۔

محبت کیا، محبت کا تصور کاہے لطافت۔ اس کو عملی رنگ میں جمانا، نبھانا بس اسی ایشور کا کام وا تھا۔ امر سے دیال ہو کر ستارہ ساز کے دل میں ساماں پیدا کیا، نوکر بن کر جیا، یعنی کسی جیا کو پانے واسطے جیا۔ فلم ”آندھی“ میں آتا ہے تو محبت کے تصور کو عملی صورت میں انت کرے جاتا ہے بھائیو، کچھ لازوال جملے بنے جاتا، مثال کے طور پر ”جب میں بارہ سال کا تھا“ کو کلاکاری کی داخلیت سے گزارتا ہے تو سننے والا کہیں اپنے بچپن میں کھو جاتا ہے اور بول کی تکرار اضافی چاشنی کا موجب بن جایا کرتی ہے۔

”موسم“ کے دنوں میں پریم کو بام عروج پر مسجع کیے دیتا ہے محض فقرے ہی نہیں سجاتا بلکہ ان میں ایسی دلربائی باندھے جاتا کہ روئے دلآرام را۔ وہ محبت کا ایسا صنم ساز گزرا کہ وہ خیال کے ہیولوں کو پیکر احساس عطا کر گیا۔ وہ کلاکاری میں بے مثل ایسی لازوال نغز گوئی سے ودیعت تھا کہ اپنی ذکاوتی بذلہ سنجی میں ایسی سولنگیاں کھینچتا کہ بندے ہسے ہی جاتے۔

بے نطق کی کوشش کرتا ہے تو آخرس کی اخیر کریے جاتا ہے کہ بندہ انگشت بدنداں رہ جاتا ہے کہ فنکارانہ جوہر کیا یوں بھی پیش کیے جا سکتے ہیں۔ ہاں بھئی سنجیو جیسے مہان سے کلاکاری کی ہر توقع کی جا سکتی تھی۔ وہ ابکم بھی تھا وہ ناطق بھی تھا وہ لہجوں کے نشیب و فراز کا شہنشاہ، وہ خوش نوا، وہ آپ ہمارے لیے تھا واہ واہ۔ مجھے ایسا کیوں لگتا ہے کہ ان کی خاموش زبان کے سامنے کوئی زبان دان بھی نہ ٹھہر پاتا، البتہ اے کے ہینگل اور اوم پرکاش ان کے برسر پرخاش ہونے کی کامیاب سعی کیے جاتے ہاں یہ وہی ہینگل تھا جو سنجیو کو کلاکاری کی دنیا میں لے آیا۔ میں نے اے کے ہینگل کا ایک انٹرویو سنا جس میں وہ ان کی کلاکاری کے جوہر بتاتے ہوئے اک افسردہ گہرائی میں ڈوب جاتا ہے۔

وہ کیمیا ساز کیا تھا، اپنی مدھ بھری آواز سے ایسے ایسے زیروبم اٹھائے جاتا کہ نیرنگ سازی کی مجسم صورت بن جاتا۔ منچلی میں منچلا بنے آتا ہے تو ایسی اوج ظرافت کھینچے جاتا ہے کہ حمالی تعارف سے ایک دم سات پشتوں تک بوجھ اٹھائے جانے سے مفر اور ہاں لینہ کے بندھانی بنے جانے میں عار کاہے کا، ہاہاہا۔ فقروں کی لذت دلی سے شملہ تک سجاتا ہے اور منچلی کے خیالوں میں اپنے نقش و نگار چھوڑے چلا جاتا ہے۔ وہ ہر رنگ میں کئی رنگ تھا دوستو! وہ کہے کی لاج تھا، فسوں گری کا مرقع، وہ شانتی کا میر، خوش صفیر اور اپنے نام کا کبیر۔ یارو وہ کلاکار تھا ہاں ہاں وہ سنجیو کمار تھا۔

Facebook Comments HS