تکلم خود
آج صبح سے طبیعت مائل بہ سخن ہے مگر سننے والے معتبر نہیں اور سننے والی میسر نہیں کہ ارد گرد سارے سرکاری ملازم ہیں یا پھر ہمدم دیرینہ۔ معاملہ کچھ بھی نہیں بس خاطر خراب ہے اور کچھ عرصہ سے شتاب ہے۔ دل کرتا ہے کہ کسی پربت پر، بہتی ندی کے کنارے، دھواں اڑاتی کٹیا کے باہر، کڑاہی میں آلو والے پکوڑے تلے جا رہے ہوں اور میں چولہے کے پاس کسی پائنتی پر بیٹھے، چیر اور چنار کے درختوں کے بیچ میں سے در آتی ہوئی روشنی کو تکتے ہوئے، گڑ والی چائے کی چسکیاں لیتا ہوں۔ پکوڑے تلنے والی کوئی نازنین ہو تو اچھا ہے، اس نے مقامی کپڑے زیب تن کیے ہوں تو اور بھی اچھا ہے، اور اگر وہ خوب صورت ہو تو کیا کہنے۔ بیشک اس نے دوپٹے کے پہلو سے منہ چھپا رکھا ہو کوئی بات نہیں، چاہے وہ میری طرف بالکل نہ دیکھے خیر ہے اور اگر اس کو میری زبان سمجھ میں نہ آتی ہو تو سونے پہ سہاگہ۔ دل کی مراد یہ ہے کہ ایک پورا دن کوئی ایسا میسر ہو جب کوئی صرف مجھے سنے، مسلسل سنے، بغیر میری باتوں کو کاٹے سنے اور جب تک میں تکلم کروں وہ مارے شوق کے ہمہ تن گوش رہے، چاہے سارا سمے بیت جائے اور زندگی کی شام ہو جائے اور میں اپنے تکلم کے تیر اسے تاک تاک کے ماروں اور وہ چوں بھی نہ کرے۔
انسان کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ کوئی اسے بولنے نہیں دیتا۔ میں اس بات سے یہ ثابت نہیں کرنا چاہتا کہ میں انسان ہوں بلکہ آج میں صرف بولنا چاہتا ہوں چاہے آپ مجھے کچھ بھی کہیں۔ میں علم و عمل کی چالیس سے زیادہ بہاریں دیکھ کر اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ میں آج تک اپنی کوئی بات مکمل نہیں کر پایا۔ طفل ناشاد تھا تو گریہ اظہار تھا مگر ماں نہیں رونے دیتی تھی۔ کمسن ہوا تو چہرے پہ مسکان آ کر کچھ کہتی تھی مگر ابا حضور ڈنڈا اٹھا لیتے تھے۔ وارد مکتب ہوا تو سمجھ آیا کہ کچھ پوچھنے کا مطلب امتحان میں نیچے سے اول آنا ہے۔ قاری صاحب سے پڑھنے گئے تو وہ سب کچھ جو اس وقت تک پلے پڑ چکا تھا، رستے میں پھینک کر خشیت الہی میں ہانپتے کانپتے گھر واپس آئے۔ دفتر کے ہوئے تو جو کہا دروغ کہا اور بر گردن راوی کہا۔ نکاح ہوا تو ویسے ہی بکری ہو گئے اور بغیر کچھ کہے زندگی گزارنے پر تیار ہو گئے۔ اس پورے سفر میں استفسار اور استدلال کی گنجائش ہی نہ تھی؛ تمام عمر استغفار اور بس کر یار پر گزارا کیا اور زبان و بیان کو بغیر کوئی تکلیف دیے زندگی گزار دی۔
آج کوئی مجھے نہ روکے اور مجھے کہنے دے جو میں اب تک نہیں کہہ پایا۔ میرا روئے سخن کہیں بھی ہو سکتا ہے اس لیے کوشش کریں کہ آج مجھے کوئی یاد نہ آئے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ سیل رواں کے راستے میں آ کر ندیوں کو روک دیں۔ بنیادی طور پر باتیں تین ہیں جو کہا چاہتا ہوں اور جو سخن گسترانہ بھی ہو سکتی ہیں مگر یہ یاد رکھیں کہ ہر عظیم بات یا گستاخی ہوتی ہے یا گواہی ہوتی ہے۔ یہ وہ باتیں ہیں جو ابھی تک کسی کے منہ مبارک سے پھوٹ نہیں سکیں۔ میرا ایک سوال خالق کائنات سے ہے، ایک بات خالق پاکستان سے کہنا ہے اور ایک بحث خود ہی اس خاکسار سے کرنی ہے۔
اب میں اپنے رب سے کچھ کہنے لگا ہوں۔ کوئی راہنما، کوئی روح رواں، کوئی قانون دان، کسی کا ترجمان، کسی کا وجدان مجھے نہ ٹوکے۔ اے میرے رب۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو تنہا ہے، یکتا ہے، سب کا ہے، لیکن یہ تو نے کیا کیا ہے؟ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ ابلیس اس وقت اولیں میں، تیرے سامنے تھوڑی سی سرکشی کے بعد ، سجدہ ریز ہونے ہی لگا تھا کہ تو نے ’کن‘ کہہ دیا۔ میرا یہ ماننا ہے کہ اگر تو ابلیس کو آدم کی بجائے حوا کے سامنے سر جھکانے کو کہتا تو وہ ابھی تک سجدے میں پڑا ہوتا۔ پھر تیری نگری میں ہابیل نے قابیل کو مار ڈالا اور ہم سب کا دادا وہ قاتل ٹھہرا۔ اگر کسی طریقے سے وہ مقتول بچ جاتا تو شاید آج اس کی نسلوں میں سے پھوٹنے والے شاید زیادہ متقی اور پرہیزگار ہوتے۔ مگر میرے رب تو زیادہ بہتر جانتا ہے کہ تیری رمزوں میں کیا چھپا ہے۔ خود تو تنہا رہا اور ہمارے جوڑے بنا دیے اور ہمیں اس کے حوالے کر دیا جس کو تو نے پسلی سے نکالا اور ہماری ہڈی پسلی ایک کرنے پر مامور کر دیا۔ میرے مالک! تیرا ایک نام قہار بھی ہے مگر مجھے نہیں معلوم کہ تیرے فرشتوں نے تجھے پنجاب پولیس کے بارے میں بھی بتایا ہے کہ نہیں جس کا ایک ایک داروغہ تیرے اس نام کی لاج رکھنے کے لئے عوام کے کھنے سینکنے پر ایمان کامل رکھتا ہے۔ میرے مالک، اگر تو ایک دفعہ اس دنیا کو سمیٹ کر دوبارہ سے شروع کرنے پر غور کرے تو شیطان آدم کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرنے پر ذرا بھی دیر نہیں لگائے گا کہ میں نے اسے اس دنیا میں لوگوں کو شیطانیاں کرتے دیکھ کر منہ چھپا کر روتے ہوئے یہ دہائی دیتے سنا ہے کہ ’یہ میں نے کائنات میں کون سا کٹا کھول دیا ہے۔ مالک تو بر حق تھا، میں جاہل تھا، میں نے انکار کیا، اب مجھے واپس بلا لے کہ اب یہاں میری ضرورت نہیں رہی۔‘
میں نے اپنے پیارے قائداعظم سے بھی کچھ راز و نیاز کی باتیں کرنی ہیں اور میں جانتا ہوں کہ ہماری باتیں کوئی اور بھی سن رہا ہو گا۔ اس لیے اے میرے قائد! چونکہ تو بہت ذہین و فطین تھا، وکیل تھا، بردبار تھا، تجھے میری دھندلی باتوں سے مطلب خود کشید کرنا ہے تاکہ میرا بھی بھرم رہ جائے اور تیری بھی عزت قائم رہے۔ اے میرے قائد! ہم تیری دور اندیشی کو سلام پیش کرتے ہیں کہ تو نے پاکستان بننے کے ایک سال بعد ہی اللہ کو پیارے ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ میرے قائد! اگر آپ خدا نخواستہ ایک دو سال مزید حیات رہ جاتے تو خاکم بدہن آپ کو ہماری سیاسی روایت کے مطابق پارسی دوشیزہ کے اغوا کا مقدمہ بننے کے بعد اس میں ضمانت بھی کروانا پڑ سکتی تھی۔ تیرے مضبوط جانشینوں نے دشمن کے اندازوں کو غلط ثابت کر دیا۔ وہ جو کہتے تھے کہ پاکستان دو چار سال میں مٹ جائے گا، ابھی تک چاٹ مصالحہ بنا رہے ہیں اور بیچ رہے ہیں مگر دیکھ کہ ہم آج بھی اسی شدت سے قائم ہیں۔
میرے قائد۔ تجھے بہت زعم تھا کہ نوجوان تیری قوت ہیں۔ ملاحظہ ہو کہ ہم نے اس ملک خدا داد میں چودہ کروڑ نوجوان پیدا کر دیے ہیں تاکہ وہ تیرے چودہ نکات کو یاد کر کے ملک قوم کے چودہ طبق روشن کر سکیں۔ قائد، تیرے فرمان کے مطابق بیوروکریسی کبھی بھی اب سیاست میں مداخلت نہیں کرتی۔ ہاں، کبھی کبھی سیاست بیوروکریسی میں گھس آتی ہے لیکن آپ مایوس نہ ہوں کہ ہم نے ہر دفتر میں آپ کا فرمان فریم کروا کر لٹکایا ہوا ہے۔ ہمارے قائد، ہم اگلی نسلوں کو یہ یقین دلا چکے کہ یہ ملک شب قدر کی عطا ہے اور یہ کہ اس کی تخلیق میں کسی سامراج کی رضا یا خطا کا عمل دخل نہیں ہے مگر قائد تیرے معصوم ملک کے مجبور بندے پھر بھی اہل فرنگ کو نجات دھندا مانتے ہیں اور جب بھی موقع ملتا ہے باہر بھاگ جاتے ہیں۔
قائد ہم جانتے ہیں سیاسی لوگ تیرے مزار پر روز آ کر تیری نیند خراب کرتے ہیں مگر اے قائد فکر نہ کر کہ بہت جلد پھر ان کے اذن گویائی کا در پھر بند ہونے والا ہے۔ پیارے قائد! تو بس اپنی سنگ سفید کی محرابوں کے نیچے خوابیدہ رہ۔ جو کبھی شور تلاطم بھی ہو تو کروٹ نہ بدلنا اور نہ کسمسانا؛ جو کبھی کوئی پا بہ زنجیر بسمل تیرے مرقد کے باہر رقص جنوں پر اصرار کرے تو بھی خاموش رہنا؛ جو کبھی کوئی دلگیر موذن حوض کوثر کے گھونٹ بھر کر، تیرے لوح مزار کا سہارا لے کر بھی، حکم اذان دے تو تجھے رتن بائی کا واسطہ، نہ کسی آواز کا جواب دینا اور نہ کبھی ان کے خواب میں آنا کہ قوم ابھی اقبال کے خواب کے طلسم میں گمشدہ ہے۔ انہیں ابھی اپنی منزل تلاش کرنے دے اور اتنی دیر تو کسی اور صدی میں بیدار ہونے سے پہلے، کچھ دیر آرام کر لے۔ میرے قائد اگرچہ میری اردو تانگے والی اردو نہیں لیکن مجھے یقین ہے تو میری بات سمجھ گیا ہو گا۔
صاحبو! مجھے بھی اپنے گلے میں بانہیں ڈال کر خود سے ایک بات کہنے دو۔ میرے مختار! کب تک تم اس بیوپار سے سروکار رکھو گے جس میں تم نے سرمایہ کاری تو کی ہے مگر جس میں تمہارا حصہ نہیں ہے۔ کب تک ’کیوں‘ کی کتاب کے صفحے پلٹتے رہو گے۔ افلاطون کی سلطنت بھی سقراط کو آب سرد پینے سے نہ روک سکی اور آخر وہ یونانی زکام کا شکار ہو کر چھینکتا ہوا رخصت ہوا۔ تمہارے پیٹ میں جو درد ہے، اس کو سہ کر چپ کر جا۔ مت کر وہ جو کوئی نہیں کر سکا۔ شراب عشق جھوٹ ہے، شباب نرا فساد ہے اور شام ہو چکی ہے۔ آؤ دونوں ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر لوٹ جاتے ہیں۔
بس اتنی سی بات تھی۔ میں نے جو کہنا تھا کہہ چکا ہوں۔ اب میں اگلی ایک صدی تک پھر خاموش رہ سکتا ہوں۔

