نیکی کا تو زمانہ ہی نہیں

ایک تھے شیخ جی اور قسمت نے چھکا مارا اور وہ ہو گئے مالا مال۔ دن ان کے ایسے پھرے کہ یکایک ریٹائر ہو گئے۔ یکایک اس طرح کہ شیخ جی پائلٹ تھے اور پٹرول مہنگا ہو گیا۔ شیخ جی افراط زر کے اضطراب میں کچھ اور تو نہیں کر سکتے تھے البتہ جب جہاز اوپر جاتا تھا تو اگنیشن آف کر دیتے اور جب طیارہ نیچے آنے لگتا تو انجن پھر چلا دیتے۔ حکام بالا نے آپس میں مشورہ

Read more

حافظ، حاجی اور حلوائی

ایک اندھا، ایک بہرا اور ایک گونگا دوست بن گئے۔ اندھا بس کہنے کی حد تک اندھیرے میں تھا کہ وہ باقی ہر کام میں پورا تھا۔ سارے لوگ اسے حافظ کہتے تھے۔ دعا اور کلام تو پتہ نہیں اسے یاد تھیں یا نہیں مگر اسے محلے میں رہنے والے ہر مرد اور عورت کی ذاتی تفصیلات زبانی یاد تھیں۔ گونگا بہت بڑا حکیم تھا؛ اس کے کشتے چار دانگ عالم میں مشہور تھے اور وہ ختنے بھی کر لیتا

Read more

کتب بینی

معاصرین اور معالجین کا متفقہ موقف ہے کہ کتب بینی بہرحال ’کتا بینی‘ سے بہتر ہے۔ لیکن مسئلہ یہ پیدا ہو گیا ہے عوام کی نظر میں سنگ تراش اور سگ تراش میں فرق مٹتا جا رہا ہے۔ بادی النظر میں کرم کتابی دکھائی دینے والا شخص کرم الہی بھی ہو سکتا ہے۔ یہ بالکل ضروری نہیں کہ کتابیں ہر صورت میں انسان ساز ہوں، وہ سراسر ساز باز بھی ہو سکتی ہیں۔ آخر کوئی تو وجہ ہے ہر وہ

Read more

بات

ساری بات میں بات ہی یہی ہے کہ کوئی بات ہی نہیں۔ اگر کوئی بات ہوتی تو اب تک سامنے آ گئی ہوتی۔ جو بغل میں سے چھریاں نکال کر سامنے آ جائیں، وہ بات کرنے والے رہے ہی نہیں۔ یہ جو منہ ہلا رہے ہیں اور اچھل رہے ہیں، بات نہیں کر رہے صرف بلوا کر رہے ہیں۔ ان کی مجبوری کو سمجھیں تو بات کی گرہ کھل جائے گی۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ بندہ شاہ کا مصاحب

Read more

آئیں ہمارے سنگ اڑیں

کراچی سے اسلام آباد کی پرواز پر سفر کرنے کا نادر تجربہ ہوا۔ سوچا کہ اس کہانی سے آپ کو کیوں محروم رکھیں۔ تو پھر آئیں، ہمارے سنگ اڑیں۔ ٹکٹ پر ساڑھے تین بجے کا ٹائم لکھا تھا اور تاکید تھی کہ دو گھنٹے پہلے حاضر ہونا ہے۔ ہم جہاں موجود تھے، وہاں سے کام ادھورا چھوڑ کر بھاگ کر نکلے، مارے جلدی کے وہاں لنچ بھی نصیب نہ ہوا، نماز بھی گرتے پڑتے ٹیکسی میں پڑھی اور ابھی راستے

Read more

تکلم خود

آج صبح سے طبیعت مائل بہ سخن ہے مگر سننے والے معتبر نہیں اور سننے والی میسر نہیں کہ ارد گرد سارے سرکاری ملازم ہیں یا پھر ہمدم دیرینہ۔ معاملہ کچھ بھی نہیں بس خاطر خراب ہے اور کچھ عرصہ سے شتاب ہے۔ دل کرتا ہے کہ کسی پربت پر، بہتی ندی کے کنارے، دھواں اڑاتی کٹیا کے باہر، کڑاہی میں آلو والے پکوڑے تلے جا رہے ہوں اور میں چولہے کے پاس کسی پائنتی پر بیٹھے، چیر اور چنار

Read more

ایک کچھوے کی زندگی بھی کیا زندگی ہے

ایک کچھوے کی زندگی بھی کیا زندگی ہے! نہ کوئی فکر اور نہ کوئی فاقہ، نہ کوئی خواب اور نہ کوئی منزل، نہ کوئی دعوے اور نہ کوئی ڈر، نہ حاصل اور نہ لا حاصل۔ آنکھ کھولتے ہی خود کو افق سے جڑے ساحل سمندر پر سن باتھ کرتے ہوئے پاتے ہیں، پانی آواز دیتا ہے تو پانی میں اتر جاتے ہیں اور خشکی یاد آتی ہے تو ریت پر اوندھے منہ بے سدھ ہو کر لیٹے رہتے ہیں۔ کوئی

Read more