اب کی بار ساقی کس کے سامنے جام رکھے گا؟ – مکمل کالم


ہماری اردو شاعری کی روایت بہت دلچسپ ہے، اس میں مختلف کردار ہیں اور ہر کردار کا اپنا ایک پس منظر ہے، اسی پس منظر کی بدولت شاعر حضرات بعض اوقات ایک ہی شعر میں ایسا مضمون باندھ دیتے ہیں کہ جس کے لیے ورنہ انہیں علیحدہ سے افسانہ لکھنا پڑتا۔ آج کل ان کرداروں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے کیونکہ زباں بندی کے اس دور میں اب استعارات بھری شاعری ہی ذریعہ اظہار ہے، نہ جانے کس تحریر اور کس تقریر پر کون سے قانون کی شق کب لاگو ہو جائے، پتا ہی نہیں چلتا۔

محبوب: اردو شاعری میں محبوب کا وہی مقام ہے جو کسی سیاسی پارٹی میں بانی جماعت کا ، اس مقام تک کوئی نہیں پہنچ سکتا، اس کے ایک اشارہ ابرو پر عاشقوں کی فوج اور جاں نثاروں کی جماعت کٹ مرنے کو تیار رہتی ہے۔ محبوب کی ناز و ادا اور عشوہ گری کے سامنے کسی کا بس نہیں چلتا، عشاق اس پر جان چھڑکتے ہیں اور محبوب کا قرب حاصل کرنے کے لیے دیوانہ وار پھرتے ہیں۔ عاشق اگر وصال پا لے تو سمجھا جاتا ہے گویا وہ امر ہو گیا اور اگر وصال اس کی قسمت میں نہ ہو تو عاشق اس امید پر اپنے شب و روز گزارتا ہے کہ آخر کسی دن تو محبوب کو رحم آئے گا۔

پوری شاعری اسی وصل و ہجر کا نوحہ ہے، محبوب چاہے تو عاشق کو اپنے دیدار سے فیض یاب کردے اور چاہے تو اس سے نظریں پھیر لے، محبوب سے پرس نہیں کی جا سکتی۔ ہاں، اگر کسی دن اس کا موڈ اچھا ہوتو ہلکا پھلکا شکوہ کیا جا سکتا ہے مگر یہ محبوب کی صوابدید ہے کہ وہ اسے درخور اعتنا سمجھتا ہے یا نہیں، محبوب پر کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا، وہ جتنے مرضی یو ٹرن لے اسے کوئی غلط نہیں کہہ سکتا، وہ چاہے تو رقیب کے ساتھ مے پیے اور چاہے تو نامہ بر کے ساتھ فلرٹ کرے، کسی عاشق کی مجال نہیں کہ اس کو کٹہرے میں کھڑا کر کے پوچھے کہ تمہارا نظریہ عشق کیا ہے، اگر جلوت میں رقیب کو برا بھلا کہتے ہو تو خلوت میں نامہ بر کو مذاکرات کا پیغام کیوں دیتے ہو؟

غالب جیسا دبنگ شاعر بھی محبوب کی منت سماجت کر کے ہی کام چلاتا ہے لیکن کہیں کہیں موقع پا کر اس سے سوال بھی کر لیتا ہے مگر اس انداز میں کہ محبوب کو برا نہ لگے۔ ملاحظہ ہو: ’میں مضطرب ہوں وصل میں خوف رقیب سے، ڈالا ہے تم کو وہم نے کس پیچ و تاب میں۔ ‘ یعنی میں تو اس لیے مضطرب ہوں کہ کہیں ہماری ملاقات کے دوران رقیب نہ آ جائے مگر اے محبوب تم کیوں فکر مند ہو، کیا تمہارے دل میں بھی چور ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ تم اپنے معشوق سے چوری چھپے مجھ سے ملنے آ گئے ہو اور اب تمہیں ڈر ہے کہ کہیں وہ نہ آ جائے۔ یوں لگتا ہے جیسے غالب نے یہ شعر ایوان صدر میں بیٹھ کر کہا تھا!

عاشق: اردو شاعری کا دوسرا دلچسپ کردار عاشق ہے، پاکستانی ووٹر کی طرح اس بیچارے کی بھی کوئی زندگی نہیں، اس کے صرف فرائض ہیں حقوق نہیں۔ یہ محبوب پر منحصر ہے کہ کبھی کبھار اس پر ترس کھا کر اپنی محفل میں بلا لے اور وہاں بھی عاشق کے ساتھ بیٹھنے کی بجائے غیر کے ساتھ چہلیں کرتا رہے۔ یہ عاشق کی ڈیوٹی ہے کہ وہ محبوب کو ہمہ وقت اپنی وفاداری کا یقین دلاتا رہے، اس کے حسن و پیراہن کی تعریف کرے، گاہے بگاہے محبوب کو خط لکھے اور آشفتہ سری میں اس کے گلی کوچے کا طواف کرتا رہے۔

’وائے دیوانگی شوق کہ ہر دم مجھ کو ، آپ جانا ادھر اور آپ ہی حیراں ہونا۔‘ اس کے ساتھ ساتھ عاشق رقیب پر بھی نظر رکھتا ہے اور نامہ بر کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے کہ کہیں عاشق کا خط پہنچاتے پہنچاتے وہ خود ہی محبوب پر لٹو نہ ہو جائے۔ ’تجھ سے تو کچھ کلام نہیں لیکن اے ندیم، میرا سلام کہیو اگر نامہ بر ملے۔ ‘ اس سے ہمیں یہ بھی پتا چلتا ہے کہ اردو شاعری کا محبوب خاصا دل پھینک واقع ہوا ہے مگر سچے عاشق کو لفٹ نہیں کرواتا کیونکہ محبوب جانتا ہے کہ عاشق اپنے عشق کے ہاتھوں مجبور ہے، اگر اسے صحبت میسر نہ بھی آئی تو پھر بھی وہ اس کے در پر ہی پڑا رہے گا، کسی دوسرے کو ووٹ نہیں دے گا۔

رقیب: اسے آپ اردو شاعری کا ولن سمجھیں، محبوب کی نظر التفات رقیب پر ہی رہتی ہیں اور اس کا عاشق کو بے حد قلق رہتا ہے، عاشق مختلف ذریعے سے اپنا مدعا محبوب کے سامنے پیش تو کرتا ہے مگر رقیب کی بزم میں اس کا بس نہیں چلتا۔ ’اس انجمن ناز کی کیا بات ہے غالب، ہم بھی گئے وہاں اور تری تقدیر کو رو آئے۔ ‘ محبوب اور رقیب کا قرب دیکھ کر عاشق آہیں بھرتا ہے اور اپنی بد نصیبی پر ماتم کرتا ہے۔ کبھی کبھار عاشق جی کڑا کر کے محبوب سے رقیب کے تعلق کی بابت پوچھ بھی لیتا ہے مگر یہ ہمت غالب کے سوا کسی میں نہیں۔

”کہا تم نے کہ ’کیوں ہو غیر کے ملنے میں رسوائی؟‘ بجا کہتے ہو، سچ کہتے ہو، پھر کہیو کہ ہاں کیوں ہو؟“ اس شعر میں عاشق نے جب محبوب سے پوچھا کہ تم غیر سے کیوں ملتے ہو تو محبوب نے جواب دیا کہ اس میں کوئی ایسی بات نہیں، He is just a friend، اس پر عاشق نے طنزاً کہا کہ اچھا یہ بات ہے تو ذرا پھر سے کہو تاکہ سب سن لیں۔ یہاں رقیب اور غیر کے درمیان فرق کرنا بھی ضروری ہے، رقیب وہ ہے جو محبوب پر عاشق ہے اور وہ بھی اس سے الفت رکھتا ہے مگر غیر وہ شخص ہے جس کی بزم میں محبوب اٹھتا بیٹھتا ہے، اس سے اٹکھیلیاں بھی کرتا ہے مگر ضروری نہیں کہ اس کے ساتھ عاشق و معشوق کا تعلق بھی استوار کرے۔

لیکن ہمارا عاشق کچھ شکی مزاج ہے، وہ غیر اور رقیب میں فرق کرنے کے لیے تیار نہیں جیسا کہ اس شعر سے ظاہر ہے : ’بغل میں غیر کے آج آپ سوتے ہیں کہیں ورنہ، سبب کیا خواب میں آ کر تبسم ہائے پنہاں کا ۔‘ اصل میں غریب عاشق کا کوئی قصور نہیں، اس کے ساتھ کبھی کسی نے وفا ہی نہیں کی، لہذا اس کا ہر کس و ناکس پر شک کرنا قابل فہم ہے۔ عاشق خلوص نیت کے ساتھ محبوب کی وفا کا دم بھرتا ہے اور اسے یقین دلاتا ہے کہ اس کا شوق شہادت کبھی ماند نہیں پڑے گا، وہ تو قتل گاہ میں عریاں شمشیر دیکھ کر بے حال ہوجاتا ہے کہ آج محبوب کے ہاتھوں شہادت نصیب ہوگی۔ ’عشرت قتل گہ اہل تمنا مت پوچھ، عید نظارہ ہے شمشیر کا عریاں ہونا۔‘ مگر محبوب اس قدر کٹھور ہے کہ سچے عاشق کو ٹھکرا کر کوچہ رقیب میں سر کے بل جاتا ہے۔

ناصح: اسے آپ اردو شاعری میں سول سوسائٹی یا میڈیا کا نمائندہ کہہ سکتے ہیں، یہ عاشق کو نصیحتیں کرتا ہے اور اسے سمجھاتا ہے کہ کچھ عقل سے کام لو، کیوں اپنی زندگی ایسے پتھر دل محبوب کے پیچھے برباد کرتے ہو، تمہارا یہ مقام تو نہیں کہ اس کی ہر بات پر لبیک کہو، کچھ دماغ سے کام لو، سوچو، سمجھو، دیکھو، کیا تمہیں نظر نہیں آتا کہ محبوب تم سے زیادہ رقیب سے گفتگو کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے، شاید وہ رقیب کو طاقت کا منبع سمجھتا ہے۔

لیکن ان پند و نصائح کا عاشق پر کچھ اثر نہیں ہوتا اور وہ الٹا سوال کرتا ہے۔ ’حضرت ناصح گر آویں دیدہ و دل فرش راہ، کوئی مجھ کو یہ تو سمجھا دو کہ سمجھاویں گے کیا؟‘ یعنی ناصح کی کسی دلیل کا اثر عاشق پر نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کے دماغ میں وہ ’چپ‘ ہی نہیں لگی جو اسے محبوب سے بیزار کرسکے۔ ویسے بھی عاشق کا خیال ہے کہ اس کے محبوب نے آج تک کس سے وفا کی ہے جو رقیب سے نبھائے گا! ’رشک کہتا ہے کہ اس غیر سے اخلاص حیف، عقل کہتی ہے کہ وہ بے مہر کس کا آشنا؟‘

مجھے ان عاشقوں سے ہمدردی ہے مگر فی الحال ان کا چمن ویران ہے، بھیڑ کسی اور مے خانے میں لگی ہے، بلبلیں نغمہ سرا تو ہیں مگر دوسرے گلستاں میں۔ عاشق، محبوب، رقیب اور غیر اس گلستاں میں بھی ہیں مگر فی الحال وہاں کسی کو شوق شہادت نہیں، وہ شام تنہائی کاٹ چکے، اب انہیں ساقی کا انتظار ہے جو ان کی تشنہ کامی کا مداوا کرے گا۔ ’میں اور بزم مے سے یوں تشنہ کام آؤں، گر میں نے کی تھی توبہ، ساقی کو کیا ہوا تھا؟‘ اب انتظار ساقی کا ہے، دیکھیے اس مرتبہ وہ کس کے سامنے جام رکھتا ہے!

Facebook Comments HS

یاسر پیرزادہ

Yasir Pirzada's columns are published at Daily Jang and HumSub Twitter: @YasirPirzada

yasir-pirzada has 610 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada