ایک انگوٹھی


پھر ایسا ہوا کہ پاکستان میں جنرل مشرف ایک فوجی انقلاب کے ذریعے اقتدار میں آ گئے۔ میرے سارے دوستوں اور دفتر کے لوگوں کو پتہ لگ گیا کہ میں جنرل مشرف کا دوست رہا ہوں۔ ان سے میرا تعلق بھی ہے، ان سے فون اور ای میل پر رابطہ بھی ہے۔

ایک دن وہ ایک فائل مجھ سے لینے کے لیے میرے کمرے میں آئیں اور جب فائل لے کر جانے لگیں تو رک گئیں اور میری طرف دیکھنے لگیں۔ میں نے ان کی طرف سوالیہ نگاہ سے دیکھا تو کہنے لگیں۔ آپ پرویز مشرف کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ آپ حقیقت میں ان کو جانتے ہیں۔

بالکل اچھے طریقے سے جانتا ہوں۔ میں نے جواب دیا۔
اچھا۔ وہ مسکرائیں۔ ان کی مسکراہٹ اچھی تھی مگر مجھے لگا جیسے ان کی اداس آنکھوں میں پانی آنے والا ہے۔

او اچھا۔ یہ کہہ کر وہ کمرے سے چلی گئی تھیں۔ مجھے سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ پرویز مشرف کے بارے میں کیوں پوچھ رہی تھیں۔ انہوں نے بہت سنجیدہ انداز میں سوال کیا تھا۔ میں دل ہی دل میں حیران ہوا تھا۔

چار پانچ مہینے کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ کچھ دنوں کے لیے پاکستان جاتا ہوں وہاں سے آئے ہوئے کئی سال گزر گئے تھے اور اب تو پرویز مشرف صدر تھے، اپنے یار رہے تھے، کوئی مسئلہ نہ ہوا تو ملاقات تو ہو ہی جائے گی، کچھ اچھا وقت گزر جائے گا۔ ساتھ میں کچھ رشتہ داروں اور دوستوں کا خیال تھا کہ مجھے پاکستان آنا چاہیے اور ان سب سے ملنا چاہیے۔

اپنے دوستوں، رشتے داروں اور دفتر میں سب کو بتایا تھا کہ میں پاکستان اپنے پرانے دوست پرویز مشرف سے ملنے جا رہا ہوں جو اس وقت پاکستان کے صدر ہیں۔ یہ ایک عام سی بات تھی اور آپ کہہ سکتے ہیں کہ ایک طرح سے خودنمائی بھی تھی لیکن میں بھی ایک انسان ہی ہوں، بات غلط تھی لیکن مجھ سے یہ حرکت سرزد ہو چکی تھی۔ امریکا کے لیے نکلنے سے دو دن پہلے وہ میرے کمرے میں آئیں۔

خیریت۔ میں نے پوچھا تھا۔

میں بیٹھ سکتی ہوں۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا۔ یہ پہلی دفعہ ہوا تھا کہ وہ میرے کمرے میں میرے سامنے آ کر بیٹھ گئیں تھیں، یہ ایک غیرمعمولی بات تھی، وہ ہمیشہ اپنے کام سے کام رکھتی تھیں۔ مجھے لگا جیسے ان کا چہرہ سرخ ہو رہا ہے۔ ضرور بیٹھیں، بتائیں کوئی خاص بات ہے کیا؟

میرے لیے تو خاص ہے لیکن شاید آپ کو اچھا نہ لگے اگر برا لگے تو مجھے معاف کر دیجیے گا۔ انہوں نے آہستہ سے کہا تھا پھر تھوڑی دیر کے لیے رکی تھیں۔ سر آپ پاکستان جا رہے ہیں، اپنے دوست پرویز مشرف سے آپ کی ملاقات تو ہوگی۔

ضرور ہوگی۔ میں تو جا ہی اسی لیے رہا ہوں بہت دنوں بعد ۔ میں بڑی جلدی جلدی میں پاکستان سے نکلا تھا آنے کے بعد سے گیا ہی نہیں ہوں۔ پھر میں نے مختصراً بتایا کہ کیسے مجھے پاکستان سے بھاگنا پڑا تھا اور اب اتنے سالوں کے بعد جاؤں گا تو تھوڑا وی آئی پی بن جاؤں گا کیونکہ ہمارے دوست صدر پاکستان ہیں۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا تھا۔

آپ کی ان سے کتنی دوستی ہے۔ انہوں نے سوال کیا تھا۔

اچھی دوستی ہے، اتنی ہی اچھی جتنی بچپن کی دوستی میں ہوتی ہے۔ پرویز بہت اچھے دوست ہیں یار باش کام آنے والے، خیال کرنے والے دوستوں کے لیے ہر وقت حاضر، وہ ایک اچھے انسان بھی ہیں۔ میں نے تعجب سے ان کو جواب دیا۔

آپ میرا ایک کام کر دیں گے۔ انہوں نے آہستہ آہستہ جھجکتے ہوئے سوال کیا تھا۔

ضرور کروں گا اگر ممکن ہوسکا۔ مگر ایسا کیا کام ہے جو پرویز مشرف کے ذریعے سے ہو گا۔ میرے ذہن میں سوال آیا تھا اور میں بالکل بھی نہیں سوچ سمجھ سکا تھا کہ ان کا ایسا کیا کام ہے جو پرویز مشرف ہی کر سکتے ہیں۔

آپ راشد منہاس کو جانتے ہیں۔ آپ نے ان کے بارے میں سنا ہو گا۔ انہوں نے سوال کیا تھا۔
نہیں میں انہیں ذاتی طور پر نہیں جانتا ہوں، لیکن پاکستان میں سب ہی ان کو جانتے ہیں، انہیں پاکستان کا سب سے بڑا اعزاز نشان حیدر ملا تھا، وہ ائرفورس میں پائلٹ تھے۔ میں نے جواب دیا تھا۔

انہوں نے اپنا جہاز پاکستان میں زمین پر ٹکرا دیا تھا کیونکہ جہاز میں دوسرا پائلٹ جہاز کو ہندوستان لے جانا چاہ رہا تھا۔ انہوں نے میری طرف غور سے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔

ہاں یہ تو ہر ایک کو پتہ ہے۔ میں نے جلدی سے جواب دیا، میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ ان سب باتوں کا ایک دوسرے سے کیا تعلق ہے۔ میں نے ان کے چہرے کی طرف دیکھا تو مجھے لگا کہ ان کے چہرے پر اداسی کے گہرے بادل سے چھا گے ہیں اور ان کی آنکھیں بھر آئی ہیں۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا وہ بولیں۔ دوسرے پائلٹ کا نام مطیع الرحمان تھا، آپ کو پتہ ہے نا، میں ان کی بیوی ہوں۔ انہیں بنگلہ دیش کا سب سے بڑا فوجی اعزاز ملا تھا۔ ان کا چہرہ سپاٹ سا ہو گیا۔

میں حیران ہو گیا، میری سمجھ میں نہیں آیا کہ میں کیا بولوں۔ میں ان کی طرف حیرانی سے دیکھ رہا تھا کہ وہ پھر سے بولیں۔
یہ کام مشکل تو بہت ہے مگر شاید آپ کرسکیں اور اگر آپ نہیں کرسکیں گے تو پھر یہ کبھی بھی نہیں ہو سکے گا۔ یہ میرے لیے پہلا اور آخری موقع ہے شاید۔

نہیں مجھے بتائیں کام کیا ہے میں ضرور کروں گا اگر ممکن ہوسکا۔ میں نے جواب دیا تھا۔

جہاز گرنے کے بعد راشد منہاس اور میرے شوہر دونوں مر گئے تھے۔ میرے شوہر کو وہیں پاکستان میں دفن کر دیا گیا تھا لیکن چند سال پہلے ان کی لاش پاکستان سے بنگلہ دیش واپس بھیج دی گئی تھی جہاں انہیں دوبارہ سے دفن کر دیا گیا ہے۔ جب وہ مرے تھے تو ان کی انگلی میں انگوٹھی تھی، باریک سی سونے کی۔ وہ میں نے انہیں دی تھی۔ پاکستان میں دفن کرنے سے پہلے ان کی انگوٹھی نکال لی گئی تھی اور وہ اب راولپنڈی کے فوجی میوزیم میں رکھی ہوئی ہے۔

وہی انگوٹھی، وہاں ہے ایک شیشے کی الماری میں مطیع الرحمان کی تصویر کے ساتھ کیا۔ آپ اپنے دوست پرویز مشرف سے کہہ کر وہ انگوٹھی میرے لیے واپس لا سکتے ہیں۔ ان کے چہرے پر جو کرب تھا وہ کرب میں کبھی بھی نہیں بھول سکا اور نہ بھولوں گا۔ میرے پیٹ میں شدید قسم کا درد سا ہوا تھا، یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں تھا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔

میری سمجھ میں نہیں آیا کہ میں کیا جواب دوں۔ پھر میں نے کہا کہ یہ تو بہت مشکل کام ہے لیکن میں پرویز مشرف سے پوچھوں گا ضرور۔ کوشش ضرور کروں گا۔ اپنی طرف سے پوری کوشش کروں گا کہ کسی طریقے سے وہ انگوٹھی آپ کو مل سکے۔

ان کے چہرے پرایک رنگ آیا اور آ کر چلا گیا تھا۔

میں کراچی گیا پھر اسلام آباد بھی گیا۔ پرویزمشرف کے گھر پر ان کے ساتھ کھانا بھی کھایا۔ پرانی یادوں کو تازہ بھی کیا، کھانے کے بعد چند گھنٹے ان سے گپ شپ بھی کی، مگر میں ان سے مطیع الرحمان اور انگوٹھی کے بارے میں کچھ نہیں پوچھ سکا۔ مجھے پتہ تھا کہ یہ ممکن نہیں ہو گا۔

میں واپس امریکا آیا تو مجھے پتہ چلا کہ وہ کسی ہنگامی صورتحال کی وجہ سے شکاگو چلی گئی ہیں۔ پھر ان کا ایک خط آیا کہ وہ دوبارہ نوکری پر نہیں آ سکیں گی۔ خط کے آخر میں انہوں نے بہت صاف صاف موٹا موٹا اپنا پتہ اور فون نمبر لکھا ہوا تھا۔ شاید اس امید کے ساتھ کہ اگر مجھے انگوٹھی مل گئی ہے تو میں ان سے رابطہ کروں۔

اس واقعہ کو کافی عرصہ گزر گیا ہے، ان کا وہ خط میرے پاس ہے اور کبھی کبھی مجھے خیال آتا ہے کہ یہ جو جنگ کرانے والے لوگ ہوتے ہیں ان کو بیس سالہ راشد منہاس جیسے بچوں کی موت کا کیا غم ہو گا۔ انتیس سالہ مطیع الرحمان کے مرنے کا کیا دکھ ہو گا وہ تو جنگ کرتے ہیں، کسی سیاسی حماقت کی وجہ سے کسی کے انا کا شکار ہو کر اپنی اپنی بالادستی کے لیے، کبھی مذہب کا نام لیتے ہیں اور کبھی قومیت کی بنیاد پر جنگ کے الاؤ بھڑکا دیتے ہیں۔

یہ جنگ جو ہر طرف جا رہی ہے، دنیا کے کونے کونے میں چند سیاستدانوں کی، ان کی تسلی کے لیے۔ بڑی طاقتوں کی دھونس دھاندلی کو قانونی بنانے کے لیے۔ انہیں کیا پتہ ان ماؤں کا جن کے خواب ان کے بچوں کے بکھرے ہوئے جسم کی طرح ذرہ ذرہ ہو کر بکھر جاتے ہیں۔ وہ اس دکھ کو سمجھ ہی نہیں سکتے ہیں جو ایک جوان بیوہ کا ہوتا ہے جو اپنے شوہر کی انگلیوں میں پروئی ہوئی پتلی سی سونے کی انگوٹھی کے بارے میں سوچتی رہتی ہے انہیں اس پیار کی گرمائش کا اندازہ ہو ہی نہیں سکتا ہے جو ہمیشہ دل کی دھڑکنوں میں شامل رہتی ہے، انہیں کیا پتہ کہ وہ انگوٹھی کسی میوزیم کے سرد شیشے کی الماری میں بے جان پڑی ہے، اس سرد پتلی سی سونے کی انگوٹھی میں ایک معصوم سی بیوہ کی جان کس طرح نتھی ہے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2