ایک انگوٹھی


پرویز مشرف سے میری بہت پرانی دوستی تھی، ان کے صدر، سپہ سالار، جنرل اور فوجی بننے سے بھی بہت پہلے۔ ہماری دوستی عہدوں اور اقتدار سے بالاتر تھی۔ اس زمانے کی دوستی جب دوستی میں کوئی غرض نہیں ہوتی ہے، کوئی مفاد وابستہ نہیں ہوتا ہے جسے ہمیشہ یاد رکھا جاتا ہے جو بے غرض ہوتی ہے۔ ان کے سپہ سالار بننے سے سات سال پہلے میں پاکستان کے حالات سے بیزار ہو کر پاکستان چھوڑ کر امریکا آ گیا۔ میں پاکستان کبھی نہیں چھوڑتا، کبھی بھی نہیں مگر حالات کچھ اس طرح سے ہوئے کہ میرے لیے اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔

میرا اچھا خاصا کاروبار تھا میں بڑی محنت سے اپنا کام کرتا تھا۔ درآمد برآمد کے کام میں عام طور پر نقصان کا احتمال نہیں ہوتا ہے۔ تجربہ اور وقت کے ساتھ ساتھ پتہ چل جاتا ہے کہ ہندوستان چین جاپان سے کیا منگوانا ہے اور بازار کی کیا ضرورت ہے، کیا تیز چل رہا ہے اور کیا ٹھنڈا ہے۔ ہاجمولا سے لے کر ٹائیگر بام اور جاپانی کھلونا! اسی طرح پاکستان سے کیا کیا، کہاں کہاں بھیجتا ہے۔ باسمتی چاول سے موہنجوداڑو کے نوادرات، سیالکوٹ کے کھیلوں کے سامان سے لے کر آپریشن تھیٹر میں استعمال ہونے والے سرجری کے آلات، دنیا کے بڑے بڑے شہروں میں تاجروں سے میرا رابطہ تھا اور میں درآمد برآمد کے کام میں اپنی ضرورت سے زیادہ کما رہا تھا۔

وہ اچھا وقت تھا، ساری دنیا میں ہم چیزیں بنا بنا کر بھیجتے تھے۔ امریکا، ساؤتھ امریکا سے لے کر یورپ کے چھوٹے بڑے ممالک تک اور ایشیاء افریقہ کے ملکوں کے بازاروں میں ہماری رسائی تھی۔ اسی طرح سے دنیا بھر سے سامان بھی پاکستان آتا تھا۔ رشوت اس وقت بھی دینی ہوتی تھی مگر اتنی نہیں جتنی آج کل دینا پڑ رہی ہے، کاروبار میں ایمانداری بھی تھی، بے ایمانی بھی مگر حکومت کو لوٹنے کا سلسلہ شروع نہیں ہوا تھا۔

پھر یہ ہوا کہ میرا چھوٹا بیٹا اغوا ہو گیا۔

وہ چھبیس گھنٹے ہم لوگوں نے کیسے گزارے اس کا کوئی بھی کبھی بھی اندازہ نہیں لگا سکتا ہے۔ ہمیں خط ملا تھا کہ پانچ لاکھ روپے پہنچا دیں ورنہ بیٹا کسی حادثے میں مر جائے گا۔ میں نے کچھ بھی نہیں سوچا تھا۔ نہ کسی سے بات کی، نہ پولیس سے رابطہ کیا، نہ علاقے کے ایم کیو ایم کے سیکٹر انچارج سے ملنے گیا اور نہ ہی جاننے والے فوجیوں سے رابطہ کیا۔ مجھے اپنا بچہ ساری دنیا سے زیادہ عزیز تھا اس کے معاملے میں کسی بھی قسم کی کوتاہی، سستی، کنجوسی کچھ بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔

میں نے فوراً پیسوں کا انتظام کیا، جس طرح سے جہاں پہنچانے کے لیے کہا گیا تھا وہاں پہنچا دیا، جس کے چودہ گھنٹوں کے بعد میرا بیٹا مجھے واپس مل گیا تھا، وہ چودہ گھنٹے، میرا خاندان آج تک نہیں بھولا ہے اور نہ بھولے گا، میرا بیٹا سالوں تک رات کو سکون کی نیند نہیں سو سکا، یہ ہوا تھا پاکستان میں میرے ساتھ، کسی دشمن کے ساتھ بھی ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

صرف والدین ہی میرے اس غم، دکھ درد کو سمجھ سکتے ہیں، میں نے گھنٹوں میں نہیں منٹوں میں فیصلہ کر لیا تھا کہ پاکستان چھوڑ دوں گا۔ ہمیشہ کے لیے اب یہ ملک رہنے کے قابل نہیں رہا تھا۔ پھر میں نے پاکستان چھوڑ دیا تھا۔

مجھے تھوڑی مشکل ضرور ہوئی مگر ایسی بھی نہیں کہ میں اپنے فیصلے سے واپس ہوجاتا۔ میرے پورے خاندان کا امریکا کا ویزا لگا ہوا تھا، میں سب کو ساتھ لے کر جو کچھ میرے پاس تھا اسے سمیٹ کر امریکا چلا گیا تھا۔ پاکستان میں لوگ آج تک نہیں سمجھ سکے کہ میں اچھا خاصا چلتا ہوا کاروبار چھوڑ کر کیوں چلا گیا۔ میں کیسے بتاتا کہ میرے وطن نے مجھ سے غداری کی تھی، مجھے دھوکہ دیا تھا، میرا سر نیچے کر دیا تھا۔ میں اپنے بچوں اپنی بیوی کے سامنے سر اٹھانے کے قابل نہیں رہا تھا۔

کیسے سر اٹھاتا، ان کے سامنے، کیسے کہتا ان کو کہ مجھے اس ملک کی پولیس، عدالت، کسی پر بھی کوئی بھروسا نہیں ہے۔ ان سب نے مجھے شرمسار کر دیا، میرا سر جھکا دیا۔ اس صدمے سے میں آج تک نہیں نکل سکا ہوں، شاید کبھی بھی نہ نکل سکوں۔ یہی تو وہ درد ہے جو ہم جیسے لوگوں کا مقدر بن گیا ہے۔ جہاں میرا بچپن گزرا تھا، جہاں میں نے تعلیم حاصل کی تھی، جہاں میں بڑا ہوا تھا، جہاں مجھے محبت ہوئی تھی جہاں میرا گھر تھا، میرے ابو امی، میرا خاندان، وہ گھر، وہ در مجھے چھوڑنا پڑا تھا۔

آہستہ آہستہ امریکا میں میرا کاروبار جمنا شروع ہو گیا۔ کراچی کے آفس میں میرا منیجر بیٹھتا تھا اور میں امریکا کے آفس میں بیٹھ کر ساری دنیا میں جہاں جہاں میرے ذرائع تھے ان کے ساتھ ان کے تعاون سے کاروبار کرنے لگا تھا۔ اس عرصے میں میرا ایک دن بھی دل نہیں چاہا کہ میں پاکستان واپس جاؤں۔ کیا کرتا وہاں جا کر ایسی بھیانک یادیں وابستہ تھیں اس شہر کراچی سے، جو میں بھول نہیں پا رہا تھا۔

پھر ایک دن خبر آئی کہ جنرل پرویز مشرف نے پاکستان میں اقتدار سنبھال لیا ہے۔ مجھے گزرے ہوئے وہ سارے پرانے دن یاد آ گئے۔ وہ بہت دلچسپ آدمی تھے۔ خوش اخلاق، ہنس مکھ اور ہر طرح سے مدد کرنے والے۔ جنرل ہونے کے باوجود ان کا رویہ بہت دوستانہ رہا۔ میں انہیں کبھی کبھار فون پر ایک آدھ پیغام دے دیتا تھا اور وہ فوراً جواب دے دیتے تھے۔ دو تین دفعہ میں نے فون کیا اور انہوں نے جواب بھی دیا۔ دیر تک پرانے زمانے کی باتیں کی۔ وقت اسی طرح سے گزر رہا تھا۔ وقت تو گزر جاتا ہے، کسی کے لیے نہیں رکتا ہے، رک سکتا بھی نہیں۔

لیکن جیسا کہ ہوتا ہے جب کبھی آپ کا کوئی دوست کسی اچھی جگہ پر پہنچ جاتا ہے تو آپ اس کا ذکر شروع کر دیتے ہیں، دوستوں کو بتاتے ہیں کہ آپ اسے جانتے ہیں، میں نے بھی گاہے بگاہے اپنے دفتر میں اور دوستوں کو بتایا تھا کہ میں پرویز مشرف اور ان کے خاندان کو جانتا ہوں۔ ان سے میرے اچھے تعلقات رہے ہیں، میرا اور ان کا سارا بچپن ساتھ گزرا ہے اور ان سے ابھی بھی میرے تعلقات ہیں۔ وہ میرے پرانے اچھے دوستوں میں ہیں وغیرہ وغیرہ۔

مجھے اپنے آفس میں ایک آفس سپروائزر کی ضرورت تھی جس کے لیے میں نے مقامی اخبار میں ایک اشتہار دیا ہوا تھا۔ صبح کے نو بجے ہوں گے جب میں نے اپنی کافی کا کا پہلا گھونٹ ہی لیا تھا کہ میرے ایک اہلکار نے بتایا کہ ایک خاتون مجھ سے ملنا چاہتی ہیں۔ میں نے انہیں اندر بلا لیا تھا۔ وہ درمیانی عمر کی سادہ سی پرکشش خاتون تھیں جنہوں نے سادہ سی ساڑھی پہنی ہوئی تھی۔ مجھے پہلی ہی نظر میں اندازہ ہو گیا کہ ان کا تعلق بنگال سے ہے۔ بنگالیوں میں جو ایک خاص قسم کی نمکیت ہوتی ہے وہ ان کے چہرے پر تھی اور ساتھ ہی ان کے رویے میں ایک خاص قسم کا وقار تھا۔ میں نے انہیں بیٹھنے کے لیے کہا اور پوچھا کہ وہ کیوں آئی ہیں۔

وہ بیٹھ گئیں اور کہنے لگیں کہ میں نے آپ کا اشتہار دیکھا ہے اور جس قسم کا کام آپ چاہتے ہیں وہ میں باآسانی کر سکتی ہوں۔ یہ کہتے ہوئے انہوں نے اپنے کوائف مجھے دیے۔ میں نے ان پر ایک نظر ڈالی اور بتایا کہ بنیادی طور پر اس دفتر میں کوئی خاص کام نہیں ہے۔ صبح آنے کے بعد رات کو آئے ہوئے فیکس کے کاغذات کی فائل بنانی ہے اس کے جواب کے لیے جو کچھ تیار ہو گا اسے فیکس کرنا ہے اور کچھ خطوط جواب کے ساتھ تیار ہوں گے، انہیں بھیجنا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی خاص کام نہیں ہے۔ آپ یہ کام کر لیں گی۔ میں نے سوالیہ نظروں سے ان کی طرف دیکھا۔

ضرور۔ انہوں نے ایک دھیمی اور اداس سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا۔ یہ سارے کام تو میں کرتی رہی ہوں۔ میں کمپیوٹر وغیرہ بھی استعمال کرنا جانتی ہوں، اس میں بھی آپ کی مدد کر سکوں گی۔ ان کے لہجے میں اداسی کے ساتھ اعتماد بھی تھا۔

انہوں نے اسی دن سے کام کرنا شروع کر دیا تھا۔ وہ ایک ذہین خاتون تھیں۔ ان کا رویہ دوستانہ تھا۔ دفتر کے دوسرے لوگوں کے ساتھ ان کی بات چیت بھی ہوتی تھی۔ وہ مسلسل کچھ نہ کچھ کام کرتے رہنا چاہتی تھیں۔ سب کے ساتھ دوستی کے ماحول کے باوجود ان کی دوستی کسی سے بھی نہیں ہونی تھی۔ وہ باتیں ہر ایک سے کرتیں، لیکن ساتھ ہی ایک خاص فاصلہ بھی تھا ان کے اور دفتر کے لوگوں کے درمیان لیکن یہ بات مجھے گراں نہیں گزرتی تھی۔ کیونکہ وہ وقت کی پابند تھیں، کسی بھی قسم کی کاہلی کا شکار نہیں تھیں اور اپنا کام بہت دھیان کے ساتھ کرتی تھیں۔

میرے ساتھ بھی ان کا رویہ بہت اچھا تھا۔ جتنا کام ان کو دیا جاتا تھا وہ اس سے زیادہ کام کرتی تھیں۔ ان کا رہن سہن بہت سادہ تھا۔ ہلکے رنگ کی ساڑھی اور ماتھے پر ایک چھوٹی سی بندیا ہمیشہ لگی ہوتی تھی۔ وہ بہت سادہ سی مگر بہت معزز نظر آنے والی خاتون لگتی تھیں۔ ان کے کوائف سے پتہ لگ گیا تھا کہ ان کا تعلق بنگلہ دیش سے ہے لیکن کبھی بھی انہوں نے باتوں باتوں میں اس کا ذکر نہیں کیا تھا۔ اداسی ان کی شخصیت کا ایک ایسا پہلو تھا جس کا اندازہ ان سے ملتے ہی ہوجاتا تھا۔ میں نے سوچا تھا شاید ان کی زندگی میں کوئی بڑا حادثہ گزرا ہو جس نے ان کو اس طرح کی اداسی دیدی ہے، لیکن بعد میں مجھے لگنے لگا تھا جیسے یہ ان کی شخصیت کا حصہ ہے۔ بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2