پتھر کے صنم پتھر کے خدا
یہاں اس مضموں میں ہماری منشاء تخلیق کائنات اور تخلیق انسان بالکل بھی نہیں ہے۔ بلکہ اس بر بات کریں گے کہ تخلیق آدم کا جو کوئی بھی جس بھی نظریے کا ماننے والا ہو۔ اس بات سے آنکھیں بند نہیں کر سکتا۔ کہ انسان سماجی زندگی گزارنے پر انحصار کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ تبھی تو ارسطو کہتے ہیں کہ جو بندہ سماجی زندگی سے دور رہتا ہے وہ یا تو جانور ہے یا خدا۔ اب بندہ تو کسی بھی مذہب یا ازم میں خدا ہو ہی نہیں سکتا۔ البتہ سماج میں رہتے ہوئے جب انسانی رویوں کے خلاف برتاؤ کرتا ہے تو وہ جانور نہ ہوتے ہوئے بھی جانور سے کسی طور کم نہیں ہوتا۔
ایسے انسان کو جانور بنانے میں انسانوں ہی کا اپنا ہی ہاتھ ہوتا ہے۔ ہم جس کو جتنی اہمیت۔ پیار۔ محبت۔ عزت۔ احترام اور اہمیت دیتے ہیں وہ خود کو اتنا ہی اہم اور ہمارے لیے ناگزیر سمجھنے لگتا ہے۔ اور خود کا عام انسانوں سے الگ اور برتر محسوس کرنے لگتا ہے۔ اور خدمت کرانا۔ ناز برداریاں اٹھوانا اور ہر جگہ اور شے پر اپنا تسلط رکھنا اپنا حق سمجھنے لگتا ہے۔
روزمرہ زندگی پر ہم خود ہی نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان خود انفرادی اور اجتماعی طور پر کہیں نہ کہیں جانوروں جیسا برتاؤ کرتے رہتے ہیں۔ اور کہیں کہیں تو خدائی اوصاف استعمال بھی کرتے ہیں۔ معاشرے کے اصولوں اور ضروریات پر ایسی آنکھیں بند کر کے لاتعلقی کا رویہ اختیار کرتے ہیں، کہ یہاں رہتے ہوئے بھی اس سے بے نیاز رہتے ہیں اور خود کو اس سے کاٹ لیتے ہیں۔ جس کا نتیجہ کسی نہ کسی طرح تخریبی شکل کا ظہور ہی ہوتا ہے۔
دنیا میں جب بھی جہاں بھی ظلم، جبر، استحصال اور معاشی و معاشرتی بنیادوں پر مبنی جانبدارانہ قانون سازی ہو یا انتظامی لاڈلا پن۔ یہ کسی بھی حکومت مذہبی، سماجی یا سیاسی گروپ کی جانب سے ہو یا انفرادی طور پر ہی ہو۔ سب کچھ مخصوص مفادات کی خاطر کیے جاتے ہیں۔ اور اس قبیل کے دیگر لوگ اور گروپ وغیرہ ایک جیسے مفاد اور ان کے تحفظ کی خاطر کسی بھی رشتہ یا تعلق کے بغیر ایک دوسرے کے مددگار بن جاتے ہیں اودھم مچا لیتے ہیں۔
ایسے میں عام لوگ جو راستے اپناتے ہیں وہ اس ظلم کو ختم تو کیا کم تک نہیں کر سکتے۔ بلکہ روز بروز یہ ظلم بڑھتا رہتا ہے اور لوگ پستے پستے واضح طور پر اور غیر محسوس طور پر غلام بنتے جاتے ہیں۔ ان میں ایک اور عام رویہ دھونس، دھمکی، ظلم و جبر کے سامنے اپنی کم مائیگی، بیچارگی اور عدم تحفظ کے خوف سے ابتداء ہی میں بادل ناخواستہ تسلیم ہوتے ہوئے سب کچھ برداشت کرتے اور نسل در نسل ظلم سہتے سہتے ظالموں کو مزید طاقتور بناتے رہتے ہیں۔
اور پھر ان ہی طرح کے انسان اپنے دھن اور مستی میں اس انتہاء کو پہنچتے ہیں کہ خود کو خدا سمجھنے لگتے ہیں اور فرعون، نمرود اور شداد بنتے ہیں۔ جن کے نہ تو کوئی عام انسانی جذبات ہوتے ہیں۔ نہ ہی ان میں رحم ہوتا ہے۔ بس اپنے مال و دھن اور طاقت و اقتدار میں ایسے بن جاتے ہیں، جیسے لوگوں نے ان خود ہی پتھر تراش کے اپنے صنم اور اپنے خدا بنائے ہوں۔
دوسرا رویہ ان چالاک لوگوں کا ہوتا ہے جو تھوڑی سی قدرت رکھتے ہوں۔ اور ان میں بھی پھر مذہبی طبقی جو عوامی اعتقادات اور احترام کی وجہ سے خصوصی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ وہ اپنے ہی طبقے اور برادری کے ساتھ غداری کرتے ہوئے ظالم، سامراج اور مقتدر لوگوں کے ساتھ مل جاتے ہیں۔ لوگوں کو صبر اور شکر کی تلقین کرتے ہوئے ان کو تابعدار بنائے رکھتے ہیں۔ اور ظلم و استحصال کو تقویت دیتے ہوئے اپنا حصہ بقدر جثہ وصول کر کے ہامان بن کے عیش کرتے ہیں۔ البتہ چند ایک ایسے بھی ہوتے ہیں جو بغاوت پر اتر کے موسوی کردار ادا کرتے ہیں۔ مگر اپنی کمزوری اور محکوموں، مظلوموں کی مجبوریوں، خوف و دہشت پر مبنی عدم تعاون کی وجہ سے کبھی سر دار چڑھائے جاتے ہیں اور کبھی پس زندان رکھے جاتے ہیں۔
یہ عمل ماقبل تاریخ کے دور کا ہو، جاگیرداری کا ہو یا موجودہ نیم جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ دور کا انسانیت اپنی معراج جو تب پہنچے گی جب تمام محکوم اور مظلوم طبقات یکہ کر کے ایک دوسرے کے پیر و بازو بن جائیں۔ اپنی آزادی اور اپنے حقوق کے لیے بھر پور متحدہ جدوجہد کر کے اپنے تراشے ہوئے پتھر کے صنم اور پتھر کے خداؤں کو زمین پر گرا ہی نہ دیں۔


