ندامت کے چند آنسو
مجھے کچھ عرصے سے تمھارے بارے میں عجیب و غریب خبریں سننے کو مل رہی ہیں۔ مثلاً تم بیمار ہو۔ تمہیں حادثہ پیش آیا ہے۔ کسی واقعے کے نتیجے میں زخمی ہو گئے ہو۔ تمہارے گھر والوں کو بھی چوٹیں آئیں ہیں۔ تمہارے خاندان کے کچھ افراد لا پتہ ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔
مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں کہ تم کہاں ہو۔ کیا کر رہے ہو۔ زندہ بھی ہو یا نہیں۔
میں تمہارے بارے میں سوچ کر عجیب و غریب کیفیات کا شکار ہوں۔
گزشتہ شب ایک عجیب قسم کا خواب آیا کہ تم مشکل میں ہو۔ مدد کی ضرورت ہے اور کسی کو پکار رہے ہو۔ اس خواب نے مجھے تمہارے بارے میں اور زیادہ پریشان کر دیا ہے۔
میں اٹھتے بیٹھتے صرف تمہارے بارے میں سوچتا رہتا ہوں کہ کیا کروں اور کیا نہ کروں۔
مجھے کچھ نہ کچھ ضرور کرنا چاہیے۔ تمہارا پتہ چلانا چاہیے اور جو ہو سکے کرنا چاہیے۔
مجھے انتہائی افسوس ہے کہ میں آپ کے لئے کچھ نہیں کر سکا۔ کر بھی کیا سکتا تھا۔
میں نے بہت سوچا کہ آپ کے لئے کچھ نہ کچھ کروں۔ شاید کچھ مالی مدد آپ کے دکھوں کا مداوا کر سکے۔ میں نے یہ سوچ کر کچھ پیسے بھیجنے کی کوشش کی لیکن مجھے نہیں پتہ کہ وہ تمہیں ملے یا نہیں۔
کچھ سامان بھیجنے کی کوشش کی لیکن مجھے نہیں معلوم کہ وہ تمہیں ملا ہے یا نہیں۔
میں نے خود آپ تک پہنچنے کا سوچا لیکن یہ سوچ کر خاموش ہو گیا کہ سب راستے تو بند ہیں۔ میں کیسے آپ تک پہنچ سکتا تھا۔ لہذا تمہارے پاس نہ آ سکا۔ میں نے کسی دوسرے کو آپ کے پاس بجھنے کی کوشش کی لیکن وہ بھی ممکن نہ ہو سکا کیونکہ سب خوفزدہ تھے۔ خط لکھنے کی کوشش کی۔ پتہ نہیں تمہیں ملا یا نہیں۔ مگر ایک خط سے کیا فرق پڑتا ہے۔
مجھے اپنے آپ پر افسوس ہو رہا ہے کہ آزمائش کی گھڑی میں میں تمہارے کوئی کام نہ آ سکا۔ اسی لئے آج کف افسوس مل رہا ہوں۔
مجھے تمہارے دکھوں کا اندازہ ہے اور اس مشکل میں میں تمہارے کام بھی آنا چاہتا ہوں لیکن مجھے لگ رہا ہے کہ میں کچھ نہ کر سکوں گا۔
میں گزشتہ کئی دنوں سے سوچ رہا ہوں کہ آپ کے لئے کیا کروں۔ میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا کہ کیا کروں۔
آخر کار میں نے سوچ لیا ہے کہ میں کچھ نہیں کر سکتا۔ صرف آنسوں ہی بہا سکتا ہوں۔ شرمندگی اور ندامت کے چند آنسوں۔
میں اور کر بھی کیا سکتا ہوں اے میرے فلسطینی بھائی۔




