استاد منگو اور گورے کا قضیہ

تحریک تنویر (Enlightenment) کی کوکھ سے جنم لینے والے انقلاب نے انسانی زندگی کی صورت بدل دی بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ ایک نئی صورت تراشی، نئے اصول منضبط کیے، بوسیدہ مشقیں ترک کیں، فرسودہ روایات کے داغ دار پیرہن اتار کر، اجلی پوشاک اوڑھی گئی۔ روشن خیالی کی تحریک کے اثرات کی فہرست طویل ہے۔ المختصر، سماج اور ریاست کے تعلق کی نوعیت کو، فرد کی اہمیت تسلیم کرتے ہوئے ترتیب دیا گیا۔ سماج کے مقام کو اہمیت دیتے ہوئے فرد کی آبرو کی تحفظ کی قسم لی گئی۔ دانشوروں نے عمرانی معاہدے کی افادیت کے نظریے پہ مضامین، صفحات کی زینت کیے۔
سیاسیات کے طالب علم آشنا ہیں کہ اس سلسلے میں تین دانشوروں۔ تھامس ہابز، جان لاک اور روسو کے اسما مقدم ہیں۔ مغرب کے منظر نامے پہ ان کے نظریات کی چھاپ واضح ہے۔ روشن خیال، جان لاک کی تکریم کرتے ہوئے، اپنے اکثر قواعد و ضوابط، لاک کی تحاریر سے اخذ کرتے ہیں۔ روسو، فرانسیسی انقلاب کے بانیوں پہ اثر رکھتا تھا۔
تمہید طویل ہو جائے گی۔ مدعا یہ ہے کہ دہائیوں اور صدیوں پہ مشتمل سفر نے انسان کو روایتی سلطنت، جابرانہ نظام کی آہنی زنجیروں سے نجات دلاتے ہوئے ایک نظام دیا، جسے جمہوریت کا نام دیا گیا۔ اس نظام کی بیان کردہ خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ ہے کہ یہ ”فرق شاہی و بندگی برخاست“ کے وعدے کی نوید دیتا ہے۔ سماج کی تشکیل ہوئی، قومی ریاست منصہ شہود پہ آئی، ہر چند کہ تقسیم کی آڑی ترچھی لکیریں کھینچی گئیں، جو ارتقا کے عمل کا ایک جزو تھیں مگر حزن و ملال کی لمبی داستانیں چھوڑ گئیں جو آج بھی سرما کی ٹھنڈی راتوں میں، بزرگوں کے بستر کے گرد، لحاف میں لپٹی نسل کی طبیعت پہ اداسی کے گہرے نقوش چھوڑتی ہیں۔
مگر اس نظام میں فرد کو بیڑیاں توڑ کر، انفرادی، خاندانی، سماجی اور ریاستی سطح پہ بہتری کی کاوش پیہم کے یکسر مواقعوں کی بے داغ سبزے کی بہار نظر میں آئی۔ جن معاشروں نے اس نظام کی مبادیات کی تفہیم، اس کی روح کے مطابق کی، وہاں خوشی ہر فرد کی پیشانی پہ جھومتی ہے، افراد کی آنکھوں میں چاندنی اترتی ہے، علوم کے دروازے کھلتے ہیں، ریاست تحفظ کی ضمانت کو عملی جامہ پہناتی ہے، تعلیم کے مساوی مواقع افراد کی دہلیز پہ ملتے ہیں، کسمپرسی کے سائے دور تک دکھائی نہیں دیتے، کچی بستیاں معدوم ہیں، معیشت استحکام کے مینار پہ کھڑی ہے جو مخالف سمت کی ہوا کے جھونکے سے نہیں ڈگمگاتی، وہاں انسانوں کے مابین برگ و بہار کے شگوفے پھوٹتے ہیں۔ ارسطو کے تجویز کردہ نسخے کا لفظ مستعار لوں، تو باشندگان کے مابین مضبوط philia پایا جاتا ہے۔
آج وطن مالوف کا نوجوان، پرکھوں کی لغت کے اجنبی دیاروں میں اجنبیت کی کسک محسوس نہیں کرتا، بلکہ آج وہ، جائے پیدائش سے، ان گلی کوچوں جہاں بچپن میں وہ دیوانہ وار عدم سے خواب تراشتا، سے نامانوسیت محسوس کرتا ہے اور اڑان بھرنے کا منتظر رہتا ہے۔ بعض تو پر خروش پانیوں پہ تیرتے ناتواں تختوں کے مسافر شام، بحری مخلوق کا لقمہ بنتے ہیں۔ مغربی قطب پہ زندگی کی آسودگی اور شہریوں کی خوش و خرم حالت کے سحر میں مبتلا جوشیلے نوجوان کی آرزو پہ نینا عادل صاحبہ کیا خوب یاد آئیں، ”جہاں ہے برلب موج ہوا اک لحن آزادی/ متاع روح آزادی/ نشاط اصل آزادی/ جہاں پھولوں کو بے پردا بھی کھلنے کی ہے آزادی/ ہمیں ان سبزہ زاروں کی طرف اب کوچ کرنا ہے“
لطیف نکتہ یہ ہے کہ جرس جمہور پہ کھڑا نظم، مفلوک الحالی سے نجات، خوشحالی کی ضمانت، حقوق کی فراہمی، معاشی استحکام کی نوید سناتا ہے۔ عالم کے وسیع منظر نامے پہ دوسرا ترقی کا ماڈل، جمہوری ممالک سے جدا ہے، جہاں روح آزادی کی تفہیم مختلف ہے۔ اگرچہ وہاں کروڑوں نفوس کو غربت کی چلچلاتی دھوپ سے نکال کر سبز پتوں کی چھاؤں دے دی گئی مگر سنگ مرمر کی عمارتوں تک رسائی، وہاں کوسوں دور ہے۔ دوسرے عالمی مجادلے کے بطن سے خطوں میں کئی حریت پسند تحاریک کا جنم ہوا، جن کی جدوجہد اور بین الاقوامی آرڈر کے نتیجے میں استعماریت دفن ہو گئی۔ کئی آزاد مملکتوں کا ظہور ہوا مگر بیشتر ممالک مستحکم جمہوریت کے شیرینی ثمرات سے مستفید نہ ہو سکے۔
سامراج کے سورج کی تمازت میں استعماریت کی آہنی زنجیروں میں سادہ لوح، نہ صرف راندہ درگاہ قرار پاتے ہیں بلکہ بے شمار پابندیوں میں جکڑ لیے جاتے ہیں۔ ان کی تاراج کھیتیوں پہ جمہوریت کا بیج نہیں بویا جا سکتا کہ طاقت، غالب آنے کے لیے مقامی اشرافیہ سے اتحاد کو اور مقامی باشندوں کے لیے نفاق پہ مبنی پالیسی اختیار کرنے کو اول فریضہ سمجھتی ہے۔ اسی کا ثمرہ تھا کہ عوام کو تعلیم سے محروم رکھا گیا کہ شعور، طاقت کے خلاف مزاحمت کے علم کو بلند کرتا ہے۔
شمال سے اٹھنے والی شعور کی خنک ہوائیں، جنوب میں پہنچنے سے قبل روک لی جاتی ہیں۔ تقسیم ہند سے قبل، 1935 کے دستور کے نافذ العمل ہونے پہ، سعادت حسن منٹو کی ”نیا قانون“ کے عنوان سے لکھی گئی کہانی پڑھ لیجیے۔ امکان ہے کہ آپ استاد منگو اور گورے سے آشنا ہوں گے۔ استاد منگو، جمہور کی امنگ کا نمائندہ ہے، گورا ، استعمار کی نمائندگی کر رہا ہے۔ یہ صحرا نورد، نامعلوم علالت کی بنا پر کہانی کا پلاٹ اور فرنگی جوان کی مناقشے میں استاد منگو کے دست مبارک سے ہوئی مشاطگی کے بیان سے قاصر ہے۔
قرطاس پہ سیاہی پھیل رہی ہے اور یہاں ہماری کج مج بیانی، سمٹتے ہوئے اور بات کو سمیٹتے ہوئے کہنا یہ ہے کہ جمہور کی آواز پہ کان دھریے، تعلیم کا زیور پہنا دیجیے، ترقی کے زینے، سرمایہ کاری کے قضیے، معیشت کے بھنور سنبھلتے جائیں گے۔

