جب سائنس مجھ پر فرض ہوا کرتی تھی (حصہ اول)
ہمیں اسکول میں ہمیشہ ذہین و فطین اور اعلیٰ ترین دماغ رکھنے والے محنتی طالب علموں کی فہرست میں اول نمبر پر فائز ہونے کا دعویٰ نہیں تھا تو آخر میں بھی نہیں ہوتے تھے۔ لیکن یہ اور بات ہے کہ نمبروں کے معاملے میں ہمیشہ آخر میں ہی پائے جاتے تھے میں اور میرے ہم نشیں۔
روز اول سے ٹیچروں نے یہ جان لیا تھا کہ ان میں پاکستان کے آنے والے روشن مستقبل کے آثار قدیمہ کی علامتیں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی پائی جاتی ہیں۔ جیسا کہ پچپن میں شریف اور زرداری کو دیکھنے کے بعد بابا پھوکے والی سرکار نے کہا تھا کہ ان دونوں کا پاکستان کی تعمیر و ترقی میں بنیادی اور نمایاں دماغ ہو گا۔
ٹیچر ہمیں بھی پاکستان کا کچھ ایسا ہی مستقبل اعلیٰ خیال کرتے ہوئے ہماری محبت میں کچھ اس طرح سے لوٹ پوٹ جاتے کہ ہمیں اپنے پہلو سے کبھی دور ہی نہیں ہونے دیتے تھے۔ ادھر پاکستان کا روشن مستقبل ہمیشہ کلاس رومز سے زیادہ باہر کی دنیا میں واسگوڈے گاما اور مارکو پولو بنا پھرتا ہوا پایا جاتا تھا۔
میں اور میرے یاروں کی کوشش ہوتی تھی کہ سائنسی مضامین کی کلاسز کے خطرناک ترین اوقات کچھ اس طرح کی جگہوں پر گزر بسر کیے جائیں جہاں استاد تو استاد خود سائنس صاحبہ بھی ہمیں نہ ڈھونڈ پائے۔
پتہ نہیں ایسی کیا بات تھی جب بھی کسی کلاس کو چھوڑ کر بھاگ نکلنے جیسا خوبصورت فریضہ کامیابی سے سر انجام دیا جاتا تھا تو اس پر روح کو کچھ اس طرح کی خوشی اور مسرت ملتی کہ سکندر اعظم کو آدھی دنیا فتح کرنے پر بھی اتنا خوشی محسوس نہیں ہوئی ہو گئی جتنا ہمیں کلاس چھوڑنے پر ہوتی تھی۔
دماغ جو کلاس میں بیٹھنے سے کچھ بند اور نحیف سا ہو کر بستر مرگ پر چلا جاتا تھا خوشی اور مسرت کے مارے اپنی جسامت سے دوگنا ہوتے ہوئے جوانی کی دہلیز سے زیادہ آگے کو چلا جاتا تھا۔ لیکن ٹیچروں کو کچھ اس طرح کا پیار تھا ہم جیسے روشنی کے نگینوں سے کہ کچھ نے تو ہمیں پڑھانے کی قسم کھا رکھی تھی اور کچھ نے تو منت مان رکھی تھی۔ کلاس میں ہمارے نہ ہونے پر ٹیچر ہمیں ڈھونڈتے ہوئے پائے جاتے تھے اور باقی ساری کلاس ٹیچروں کو ڈھونڈتی پھرتی۔
ہم جہاں بھی، جس جگہ بھی، جس حالت میں بھی ہوتے اکثر پکڑے ہی جاتے اور جو پیار ہمیں پکڑے جانے پر ملتا اس کا نہ ہی تصور کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس کو بیان کیا جاسکتا ہے۔
اس طرح کی محبت برداشت تو ہرگز ہی نہیں کی جا سکتی کیونکہ اس کے نشانات شاہ جہاں کے پیار کی نشانی تاج محل کی طرح اپنا جاہو جلال، حسن اور جمال کی چمک دمک جسم شریف پر دیکھنے کو کئی کئی دنوں تک ملتی۔
بس فرق اتنا ہے کہ تاج محل کو دیکھ کر لوگ مسرت سے لبریز ہوتے ہیں اور ادھر کئی کئی دنوں اور راتوں تک اقبال کے شاہین سیدھا سونے سے قاصر ہوتے تھے اور صبح گھر والوں کا شکوہ ہوتا تھا کہ رات خیریت تو تھی تمھارے کمرے سے اونگھنے کی آوازیں آ رہی تھی۔
اس طرح کی محبت کلاس میں جائیں یا پھر نا جائیں ضرور ملتی اور یہ دنیا کی عجیب و غریب قسم کی محبت تھی جس کی زبان بھی تھی اور جس کی کئی کئی راتوں تک آوازیں ہمیں تو سنائی دیتی ہی دیتی تھی اس کے ساتھ ساتھ گھر والے بھی پورے خشوع و خضوع کے ساتھ مستفید ہوتے رہتے تھے۔
سائنسی مضامین کی کلاسز کے وقت ہم پر کچھ اس طرح کی کیفیت طاری ہو جاتی تھی جیسے پانی بغیر مچھلی مسرت سے کھلکھلاتے ہوئے فوراً اچھل کود کرنے لگتی ہیں اس سے مختلف حالت ہماری نہیں ہوتی تھی۔ لوگوں کے بچے ڈرتے ہو گئے بھوتوں پریتوں کے نام سے، ہم تو صرف ڈر جاتے تھے سائنس کے نام سے، لوگوں کو راتوں کو آتے ہو گے حوروں اور پریوں کے خواب، ہم سائنسی مضامین کے ٹیچروں کو خوابوں میں دیکھ کر مارے خوف کے چیخ مارتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوتے تھے اور جسم تھر تھر کانپنے لگتا تھا۔
جس پر والدین اے روز مسجد کے مولوی صاحب سے دم درود کرواتے اور گلے میں تعویذ ڈلواتے۔ لیکن پھر خود ہی دوسرے دن بیماری کی رہائش گاہ سکول میں بڑے پیار سے اپنے پیاروں کو چھوڑ آتے۔ استادوں کے کلاس میں آنے پر سب کے سب طالب علموں کے منہ پر بڑے بڑے خاموشی کے تالے سے لگ جاتے تھے۔ جن کی آوازوں کی گونج سڑکوں پر ٹریفک کے ہارنوں سے زیادہ ہوتی تھی اور انسان تو انسان جانور بھی کانوں میں انگلیاں ڈال لیتے تھے۔جن کی آوازوں کے سامنے گدھے بھی ہتھیار ڈالتے ہوئے امامت کی کرسی چھوڑ کر مقتدی بن بیٹھتے تھے۔
وہ سب شیطانی خصلتوں کے مالک فرشتوں سے پرہیز گار بنے بیٹھے ملتے تھے اور شرافت بھی جن کے آگے شرما جائے، کچھ اس طرح شرمو حیا کا بھوت یک دم سے طاری ہو جاتا تھا کلاس پر جو شکلوں سے بالکل شرافت کے پتلے نظر آنے لگ جاتے تھے۔ زبان سے گونگے، کانوں سے بہرے، چہرے سے ایسی شرافت اور نیک نامی نظر آتی تھی کہ ان کو دیکھنے کے بعد ابلیس صاحب کی پوری کی پوری نسلوں میں صاحب ایمان ہونے کی دل میں امنگ جاگ اٹھے۔
پوری کلاس کو استادوں کی ہر بات پر منہ سے شہد ٹپکتا اور جھلکتا نظر آتا تھا اور ہر لفظ کو لیتے بھی میٹھے شہید کی طرح تھے۔ لیکن سوائے لفظ امتحان کے جس سے نہ صرف ہاضمہ شریف خراب ہوتا تھا۔ ساتھ ہی ساتھ بڑے بڑے شہ سواروں کے حوصلے ٹوٹ جاتے تھے۔ اس ایک چھوٹے سے لفظ سے بڑے بڑے بہادروں کے دل کانپ اٹھتے تھے۔ نڈر ہونے کے دعویدار پہلوانوں کے چہروں پر پانی بارش کے طرح ٹپ ٹپ کرتا ہوا نظر آتا تھا۔ اور ہمیں ایسے وقت میں ماں بہت یاد آتی تھی اور وہ بھی بڑی شدت سے۔
استادوں کے پڑھائی کے لئے کیے گئے سوالات منکرے نکیر کے سوالات سے بھی زیادہ خوفناک اور ڈراؤنے سے ہوتے تھے۔ کیونکہ منکر نکیر کے سوالات کا ہر بندے کو پہلے سے ہی پتا ہوتا ہے کہ وہ کیا کیا سوالات پوچھے گئے؟ مگر کلاس میں کیے جانے والے سوالات کا تو ان کے پیدا کرنے والوں کو بھی پتا نہیں ہو گا کہ کیا اول فول لکھ گئے ہیں ہمارے شہزادے۔
امتحانات کے دنوں میں اسکول پر کچھ اس طرح کی فضاء قائم رہتی جیسے فوتگی کے بعد گھر میں سونگ کا موسم ہوتا ہے۔
کلاس میں سب سے آخر میں بیٹھنے کے بعد بھی ٹیچروں کی نظروں کا مرکز و محور ہم ہی ہوتے اور جن نظروں کو کمزوری جیسی بیماری لاحق ہوتی وہ ہمیں اپنے ساتھ بٹھانے میں ہی خیر خیال کرتے تھے۔
ہماری نیک خصلتوں کی وجہ سے ہمارے بارے میں ہیڈ ماسٹر کے نظریات کچھ یوں تھے :
1۔ چار کتابیں عرش بریں سے اتریں پانچواں آیا ڈنڈا چار کتابیں کچھ بھی نہ کیتا، سیدھا کیتا تم جیسے خبیثوں کو ڈنڈا۔
2۔ لاتوں کے بھوت باتوں سے کبھی نہیں مانتے۔
3۔ ہر روز ان پر پیار و محبت سے نیم کی لکڑی کا استعمال کیا کریں جس میں ستر بیماریوں کا علاج ہے تاکہ ان کی بھی کچھ نہ کچھ بیماریاں دھل جائیں۔
اس سخت قسم کے نظریات کی کمر توڑنے کے لئے ہم نے بھی ایک نظریہ تخلیق کیا۔ جو اس وقت بہت سے طلباء کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کے کام آیا اور آگے آنے والی نسلیں بھی اس سے خوب مستفید ہو گئی اور ہوتی رہے گئی۔ بس افسوس صرف اس بات کا ہے کہ اتنا زیادہ دماغ کے گھوڑے دوڑانے کے بعد اپنے راتوں کے آرم و سکون کی قربانی دینے اور اتنا اہم ایجاد کے باوجود بھی نوبل پرائز نہیں لے اڑا پائے۔ جس کا افسوس ہمارے چیلوں کو آج تک بھی اشک بہانے پر مجبور کر دیتا ہے۔
لیکن خیر وہ تخلیق ہی کیا جس کی کوئی قیمت لگا سکے۔
اس نظریہ کے اہم ترین نکات یہ ہیں۔
1۔ طالب علموں کی گھر اور اسکول دونوں میں کوئی عزت نہیں ہوتی اور جن طالب علموں کی اسکول میں عزت ہوتی ہے وہ طالب علم ہی نہیں وہ تو فرشتے ہوتے ہیں۔ اسکول میں طالب علموں کو وہی عزتوں احترام حاصل ہوتا ہے جس طرح گھر میں کسی نکمے مرد کو اپنی بیوی کے ہاتھوں عزت و احترام حاصل رہتا ہے۔
2۔ مار جسم پر پڑتی ہے، تکلیف دل کو ہوتی ہے، آنسو آنکھیں بہاتی ہیں اور اس سب میں ہمارا کیا بگڑتا ہے؟ اور باقی سب ہمارا وہم ہی ہوتا ہے۔ جو ہم یہ سوچتے رہتے ہیں کہ تکلیف ہمیں ہوتی ہیں۔ ویسے تو وہم لاعلاج مرض قرار دیا گیا ہے لیکن اس جگہ مناسب نہیں کہ ہمارا نظریہ ہو اور اس کا کوئی بہترین علاج نہ ہو۔ جس کسی کو بھی اس نظریہ پر رتی برابر بھی شک و شبہ ہو وہ بار بار اس کے تجربات اپنے جسم پر کرواتا رہے۔ ایک دو روز میں ایسا یقین آئے گا کہ پھر زندگی بھر جانا نہیں ہو گا اور وہم یقین سے پہلے رفع ہو جائے گا۔
3۔ پڑھائی لکھائی کریں گے تو جوانی برا نہ مان جائے گی۔
4۔ کتابی کیڑا کہلوانے کی نسبت نالائق ہونا بہتر سے بہترین ہے۔


