مقبولیت کی سیاست


جوں جوں دنیا معاشی مشکلات کا شکار ہو رہی ہے چھینا جھپٹی بڑھتی جا رہی ہے۔ یہی جنگل کا قانون ہے اور یہی نسل انسانی کا وتیرہ رہا ہے۔ بس انسان کی کوشش رہی ہے کہ اپنی اس خواہش پر ملمع کاری کر کے اسے قابل قبول بنا لیا جائے۔

برطانیہ میں 1970 سے 2016 تک تقریباً نصف صدی میں صرف آٹھ وزرائے اعظم حکمران رہے لیکن 2116 سے 2023 کے درمیان آٹھ سال میں چار حکمران ناکام ہوئے۔ اب اگلا سال الیکشن کا ہے تو رشی سونک کی حکومت کو واضح شکست نظر آ رہی ہے۔ یورپین یونین میں شمولیت کے غلط فیصلے، کرونا کی وبا اور یوکرین کی جنگ نے برطانیہ کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ان حالات میں کنزرویٹو پارٹی کے پاس معاشی حالات کو بہتر کرنے کا کوئی فارمولہ نہیں اس لیے پارٹی نے اپنی نا اہلی کا ملبہ تارکین وطن پر ڈال دیا ہے۔ رشی سونک کی حکومت نے الیکشن سے پہلے نیا قانون متعارف کروایا ہے کہ جن غیرملکیوں کی سالانہ کمائی 38700 سے زائد ہے صرف وہی اپنے ساتھی کو برطانیہ میں لا سکیں گے۔

پہلے یہ حد 18600 پونڈ تھی۔ ( اکثر لوگوں کی سالانہ آمدنی 20000 پونڈ کے لگ بھگ ہوتی ہے۔ ) ان کا نعرہ ہے کہ تارکین وطن ملکی معیشت پر بوجھ ہیں۔ زیادہ تر نوکریاں وہ لے جاتے ہیں اور مقامی لوگوں کے لیے معاشی مسائل کا باعث بنتے ہیں۔ معاشی مشکلات کا حل غریب ملکوں کی شہریوں کے پیٹ پر لات مار کر ڈھونڈا جا رہا ہے۔ ملکی مسائل کا عارضی حل پیش کرتے وقت یہ نہیں سوچا گیا کہ اس قانون کے لاگو ہونے کے بعد بہت سے طلبا اور ریسرچ ورکرز کو ملک چھوڑنا پڑ جائے گا۔ برطانیہ کی معیشت کا بہت بڑا حصہ غیرملکی طلبا کی فیسوں سے آتا ہے جو کہ متاثر ہونے کا خطرہ ہے لیکن حکمران اپنی کم ظرفی اور عوام اپنی مشکلات سے بچنے کے لیے سطحی سوچ کی بنیاد پر دوسروں کے منہ کا نوالہ چھین لینا چاہتے ہیں۔

ٹرمپ نے بھی یہی سیاست کی ہے۔ وہ بھی سفید فام امریکیوں کو خوش کرنے کے لیے میکسیکو کی سرحد پر باڑ لگوانے کا نعرہ لے کر پچھلے الیکشن میں دندناتا رہا ہے۔ ساتھ یہ بھی کہتا تھا کہ باڑ کا خرچہ میکسیکو کی حکومت سے لیا جائے گا۔ مذہبی ووٹرز کو ورغلانے کے لیے انتہا پسندانہ قوانین منظور کیے۔ انسانی حقوق کو مذہبی بنیادوں پر پابندیوں کا شکار بنایا۔ عوام میں مقبولیت حاصل کرنے کے لیے جمہوریت اور ملکی ساکھ کو بھی داؤ پر لگا دیا۔ شکست قبول کرنے کی بجائے اپنے ووٹرز کو بھڑکا کر کیپیٹل ہل پر چڑھ دوڑا۔ سفید فام انتہا پسند امریکی ووٹرز اس کے ان نعروں سے متاثر ہوتے ہیں۔

مودی کی بھی یہی سیاست ہے۔ اس کے ہاتھ گجرات کے دو ہزار سے زائد مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ ہندوستان کا سیکولر چہرہ مسخ کر کے انتہا پسندی کی سیاست کو فروغ دے رہا ہے۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے مقبولیت کی سیاست کر رہا ہے۔ پاکستان کے اندر تو مداخلت کرتا ہی رہا ہے اب کینیڈا اور امریکہ میں بھی سیاسی مخالفین کو موت کے گھاٹ اتارنے کے کوشش کر رہا ہے۔

حماس جس کی بنیاد اسرائیل نے رکھی اور جسے وہ یاسر عرفات کی پی ایل او اور محمود عباس کی حکومت کے خلاف استعمال کرتا رہا ہے، بار بار فلسطین عوام اور مڈل ایسٹ کو مقبولیت کی سیاست کے بھینٹ چڑھاتی رہی ہے۔ اب بھی وہ چند سو اسرائیلیوں کے نقصان پہنچا کر پورے غزہ کو تباہ و برباد کروا چکے ہیں۔ علاقے میں جنگ کے شعلے بھڑکا کر مقامی ملکوں کی معیشت کے راستے میں پہاڑ کھڑے کر دیے ہیں۔ حوثیوں نے چند ڈرون اسرائیل کی طرف فائر کر کے بحیرہ احمر میں مصر، اردن اور سعودیہ کی تجارت کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ اب ان کا اصل نشانہ ان ممالک کے جہاز ہیں۔ ایران اور سعودیہ کے تعلقات جو بڑی مشکل سے سدھرنے شروع ہوئے تھے پھر سے بگڑنے لگیں گے۔ حماس کی مقبولیت کی سیاست اپنے عوام اور علاقے کے لیے مشکلات کا باعث بن رہی ہے۔

طالبان گرچہ ڈالر امریکہ سے مانگ کر گزارہ کرتے ہیں لیکن امریکی نفرت کی مقبول سیاست کرتے ہیں۔ ہم بھی اس معاملہ میں ان کے ہم زبان ہیں۔ وہ ہمارے دشمنوں کو پناہ دیے ہوئے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر پاکستانی علاقوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ سینکڑوں لوگ ان کی اس نفرت کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں لیکن امریکی مخالفت کا نعرہ لگا کر ہمیں ہم سے ہی لڑا رہے ہیں۔ مذہبی انتہاپسندی اس حد تک بڑھی ہوئی ہے کہ خواتین کی تعلیم پر مکمل طور پر پابندی لگا چکے ہیں۔ ہم ہیں کہ ان کو سپورٹ کرتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے قطر معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کابل پر وقت سے پہلے دھاوا بول دیا تو ہمارے اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان نے اسے اسلام کی فتح قرار دیا۔ فیض حمید کے ایک کپ چائے کا قرض ہم اب اپنا خون دے کر چکا رہے ہیں۔

ہزاروں ملک دشمن طالبان کو ہم نے واپس اپنے ملک میں بلا لیا۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے پاکستانی سیاست دانوں پر حملے کیے۔ پچھلے الیکشن میں اور موجودہ الیکشن مہم میں بھی اے این پی اور جمعیت علما اسلام کے راستے میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ ان کے سینکڑوں سیاسی ورکروں کو قتل کر چکے ہیں۔

پاکستان میں سب سے مقبول نعرہ امریکہ اور اسٹیبلشمنٹ مخالفت کا ہے۔ ہر حکمران اپنے دور حکومت میں ان کے آگے گھٹنے ٹیک کر خیرات مانگتا ہے اور جب کچھ سالوں بعد اپنی کارکردگی کی بنیاد پر عوام کی نظروں سے گر جاتا ہے تو ناکامی کا ملبہ ان پر ڈال کر مقبولیت کی سیاست کا نعرہ بلند کر دیتا ہے۔ عمران خان نے بھی یہی حربہ آزمایا بس باقی سیاست دانوں سے دو چار قدم مزید آگے بڑھ گیا اور صرف نعرے تک محدود رہنے کی بجائے ہر وہ حربہ بھی آزما لیا جس سے ملک میں کوئی بھی حکومت کرنے کے قابل نہ رہے۔ ملکی معیشت جو اس کی نا اہلی سے پہلے ہی تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی تھی اس کی سیاست کی بھینٹ چڑھ گئی۔ روزانہ شام کو عوام دیوالیہ ہونے کے خوف کو ساتھ لے کر سوتے تھے۔ مہنگائی کے طوفان نے یہ خوف تو دور کر دیا لیکن تمام سیاست دانوں کی سیاست کو بھی سمندر برد کر دیا۔

اب عمران خان کے امریکی مخالفت اور مہنگائی کے ساتھ ساتھ اینٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست کے مقبول نعرے اگلے الیکشن کو ہائی جیک کرچکے ہیں۔ ان حالات میں ملک کی معیشت بچے گی یا مقبولیت کی سیاست؟ لڑائی دو بدو ہوگی یا پھر ناقابل عمل الیکشن مہم۔

طاقتور فاتح ہو گا یا پھر منافقت؟
عوام کا کیا بنے گا؟ کیا ستر سالہ عوامی سیاست کی جدوجہد اور جمہوریت کو مقبولیت کے سیاسی نعرے بہا لے جائیں گے؟
کیا جنگل کے قانون کو مقبولیت کی ملمع کاری پر کشش بنائے رکھے گی؟

Facebook Comments HS