تکنیکی تعلیم کی اہمیت اور حکومتی اقدامات

نوجوان ملک و ملت کا مستقبل ہوتے ہیں، جو دماغی و جسمانی لحاظ سے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔ ہمت، جذبہ، ذہانت، قوت و دیگر صلاحیتیں ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہیں۔ مملکت خداداد کی خوش نصیبی ہے کہ پاکستان کی آبادی میں نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے۔ یہ نوجوان کسی بھی ملک کا اثاثہ ہوتے ہیں۔ قابل اور ہنر مند نوجوان ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
آج کے سائنسی و ترقی یافتہ دور میں ان ممالک کی معیشت پروان چڑھی ہے، جنہوں نے تکنیکی تعلیم پر خصوصی توجہ دی۔ اسی لیے ماہرین، فنی تعلیم کو کسی بھی ملک کے معاشی استحکام کا ضامن قرار دیتے ہیں۔ بلاشبہ جن ممالک نے فنی تعلیم کو اپنی عمومی تعلیم کا حصہ بنا کر اس پر توجہ دی وہاں معاشی ترقی کی رفتار زیادہ ہے۔ دنیا بھر میں کئی پاکستانی اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں یہ اوورسیز پاکستانی مملکت کا خاص اثاثہ ہیں اور ملکی معیشت کا استحکام بھی ان پر کسی حد تک منحصر ہے، ان افراد میں سے بھی اکثر کم مدتی تکنیکی کورس کرنے کے بعد ہی ملازمت پاتے ہیں۔
اہمیت کے حامل پاکستان کے صوبہ سندھ کی آبادی میں نصف فیصد سے زیادہ نوجوان ہیں، جہاں یہ اس صوبہ کی خوش بختی ہے وہیں یہ بات بھی حیران کن ہے کہ ان نوجوانوں کی اکثریت بے روزگار ہے۔ سندھ حکومت کے تحت سن دو ہزار سات میں سندھ کے نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کا فیصلہ کیا گیا اور حکومت سندھ کے تحت بینظیر بھٹو یوتھ ڈیویلپمنٹ پروگرام کی ابتدا کی گئی۔ اس پروگرام کے تحت سندھ کے وہ میٹرک پاس طالب علم جن کی عمر 18 سال سے 35 سال ہے کو تکنیکی تعلیم دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ پروگرام آج کئی برس بیت جانے کے بعد بھی کامیابی سے جاری ہے۔
بینظیر بھٹو یوتھ ڈیویلپمنٹ پروگرام کے تحت دو سو سے زائد تکنیکی کورس کرائے جا رہے ہیں۔ یہ کورس کم مدتی ہیں۔ ان کی میعاد دو ماہ سے لے کر دو سال تک ہے۔ یہ کورس صرف مردوں ہی کے لئے مفید نہیں ہیں بلکہ اس پروگرام کے تحت سلائی، بیوٹیشن، ٹیچرز ٹریننگ، فری لانسنگ، ای کامرس اور دیگر کئی ایسے کورس بھی کرائے جا رہے ہیں جو خواتین کے لئے بھی فائدہ مند ہیں۔ اس پروگرام کے تحت حکومت سندھ کے زیر اثر کام کرنے والے تعلیمی ادارے اب تک چار لاکھ 60 ہزار سے زائد طلبہ کو مختلف ہنر سے آراستہ کرچکے ہیں۔ ان ہنر مند طالب علموں میں سے ایک لاکھ پچیس ہزار ایسے ہیں جو کامیابی سے زندگی گزار رہے ہیں اور ملازمت پا چکے ہیں۔
واضح رہے کہ حکومت سندھ کا شعبہ بینظیر بھٹو شہید ہیومن ریسورس ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ نہ صرف نوجوانوں کو تکنیکی تعلیم بلامعاوضہ دے رہا ہے بلکہ تکنیکی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو ماہانہ وظیفہ بھی دیا جا رہا ہے۔ سندھ حکومت کے تحت 15 سو تعلیمی ادارے اس شعبے میں کام کر رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں انہیں اداروں میں سے کراچی کے چند اداروں کا دورہ کرنے کا موقع ملا۔ یہ ادارے جدید سامان اور ضروریات کے آلوں سے آراستہ ہیں۔ یہاں کہ اساتذہ اپنے شعبوں میں ماہر ہیں۔ ان اداروں میں تکنیکی تعلیم حاصل کرنے والے طالب علموں کا بھی کہنا تھا کہ یہ کورسز پرائیویٹ کیے جائیں تو بھاری معاوضہ ادا کرنا پڑتا ہے جبکہ بینظیر بھٹو یوتھ ڈیویلپمنٹ پروگرام کے تحت یہ کورسز بلامعاوضہ کرائے جا رہے ہیں۔
بینظیر بھٹو شہید ہیومن ریسورس ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کا عملہ ان اداروں کا باقاعدگی سے دورہ کرتا ہے اور معیار تعلیم کا جائزہ لیتا ہے۔ اداروں کی کارکردگی کی باقاعدگی سے رپورٹ بنتی ہے، لہذا ادارے اپنی کارکردگی اور طلبہ کو سہولیات فراہم کرنے پر خصوصی توجہ دیتے ہیں۔ اگرچہ کسی بھی حکومتی پروگرام کو یا شعبے کو مکمل طور کامل کہنا تو درست نہیں ہو گا، کہیں نہ کہیں کمیاں یا خامیاں رہ ہی جاتی ہے لیکن اس قدر بڑے پروگرام میں موجود چھوٹی چھوٹی خامیوں کو نظر انداز کر کے پورے شعبے اور پروگرام پر نظر ڈالی جائے تو یہ حکومت سندھ کا بہترین اقدام ہے۔
حکومت سندھ کے اس پروگرام کو طلبہ کے لئے کامیابی کا ضامن کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ ملک بھر کے نوجوان اس کورس سے مستفید ہو کر پاکستان اور بیرون ملک میں روزگار حاصل کر سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس طرح کے مزید منصوبوں کا آغاز کریں اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے بھی اقدامات کیے جائیں تاکہ ملک بھر سے بے روزگاری کا خاتمہ ہو اور نوجوان ہنرمند بن کر خود کفیل ہو سکیں۔
اہم امر یہ ہے کہ حکومت کے ان پروگراموں کو دیکھ کر فلاحی تنظیمیں بھی نوجوانوں کو مفت کورس کرانے کے اقدامات کر رہی ہیں۔ کچھ فلاحی تنظیمیں اس شعبے میں انتہائی سنجیدگی سے کام کر رہی ہیں جبکہ کہیں کہیں تشہیر کا عنصر انتہائی زیادہ ہے۔ بہرحال کم یا زیادہ نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کی کوشش حکومتیں کریں یا فلاحی تنظیمیں یا ادارے یہ امر انتہائی قابل تحسین ہے۔ پاکستان کی کامیابی کا راز بھی نوجوانوں کے ہنر مند ہونے اور بے روزگاری کے خاتمے میں ہی ہے۔

