مسائل حل نہ کرنے پر اقلیتی برادری کا الیکشن گے بائیکاٹ کا اعلان
سندھ بھر میں اقلیتی برادری کی خاطر خواہ آبادی موجود ہے۔ کراچی سے کشمور تک تمام شہری اور دیہی علاقوں میں اقلیتی برادری رہتی ہے، گزشتہ سال کشمور ایٹ کندھ کوٹ میں بدامنی عروج پر رہی بدامنی کی وجہ سے لوٹ مار کے ساتھ اغوا کے واقعات بھی پیش آئے تھے۔ سندھ کی تاریخ میں اقلیتی برادری نے سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے سنگم پر کئی دنوں تک دھرنا دیا اس دھرنے کا اثر پورے سندھ تک پہنچا ہندو دیوان برادری نے کراچی کے چوک تین تلوار پر بھی دھرنا دیا دھرنے میں حکومتی نمائندوں سمیت سابقہ منتخب عوامی نمائندے بھی پہنچے تھے۔
اس دوران کشمور کا رہائشی ساگر کمار جن کو ڈاکوؤں نے اغوا کیا تھا، ان کے ورثاء اور ہندو پنچایت کے لوگوں نے دھرنے میں بھی آنے والے انتخابات میں ووٹ دینے سے انکار کر دیا تھا۔ کشمور ایٹ کندھ کوٹ کی ٹوٹل آبادی 12 لاکھ 33957 ہے جبکہ ٹوٹل ووٹ پانچ لاکھ 44494 ہے، جس میں منارٹیز ووٹرز 23474 ہیں۔
ایک سال کے دوران کشمور ایٹ کندھ کوٹ میں اقلیتی برادری کے کمسن بچوں سمیت اٹھ افراد اغوا ہوئے تھے، ان میں سے تین کمسن بچے ایک ہندو پنچایت بڈانی کا مکھی دو محنت کش اور ایک تاجر شامل تھے دو افراد ڈکیتی کے دوران زخمی ہوئے تھے۔ اس میں ایک ڈاکٹر جو روزانہ کندھ کوٹ سے بڈانی جاکر یہاں کے لوگوں کا علاج کرتا تھا۔ اس واقعہ کے بعد اس نے بڈانی جانا چھوڑ دیا۔ جس سے بڈانی شہر سمیت آس پاس کے دیہی علاقوں کے عوام کا نقصان ہے۔
کندھ کوٹ شہر کے اندر اقلیتی برادری کے خواتین سے بھی موبائل فون پرس لوٹنے کے کئی وارداتیں ہوئی ہیں، جبکہ کاروبار کرنے والے اقلیتی برادری کے لوگوں سے بھی لوٹ مار کے انگنت واقعات پیش آئے ہیں۔ اسی بدامنی کی وجہ سے متاثر ہونے والی اقلیتی برادری سے ووٹ لینے والے عوامی نمائندوں اور اقلیتی نمائندوں نے کوئی کردار ادا نہیں کیا، اس وجہ سے اقلیتی برادری کے تمام لوگ ووٹ دینے میں دلچسپی نہیں رکھتے ہیں۔
مسلم لیگ نون منارٹی ونگ کے رہنما سنتوش کمار اگروال نے کہا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ بدامنی کا زیادہ تر شکار اقلیتی برادری کے لوگ ہوتے ہیں۔ اقلیتوں میں دیوان برادری کاروباری طبقہ ہے۔ جو کاروبار تک ہی محدود رہتے ہیں، وہ اپنے پنچایت کے ہدایت احکامات پر ووٹ دیتے ہیں۔ جب سے بدامنی میں لوگ متاثر ہو رہے ہیں اب عام شہری خاص کر کے نوجوان طبقہ نے ہندو پنچائتی رہنماؤں سے بھی کہہ دیا ہے، کہ ہم اب ووٹ نہیں دیں گے۔
جن کو ووٹ دے کر ہم منتخب کرتے ہیں۔ وہ عوامی نمائندے ہمارے کسی کام کے نہیں ہیں شہر میں ترقیاتی کام نہیں کرواتے فنڈ تک فراہم نہیں کرتے، اب تو بدامنی میں بھی وہ لوگ مدد کے لیے ہمارے پاس نہیں آتے، اور نہ ہی کوئی مدد کرتے ہیں۔ کاروباری اقلیتی برادری کے لوگ مجبور ہو کر نقل مکانی کر رہے ہیں۔ اس پر حکمران خاموش نظر آتے ہیں وقت کے حکمرانوں کو چاہیے کہ اقلیتی برادری کے لوگوں کے مسائل حل کرنے کے لئے اقدامات اٹھائیں جو مخصوص نشست پر اقلیتی نمائندے بنتے ہیں۔ اور ووٹ لینے والے عوامی نمائندے بھی اپنے اپنے حلقے علاقوں میں اقلیتی برادری کے نوجوانوں سے بیٹھک کریں تاکہ ان کو ووٹ دینے کے لئے قائل کرسکیں۔
ایس ایس پی میر روحل خان کھوسو نے بتایا کہ بدامنی کو پولیس ختم کرنے کے لئے ہمیشہ کوشش کرتی رہتی ہے کچھ عرصہ قبل کشمور ایٹ کندھ کوٹ کے حالات مکمل خراب تھے آئے، روز اغوا کے واقعات ہوتے تھے، اب اغوا کی وارداتیں نہیں ہو رہی ہیں۔ باقی اسٹیٹ کرائم کے واقعات کو بھی روکنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔ پولیس اقلیتی برادری کو مکمل تحفظ فراہم کرتی ہے۔ اور سندھ پولیس کی ہمیشہ کوشش رہتی ہے، کہ اقلیتی برادری کے جو بھی مسائل ہیں۔
خاص کر کے کرائم کے حوالے سے تو ہم مکمل تعاون کرتے ہیں ووٹ دینا سب کا قومی فرض ہے۔ ہم الیکشن میں بھی منارٹیز کو مکمل تحفظ اور سہولیات فراہم کریں گے۔ باقی سیاستدانوں سے کوئی ناراضگی ہے یا کوئی مسئلہ ہے تو اب سیاستدان ان کی پنچایتوں اور ان کے گھروں پر آئیں گے تو ان سے بات چیت کریں اور اپنی مرضی سے جس کو بھی منتخب کریں ان کا راہ حق ہے۔
بدامنی کی وجہ سے اقلیتی برادری نے ووٹ دینے سے انکار کے حوالے سے سابقہ صوبائی وزیر شبیر خان بجارانی کا کہنا تھا کہ بالکل کچھ عرصہ قبل بدامنی کا ماحول تھا جس کی وجہ سے اقلیتی برادری کے لوگ اغوا بھی ہوئے تھے اور لوٹ مار کے واقعات پیش آئے تھے، اب امن و امان کافی بہتر ہے بدامنی کی وجہ سے ووٹ نہ دینا اچھی اور جمہوری روایت کے خلاف ہے۔ اس سے اقلیتی برادری کا ہی نقصان ہے میں الیکشن ورک کے دوران اقلیتی برادری سے گزارش کروں گا، کہ اقلیتی ہندو برادری سمیت سب لوگ اپنا حق رائے استعمال کریں ووٹ اپنی مرضی سے دے کر جس امیدوار کو کامیاب کریں، جن نے ماضی میں زیادتیاں کی ہیں ان کو ووٹ نہ دے کر ان کو یہ پیغام دیا جائے، کہ ہم اقلیتی برادری کے ساتھ زیادتیوں کی وجہ سے ووٹ نہیں دیا ہے، تاکہ اقلیتی برادری سے زیادتیاں بند ہو سکے۔
اقلیتی برادری کے 21 سالہ نوجوان گوتم کمار نے کہا کہ میں پہلی بار زندگی میں اپنا ووٹ 2024 کے انتخابات میں کاسٹ کروں گا لیکن میری ووٹ دینے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے، اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ ہماری اقلیتی برادری کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے۔ خاص کر کے ہمیں امن اماں نہیں دیا جاتا ہے، بدامنی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ہمارے بچوں سے خواتین سے کاروباری حضرات سے لوٹ مار کی جاتی ہے۔ اور ہمارے لوگوں کو بے خوف ہو کر اغوا بھی کیا جاتا ہے، اسی وجہ سے کہ ہمارے عوامی منتخب نمائندے اور مخصوص نشست پر آنے والے اقلیتی نمائندے ہمارے کوئی مسائل حل نہیں کرتے، نہ ہی کوئی ہماری مدد کرتے ہیں ووٹ دینے سے ہمیں کوئی اعتراض نہیں لیکن ہمارے مسائل حل نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے خاص کر کے نوجوان طبقہ ووٹ دینے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے ہیں۔ عوام کے ووٹ سے منتخب ہو کر آنے والے عوامی نمائندے عوام کے مسائل حل کریں اقلیتی برادری کے جو تحفظات ہیں وہ دور کریں تاکہ اقلیتی برادری کے تمام نوجوان سمیت سب اپنے حق رائے کا استعمال کر سکیں۔
سماجی تنظیم کائنات کے سربراہ احمد بخش چنہ کا کہنا ہے کہ اقلیتی برادری کے مسائل حل نہ ہونا اور بدامنی سے متاثر ہونے پر بائیکاٹ کرنا اچھا عمل نہیں ہے کیونکہ بائیکاٹ کرنے سے اقلیتی برادری کا ہی نقصان ہے اس لیے ان کو اپنے مسائل حل کروانے کے لئے بھرپور الیکشن میں حصہ لینا چاہیے۔
انہوں نے ماضی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی نے بھی کبھی بائیکاٹ کیا تھا۔ جس کی وجہ سے ان کا ہی نقصان ہوا تھا، اسی لیے اقلیتی برادری کو الیکشن میں اپنے مسائل حل کروانے اور عوامی نمائندہ منتخب کرنے کے لیے الیکشن کا بائیکاٹ کرنے کے بجائے بھرپور شرکت کریں تاکہ ان کے جو عوامی نمائندے ان کے ووٹ پر منتخب ہوں گے، تو ان کو اہمیت دیں گے، اگر وہ بائیکاٹ کرتے ہیں۔ تو پھر ان کو پانچ سال تک وہ عوامی نمائندے نہ ان کے پاس آئیں گے اور اقلیتی برادری کو منتخب نمائندے کے پاس جب جانا پڑے گا، تو ان کو یہ جواب ملے گا، کہ کون سا آپ نے ووٹ دے کر کامیاب کیا جو ہم آپ کے مسائل حل کریں۔
کشمور ایٹ کندھ کوٹ ڈسٹرکٹ میں ویسے ہی الیکشن میں 30 سے 40 فیصد ٹرن آؤٹ رہتا ہے۔ اسی وجہ سے 60 سے 70 فیصد تک افراد الیکشن سے دور ہوتے ہیں، اسی وجہ سے عوامی نمائندے تو منتخب ہو جاتے ہیں۔ مگر ان کو عوامی مسائل میں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی عوام کو چاہیے، کہ الیکشن میں بھرپور حصہ لے کر اپنے مرضی کے عوامی نمائندے منتخب کریں، تاکہ عوامی نمائندے عوام کے مسائل حل کر سکیں کیونکہ ان کو بھی آئندہ الیکشن نظر آئے گا۔


