روایتی اور مضبوط گھرانوں کی سیاسی اجارہ داری
ایک عمومی رائے ہماری انتخابی سیاست میں روایتی اور مضبوط سیاسی خاندانوں یا گھرانوں کی سیاسی اجارہ داری کے گردہ گھومتی ہے۔ منطق یہ دی جاتی ہے کہ ایک کمزور سے سیاسی و جمہوری نظام اور سیاسی جماعتوں کی اپنی داخلی کمزوریوں کی وجہ سے سیاسی خاندان انتخابی میدان میں ایک کنجی یا فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہمارا سیاسی، جمہوری اور انتخابی نظام ان ہی طاقت ور خاندانوں کے گرد گھومتا ہے اور سیاسی جماعتیں پسند کریں یا نہ کریں ان کو اپنی انتخابی سیاسی حکمت عملی میں اب بڑے خاندانوں یا گھرانوں کی سیاست کے سامنے ہی سرنڈر کرنا پڑتا ہے۔
یہ بڑے سیاسی خاندان ہی کو بنیاد بنا کر ہمارا انتخابی نظام کا سیاسی دربار سجایا جاتا ہے اور فیصلہ کن قوتوں کے اشاروں یا اعلان کی بنیاد پر ہی یہ خاندان کی کسی کی حمایت اور کسی کی مخالفت میں سرگرم ہوتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی سطح پر پارٹیاں بدلنے اور اقتدا رکو بنیاد بنا کر کسی کی سیاسی حمایت یا مخالفت کا یہ کھیل عملی طور پر ہمارے سیاسی و جمہوری نظام کو کمزور کرنے کا سبب بنتا ہے۔
سیاست اور جمہوریت میں سیاسی جماعتوں کی اہمیت سب سے زیادہ ہوتی ہے اور یہ ہی سیاسی جماعتیں اپنی سوچ، نظریہ یا فکر کی بنیاد پر لوگوں میں کام کرتی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے کام کی بنیاد پر افراد کے مقابلے میں سیاسی جماعتوں کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے اور ووٹرز اسی بنیاد پر اپنا ووٹ فرد کے مقابلے میں سیاسی جماعتوں کو دے کر سیاسی نظام سمیت سیاسی جماعتوں کو مضبوط کرتا ہے۔ کیونکہ اس سوچ اور فکر سے لوگوں کی سطح پر سیاسی جماعتوں کی جوابدہی بھی ہوتی ہے۔
لیکن ہمارا سیاسی اور جمہوری نظام میں سیاسی جماعتیں ایک ادارے کی حیثیت نہیں رکھتیں بلکہ یہ جماعتیں بھی افراد یا شخصی یا خاندانی افراد یا آمرانہ طرز عمل پر کھڑی ہیں۔ اس لیے جب سیاسی جماعتوں میں موجود داخلی جمہوریت کا نظام کمزور ہو گا تو پھر انتخابی نظام میں بڑے خاندانوں کی بنیاد پر قائم نظام کیسے کمزور ہو سکتا ہے۔
سیاسی محاذ پر بڑے خاندانوں یا گھرانوں یا ذات برادری کی بنیاد پر مضبوط افراد سمجھتے ہیں کہ سیاسی جماعتوں سے زیادہ ان کی اہمیت ہے اور اسی اہمیت کی بنیاد پر وہ سیاسی جماعتوں اور ان کے فیصلوں پر بالادستی حاصل کرتے ہیں۔ یہ ایک مخصوص خاندانوں کا سیاسی ٹولہ ہے اور یہ ہی افراد یا خاندان گھوم پھر کر مختلف وقت میں مختلف سیاسی جماعتوں کا حصہ بن کر اقتدار کی سیاست کرتے ہیں۔ یہ ہی ایک مخصوص اور طاقت ور افراد یا خاندانوں کا سیاسی ٹولہ ہماری فیصلہ کن قوتوں کا بھی بڑا سیاسی ہتھیار ہے اور وہی یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ اس ٹولہ کو کس کی حمایت و مخالفت میں استعمال کرنا ہے یا ان کو کس وقت کس جماعت کی حمایت یا مخالفت میں پیش کرنا ہے۔
سیاسی جماعتیں اگرچہ ان مضبوط خاندانوں پر تنقید تو کرتی ہیں لیکن جب انتخابی معرکہ ہوتا ہے تو یہ ہی جماعتیں اپنی ماضی کی تنقید کو بھول کر ان ہی مضبوط خاندانوں سے سیاسی سمجھوتوں کر کے سیاسی و جمہوری اصولوں کی نفی کرتے ہیں۔ خود تحریک انصاف اور عمران خان کی سیاسی تبدیلی کی جنگ میں ہم نے 2018 کے انتخابات میں ان ہی مضبوط خاندانوں کو پی ٹی آئی کا حصہ بنتے دیکھا یا ان کو پی ٹی آئی کی طرف دھکیل دیا گیا اور عمران خان بھی اسی سیاسی سمجھوتے کا شکار ہوئے جیسے دیگر بڑی جماعتیں ہوتی ہیں۔ حالانکہ عمران خان کا موقف ہوتا تھا کہ وہ مضبوط خاندانوں کے مقابلے میں پی ٹی آئی کو ہی فیصلہ کن حیثیت دیں گے جہاں افراد کے مقابلے میں سیاسی جماعت اہم ہوگی، مگر ایسا نہ ہوسکا۔
اس وقت قومی سیاست میں عام انتخابات کا معرکہ ہے۔ 8 فروری 2024 کو ملک میں عام انتخابات کی بنیاد پر نئی حکومت تشکیل ممکن ہوگی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس وقت سیاسی جماعتوں میں بہت زیادہ سیاسی جوڑ توڑ دیکھنے کو مل رہا ہے اور مضبوط سیاسی خاندانوں کو بنیاد بنا کر تمام بڑی سیاسی جماعتیں ان کو اپنی طرف مائل کرنے یا حمایت کے حصول میں سرگرداں ہیں۔ مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کی پوری کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مضبوط گھرانوں کے مضبوط خاندان اور افراد کو اپنی اپنی جماعت کا حصہ بنائیں ان کو پارٹی ٹکٹ دیں تاکہ ان کے اقتدار کے کھیل کی راہ ہموار ہو سکے۔
اگرچہ میں اس منطق سے مکمل اتفاق نہیں کرتا کہ یہ مضبوط خاندان خود ہی انتخاب جیتتے ہیں۔ میرے خیال میں ان کی جیت میں ایک بڑا کردار ان کی جماعت کے ووٹرز کا بھی ہوتا ہے وگرنہ یہ لوگ اگر خود ہی تنہا انتخابات جیت سکتے تو ان کو سیاسی جماعت سے جڑا ٹکٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ جو ہمارا دیہی اور قصبوں یا فیوڈل یا جاگیر دارانہ علاقے ہیں وہاں افراد ان ہی بڑے خاندانوں کے آگے بے بس اور لاچار ہوتے ہیں اور ان ہی کو بنیاد بنا کر اور کچھ سیاسی جماعت کے ووٹ کی بنیاد پر انتخابی معرکہ جیت جاتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ان بڑے خاندانوں کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہوتا۔
اگر ہم نے ایک مضبوط سیاسی اور جمہوری نظام کی طرف بڑھنا ہے تو ہمیں سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں خاندانوں کی سیاست اور بڑے افراد کی سیاسی اجارہ داری کو کمزور کرنا ہو گا۔ لیکن یہ کام سیاسی تنہائی میں نہیں ہو گا اور نہ ہی یہ کام کسی قانون سازی سے ہونا ہے۔ اس میں دو کام اہم ہیں۔ اول سیاسی جماعتیں خود کو سیاسی جماعتوں کے طور پر مضبوط کریں اور سیاسی جماعتوں کی داخلی جمہوریت کو مضبوط بنائے بغیر کوئی بھی جماعت خاندانی سیاست کو کمزور نہیں کرسکے گی۔
دوئم ووٹرز کی سطح پر ایک بڑے سیاسی و سماجی شعور یا ووٹرز کی تعلیم و آگاہی پر توجہ ہو کہ وہ ووٹ کے استعمال میں سیاسی جماعتوں اور ان کی کارکردگی کو اہمیت دیں اور خاندانی سیاست سے خود بھی باہر نکلیں اور دوسروں کو بھی یہ ہی ترغیب دیں کہ وہ میرٹ کی بنیاد پر ووٹ ڈالیں۔ لیکن یہ کام اسی صورت میں ووٹرز کی سطح پر ہو گا جب سیاسی اور جمہوری نظام بھی اپنے ہی سیاسی دائرہ کار میں کچھ اچھی روایات کو قائم کرے۔
اس وقت 2024 کے انتخابات کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ انتخاب ایسے ماحول میں ہو رہا ہے جب ووٹرز کی سطح پر سیاسی تقسیم بہت ہی گہری ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق اس وقت کل ووٹرز کی تعداد 12 کروڑ 85 لاکھ 85 ہزار 760 ہے۔ ان میں 18 تا 35 برس کے جو نوجوان ووٹرز ہیں ان کی تعداد 46 فیصد بنتی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج ہمارے سیاسی ماحول میں جو نوجوانوں میں پرجوشی اور ردعمل کی سیاست ہے اور جس طرح ان میں ریاستی و حکومتی نظام کے بارے میں شدید تحفظات اور اپنے مستقبل کے بارے میں غیریقینی کا ہی سامنا ہے وہاں وہ ان مضبوط اور بڑے خاندانوں کی سیاست کو انتخابی میدان میں چیلنج کرسکیں گے۔
اس وقت ایک ہی نقطہ سیاسی محاذ پر بحث طلب ہے کہ کیا نوجوان ووٹرز 60 فیصد سے زیادہ تعداد میں باہر نکل کر انتخابی عمل میں بطور ووٹر حصہ بنے گا اور اس روایتی، خاندانی اور مضبوط ؑگھرانوں کی سیاست کو چیلنج کرے گا۔ کیونکہ اگر مضبوط خاندانوں کی سیاست کو کوئی ضرب لگنی ہے تو وہ نوجوان طبقہ ہی لگا سکتا ہے اور یہ ہی وہ طبقہ ہے جو ہمارے لیے امید کی کرن بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ اس نوجوان طبقہ کے سامنے ہمارا سیاسی و انتخابی نظام بری طرح بے نقاب ہو گیا ہے۔
وہ ان بڑے خاندانوں کی سیاست سے بھی نالاں ہے جو تواتر کے ساتھ اپنی پارٹی وفاداریاں تبدیل کر کے سیاسی نظام پر بوجھ بن گیا ہے۔ اس کھیل کی ایک جھلک ہم نے 2022 میں پنجاب کے 20 حلقوں میں ضمنی انتخاب کی صورت میں دیکھا تھا جہاں مضبوط اور بڑے بڑے خاندانوں کے افراد کو بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ لیکن یہ کہنا کہ 2024 کے انتخابات میں بھی ایسا ہی کچھ ہو سکے گا قبل از وقت ہو گا۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ ان قومی انتخابات میں ہمیں ووٹ کی بنیاد پر مضبوط خاندانوں کی سیاست کے مزید کمزور پہلو دیکھنے کو ملیں گے۔
کئی بڑے بڑے سیاسی برج یا خاندانوں کی روایتی سیاست چیلنج ہو سکتی ہے اور کئی کو شکست کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ لیکن اس کی دو ہی شرائط ہیں اول نوجوان ووٹرز باہر نکلے اور بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے اور اگر ٹرن آؤٹ 60 فیصد سے زیادہ ہوتا ہے تو بڑے خاندان مشکل میں ہوں گے اور روایتی سیاست کو ایک اور جھٹکا لگے گا۔ کیونکہ پاپولر ووٹ کا بڑی تعداد میں باہر نکلنا مضبوط خاندانوں اور روایتی سیاسی افراد کے خطرہ ہو گا۔ دوئم انتخابات کی حیثیت شفافیت پر مبنی ہو اور ووٹ کی بنیاد پر اگر واقعی تبدیلی کا عمل ہوتا ہے تو اس کا براہ راست فائدہ ہم کو سیاسی اور جمہوری نظام کی مضبوطی کی صورت میں دیکھنے کو ملے گا۔


