ڈیجیٹل جلسہ: وہاں بھی آ گئے آخر، جہاں رسائی نہ تھی
کوئی چیز جو جسمانی طور پر موجود نہ ہو لیکن کسی اور طریقے سے تقریباً ویسی ہی بنا دی گئی ہو جیسے کوئی تخیلاتی عکس تو اسے انگلش میں virtual کہا جاتا ہے۔ جیسے آج کل کمپیوٹر یا موبائل کے ذریعے لوگ اسکرین پر ایک دوسرے کو دیکھ اور بات چیت کر رہے ہوتے ہیں تو اسے virtual meeting کہا جاتا ہے۔ پی ٹی آئی ’گراؤنڈ ریالٹی ”سے“ ورچوئل ریالٹی ”کی جانب منتقل ہو گئی ہے۔ ورچوئل ویورشپ بڑھانے کے لئے پی ٹی آئی نے جو ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔
ڈیجیٹل زبان میں اسے“ باٹس ”کہا جاتا ہے یعنی مصنوعی ویور شپ کی تخلیق۔ چنانچہ ایک وڈیو کلپ“ لیک ”ہوا۔ باٹس کا ایک تخلیق کار، جبران الیاس سے (امریکہ میں پی ٹی آئی کے“ ورچوئل ہیڈ) مخاطب تھا، کہ لاہور سے 50 ہزار باٹس ایکٹی ویٹ کر رہے ہیں، 15 ہزار فیصل آباد اور 50 ہزار کراچی سے۔ پہلے اداروں اور ریاست کو پیغام دینے کے لیے ”ورچوئل سروے“ کرائے گئے جن میں مقبولیت کا گراف دو تہائی کی لکیر عبور کر گیا۔ شاید پیغام کا خلاصہ یہ تھا کہ منصفانہ الیکشن وہی ہو گا جو ”ورچوئل“ میدان میں ہو۔ نہ کہ پولنگ سٹیشنز پر ۔ یوٹیوب پر پی ٹی آئی کا ورچوئل جلسہ دیکھنے والوں کی تعداد 82 ہزار 500 سو تک پہنچی، ٹویٹر پر تعداد 40 ہزار تک پہنچی جس میں کمی و بیشی جاری رہی لیکن پی ٹی آئی کے مطابق شرکاء کروڑوں تھے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ فیس بک پر 14، یوٹیوب پر 12، ایکس لائیو اسٹریمنگ پر 10 اور اسپیس پر 15 لاکھ افراد نے یہ جلسہ دیکھا اور ایکس پر 65 لاکھ سے زائد پوسٹس کی گئیں۔ ڈیجیٹل رائٹس کے حوالے سے کام کرنے والے میڈیا میٹرز فار ڈیمو کریسی کے اسد بیگ کا کہنا ہے کہ ایسے اجتماع میں باٹس (فرضی اکاؤنٹس) کو تعداد بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ گویا:
وہاں بھی آ گئے آخر، جہاں رسائی نہ تھی
پی ٹی آئی پر ماضی میں سوشل میڈیا صارفین جعلسازی کے الزامات لگاتے رہے ہیں۔ ایک نامور صحافی اور اینکر نے کہا کہ ’پہلے انہوں نے اوپر آنے کے لئے بوٹس کا استعمال کیا اور اب وہ چاہتے ہیں کہ باٹس انہیں بچا لیں۔ ان کی دنیا حقیقی نہیں ہے۔
صوتی کلون نے عمران خان کی جانب سے پرجوش تقریر کی۔ چار منٹ دورانیے کے پیغام کے متن کو اے آئی فرم ”الیون لیبز“ کے ایک ٹول کے ذریعے آڈیو میں ڈب کیا گیا۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے عمران خان کے پیغام میں کہا گیا کہ ’حقیقی آزادی کی خاطر جیل میں رہنا عبادت کے مترادف ہے۔ ‘ ریاستی اداروں کی جانب سے ایک ”بھگوڑے“ کے لیے سمجھوتہ کیا جا رہا ہے لیکن اس لاڈلے کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ 8 فروری کو الیکشن ہار جائے گا۔ ’میرے پاکستانیو!
سب سے پہلے میں اپنی سوشل میڈیا ٹیم کی اس تاریخی کوشش (وائس کلون) پر تحسین کرتا ہوں۔ حقیقی آزادی کے لیے میرا عزم پہلے سے زیادہ پختہ ہے۔ میری جماعت کو جلسے جلوس کی اجازت نہیں۔ میرے لوگوں کو اغوا اور ان کے اہل خانہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ اوور سیز بھائیو! آج پھر ہمیں آپ کے فنڈز کی ضرورت ہے، آپ فنڈز دیں تاکہ ہم بھرپور طریقے سے الیکشن لڑ سکیں۔
اس جلسے سے مطلوب روپوش رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔ جن میں رؤف حسن، زلفی بخاری، زرتاج گل، شہباز گل، مومنہ نیازی، تیمور جھگڑا، کنول شوذب، صفیہ الٰہی، حافظ فرحت عباس، مینا خان آفریدی و دیگر شامل تھے۔ محترمہ زرتاج گل نغمہ سرا ہوئیں تو انکشاف کیا کہ عمران خان کا ایک بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے دس بڑے ڈیم بنائے۔ منگلا ڈیم اور تربیلا ڈیم تو سب کو معلوم ہیں، باقی 8 کے نام وہ ہی بتا دیتیں تو اچھا ہوتا۔
’الیون لیبز‘ کے ورژن سے نہ صرف کسی دوسرے کا روپ اختیار جا سکتا ہے۔ بلکہ یہ سافٹ وئیر کسی بھی آواز کی منٹوں میں نقل تیار کر دیتا ہے۔ اس میں آپ کو صرف مطلوبہ آواز کی جنس، عمر اور لہجے کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں لوگوں نے کئی مشہور شخصیات کی آوازوں کو کلون کر کے ان سے وہ سب کہلوایا جو انہوں نے کبھی کہا ہی نہیں تھا۔ الیون لیبز نے تسلیم کیا ہے کہ اس کا پلیٹ فارم نفرت پھیلانے کے لیے استعمال کیا جا چکا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر ہونے سے قبل ریگولر اور سوشل میڈیا پر یہ تاثر پھیلایا جا رہا تھا کہ پی ٹی آئی انتخابات میں دو تہائی اکثریت حاصل کر سکتی ہے۔ اسے 60 فیصد نوجوانوں کی حمایت حاصل ہے۔
اگر چہ تحریک انصاف کا ووٹ بینک موجود ہے لیکن انتخابی حرکیات کا فہم رکھنے والے اسے تحریک انصاف کے لیے ’واک اوور‘ قرار نہیں دے سکتے۔ عمران خان کے خلاف مقدمات اور جیل، تحریک انصاف کو انتخابی حوالے سے کمزور تر بنا رہے ہیں۔ قیدراہنماؤں کے ساتھ عوامی ہمدردی کی ویو ہوتی ہے، مگر یہ انتخابی عمل کا متبادل نہیں۔ پیپلز پارٹی 1979 ء میں بھٹو کی پھانسی کے بعد عوامی ہم دردی سے مالا مال رہی مگر اقتدار اسے 1988 ء میں جنرل ضیاء الحق کی رحلت کے بعد ملا۔
تاہم پنجاب میں آج تک وہ سادہ اکثریت سے حکومت نہیں بنا پائی۔ پاکستان کی سیاسی حقیقتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تحریک انصاف کی مکمل توجہ اس امر پر مرکوز رہنی چاہیے تھی کہ 8 فروری 2024 ء کو انتخابات بہر صورت ہوں۔ وہ حصہ لینے کے لیے ڈٹی نظر آئے اور عوام کو یہ تاثر دیتی کہ نگران اور مقتدر قوتیں اسے ’یقینی جیت‘ سے محروم کر نے کے لیے ایک پیچ پر ہیں۔ اب کورٹ جانے کے نادان دوستوں کے مشورے نے ایسا ناممکن بنا دیا ہے۔
مولانا رومی کہتے ہیں کہ انسان اپنے غصے، نفرت اور ضد پر قابو نہ پا کر تباہ ہو جاتا ہے۔ بھٹو نے اسی کے ہاتھوں زندگی گنوائی۔ اور اب عمران خان غصے، نفرت اور ضد کی آگ میں جل رہے ہیں۔ اقتدار سے محروم ہوئے تو یہ ارشادات فرمائے۔
• اس سے بہتر تھا ملک پر ایٹم بم گرا دیا جاتا۔ •اگر میری حکومت نہیں رہی تو اس ملک کو بنانے کا فائدہ؟ •میری حکومت بحال نہ ہوئی تو ملک اور فوج کے تین ٹکڑے ہو جائیں گے۔ تمام سیاسی جماعتیں کسی نہ کسی انداز میں انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔ مگر پی ٹی آئی میدان میں نظر نہیں آ رہی۔ ڈیجیٹل جلسے روایتی جلسوں کا متبادل نہیں ہو سکتے۔ انتخابی حلقوں میں ورکرز اور ووٹرز کو متحرک کرنا پڑتا ہے۔ ڈور ٹو ڈور انتخابی مہم اور کارنر میٹنگز اور ووٹرز کے گلے شکوے دور کرنے سے امیدوار اور ووٹر کے درمیان رابطہ مضبوط ہوتا ہے اور ووٹر الیکشن کے دن بہرصورت ووٹ ڈالنے جاتا ہے۔
خان جی نے غصے، نفرت اور ضد میں یہ غلطیاں کیں۔ •سائفر پر پروپیگنڈا کیا۔ •پی ٹی آئی کے 135 ایم این ایز سے استعفے دلائے۔ •اداروں کے خلاف بیانیہ بنایا۔ •میر صادق، میر جعفر اور غداری کے القابات بانٹے۔ • سوشل میڈیا پر منفی ٹرینڈز چلوائے۔ • اہم تعیناتی کو متنازع بنایا۔ • لانگ مارچ کیے۔ •سانحہ وزیر آباد کے بعد بے بنیاد الزامات لگائے۔ •پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیاں تحلیل کرائیں۔ •پولیس اور رینجر کے مقابلے پر اترے۔ • مبینہ طور پر اپنی گرفتاری کی صورت میں ملکی اداروں کے خلاف احتجاج کی منصوبہ بندی کی۔ • مبینہ طور پر 9 مئی کے واقعات میں جلاؤ گھیراؤ کیا۔
کہنے والے کہتے ہیں کہ ٹویٹر (ایکس) نہ دیکھیں تو زمینی حقائق میں عمران خان کہیں نظر نہیں آتے۔ ان کی مقبولیت کی حقیقت یہ ہے کہ:
•عمران خان 2013 میں 30 / 32 نشستیں حاصل کر سکے۔ • 2018 میں نواز شریف اور مریم کو جیل میں بند اور آر ٹی ایس بٹھا کر بھی اکثریت نہ ملی۔ رہی اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت تو عمران اس کی مداخلت کے زبردست حامی ہیں مگر جب حمایت صرف ان کی ہو۔ غیر جانبداری کے وہ قائل نہیں۔
سچ پوچھئے تو پی ٹی آئی اب سیاسی جماعت کے بجائے ایک سوشل میڈیا ٹیم لگتی ہے، جس کے کرداروں میں کئی ہزار Activists، وکلاء کا ایک گروہ۔ اور وہ میڈیا پرسنز جو اربوں کھربوں دے کر بذریعہ پیرا شوٹ لائے گئے۔ مخالف آدمی حقائق یا اپنی رائے دے تو پی ٹی آئی کا سوشل لشکر بے اماں اس کا ایسا حشر کرتا ہے کہ وہ آئندہ کے لیے توبہ کر لیتا ہے۔ راجہ مہدی علی خاں مرحوم تو کچھ یوں شکوہ کناں تھے کہ :
لغت میں دیکھ کر گالیاں جب مجھ کو دیتے ہیں
فرشتے آسماں پر اپنا سینہ تھام لیتے ہیں
لیکن اس ٹیم کو لغت کی ضرورت نہیں۔ خان جی نے ان کے دماغ میں ایسا طلسماتی کھیت اگایا ہے کہ جتنی کاٹو، یہ فصل اتنی بڑھتی ہے۔


