حیات قائد کے گمنام گوشے
قائد اعظم محمد علی جناح کے دادا کا نام پونجا تھا۔ جو بمبئی پریذیڈنسی کے علاقہ کاٹھیاواڑ کی ایک ریاست گونڈل کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہائش پذیر تھے۔ جس کا نام پنیلی تھا۔ یہ ان کا جدی پشتی گاؤں تھا۔ یہیں پر ان کے آبا و اجداد کی ہڈیاں دفن تھیں۔ اس گاؤں کی آبادی تقریباً ایک ہزار نفوس سے بھی کم تھی۔ گاؤں کے باسیوں کی اکثریت زراعت پیشہ تھی۔ لیکن پونجا کا شمار گاؤں کے ان چند لوگوں میں ہوتا تھا۔ جو غیر کاشت کار تھے۔
ان کے پاس چند کرگھے تھے۔ چند مزدوروں کے ساتھ مل کر وہ ان کر گھوں پر سوتی کپڑا تیار کیا کرتے تھے۔ جس کی بناء پر اس چھوٹے سے گاؤں میں ان کا خوش حال خاندانوں میں شمار ہوتا تھا۔ پونجا کے تین بیٹے والجی، ناتھو بھائی اور جناح بھائی تھے۔ اور ایک بیٹی مان بائی تھی۔ جناح اپنے دونوں بڑے بھائیوں کے مقابلے میں زیادہ تیز طراز، ذہین اور مہم جو تھے۔ وہ 1857 ء کے لگ بھگ پیدا ہوئے۔ بلند حوصلہ جناح کے جوان، پرعزم، اور مہم جو ذہن کے لیے پنیلی جیسے جامد اور خاموش گاؤں میں کوئی دل کشی نہیں تھی۔
ان کی نظریں تو بڑے شہروں پر لگی ہوئی تھیں۔ جہاں نئی مہمات سر کرنے کا جذبہ انہیں پکار پکار کر بلا رہا تھا۔ جناح کا شوق دیکھ کر ان کے والد نے انہیں گونڈل جاکر کاروبار کرنے کی اجازت دے دی۔ اور زاد راہ کے طور پر تھوڑی سی رقم اور بہت زیادہ نصیحتیں بھی پلے میں باندھ کر ان کے ہمراہ کر دیں۔ اپنی محنت، دیانت، تاجرانہ طبع اور فہم و فراست کی بنیاد پر وہ جلد ہی گونڈل کے کاروباری حلقوں میں پہچانے جانے لگے۔ چند ماہ بعد جب وہ گونڈل سے پنیلی واپس آئے۔ تو ان کے والد نے اس خدشہ کے پیش نظر کہ کہیں گونڈل کی رنگینیاں ان کے بیٹے کو اپنے دام میں نے پھنسا لیں۔ ان کی شادی پنیلی سے دس میل دور ایک گاؤں وھفہ کے ایک معزز خاندان کی لڑکی مٹھی بائی کے ساتھ کر دی۔ غالباً یہ 1974 ء کے لگ بھگ کا زمانہ تھا۔ نوجوان جناح کے جوان حوصلوں، بلند عزائم اور خوبصورت خوابوں کی تکمیل کے لیے اب گونڈل شہر بھی چھوٹا پڑتا دکھائی دے رہا تھا۔ چنانچہ ترقی کی سیڑھیوں پر تیز رفتاری سے چڑھنے کے نصب العین کے ساتھ وہ جلد ہی کراچی منتقل ہو گئے۔
اور نیو نہم روڈ پر کھارادر کے ایک چھوٹے سے فلیٹ میں رہائش اختیار کر کے کاروبار کا سلسلہ شروع کر دیا۔ گجراتی، کچھی اور سندھی زبان کے ساتھ ساتھ انہوں نے انگریزی زبان پر بھی خاصا عبور حاصل کر لیا تھا۔ اور اپنی اسی خوبی کی بدولت وہ گراہمبس ٹریڈنگ کمپنی کے زیادہ قریب ہو گئے۔ یہی بات ان کے کاروبار میں تیزی سے ترقی کا ذریعہ بن گئی۔ بہت جلد ان کی فرم جناح پونجا اینڈ کمپنی نے ایک ایسے کاروباری ادارے کی حیثیت اختیار کر لی۔ جو نہ صرف بڑے پیمانے پر منفعت بخش کاروبار میں مصروف تھی۔ بلکہ تاجر برادری کے ساتھ ساتھ عوام کا اعتماد اور بھروسا بھی اسے یکساں طور پر حاصل تھا۔
ان دنوں ان کی اہلیہ مٹھی بائی امید سے تھیں۔ اور ان کی تمام تر توجہ اپنی نوجوان بیوی پر مرکوز تھی۔ دونوں میاں بیوی آنے والے پرمسرت موقع اور لمحے کے خیال ہی سے نہایت خوش اور مگن تھے۔ ان دنوں کراچی میں کوئی قابل ذکر زچہ خانہ نہیں تھا۔ کھارا در کی ایک مڈوائف جس نے روزمرہ کے تجربے کے میڈیکل کالج میں ہی تربیت حاصل کی تھی۔ کے ہاتھوں نوجوان جناح کی اہلیہ مٹھی بائی کے ہاں پہلے بچے کی پیدائش ہوئی۔ نوزائیدہ بچہ بہت کمزور اور منحنی تھا۔
اس کے ہاتھ لمبے، سر لمبوترا اور پیشانی آگے کی طرف ابھری ہوئی تھی۔ بچے کا وزن بھی معمول سے کئی پونڈ کم تھا۔ والدین اس کی صحت کی طرف سے بہت پریشان اور متفکر تھے۔ لیکن ڈاکٹروں سے معائنہ کرانے پر انہوں نے تسلی دی۔ کہ بچہ دیکھنے میں اگر کمزور ہے۔ لیکن جسمانی یا طبعی طور پر اس میں کوئی خرابی یا نقص نہیں ہے۔ اس لیے اس کی صحت کی طرف سے تشویش اور تردد کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ دونوں میاں بیوی نے باہمی صلاح مشورے سے نومولود کا نام محمد علی تجویز کیا۔ جو بعد میں قائداعظم کی حیثیت سے آسمان شہرت پر ایک روشن ستارے کی مانند جگمگانے لگے۔ آپ کے دو بھائی احمد علی اور بندے علی اور چار بہنیں رحمت، مریم، شیریں اور فاطمہ تھیں۔ اگرچہ نوجوان جناح کے شانوں پر اس کے روز افزوں بڑھتے ہوئے کاروبار کی بھری ذمہ داریاں تھیں۔ اس کے باوجود اس کی بیوی نے اسے اس بات پر آمادہ کر لیا۔ کہ محمد علی کا عقیقہ اور سر مونڈن درگاہ حسن پیر پر کیا جائے۔ یہ درگاہ پنیلی سے دس میل دور واقع ایک گاؤں گنوو میں تھی۔
اور یوں چند ماہ کے محمد علی کے والدین سمندری راستے سے بارش اور تیز و تند ہواؤں کی یلغار برداشت کرتے ہوئے کراچی سے کاٹھیا واڑ کے ساحلی شہر ویراول کی طرف روانہ ہو گئے۔ درگاہ حسن پیر پر منت اتارنے کے بعد یہ مختصر سا گھرانا اپنے آبائی گاؤں پنیلی پہنچا۔ جہاں نومولود محمد علی کی والدہ نے اپنے پیارے بیٹے کی پیدائش کا جشن منانے کے لیے تمام گاؤں والوں کی دعوت دی۔ اس دن پنیلی میں کسی بھی خاندان نے اپنے گھر میں چولہے نہیں جلائے تھے۔ ان کے پکانے کے برتن، پلیٹیں اور رکابیاں یونہی کارنسوں پر سجی رہیں۔ گویا وہ سب بھی پنیلی کے ایک باسی کے بیٹے ننھے محمد علی کی آمد کی خوشی میں اپنی اپنی جگہ محو آرام ہوں۔
چند ہفتے پنیلی اور گونڈل میں قیام کے بعد محمد علی کو لے کر اس کے والدین کراچی آ گئے۔ اس کے والد اپنے کاروبار میں اور والدہ تمام تر محبت اور توجہ کے ساتھ اپنے نوزائیدہ، شیرخوار اور لاڈلے بیٹے کی نگہداشت میں منہمک ہو گئیں۔
محمد علی جب چھ برس کے ہوئے۔ تو ان کے والدین نے انہیں گھر پر گجراتی پڑھانے کے لیے ایک استاد کا انتظام کر لیا۔ محمد علی پڑھائے جانے والے اسباق سے نہ صرف لاتعلقی اور بے زاری کا اظہار کرتے۔ بلکہ جمع وتفریق اور حساب سے تو وہ یقینی طور پر متنفر تھے۔ اپنے استاد کے ساتھ جو وقت گزارتے۔ وہ گویا ان کے نزدیک بلاوجہ کی تضیع اوقات ہوتا۔ ہمسایوں کے ہم عمر بچوں کے ساتھ وہ بڑی رغبت سے کھیلتے۔ ان بچوں میں وہ ایک اچھے کھلاڑی مانے جاتے۔
اور یہ بچے انہیں اپنا لیڈر اور قائد سمجھتے۔ وہ خود بھی وجدانی طور پر اپنے آپ کو ان سے برتر گردانتے تھے۔ بہرحال جب وہ نو برس کے ہوئے۔ تو انہیں ایک پرائمری سکول میں داخل کرا دیا گیا۔ وہ جو کھیل کے میدان میں اپنے آپ کو دوسرے لڑکوں سے بہتر اور افضل سمجھتے تھے۔ اس نتیجے پر پہنچے۔ کہ اپنی کلاس میں اول آنا ان کے بس کی بات نہیں ہے۔ چنانچہ وہ سکول اور کتابوں سے گریز کرنے لگے۔ محمد علی کے والد ان کے اس رویے کی وجہ سے سخت طیش میں بھی صبر و ضبط سے کام لے کر انہیں سمجھانے کی کوشش کرتے۔
اسی دوران ایک دن محمد علی نے اپنے والد سے کہا۔ کہ وہ پڑھنے کی بجائے ان کے دفتر میں بیٹھنا اور کاروبار سیکھنا چاہتے ہیں۔ طوعاً و کرہاً انہیں محمد علی کی بات ماننا پڑی۔ لیکن محمد علی دو ماہ کے اندر ہی دفتر آنے جانے اور کام کرنے سے بھی اکتا گئے۔ اور انہوں نے اپنے والد سے سکول واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ اس وقت ان کے والد نے اپنی خوشی چھپاتے ہوئے کہا۔ بیٹا زندگی میں کچھ سیکھنے اور کرنے کے دو طریقے ہوتے ہیں۔
پہلا طریقہ یہ ہے۔ کہ اپنے بزرگوں کی فہم و فراست اور ان کے علم اور تجربے پر بھروسا کرو۔ ان کی ہدایات پر عمل کرو۔ جیسا وہ کہیں ان کے مطابق عمل کرو۔ اور دوسرا طریقہ یہ ہے۔ کہ اپنی مرضی سے جو چاہو کرو۔ اپنی غلطیوں سے سیکھو۔ اور زندگی کی سختیوں اور ٹھوکروں سے علم حاصل کرو۔ محمد علی نے یہ سب کچھ سن کر دوسرے طریقے سے زندگی گزارنے کا پختہ ارادہ کر لیا۔
محمد علی پھر سکول جانے لگے۔ لیکن اب وہ بدل گئے تھے۔ وہ سخت محنت، پوری توجہ اور مسابقت اور رشک کے جذبات سے مغلوب ہو کر اسباق کی تیاری کرتے۔ لیکن حساب میں وہ پھر بھی کمزور رہے۔ اسی طرح لشتم پشتم انہوں نے میٹرک کا امتحان پاس کر لیا۔ تو گراہمبس ٹریڈنگ کمپنی کے انگریز جنرل مینجر نے ان کے والد کو پیش کش کی۔ وہ محمد علی کو اپنی کمپنی کے ہیڈکوارٹر واقع لندن میں تین سال کے لیے اپرنٹس کی حیثیت سے رکھوا سکتے ہیں۔ جہاں وہ بزنس ایڈمنسٹریشن کی عملی تربیت حاصل کریں گے۔ محمد علی کے والد کو یہ تجویز بہت اچھی لگی۔ لیکن ان کی والدہ اس پر راضی نہیں تھیں۔ والد کے سمجھانے بجھانے پر وہ اس شرط پر رضا مند ہو گئیں۔ کہ لندن جانے سے پہلے نوجوان محمد علی کی شادی کر دی جائے۔ اور اس طرح پندرہ سال کی عمر میں محمد علی کی شادی پنیلی کے ایک اسماعیلی خوجہ خاندان کی لڑکی ایمی بائی سے کر دی گئی۔ شادی کے کچھ عرصہ بعد محمد علی بحری جہاز پر سوار ہو کر لندن چلے گئے۔
روانگی کے وقت ان کی والدہ نے انہیں گلے لگاتے ہوئے کہا۔ کہ محمد علی مجھے خدشہ ہے۔ کہ جب تم لندن سے واپس لوٹو گے۔ تو میں تمہیں دیکھنے کے لیے زندہ نہیں رہوں گی۔ لیکن مجھے اس بات کا یقین کامل ہے۔ کہ تم یقیناً ایک بڑے آدمی بنو گے۔ اور میں تم پر فخر کروں گی۔ اور ان کی یہی دونوں باتیں حرف بہ حرف ثابت ہوئیں۔ لندن پہنچ کر محمد علی نے پہلے ایک ہوٹل میں قیام کیا۔ بعد میں اخراجات میں کمی کے پیش نظر مسز ایف۔ ای۔ ہیج ڈریک کے ہاں پے انگ گیسٹ کے طور پر ٹھہرے۔ جو 35۔ رسل روڈ کینگٹن پر رہتی تھیں۔ تقریباً ایک سال تک وہ گراہمبس اینڈ کمپنی کے دفتر میں بطور اپرنٹس کام کرتے رہے۔ اور اس دوران حالات حاضرہ کا بھی بنظر غائر جائزہ لیتے رہے۔ ان کے ذہن میں ان کی والدہ کے یہ الفاظ اکثر گونجا کرتے۔ کہ
”میرا بیٹا ایک بڑا آدمی بنے گا۔“
آخر کار وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ بڑا آدمی بننے کے لیے اس اپرنٹس شپ کو چھوڑ کر وکالت کی تعلیم حاصل کرنا ہوگی۔ جب قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے مختلف اداروں سے رجوع کیا۔ تو پتہ چلا۔ کہ ایسے اداروں میں داخلہ حاصل کرنے کے لیے انہیں ”لٹل گو“ کا امتحان پاس کرنا ہو گا۔ آپ نے اس امتحان کے لیے بڑی محنت کی۔ کیوں کہ اگلے سال قواعد و ضوابط تبدیل ہونے والے تھے۔ اگر یہ موقع نکل جاتا۔ تو پھر انہیں قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے داخلہ لینے کے لیے مزید دو سال انتظار کرنا پڑتا۔
چنانچہ یہ امتحان آپ نے اعزاز سے پاس کر لیا۔ لنکنز ان میں سات جون 1893 ء کو داخلہ حاصل کر لیا۔ اور لنکنز ان میں آپ کا پہلا قدم ہی آپ کو قائداعظم کے اعزاز سے سرفراز کرنے کا موجب ٹھہرا۔ اور اس طرح آپ تجارت کی بھول بھلیوں سے نکل کر چمن زار سیاست میں ایسے داخل ہوئے۔ کہ آپ کے علم و سیاست کی خوشبو اس گلشن کو معطر کر گئی


