پاکستانی زبانوں کا آپس میں اشتراک


پاکستان کی قومی زبان اردو اور سرکاری زبان انگریزی ہے۔ دفتروں مین خط و کتابت انگریزی میں اور عام بول چال اردو میں ہوتی ہے۔ بورڈ انگریزی میں لکھے جاتے ہیں اور اس کا ہجہ اردو یا مقامی زبان میں ہوتی ہے۔ ثقافتی لحاظ سے دیکھئے تو اردو بھی پاکستان کی نہیں بلکہ باہر کی زبان تھی۔ پاکستان بننے سے پہلے یہاں پراس علاقے کی یہیں مقامی زبانیں بولی جاتی تھیں ان کے الفاظ سن کر اب ہم حیرت زدہ ہو جاتے ہیں۔ خیر سے اب تو اردو پاکستان کی اپنی زبان ہے اور پاکستان کی سلامتی اور مضبوطی کا مظہر بھی ہے۔ مقامی اور علاقائی لوگوں کے لیے یہ دوسری زبان کی حیثیت رکھتی ہے۔

پاکستان میں اردو کے علاوہ بھی بہت ساری زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں بولنے والوں کی تعداد کے حساب سے کچھ چھوٹی ہیں اور کچھ بڑی ہیں لیکن یہ پاکستان کی زبانیں ہونے کے باوجود اپنے ملک، اپنے دیس میں اجنبی ہیں اور محدود علاقوں میں قید ہو کر رہ گئی ہیں۔ اس کی بڑی وجہ حکومتی سطح پر ان زبانوں کو ایک دوسرے سے ملانے اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر لائحہ عمل بنانے کے لیے کسی ادارے کا نہ ہونا ہے۔

پاکستان کے انگریزی اور اردو لکھاریوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ذہنی طور پر اونچے درجے پر فائز ہیں۔ انگریزی کے لکھاری اردو لکھاریوں کو اور اردو کے لکھاری پاکستان کے دوسرے زبانوں کے لکھاریوں کو کمتر سمجھتے ہیں اور ان زبانوں میں لکھنے اور سوچنے کے عمل کو بیکار سی سرگرمی تصور کرتے ہیں، لیکن نالائقی کی بات یہ ہے کہ مقامی اور علاقائی زبانوں سے تعلق رکھنے والے اردو کی لکھاری بھی قومی زبان میں لکھتے ہوئے اپنی مقامی زبانوں کے الفاظ اردو میں استعمال نہیں کر رہے ہیں، اور نہ قومی سطح کے ادارے اس کام کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں مقامی، علاقائی اور قومی زبان ایک دوسرے کے لیے اجنبی بن کے رہ گئی ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ قومی زبان میں علاقائی زبانوں کے الفاظ استعمال ہوں اور اگر اردو میں کسی چیز کے لیے لفظ نہ مل رہا ہوں یا کوئی سرگرمی کو بیان کرنے کے لیے واضح الفاظ نہ ہوں تو ایسی صورت میں مقامی زبانوں کا سہارا لیا جائے اور وہ الفاظ ان زبانوں میں تلاش کی جائیں، تو ممکن ہے ایسے بہت سارے الفاظ مقامی زبانوں میں دستیاب ہوں گے اور ان الفاظ کے استعمال سے قومی، مقامی اور علاقائی زبانیں ایک دوسرے کی مدد گار بن جائے گی۔ یہ زبانیں ایک دوسرے سے اثر لیں گے تب یہ علاقائی اور لسانی فاصلے کم ہوں گے پھر پاکستان میں پاکستانیت کا آغاز ہو گا۔

قومی زبان کی مقامی زبانوں سے الفاظ ادھار لینے سے ان زبانوں میں قربت بڑھے گی۔ اس طرح سے قومی اور علاقائی اور مقامی زبانیں ایک دوسرے کے قریب آئیں گی۔ اردو کا مقامی زبانوں سے الفاظ ادھار لینے سے قومی زبان اردو اور مقامی زبانوں کی ترقی ہوگی۔ قومی اور مقامی زبانوں کے اشتراک سے ان زبانوں میں ذخیرہ الفاظ کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔

قومی زبان کی ضرورت کے مطابق مقامی زبانوں سے الفاظ ادھار لینے کے لیے ایک مثال میں اردو قاعدے کی دوں گا کہ جب ہم اردو ’الف ب‘ یا اردو قاعدہ کی کتاب دیکھتے ہیں تو وہاں پر کچھ حروف کے لیے ایسے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جو مبہم ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے ان حروف کے لیے اردو میں واضح طور پر پکچر ایبل اسم نہیں ہیں۔ ان میں سے ایک حرف ”ڑ“ ہے ’ڑ‘ بھی اردو کا ایک ایسا حرف ہے اس حرف سے اردو میں کوئی واضح پکچر ایبل ناون موجود نہیں ہے جو تصویر کے ساتھ اردو قاعدہ میں درج کیا جا سکے۔

اس وجہ سے یہ حرف ہمیشہ غیر واضح الفاظ سے اردو قاعدہ میں درج کیا جاتا ہے۔ اگر اس حرف ”ڑ“ سے بننے والے الفاظ چترال میں بولی جانے والی زبان کھوار میں تلاش کرے۔ تو اس حرف سے بننے والے بہت سارے واضح پکچر ایبل اسم مل جائیں گے، جیسا کہ ”ڑ“ سے بننے والے الفاظ، ڑو۔ (لومڑی ) ڑاغ، (گنجہ) ڑائے ( رنگ برنگی) جیسے آسان پکچرایبل ناون ہیں۔ مقامی زبان کے یہ الفاظ اردو الف ب میں آسانی کے ساتھ استعمال ہو سکتے ہیں، لیکن قومی زبان کا تعلق ابھی تک مقامی زبانوں سے نہیں بنا ہے۔ اس وجہ سے قومی اور مقامی زبانوں کے درمیان فاصلہ ہے۔ اگر ان زبانوں کے آپس میں اشتراک بن جائیں تو ”وڑنا“ جیسے علاقائی زبانوں کے الفاظ ہمیں حیرت زدہ نہیں بلکہ قومی زبان کی ذخیرہ الفاظ میں شامل ہو کر اردو کی قوت بن جائیں گے۔

اب یہ ”مقتدرہ قومی زبان“ ادارہ فروغ قومی زبان ”جیسے بڑے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ انگریزی سے ٹرم /اصلاحات کو اردو میں ترجمہ کرنے کے ساتھ ساتھ قومی اور مقامی زبانوں کے روابط کے بارے میں بھی کوئی لائحہ عمل مرتب کریں تاکہ آگے جاکر یہ زبانیں ایک دوسرے کی مدد گار بن کر ملک کی ترقی اور معاشرتی ہم آہنگی میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments