چین میں لائیو سٹریمنگ کے ذریعے اشیا کا آن لائن کاروبار


سال 2007 میں سارس وائرس آیا تو اس مشکل میں لوگوں کی آسانی کے لئے ایک نئی اصطلاح آن لائن خریداری نے زور پکڑا۔ چین میں خاص طور پر اس رجحان میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور پھر جب کووڈ 19 نے دنیا کو اپنے قابو میں کیا تو اس رجحان نے ایک نئی تبدیلی کو دیکھا۔ کورونا وبا سے پہلے دنیا نے ماضی قریب میں اتنے طویل عرصے تک لاک ڈاؤن اور روزمرہ کے معمولات میں پابندیاں نہیں دیکھی تھیں لہذا آغاز میں تو یہ انتظار کیا گیا کہ وبا کچھ عرصہ رہنے کے بعد ختم ہو گی تو معمولات پہلے کی طرح ہو جائیں گے، پر جب ایسا نہیں ہوا تو نئے طریقے اور نئی زندگی کے رنگ ڈھنگ دریافت کرنا ضروری تھا کیوں کہ انسان کے جینے کے ساتھ ضرورتیں جڑی ہیں اور کاروباری افراد بھی آخر کب تک اپنا کاروبار بند رکھتے۔

اسی آزمائش نے ایک موقع کو جنم دیا اور آن لائن خریداری نے مقبولیت حاصل کی۔ کرونا وبا کا خاتمہ ہوا تو دنیا نے دیکھا کہ چین کہ معیشت نے اپنی ترقی کے معیار کو گرنے نہیں دیا اور اس کی ایک بہت بڑی وجہ یہی آن لائن خریداری ماڈیول تھا۔ لیکن اس ضمن میں سب سے اہم ذمہ داری یہ تھی کہ ان اشیا کو بروقت ان کے خریداروں تک پہنچایا جائے۔ پاکستان میں گزشتہ چند سالوں میں اس حوالے سے کافی ترقی دیکھی گئی ہے اور لوگوں میں آن لائن خریداری کا رجحان بھی پہلے کی نسبت بڑھا ہے لیکن یہاں چین میں رہ کر میں نے محسوس کیا ہے کہ آن لائن خریداری اب یہاں کے روز مرہ معمولات کا حصہ بن چکی ہے۔

سودا سلف، اشیائے خوردونوش، گھر کی تزئین و آرائش اور رہن سہن سمیت صنعتوں سے متعلقہ ہر طرح کے شعبے کی ہر طرح کی بے پناہ مصنوعات اور پلیٹ فارمز صارفین کو میسر ہیں جہاں دھوکہ دہی کے امکانات بھی انتہائی کم ہیں۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ مصنوعات کے آرڈر ہونے سے ان کے صارف تک پہنچنے کا دورانیہ دن بدن کم ہو تا جا رہا ہے۔

مختلف پلیٹ فارمز پر مخلتف سہولیات ہیں جن کا استعمال صارف کر سکتا ہے۔ اگر آپ کو کوئی ضروری چیز بہت جلدی منگوانی ہے تو آپ اسے ایک گھنٹے کی مہلت پر بھی منگوا سکتے ہیں بشرطیکہ کہ آپ جہاں موجود ہیں وہ شے بھی اسی علاقے میں میسر ہو۔ بین الصوبائی اشیا میں مصنوعات کا صارفین تک پہنچنے کا عمومی دورانیہ 2 سے 3 دن ہوتا ہے۔ ان خدمات کے ساتھ، کوریئر سیکٹر چین میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کی تیسری سہ ماہی میں چین میں ایکسپریس پارسل کی اوسط ترسیل میں 54.24 گھنٹے لگے جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 2.5 گھنٹے کم ہے۔

83.75 فیصد ایکسپریس پارسل 72 گھنٹوں کے اندر فراہم کیے گئے۔ چین کے اسٹیٹ پوسٹ بیورو کی جانب سے جاری مانیٹرنگ ڈیٹا کے مطابق چین میں ہینڈل کیے جانے والے ایکسپریس ڈیلیوری پارسلز کا سالانہ حجم 2023 میں پہلی بار 120 ارب سے تجاوز کر گیا ہے جو ایک نئی ریکارڈ سطح ہے۔ اچھی کوریئر خدمات نے آن لائن خوردہ مارکیٹ کو مزید تقویت بخشی ہے۔ اس سال جنوری سے اکتوبر تک چین میں فزیکل سامان کی آن لائن ریٹیل فروخت میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 8.4 فیصد اضافہ ہوا، جو صارفین کے سامان کی کل خوردہ فروخت کا 26.7 فیصد ہے۔ آن لائن خوردہ مارکیٹ کی مستحکم ترقی نے نہ صرف چینی صارفین کے انتخاب کو بڑھایا ہے بلکہ کھپت کی مستقل بحالی اور بہتری میں بھی حصہ ڈالا ہے۔

آن لائن فروخت میں ایک اور بڑی تبدیلی لائیو اسٹریمنگ بھی ہے جس کا رجحان اس وقت پاکستان میں کم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مختلف پلیٹ فارمز پر کچھ مصنوعات صرف ویڈیوز اور تصاویر کی شکل میں نہیں بلکہ ایک میزبان کے ساتھ بھی موجود ہوتی ہیں جو براہ راست اپنے صارفین کو اس شے کے بارے میں آگاہ کر رہے ہوتے ہیں اور اسی دوران صارفین کے سوالوں کے جوابات بھی دے رہے ہوتے ہیں۔ یوں صارف کے مصنوعات خریدنے کے عمل میں ایک اور ہچکچاہٹ کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور خریدار اپنی تسلی کے بعد مصنوعات کی خریداری اسی وقت کر سکتا ہے۔

کیوں کہ اس طریقے میں میزبان کا یا عام زبان میں کہیں تو دکاندار کا ہر وقت میسر ہونا ممکن نہیں ہو تا اس لئے اب مصنوعی ذہانت کے استعمال سے اے آئی میزبانوں کو بھی متعارف کروایا گیا ہے جو صارفین کے بنیادی سوالات کا تسلی بخش جواب دے پاتے ہیں لیکن صارفین ابھی ایسے میزبانوں سے زیادہ مانوس نہیں ہیں اور کئی کمپنیز کو بھی لگتا ہے کہ ایسا کرنے سے ان کا صارفین سے حقیقی تعلق کمزور ہوتا ہے جس کا اثر ان کے کاروبار پر پڑتا ہے۔

چند اعداد و شمار کے مطابق، چین کی لائیو اسٹریم کامرس کی فروخت نے اس سال جنوری سے اکتوبر تک 2.2 ٹریلین یوآن ( 308.1 بلین ڈالر) سے تجاوز کیا جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 58.9 فیصد کا اضافہ ہے اور کل آن لائن خوردہ فروخت کا 18.1 فیصد ہے۔ اس کے علاوہ سر حد پار ای کامرس کی اعلی معیار کی ترقی نے نئے منظرنامے کے ساتھ نئے تجربات پیش کیے ہیں اور نئی کاروباری شکلوں کے ساتھ نہ صرف نئی ضروریات کو پورا کیا ہے بلکہ نئے ماڈلز کے ساتھ نئی زندگی کو تحریک دی ہے۔

ای کامرس نیٹ ورکس نہ صرف شہروں اور دیہی علاقوں کو جوڑتے ہیں بلکہ چین کو باقی دنیا سے بھی جوڑتے ہیں۔ حال ہی میں پہلی چائنا انٹرنیشنل سپلائی چین ایکسپو میں، مختلف ممالک سے کافی کی خوشبو نے نمائش ہال کو مسحور کن احساس دیا جس نے شرکاء کی بڑی تعداد کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر میں ای کامرس پلیٹ فارمز پر فلپائن کے کینڈیڈ پھلوں، انڈونیشیا کے بالوں کی دیکھ بھال کی مصنوعات، اور کولمبیا کی کافی کی فروخت میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں بالترتیب 92.8 فیصد، 66.9 فیصد اور 25.7 فیصد اضافہ ہوا۔

فی الحال، چین اپنی کھپت کی صلاحیت کو بڑھانے، کھپت کے حالات کو بہتر بنانے، اور اپنی کھپت کی صلاحیت کو مکمل طور پر ظاہر کرنے کے لئے کھپت کے منظرنامے میں جدت لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ چین لگاتار کئی سالوں سے دنیا کی سب سے بڑی آن لائن خوردہ مارکیٹ رہا ہے۔

ای کامرس کی اعلی معیار کی ترقی کے لئے ایک بہتر ماحول پیدا کرنے کے لئے، چین آن لائن اور آف لائن، پیداوار اور کھپت، شہری اور دیہی علاقوں کے ساتھ ساتھ گھریلو اور بین الاقوامی مارکیٹوں کو مربوط کرنے میں ای کامرس کے منفرد فوائد سے بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے اور یہ توقع ہے اپنی ترقی کو برقرار رکھتے ہوئے دنیا بھر میں مزید کامیابیاں بھی حاصل کرے گا۔

Facebook Comments HS