مرزا صاحب نے پنجابی آرٹ فلم دکھائی
مرزا صاحب ہمارے ایسے دوست ہیں جن کی رائے ہم ہر غیر ضروری اور ہر غیر مفید معاملے میں صائب جانتے ہیں جیسے فلسفہ، عالمی سیاست، شعر و سخن، موسیقی، موویز، ناٹک، ناچ، مصوری، ثقافت کی سربلندی اور فنون لطیفہ سے متعلق دیگر معاملات۔ اس کی وجہ سے ہم میں ایک احساس کمتری بڑھ گیا ہے اور مرزا صاحب بھی بڑھاتے رہتے ہیں لیکن ہم نے اس احساس کمتری سے سمجھوتہ کر لیا ہے کہ مرزا صاحب کے حلقہ اثر میں ہمیں اپنے کاروبار کے کافی گراہک مل جاتے ہیں اور دوسرے مرزا صاحب کی نسبت سے لوگ ہمیں بھی صاحب ذوق سمجھتے ہیں اور اس بات سے ہمیں بہت خوشی ہوتی ہے کہ ہم بھی ان گنے چنے چند لوگوں میں ہیں جو تہذیب کا مرکز و محور ہیں۔
مرزا صاحب ہماری ذوق کی خامیوں پر ہمیں ڈانٹتے بھی بہت ہیں اور ہمارا تمسخر بھی خوب اڑاتے ہیں۔ لیکن وہ کہتے ہیں گرو کی ڈانٹ بھی چیلے کے لیے پرشاد جیسی ہی ہوتی ہے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم نے بھی کچھ سیکھ لیا ہے اور کبھی کبھار ہماری باتیں بھی مرزا صاحب کے دربار میں معتبر ہو جاتی ہیں۔
ایک دن مرزا صاحب فلسفے کے کسی ناقابل تفہیم موضوع پر ایک انتہائی پر اثر اور پر جوش خطبہ دے رہے تھے۔
دیکھیں جی، یہ جو عینیت کی تمثیلوں میں معقولاتی فرمودات کا جو تناؤ ہے اس تناؤ سے لگاؤ مرد حق بین کی سرخوشی ہے۔
ہمیں تو سمجھ کچھ نہیں آیا، آپ میں سے بھی شاید ایک بھاری اکثریت کو بھی شاید نہیں آیا ہو گا۔ لیکن ہم نے موقع بوجھ لیا تھا اپنی فلسفہ دانی کی داد لینے کا تو ہم نے خوب چھان پھٹک کر مرزا صاحب کی بات میں اس ٹکڑے کا اضافہ کر دیا۔
مرزا صاحب اور مرد حق بین کی خوشی ہی تو حیات و کائنات کا مآل ہے۔
ہم خوب جانتے تھے کی عینیت کی تمثیل کا جو مرد حق بین ہے وہ مرزا صاحب کو پورا یقین ہے کہ وہ خود ہی ہیں۔
مرزا صاحب نے ہماری طرف غور سے دیکھا اور کہنے لگے۔
ابتہاج یار، اب تجھے آئینہ تمثال دار کی کچھ تفہیم ہو گئی ہے۔
اور ہمارا دل باغ باغ ہو گیا۔ حالانکہ ہمیں اس آئینے کے بارے میں کچھ خاص علم نہیں تھا۔
کبھی کبھی الٹا بھی پڑ جاتا ہے۔
ایک دن ریڈیو پر کوئی پکا راگ چل رہا تھا اور مرزا صاحب جھوم رہے تھے۔ جانے ان کے ذہن میں کیا خیال آیا اور ہم سے پوچھنے لگے، یار باجی راؤ، اب تجھے ہماری مجلسیں کرتے بہت سمے ہو گیا ہے۔ بوجھ تو سہی کون سا راگ ہے۔
ہم نے جھٹ سے کہہ دیا
یہ راگ دادرا میں میاں کی ٹوڈی ہے۔
مرزا صاحب نے ایک فلک شگاف قہقہہ بلند کیا اور تقریباً آدھ گھنٹہ فلک سے قہقہے کو نیچے نہیں آنے دیا۔ تھوڑی دیر بہت چپ ہوئے تو منہ ہی منہ میں گنگنانے لگے
ککرتے انگور چڑھایا ہر گچھا زخمایا
یہ بات ہمیں سمجھ آ گئی اور ہمارا بہت جی چاہا کی لات مار کر مرزا کو کرسی سے گرا دیں لیکن پھر اپنے گراہک یاد آ گئے۔ اور اس تذلیل کا حل ہم نے یوں نکالا ہے کہ پکے راگوں میں جب بھی کوئی محفل ہو تو مرزا صاحب کی طرف دیکھ کر سر کو خفیف جنبش دے دیتے ہیں۔ اور مرزا صاحب پکے راگوں کے اتنے ماہر ہیں کہ ہمارا کہ راگ رنگ کے دوران ہمارا ان کی طرف دیکھ کر سر کو ہلکے سے ہلانا ہمیں بھی اولیا کی نگاہوں میں نستعلیق و باریک کر دیتا ہے۔
اسی طرح ایک محفل میں کوئی نچنیا اس گیت پر ناچ رہی تھی۔
مورے سیاں اتریں گے پار، ندیا دھیرے بہو۔
ہم نے مرزا صاحب سے کہا
جناب آئیے کچھ چائے بھوجن کر لیں، کب تک بیٹھے یہ اوٹ پٹانگ سی کود پھاند دیکھتے رہیں گے۔
اور مرزا صاحب نے ہماری طرف رحم بھری نگاہوں سے دیکھا اور آہستہ آہستہ اس ناچ کے اسرار و رموز سمجھائے۔ کہ نچجنیا سیاں کی ناؤ کا سفر بتاتی ہے، کیسے ندی کے بہاؤ کا بتاتی ہے اور کیسے سیاں کے لیے اپنی شیفتگی و بے قراری کا اظہار کرتی ہے۔ اس بار ہمیں بھی کچھ کچھ سمجھ آنے لگا لیکن بھوک پانچ چھ دنوں کے لیے اڑ گئی۔
اس طرح کے متعدد واقعات کے بعد فلم اور ڈرامے جیسی صنفوں میں بھی ہم مرزا صاحب کی رائے کیسے نظر انداز کر سکتے تھے۔
ہم نے تازہ تازہ پنجابی بلاک بسٹر دیکھی تھی، کنجر دا ویاہ اور اس کا احوال بڑے جوش سے بتا رہے تھے۔ تب مرزا صاحب نے کہا۔
یہ کیسی واہیات و بے ہودہ فلمیں دیکھتے رہتے ہو۔ اگلے اتوار آؤ ہمارے مہمان خانے پر کہ وہاں مووی دکھانے کا انتظام ہے۔ اور ہم تمھیں پنجابی آرٹ فلم دکھاتے ہیں۔ مویاں دی مڑھی۔ یہ کیسی فلمیں دیکھتے ہو، ارباب ذوق میں ہماری بھد اڑتی ہے کہ مرزا گنجینہ معرفت کو چھپا رکھتا ہے۔ اتنے دنوں سے ابتہاج ساتھ ہے لیکن ابھی تک کورے کا کورا۔
تو اگلے اتوار ہم بصد شوق مویاں دی مڑھی دیکھنے مرزا صاحب کے ہاں پہنچ گئے۔ فلم کے دوران مرزا صاحب نے بڑی عقدہ گشائی کی لیکن اسے نظر انداز کرتے ہوئے ہم آپ کو صرف فلم کا احوال ہی بتاتے ہیں۔
ہم جب پہنچے تو فلم شروع ہو چکی تھی اور ایک سائیکل رکشا والا سائیکل رکشا چلاتا رہا اور چلاتا ہی رہا اور کیمرا اس کا سفر دکھاتا رہا اور دکھاتا ہی رہا۔ کوئی دس منٹ بعد ہمارا یہ ہیرو شہر سے باہر نہر کے کنارے پہنچا اور ایک سایہ دار درخت کے نیچے اس نے رکشا روکا اور اس نے فلم کا پہلا ڈائیلاگ بولا جو آفاقی نوعیت کا تھا۔
ہائے مھاڑیے مائے۔
(ھائے ماتاجی)
یہ کہہ کر ہمارا ہیرو سائیکل رکشا پر ہی سو گیا۔ اور اگلے پندرہ منٹ سوتا رہا اور جب اس کی آنکھ کھلی تو اس نے کائناتی نوعیت کا دوسرا ڈائیلاگ بولا۔
واہ مالکا تیریاں ونڈاں
(واہ مالک تیری تقسیم)
اور یہ کہہ کر وہ پھر سائکل رکشا چلانے لگا اور اگلے پندرہ منٹ سائکل رکشا چلاتا رہا اور اس کی ملاقات ایک تنگ گلی میں ہیروئن سے ہو گئی جو اپنے گھر کے باہر جھاڑو لگا رہی تھی۔ ان کی آنکھیں چار ہوئیں۔
اور اگلے پندرہ منٹ چار ہی رہیں، دونوں چپ چاپ ایک دوسرے کو دیکھتے رہے اور اس دوران انھیں ایک دوسرے سے پیار ہو گیا۔ اور گلی میں بھی تھوڑا رش ہونے لگا کہ پیار اور موت ہجوم پرور تو ہیں
اور اب کچھ گہری باتیں ہونے لگیں۔
بنتو، دھرمے دا تے دھرم گیا
کہ بنتو دھرمے کا تو دھرم گیا
دھرمیا، اس توں چنگی گل کوئی نہیں
(دھرمے اس سے تو اچھی کوئی بات نہیں )
بنتو، تے پرکھیاں دا کیہہ
(اجداد کیا کہیں کہیں گے )
دھرمیا، جراندے جوگے،
(دھرمے وہ تو مر گئے اور مرنے کے ہی لائق تھے )
بنتو، سچ پئی کہندی ایں، جراندے لئی جیون کیوں اجاڑیے
(بنتو سچ ہی تو کہہ رہی ہومرے ہووں کے لیے زندگی کیوں ویران کریں )
تے فیر گل پکی
(تو پھر بات پکی)
پکو پک
(بالکل پکی)
یہ باتیں کوئی کٹنی سن رہی تھی۔ اب وہ پندرہ منٹ مختلف گلیاں گھومتی رہتی ہے اور اخر کار ایک بڑی حویلی کے آنگن میں پہنچتی ہے۔ یہاں گاؤں کا جاگیردار ایک کھٹیا پر بیٹھا ہوتا ہے۔
پانچ منٹ ایک دوسرے کو دیکھنے کے بعد کٹنی جاگیردار سے کہتی ہے۔
سردار جی، فیر اوہ ہی گل
(سردار جی پھر وہی ہو گیا)
لکھو، ایس واری کیہڑے؟
(لکھو اس دفعہ کون ہیں )
دھرما تے بنتو۔
ہونہہ، دھرمے نوں آکھ مینوں شمشان گھاٹ تے ملے۔
(ہونہہ دھرمے سے کہو مجھے شمشان گھاٹ پر ملے )
اور اگلے پندرہ منٹ لکھو دھرمے کو ڈھونڈنے میں بتا دیتی ہے اور ڈھونڈنے کے بعد اسے اشاروں اشاروں میں دھرمے کو شمشان گھاٹ جانے کی تاکید کرتی ہے۔ یہ خبر سن کر دھرما بہت اداس ہو جاتا ہے اور رکشا اور آہستہ چلانے لگتا ہے تقریباً آدھے گھنٹے کے بعد وہ شمشان گھاٹ پہنچتا ہے اور جاگیر دار اس کا منتظر ہوتا ہے۔ اور دھرمے سے کہتا ہے۔
دھرم سیاں، پیار تے اسی ہون نہیں دیندے۔ پرکھیاں وچوں تے کسے نہیں کیتا
(دھرم صاحب، پیار تو ہم ہونے نہیں دیتے۔ اجداد میں سے تو کسی نے نہیں کیا)
جاگیر دارجی اوہ تے کملے سن
(جاگیردار جی وہ تو پگلے تھے )
(توں وڈا سیانا)
اور تم بہت سیانے
نہ جاگیردار جی، بس بنتو بن کاہدا جیونا
(نہیں جاگیردار جی لیکن بنتو بن کیا جینا)
(تے لے فر مر)
تو پھر مر جاؤ
اور بندوق داغ دیتا ہے۔
اور دھرما مر جاتا ہے۔
اس کے بعد بنتو تین منٹ پاگل دکھاتے ہیں۔ اور وہ یہ گیت گاتی رہتی ہے۔
میرا لاڑھا بنا، میرا سوہنا بنا
جراندے جوگا
(میرا دولہا بنا، لائق اجل)
اور سین بدلتا ہے
اس میں سکرین کے ایک حصے پر پنچایت میں بوڑھے اکٹھے ہو رہے ہوتے ہیں اور تقریباً دس منٹ اکٹھے ہوتے رہتے ہیں اور سکرین کے دوسرے حصے پر لکھو دھرمے کی مڑھی بنا رہی ہوتی ہے۔ اسی دوران سکرین پر دی اینڈ آ جاتا ہے۔
ہم نے کہا مرزا صاحب یہ تو کچھ بھی نہیں ہوا
مرزا صاحب نے کہا، بندہ مر گیا پیار کی خاطر اور تم کہتے ہو کچھ بھی نہیں ہوا۔ لیکن تم بھی ٹھیک کہتے ہو لیکن فلم کا پوائنٹ ہی یہی ہے۔ نہ صرف فلم کا بلکہ پوری تہذیب کا کہ کبھی کچھ بھی نہ ہو۔
اور ہم مرزا صاحب کی جانب حیرت زدہ دیکھتے رہے۔

