کیا یہ وہ بلوچ خواتین ہیں؟


کیا یہ بلوچ خواتین ہیں؟
چند سال قبل جن کی برقع بند کوڑے کھاتی ویڈیوز وائرل ہوتی تھیں؟

چند سال پہلے تک جن کو اپنی ذات کی شناخت بھی نہیں تھی اور ہمیں بتایا جاتا تھا کہ یہ منحوس مرد جرگے لگا لگا کر اپنی عورتوں کو ایسے مارتے ہیں اور پھر پاس کھڑے ہو کر تماشا بھی دیکھتے ہیں۔

جرگے کا اصول ہے کسی نے آگے بڑھ کے روکنا نہیں ہے بلکہ آنکھیں چار کر کے اور کان بند کر کے اس سارے منظر کو دیکھنا ہے۔

کیا یہ وہی بلوچ خواتین ہیں؟
کیا ہماری یاداشت اتنی کمزور ہیں کہ ہمیں چند سال پہلے کی کہانی یاد ہی نہیں رہی؟
کیا یہ وہی مار کھانے والے بلوچ خواتین ہیں؟

جن کے قد مردانہ قد جتنے ہوتے تھے۔ قافلے میں تو سب پورے ملک کی طرح نارمل قد کاٹھ کی خواتین دکھائی دے رہی ہیں۔ نہ ہی کوئی برقع بند ہیں۔ نہ بولنے میں ڈھیلا پن ہے۔

نہ ان پہ مردانہ جبر کے نشان دکھائی دے رہے ہیں۔ جبر میں پلی عورت میں طاقت نہیں ہوتی۔
سوچیں کیا یہ وہی بلوچ خواتین ہیں
جو ظالم اپنے مردوں کے لئے اسلام آباد کی سڑکوں تک آ گئی ہیں

کیا یہ وہ بلوچ خواتین ہیں جن پہ ڈھائے جانے والے مردانہ مظالم اور ان کے بند دماغوں پہ سوال اٹھایا جاتا تھا

یہ چند سال میں اتنی باشعور کیسے ہو گئی؟
وہ ویڈیوز وائرل تھیں یا یہ ویڈیو اور باتیں وائرل ہیں؟
وہ سچ تھا یا یہ سچ ہے؟
وہ تاریکی تھی یا یہ تاریکی ہے مگر جو بھی ہے الیکشن سے پہلے اسلام آباد لرز گیا ہے
اور ایکشن سے پہلے ری ایکشن آ گیا ہے

ہر پارٹی اس واقعہ کو اپنے مطابق اپنے مفاد کے مطابق استعمال کر رہی ہے۔ یہ سچ ہے کہ ”ٹوٹے“ چل پڑے ہیں تو برائے مہربانی ملک اس وقت نازک موڑ پہ ہے۔ ہوش کے ناخن لیں۔ ٹوٹے نہیں، ہر بات کی گہرائی تک جائیں۔

کہ ظلم کا کوئی رنگ نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی مذہب ہوتا ہے اور شعور تو بالکل بھی نہیں ہوتا جب بات حق مانگنے کی آ جائے تو شعور بول رہا ہوتا ہے۔

کہیں جو گڑبڑ ہے اسے ہم نے اپنے کنٹرول سے بچانا ہے۔ ٹوٹے نہ چلائیں، ٹوٹے ایک دوسرے کو مت بھیجیں۔ ٹوٹے مسالک تک سے جوڑ کر چلا دیے گئے ہیں۔

پنجاب گالی بن گیا ہے پنجاب اس کی آبادی زیادہ ہے جہاں اس کی دہشت زیادہ ہے اس کے اندر کی تاریکی بھی اس کی آبادی اور شان و شوکت میں چھپ جاتی ہے۔

جیسے یہ کہا جا رہا ہے کہ سرداروں کی پگڑی پر عورت کا شعور بھاری پڑ گیا ہے یہی کہانی پنجاب کی بھی ہے۔ اندر بیٹھ کے نظام کی کہانی اور تصویر بالکل بدل جاتی ہے۔

گم شدہ افراد آخر اس آواز کو طاقت ملنی ہی تھی کہ ظلم بہت سفاک اور بڑا ہے، نسل کشی کی اصطلاح تک سنائی دے رہی ہے لیکن جناب من عین الیکشن کے پاس یہ سب کرنے اور کروانے کا مقصد کیا ہو سکتا ہے؟

گم شدہ ہونے کے لئے انسان ہونا کافی ہے اس کا تعلق جغرافیہ، مذہب و مسلک سے ہر گز نہیں ہے۔ اسے مذہب، مسلک، جغرافیہ سے جوڑے بنا سمجھنے کی کوشش کریں تو سمجھ آئے گا

ورنہ تعصب کی عینک سے اپنا آپ ہی نظر آتا ہے
ہمیں یہ نکتہ سمجھنا ہو گا۔
ہمیں تو آج تک وکلا مارچ یاد ہے۔ آپ کو یاد ہے؟

اسلام آباد تک پہنچنا آسان نہیں ہے۔ مزاحمت ہی سہی، مزاحمت کے ساتھ بھی وکیل اسلام آباد فتح نہیں کر سکے تھے۔

بلوچ خواتین اسلام آباد فتح کر چکی ہیں۔

بہت بڑی بات ہے۔ وہ بلوچ ہی نہیں، پشتون کی بھی آواز بنی ہیں، پنجاب کی بھی آواز بنی ہیں۔ پنجاب سے بھی مسنگ پرسن ہیں مگر آبادی کی زیادتی میں یہ خبر بھی گم ہو جاتی ہے۔ ان خواتین کو سلام ہے۔ اسلام آباد ان کا بھی وفاق ہے۔ وہاں آنے کا ایک ہی رنگ ہے کہ وہ اپنے ملک میں اپنی بات کرنے آئی ہیں۔ اس کو بغاوت کا رنگ تو دیا جا سکتا، غداری کا نہیں۔

یہ بالکل یونہی ہے جیسے ایک باپ کی اولاد میں سے آپ کی بہن کہہ دے کہ بھئی میری وراثت کا حصہ مجھے چاہیے اور آپ کے خاندان میں وراثت کی تقسیم کا رواج نہ ہو تو پہلا دل تو یہی کرے گا اسے گولی مار دو۔

اگر اسلام کی بات کرتے ہیں تو وہ بیٹی بھی صرف آپ سے حق مانگ رہی ہے جو جرم نہیں ہے۔ بس آپ کو یا ہمیں عادت ہی نہیں ہے کہ بیٹی اور بہن کو وراثت دی جائے۔ برا تو لگے گا۔

سو لگ رہا ہے بھئی یہ کیا ہو گیا چھوٹی بیٹی نے اٹھ کر حصہ مانگ لیا۔ تو بھیا اتنا بوکھلانے کی کیا ضرورت ہے باپ بیٹی کا معاملہ ہے۔ آپ چوہدری نہ بنیں۔

چلیں بات کسی اور طرح کر لیتے ہیں۔ ہم بیٹی بیاہتے ہیں کہ بوجھ اتار کر داماد کے سر تھوپ دیں۔ جہیز کے نام پہ محبت دے دیں اگر آپ کے سب داماد مار دیے جائیں تو یہ بوجھ بھی ریاست کا ہی ہوا؟

کیا خیال ہے؟

لیکن آپ یہ سوچیں کیا یہ وہ بلوچ خواتین ہیں جن کے مرد جرگے کے حکم پہ ان کو ٹوپی برقعے پہنا کر سر عام کوڑے مارا کرتے تھے۔ ان کو ایسے ظالم مردوں کی کیا ضرورت ہے۔

اگر ایسا نہیں ہے تو سوچیں الیکشن سر پہ ہے کیا عمران خان یا پی ٹی آئی کا کوئی قافلہ اسلام آباد میں داخل ہو سکتا ہے؟ ظالمو وہ تو یہاں زمان پارک میں داخل نہیں ہو سکتا؟

ایسے حالات میں یہ خواتین قلات سے اسلام آباد تک کیسے باحفاظت پہنچ گئی ہیں؟ جس ملک میں موٹر وے پر ریپ ہو جاتا ہے، ریپ کی شرح بہت زیادہ ہے۔ مرد کم، ٹوٹے زیادہ رہتے ہیں۔

جذباتی ہونے سے پہلے سوچیں تو سہی۔ بلوچستان کارڈ بچا تھا کوئی کھیل تو نہیں گیا؟

دوستو تخت لہور آپ کو آزمائش میں ڈال سکتا ہے۔ بات صوبائیت کی نہیں ہو رہی، منظور پشتین شاید جیل میں ہے۔ یہ لڑکی بھی ہو سکتی تھی۔ عمران خان کی ضمانت نہیں ہو رہی۔ یہ خواتین اس سے بڑی پارٹی لیڈ نہیں کر رہیں۔

یہ بحفاظت پہنچی ہیں اور الیکشن کے پاس کا ایکشن ہے ورنہ شاید ایک سال سے یہ قلات سے نکل کر کوئٹہ تک نہیں آئیں۔ ماضی کی تصاویر وائرل کرنے سے بہتر ہے کہ موجودہ حالات و واقعات پہ نظر رکھیں اور سوچیں کہ

کیا یہ وہی بلوچ خواتین ہیں جن کی کوڑے کھاتی ویڈیو وائرل ہو جاتی تھی اور ایک آواز بھی نہیں اٹھتی تھی آج یہ اپنے کمینے کوڑے مارنے والوں مردوں کے لئے آواز کیسے بن گئی ہیں۔

وہ ویڈیو تلاش کریں اور آج کی ویڈیو سے موازنہ کریں۔ بات آپ کی سمجھ میں بھی آ جائے گی۔

Facebook Comments HS