پاکستان کی قاتل فضا
پاکستان دنیا کا چوتھا آلودہ ترین ملک ہے۔ باریک ذرات کی فضائی آلودگی جو کہ اس وقت ہے۔ اس سے ہر پاکستانی کی متوقع زندگی 3.9 سال تک کم ہو سکتی ہے۔ پاکستان میں بیشتر شہری علاقوں میں فضائی آلودگی بہت زیادہ ہے۔ لاہور، شیخوپورہ، بہاولپور، قصور، ملتان، گجرانوالہ، پشاور اور کراچی جیسے کئی دیگر شہر اس وقت شدید ماحولیاتی آلودگی کا شکار ہیں۔ ڈبلیو ایچ او نے جو معیارات مقرر کیے ہیں پاکستان کی تمام آبادی ان سے بہت نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔
اس وجہ سے پاکستان میں اوسط عمر میں تیزی کے ساتھ کمی آ رہی ہے اور مختلف بیماریاں جیسے سانس کی بیماریاں اور دل کی بیماریوں میں بہت تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ 1998 سے 2024 تک ہوا میں خطرناک ذرات کی آلودگی میں پچاس فیصد سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔ جس سے متوقع عمر میں ڈیڑھ برس کی کمی واقع ہو گئی ہے۔ ملک کے سب سے زیادہ آلودہ صوبوں یعنی پنجاب، اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری اور خیبرپختونخوا میں 165.5 ملین باشندے یا پاکستان کی 69.5 فیصد آبادی ڈبلیو ایچ او کے رہنما خطوط کے مطابق اوسطاً 3.7 سے 4.6 سال کے درمیان متوقع عمر کھونے کے راستے پر ہے اور اس وقت یہ 2.7 کے بیچ ہے۔
اگر موجودہ آلودگی کی سطح برقرار رہتی ہے تو قومی معیار کے مطابق 3.6 سال تک پہنچ سکتی ہے۔ فضائی آلودگی کی بلند سطح جنوبی ایشیا میں لوگوں کی زندگیوں کا ایک حصہ ہے، بالکل اسی طرح جیسے کہ وہ ماضی میں امریکہ، انگلینڈ، جاپان اور دیگر ممالک میں تھا۔ پچھلی کئی دہائیوں میں ان میں سے بہت سے ممالک نے زبردست تبدیلی اور ترقی دیکھی ہے، لیکن یہ پیشرفت حادثاتی طور پر نہیں ہوئی۔ یہ پالیسی اپنانے اور اس پر عمل کرنے کا نتیجہ تھا۔
یہ فضائی آلودگی دس برس پہلے پوری دنیا کا مسئلہ تھا۔ دنیا کے بڑے بڑے شہر اس کے زد میں تھے۔ خصوصاً چین کا شہر بیجنگ اس کا سب سے بڑا شکار تھا۔ مگر آج دیکھا جائے تو چین کے بڑے شہر اب آلودہ شہروں میں کہیں دکھائی نہیں دیتے۔ جبکہ چین کے یہ شہر جنوبی ایشیا ء کی دیگر ممالک کے مقابلے میں ہزاروں گنا زیادہ صنعتی سرگرمیوں اور سڑکوں پر گاڑیوں کے حامل ہیں۔ مگر چین کی حکومت نے اس کے لیے پالیسی بنائی اور اس پر سختی سے عمل درآمد کر کے اپنے شہریوں کی صحت اور متوقع عمر میں کمی کو روکنے میں کامیاب ہوئے۔
شکاگو یونیورسٹی ہر برس اس سلسلے میں اپنے انڈکس جاری کرتی ہے جس کے مطالعہ سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ دنیا کے کون سے ممالک ایسے ہیں جو اپنے ماحول کو درپیش مسائل حل کرنے میں سنجیدہ ہیں اور کون سے ممالک غیر سنجیدہ ہیں۔ پاکستان اس وقت اس فہرست میں دنیا کا غیر سنجیدہ ترین ملک ہے، اس کے بعد انڈیا، نیپال اور بنگلہ دیش کا نمبر آتا ہے۔ بنگلہ دیش کا شہر ڈھاکہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر انتظام اور منصوبہ بندی کی وجہ سے فضا میں خطرناک آلودہ ذرات میں کمی لا رہا ہے۔
جبکہ لاہور، فیصل آباد، کراچی اور پشاور میں شرح ہر برس کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ پاکستان میں ماحول کو بہتر کرنے کی جگہ سکولوں میں چھٹی اور گھروں سے نکلنے پر پابندی جیسے مضحکہ خیز کام کروائے جا رہے ہیں۔ یعنی ہم پاکستانی سمجھتے ہیں کہ فضائی آلودگی نے سکول میں داخلہ لے لیا ہے اور وہاں جو بچے جائیں گے وہ اس سے متاثر ہوں۔ جبکہ ان کے گھر بھی لاہور ہی میں ہیں وہ جب اپنے گلی محلوں میں نکلیں گے تو یہ فضائی آلودگی ان کو کچھ نہیں کہے گی۔
پاکستان کے سڑکوں پر ایسا کوئی انتظام نہیں ہے کہ ہم ماحول کو آلودہ کرنے والی گاڑیوں کو روک سکیں۔ پاکستان میں موجود تمام کارخانے ماحول دشمن ایندھن کا استعمال کرتے ہیں لیکن ان کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہے۔ اب تو صورتحال یہ ہو گئی ہے کہ ان آلودہ شہروں میں مریضوں کی تعداد اس قدر بڑھ گئی ہے کہ ہسپتال ان کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے اور فضا کو ان آلودہ ذرات سے پاک رکھنے کے لیے کاغذوں میں اربوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں اور ہزاروں لوگ اس کام پر مامور ہیں ہیں لیکن ان کی کارکردگی صفر ہے۔
اس کی سب سے بڑی وجہ ملک میں موثر قوانین کا نہ ہونا اور جو قوانین ہیں ان پر عمل درآمد نہ ہونا ہے۔ پاکستان میں انتظامی سسٹم ڈپٹی کمشنروں کا ہے ہر ضلع میں ایک ڈپٹی کمشنر اور اس کے نگرانی میں ہزاروں کی تعداد میں عملہ ہوتا ہے۔ جن کا کام ضلع کا انتظام درست رکھنا اور قوانین پر عمل درآمد کروانا ہوتا ہے۔ مگر بدقسمتی سے یہ انگریزوں کا بنایا ہوا سسٹم جس کا مقصد اپنے زیر انتظام علاقوں کا کنٹرول سنبھالنا تھا۔ اب یہ سسٹم انتظام سنبھالنے کی سکت مکمل طور پر کھو بیٹھا ہے۔
شہروں میں آلودگی کے خاتمے کے علاوہ صفائی کا ابتر نظام بھی اب بہت بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ پھر پاکستان میں دیہات سے شہروں کی جانب نقل مکانی کا عمل بھی دنیا کے مقابلے میں بہت زیادہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ جبکہ شہر میں انسانی آبادی کو حاصل سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ پیسے بچانے کے لیے سستے ترین ذرائع ایندھن کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اب تو شہروں میں استعمال شدہ موبل آئل جیسے مقامی زبان میں کالا تیل کہا جاتا ہے کا استعمال بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ ہر گلی اور نکڑ پر استعمال شدہ موبل آئل کے چولہے بک رہے ہیں۔ جبکہ شہروں کے اطراف میں خشت بھٹوں میں بھی پرانے جوتوں ناقابل استعمال ٹائروں اور دیگر اشیاء کو جلایا جاتا ہے جس سے فضا میں آلودگی بڑھ جاتی ہے۔ ماحول دوست ٹرانسپورٹ پاکستان میں کہیں بھی دستیاب نہیں ہے۔ اور نہ ہی اس سلسلے میں حکومت کے پاس کوئی ٹھوس منصوبہ بندی ہے۔ دہلی شہر میں ڈیزل پر چلنے والی گاڑیوں کے داخلے پر پابندی ہے جس کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوئے ہیں۔
پاکستان میں دستیاب ڈیزل بھی دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں زیادہ نقصان دہ ہے۔ اس میں ماحول کو آلودہ کرنے والے ذرات زیادہ ہیں۔ جبکہ دنیا میں ماحول کو آلودگی سے بچانے کے لیے ہوا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کھینچ کر ڈیزل بنائی جا رہی ہے۔ جرمنی اور کینیڈا کی کئی کمپنیاں گزشتہ چند برسوں سے ایسا کر رہی ہیں۔ جس سے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار بھی کم ہوجاتی ہے اور اس سے بننے والی ڈیزل کسی حد تک ماحول دوست بھی ہوتی ہے۔
ان میں سے کچھ کمپنیاں روزانہ کے حساب سے چار ہزار لیٹر تک ڈیزل بنا رہی ہیں۔ جو ان شہروں میں استعمال ہونے والی بڑی گاڑیوں جیسے ٹرکوں، بسوں اور بلڈوزروں اور کرینوں میں استعمال کی جاتی ہے۔ اس سے ان بڑے صنعتی شہروں میں فضائی آلودگی میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے۔
کاربن ڈائی آکسائیڈ سے ایندھن کی تیاری کی کیمیا مشکل نہیں۔ پانی کو الیکٹرولسس کے عمل سے گزار کر ہائیڈروجن اور آکسیجن کو الگ کریں اور ہائیڈروجن کو کاربن ڈائی آکسائیڈ میں ملا کر کاربن مونو آکسائیڈ اور پانی بنائیں اور پھر ہائیڈرون کاربن کی زنجیر کی تیاری کے لیے مزید ہائیڈروجن شامل کریں۔
اس آخری عمل کو فشر ٹروپش عمل کہا جاتا ہے اور یہ 1920 کی دہائی سے زیر استعمال ہے، لیکن یہ ہوا سے براہ راست کاربن ڈائی آکسائیڈ حاصل کرنے کی ٹیکنالوجی نئی چیز ہے جو اب اتنی ارزاں بھی ہے کہ اس کا عام استعمال ممکن ہو گیا ہے۔ اگر یہ کام ہمارے بڑے شہروں میں شروع کیا جائے تو اس کے کئی ایک فائدے ہوں گے۔ اس سے ہمیں وافر مقدار میں ڈیزل دستیاب ہوگا، ان شہروں کے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار میں واضح کمی واقع ہو جائے گی۔
شہروں میں اور شہروں کے اطراف میں جتنے بڑے کارخانے اور بھٹے ہیں ان کے چمنیوں سے نکلنے والے دھوئیں سے مضر ذرات اور کاربن ڈائی آکسائیڈ نہایت ہی آسانی سے الگ کر کے جمع کی جا سکتی ہیں اور اس کو دوبارہ ڈیزل بنانے کے لیے استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔ ماحولیات کا محکمہ اور اس سلسلے میں کام کرنے والے این جی اوز اگر ایک برس کے لیے فائیو سٹار ہوٹلوں میں اپنے سیمینار اور ورکشاپ اور لوگوں پر استعمال ہونے والے پیسے اس کام پر لگا دیں تو کراچی اور فیصل آباد کے تمام کارخانوں میں یہ سیٹ آپ لگا یا جاسکتا ہے۔
مگر اس ملک میں ایسا کلچر کہاں ہے۔ یہ جو آلودہ فضا ہے یہ صرف غریب اور اس کے بچوں کے لیے نقصان دہ نہیں ہے بلکہ اس کے زد میں امیر اور اس ملک کے حکمران اور ان کے بچے بھی آتے ہیں۔ اس لیے فضا کو صاف رکھنے میں کم از کم اخلاص کا مظاہرہ کریں۔ اس وقت سموگ کی وجہ سے سارے لاہور کے شہریوں کے پھیپھڑے یعنی لنگس کالے ہوچکے ہوں گے، لاہور میں موجود سموگ اتنی خطرناک ہے کہ دس برس تک سگریٹ نوشی کرنے والے انسان سے سموگ کے شکار علاقوں میں رہنے والوں کے پھیپھڑے زیادہ خراب ہوتے ہیں۔
مگر اس ملک میں توجہ صرف اس کام پر دی جاتی ہے جس کے لیے باہر سے امداد ملتی ہے۔ اور وہ امداد بھی خرد برد ہوجاتی ہے لیکن دکھانے کے لیے ہمارے ملک میں بڑا شور شرابا کیا جاتا ہے۔ سموگ اور دیگر شہروں میں فضائی آلودگی اتنا بڑا مسئلہ ہے کہ ہمیں اس کا ادراک ہی نہیں ہے۔ انسان پانی اور صاف ہوا کی وجہ سے طویل زندگی پاتا ہے۔ شمالی علاقہ جات میں طویل عمری کا راز بھی یہی ہے۔ جبکہ شہروں میں لوگوں کی طبعی زندگی مختصر ہوتی ہے اس لیے کہ انہیں صاف پانی اور صاف ہوا دستیاب نہیں ہوتی۔
مگر اس وقت پاکستان کے شہروں میں پانی بھی آلودہ ہے اور فضا اس قدر آلودہ ہے کہ اس کا مغربی دنیا میں تصور تک نہیں کیا جاسکتا۔ وہاں اگر ایسا ہوتا تو اپنے سارے کام بند کر کے اس کے حل کی کوشش کرتے مگر یہاں کسی کو اس کا احساس تک نہیں ہے۔ آپ کسی تعلیم یافتہ شخص سے پوچھیں تو اس کے پاس بھی کوئی جواب نہیں ہو گا کہ یہ صورتحال کتنی خطرناک ہے۔ اس کے کئی ایک وجوہات ہیں۔ سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارا نظام تعلیم ہمیں زندگی اور ماحول کے بارے میں کچھ بھی سکھانے سے عاری ہے۔
پھر ہمارا میڈیا سارا دن سیاسی بحثوں اور جھوٹ بیچنے سے فارغ نہیں ہوتا۔ ہماری عدالتیں سارا دن سیاسی کیسوں میں نئے نئے نکتے تلاش کرنے میں لگے ہوتے ہیں۔ کیا کبھی کسی چیف جسٹس نے انتظامیہ کو بلا کر پوچھا ہے کہ ہمارے شہروں کے فضا میں جو یہ زہر ہر برس مسلسل بڑھ رہا ہے اس کا کسی نے کوئی علاج کیا؟ کیا کبھی نیب نے ان اداروں کو بلا کر پوچھا ہے کہ اربوں روپے کہاں خرچ کیے؟ کیا کسی ڈپٹی کمشنر کو اس سلسلے میں سرزنش کا کوئی خط لکھا گیا ہے؟
ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ اس لیے کہ پاکستان کی یہ قاتل فضا قدرت کا عطیہ نہیں ہے بلکہ ہماری اپنی پیدا کردہ ہے۔ اس ملک کی عدالت کو اس سے کیا غرض کہ لوگوں کی زندگی کم ہو جائے، فضا میں سانس لینا محال ہو جائے۔ یہ ملک رہنے کے قابل نہ رہے۔ اس کے ہسپتال سینے اور پھیپھڑوں کے امراض سے بھر جائیں۔ یہ کام تو شاید فرشتے کریں گے۔ مگر فضا اتنی آلودہ ہے کہ فرشتے بھی ڈر کر اس ملک کا رخ نہیں کر رہے۔ یاد رہے کہ عالمی ادارہ برائے صحت نے ائر کوالٹی انڈیکس کے حوالے سے رہنما اصول مرتب کیے ہیں جن کے مطابق 24 گھنٹوں کے دوران کسی بھی شہر یا علاقے کی فضا میں موجود پی ایم 2.5 ذرات کی تعداد 25 مائیکرو گرام فی کیوبک میٹر سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔
اور اس وقت ہمارے شہروں میں چار سو پوائنٹ سے اوپر فضائی آلودگی کا سلسلہ چل رہا ہے۔ اور یہ اگلے چند برسوں میں جب پانچ سو عبور کر جائے گا تو صرف اس وجہ سے لاکھوں لوگ مر جائیں گے اور لاکھوں کے پھیپھڑے ناکارہ ہوجائیں گے۔ مجھے یقین ہے کہ اس میں اہل اقتدار اور اختیار کا کوئی پیارا بھی ہو گا۔ اس کے لیے پیشگی دعائے مغفرت قبول کر لیں۔


