اک حسین شب
چاک ادبی فورم کا نام ادبی سرگرمیوں کے حوالے سے اب ایک بہت معتبر حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ چاک کی محفل مشاعرہ ہو یا شب موسیقی، افسانہ کانفرنس ہو یا افسانچے کی نشست، غرض کہ پروگرامز کی طویل فہرست ہے جن میں لوگ اپنی شرکت کے ذریعے نہ صرف اسے کام یاب بناتے ہیں بلکہ اپنی پسندیدگی کا بھرپور اظہار بھی کرتے ہیں۔ چاک ادبی فورم و ایونٹ مینجمنٹ کے ہر پروگرام کو لوگ پسند کرتے اور انتظار کرتے ہیں کہ چاک کا اگلا پروگرام کب ہونے والا ہے بلکہ ہر ایک پروگرام کے اختتام پہ، رخصت ہوتے ہوئے چاک ادبی فورم کی چیئر پرسن صائمہ صمیم سے لوگ یہ ضرور پوچھتے ہیں کہ اب اگلا پروگرام کب ہو گا۔ یقیناً یہ صائمہ صمیم کی صلاحیتوں کا ثبوت ہے کہ اتنے قلیل وقت میں چاک ادبی فورم اپنے عمدہ پروگراموں کی وجہ سے پسندیدگی کی اتنی منازل طے کر گیا ہے۔
چاک کے پروگرامز اب روایت کی سی صورت اختیار کرچکے ہیں۔ مثال کے طور پر عید ملن پارٹی و محفل غزل یا مینگو پارٹی وغیرہ کہ جن کے لیے لوگ منتظر رہتے ہیں۔ ایسے ہی پروگراموں میں سے ایک خاص پروگرام ایسا بھی ہے کہ لوگ اس کا انتظار بھی سارا سال کرتے ہیں بلکہ مہینہ بھر پہلے سے پوچھنا شروع کر دیتے ہیں کہ یہ پروگرام کب ہو گا اور وہ پروگرام ہے دسمبر مشاعرہ جسے اس مرتبہ ”دسمبر لوٹ آیا ہے“ کا نام دیا گیا تھا۔
” دسمبر لوٹ آیا ہے“ کا اہتمام میمن گوٹھ ملیر کے ایک فارم ہاوٴس میں کیا گیا تھا۔ اس فارم میں پہلے بھی عید ملن دعوت اور دسمبر مشاعرہ منعقد ہوچکے ہیں۔ اس مرتبہ بھی دسمبر مشاعرہ یعنی ”دسمبر لوٹ آیا ہے“ کا اہتمام اسی فارم ہاوٴس میں کیا گیا تھا۔ سردیوں کے دن چھوٹے ہوتے ہیں، سورج کی شعاعوں میں حدت ہوتی ہے نہ زیادہ روشنی سو دسمبر کے دھندلے دھندلے سے مختصر دن اپنے اندر ایک عجب سی پراسراریت آمیز کشش لیے ہوئے ہوتے ہیں۔
ان دنوں میں دوستوں سے مل بیٹھنے، ان کے ساتھ مختلف تفریحات میں حصہ لینے میں جو لطف آتا ہے اسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ دوست، نہ صرف دوست بلکہ بہت اچھے دوست، کھلی فضا، اچھی موسیقی، بہترین کلام اور اتنا ہی بہترین طعام ان سب کے ساتھ زندگی کا لطف عروج پہ پہنچتا ہے اور چاک کے پروگرام ”دسمبر لوٹ آیا ہے“ میں یہ سب کچھ تھا۔
ہم لوگ مغرب سے ذرا پہلے فارم ہاوٴس پہنچے۔ وہاں پہنچ کے سب لوگ ادھر ادھر بکھر گئے۔ کچھ دیر گپ شپ رہی پھر معلوم ہی نہ ہوا کہ کب یہ گپ شپ ایک غیر رسمی مشاعرے میں تبدیل ہوئی۔ سب لوگوں نے اسے بہت پسند کیا۔ کچھ دیر بعد باقاعدہ مشاعرے کا آغاز ہوا جس کی صدارت محترم جاوید صبا نے کی۔ تمام شاعروں نے اچھا کلام پیش کیا اور حاضرین سے داد پائی۔ مشاعرے کے بعد لذت کام و دہن کا اہتمام تھا۔ کھانا بہت لذیذ تھا۔ کھانے کے بعد پھر محفل آرائی ہوئی۔
جوں جوں رات بھیگتی جا رہی تھی، دوستوں کی طبیعت جولانی پر آتی جا رہی تھی۔ جھولے بھی جھولے گئے اور گانوں کے مقابلے بھی ہوئے۔ پھر کچھ دیر بعد فن کاروں کی آمد ہوئی جن کو موسیقی کا جادو جگانا تھا۔ فضا میں موسیقی کے سر بکھرے اور صوفیانہ کلام کے آہنگ نے ماحول کو ایک الگ ہی رنگ دے دیا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے حاضرین ہی نہیں، پورا ماحول ہی اس تاثر کے حصار میں ہو۔ آخر شب جب یہ محفل ختم ہوئی تب بھی حاضرین کا جوش و خروش مدھم نہ ہوا اگرچہ کھلے آسمان تلے ایک شامیانہ سردی سے تحفظ کے لیے کچھ تو سہارا تھا پھر سبزے کے ایک قطعے کے درمیان ایک جالی دار سائبان بھی تھا جو تین اطراف سے بند تھا پھر یہ کہ دو بڑے کمروں اور ایک وسیع لاوٴنج پر مشتمل عمارت بھی تھی، جہاں آرام کیا جاسکتا تھا اور سردی سے بھی بچا جاسکتا تھا لیکن اس سب کے باوجود اکثر لوگ ادھر ادھر گھوم پھر کر سبزے، جھولوں اور رات کے پچھلے پہر کے پرسکون اور پر سکوت تاثر سے لطف اندوز ہو رہے تھے جب کہ کچھ لوگ ٹولیوں میں بٹ کر محفل آرائی کر رہے تھے جن میں شاعری کے علاوہ علمی گفت گو بھی ہو رہی تھی۔
معلوم ہی نہ ہوا کہ کب آسمان گہرے نیلاہٹ مائل سیاہی سے لاجوردی نیلے رنگ میں بدلا اور دیکھتے ہی دیکھتے مشرقی افق کا انتہائی نچلا کنارہ نیلاہٹ مائل سنہری رنگ کی جھلک دینے لگا۔ ہر طرف دھندلا سا مدھم سنہری اجالا پھیل گیا اور فارم ہاوٴس کا ماحول جو رات کو ردائے شب میں لپٹا ہوا تھا، وہ بھی اس سنہری اجالے سے روشن ہو گیا اور رات کی نسبت ایک بالکل مختلف منظر پیش کرنے لگا۔ ہمارے کچھ ساتھی جو اپنی گاڑیوں میں آئے تھے، وہ وقفے وقفے سے رخصت ہوچکے تھے۔
باقی لوگ کوسٹر میں آ بیٹھے تاکہ اپنے گھروں کو واپس ہوں۔ واپسی کا سفر ہمیشہ ہی اداس کن ہوتا ہے خواہ جانا اپنے گھر ہی کیوں نہ ہو اور پھر اتنی اچھی محفل، اتنے اچھے اور ہم مزاج ساتھیوں کو چھوڑ کر آتے ہوئے اداسی کا ہونا فطری بات ہے۔ ہم سات بج کر بیس منٹ پہ فارم ہاوٴس سے روانہ ہوئے۔ یہ چوں کہ اتوار کی صبح تھی اور علی الصبح تھی اس لیے شہر سویا ہوا تھا۔ سڑکیں خالی تھیں۔ جس جس کا اسٹاپ آتا گیا وہ سب کو الوداع کہہ کے رخصت ہوا یوں ہم گھر پہنچے ایک خوب صورت اور خوش گوار رات کے تاثر کو ذہن میں بسائے ہوئے۔




