کتابوں کی اشاعت کا مسئلہ


گزشتہ دنوں مجھے ایک کتاب کی اشد ضرورت تھی۔ ایک مقالہ لکھنا تھا جس کے لیے اس کتاب کو اساسی نسخہ کی حیثیت سے منتخب کرنا تھا۔ اس کتاب کے مصنف پچاس برس پہلے دنیا سے گزر چکے تھے۔ اس کتاب کو دسیوں پبلشرز نے شائع کر رکھا تھا مگر مجھے اصل نسخہ چاہیے تھا جس میں مصنف کی طرف سے پبلشر کو جملہ حقوق بحق اشاعت کی رضا مندی کا خط بھی شامل تصنیف تحریر ہوتا۔ یہ نسخہ باوجود کوشش کے مل نہیں سکا۔ میں نے درجن سے زائد پبلشرز سے پوچھا کہ آپ نے اس کتاب کو شائع کیا ہے، آپ کے اس کے حق اشاعت کی منظوری کا خط ہے؟

کسی نے بھی اطمینان بخش جواب نہیں دیا۔ یہ رویہ پاکستان بھر کے پبلشرز کے ہاں پایا جاتا ہے۔ مجھے پبلشرز اور مصنفین سے ایک سخت شکایت ہے۔ شکایت یہ ہے کہ جب (مصنف) آپ کو کوئی نہیں جانتا اور آپ مارکیٹ میں ہر کسی کے سامنے گڑ گڑا کر اپنی کتاب کی اشاعت کو بلامعاوضہ شائع کرنے کی منتیں کر رہے ہوتے ہیں اور کوئی پبلبشر آپ کو منہ نہیں لگاتا اور آپ ہر کسی کے بارے میں منفی تاثر قائم کرتے چلے جاتے ہیں، بالآخر ایک پبلشر آپ پر ترس کھا کر آپ کی کتاب کو جیسے تیسے شائع کر دیتا ہے، آپ کی کتاب مارکیٹ میں آجاتی ہے، تب آپ بہت خوش ہوتے ہیں اور جگہ جگہ اس پبلشر کی تحسین کرتے ہیں اور اس کی شان میں قصیدہ خوانی کرتے ہیں۔

ایک مدت بعد جب آپ کا کچھ نام ہو جاتا ہے، آپ کی محنت اور ریاضت سے قاری آپ کی تحاریر کو پڑھنا اور توجہ دینا شروع کر دیتے ہیں تو آپ کا مزاج عالی آسمان پر جا پہنچتا ہے۔ آپ اپنی دوسری تصنیف کی اشاعت کے لیے ملک کے چوٹی کے پبلشر کو نسخہ دیتے ہیں اور وہ آپ کی تصنیف کو کمال شوق سے نہ صرف شائع کرتا ہے بلکہ اس کتاب کی مارکیٹنگ بھی کرتا ہے اور اسے زیادہ سے زیادہ قارئین اور بک سٹال پر پہنچانے کی کوشش بھی کرتا ہے جس سے مصنف اور قاری دونوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔

دوسری کتاب کی اشاعت سے مصنف کی شہرت آسمان کو چھونے لگتی ہے، مزاج میں فرعونیت، تکبر اور رعونت در آتی ہے کہ ہمیں فلاں پبلشر نے چھاپا ہے، اب ہم کوئی معمولی لکھاری اور ادنیٰ درجے کے مصنف نہیں رہے بلکہ ہمیں ایک زمانہ جانتا ہے اور ایک دنیا ہماری تحاریر سے روشنی لیتی ہے۔ یہ مصنف جو مشہور ہو چکا ہے، جب اس کی چوتھی اور پانچویں تصنیف سامنے آتی ہے تو وہ کسی تیسرے اور چوتھے پبلشر سے شائع ہوئی ہوتی ہے، اس طرح یہ مشہور زمانہ مصنف کتابیں لکھتا یا لکھواتا جاتا ہے اور جگہ جگہ چھپواتا جاتا ہے۔

ان صاحب کی پہلی کتاب جو کسی زمانے میں فلاں پبلشر نے شائع کی تھی، وہاں جا کر معلوم ہوتا ہے کہ اب یہ کتاب یہاں شائع نہیں ہوتی بلکہ فلاں پبلشر اس کتاب کو شائع کر رہا ہے۔ یہ ایک عجیب تماشا ہے۔ اس رجحان میں زیادتی کا پہلو مصنفین کی طرف سے زیادہ ہے۔ پبلشرز کا کام کتب شائع کرنا ہے۔ اس کے پاس مصنف آتا ہے، وہ دیکھتا ہے کہ اس کی تصنیف کا متن معیاری ہے یا نہیں ہے، اس کی ذاتی شہرت اور علم کا معیار کیا ہے۔ کیا میں اس کی کتاب شائع کر کے اپنا خرچہ مع منافع نکال سکتا ہوں یا یہ کتاب میرے گلے پڑ جائے گی اور مجھے نقصان ہو گا، یہ حساب لگا کر وہ مصنف سے معذرت کر لیتا ہے اور کہتا ہے کہ میں اس کتاب کو بلامعاوضہ شائع نہیں کر سکتا۔ یہ کتاب آپ کو معاوضہ دے کر نہ صرف شائع کروانی ہوگی بلکہ اس کی مارکیٹنگ اور تقسیم بھی خود کرنا ہوگی۔

پاکستان میں اس وقت پبلشرز ایک نوآموز مصنف کی پہلی کتاب جو ڈیڑھ سو صفحات پر اگر مشتمل ہے تو ایک لاکھ سے دو لاکھ روپے میں صرف چھاپ کر دینے کا کہتے ہیں، اس کی مارکیٹنگ اور تقسیم مصنف نے خود کرنی ہے۔ یہ وہ ظلم ہے جو پبلشرز نئے لکھنے والے مصنفین کے ساتھ روا رکھتے ہیں اور اس ظلم کا احساس انھیں اس لیے نہیں ہوتا کہ مشہور مصنفین نے انھیں اپنی کتب اشاعت کے لیے دے رکھی ہیں (جو کسی زمانے میں مشہور نہیں تھے ) جن کی اشاعت سے یہ اتنا مال اکٹھا کر لیتے ہیں کہ ان کی موٹی گردن کا سریا کسی نو وارد مصنف کی مسکین نگاہوں پر وار کرنے سے ہچکچاتا نہیں ہے۔

سوال یہ ہے کہ جو شاعر، ادیب، نقاد اور دیگر مکتبہ فکر سے متصل مصنفین دنیا سے گزر گئے اور ان کی وفات کو پچاس برس گزر گئے، ان کی کتب (فری کاپی رائٹ کے تحت) کو جس کا جی چاہتا ہے وہ شائع کریں۔ اس کے بر عکس جو مصنفین اللہ کے فضل و کرم سے زندہ ہیں اور دھڑا دھڑ کتب تحریر کر رہے ہیں، ان سے دست بستہ گزارش ہے کہ آپ ایک پبلشر کے ہاں سبھی کتب شائع کروائیں تاکہ آپ کی کتاب شائع کرنے والے پبلشر کا وقار بحال رہے اور آپ کی کتاب کی اشاعت کا معیار بھی برقرار رہے۔

ہوتا یہ ہے کہ ایک کتاب جگہ جگہ شائع ہونے سے کتاب کے معیار میں فرق آتا ہے، کتاب کے متن میں اغلاط اور مواد کی ترتیب میں تصرف ہوتا ہے، مصنف کی طرف سے بعد میں کیا گیا اضافہ اور ترمیم سے کتاب کچھ کا مواد اختلاف نسخ کا مرقع بنا جاتا ہے جس سے پڑھنے والا اخذ کرنے کی بجائے خلجان میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ ایک مصنف جس کی پہلی کتاب جس پبلشر نے شائع کی ہے، مصنف پر اخلاقی طور پر پابندی ہے کہ وہ بقیہ کتب بھی اسی پبلشر سے شائع کروائے، اس عمل سے یہ فائدہ ہو گا کہ آپ کی کتاب ایک ہی پبلشر شائع کرے گا، اس کتاب کو پڑھنے اور خریدنے والے کو علم ہو گا کہ یہ کتاب فلاں پبلشر کرتا ہے اور یہی سے یہ کتاب مل سکے گی۔

اس طرح مصنف اور پبلشر کا نام اور معیار قائم رہے گا۔ ہوتا یہ ہے کہ جگہ جگہ ایک ہی مصنف کی کتاب شائع ہونے سے کاغذ اور اشاعت کا جملہ خرچ ضائع ہوتا ہے۔ ایک مشہور مصنف کی کتاب کو اگر بیس پبلشر نے شائع کر رکھا ہے تو یہ کامیابی اور شہرت کی بات نہیں بلکہ شرمساری کا مقام ہے کہ مصنف کو صبر نہیں آیا اور یہ صاحب اپنی تصنیف سے پیسہ کمانا چاہتا ہے اور یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ میری کتاب کو اتنے پبلشر نے شائع کیا ہے۔

یہ کوئی اعزاز نہیں بلکہ ظلم ہے جو آپ نو وارد مصنفین پر کرتے ہیں۔ اگر آپ کی کتاب ایک ہی جگہ شائع ہو رہی ہے اور تواتر سے شائع ہو رہی ہے تو پبلشر نئے لکھنے والے کو موقع دے گا، اس طرح بیس جگہ سے شائع ہونے والی کتاب کے بر عکس انیس نئے لکھنے والے مصنفین کو موقع مل جائے گا اور ان کی کتاب شائع ہو جائے گی۔ پاکستان میں پڑھنے والے محدود ہیں، اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ کی کتاب جگہ جگہ شائع ہوگی تو پڑھنے والے زیادہ ہوں گے، تو یہ آپ کی خوش فہمی ہے۔

پڑھنے والے انتخاب کر کے پڑھتے ہیں، جگہ جگہ نظر آنے والی کتاب تھوڑی دیر کے لیے قاری کی توجہ کو مبذول ضرور کر سکتی ہے، خریدنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔ مختصر یہ کہ مصنفین حضرات کو اپنے اس روئیے پر سوچنا ہو گا کہ ہم ہی اپنے دوست احباب کی راہ میں روڑے ہیں، اگر آپ یہ راہ ہموار کر دیں تو پاکستان کی خوشحالی اور ترقی میں آپ کی کتاب کا کردار کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے اور ایک نئی سوچ کا رجحان پیدا کر سکتی ہے۔ اگر آپ نے یہ سوچ رکھا ہے کہ میری کتاب چھپتی رہے اور باقی جائیں بھاڑ میں، تو پھر اس رویے کو سینے سے لگا کر رکھئیے اور نئے لکھنے والوں کے گلے کاٹتے رہیے اور جگہ جگہ اس ظلم کی داستانیں سناتے رہیے۔

Facebook Comments HS