کیا اسلام میں عورت کی گواہی آدھی ہے؟


اسلامی قوانین میں دو قوانین پر آج کل بہت تنقید ہو رہی ہے، پہلی عورت کی گواہی دوئم عورت کا جائیداد میں حصہ۔ تنقید کرنے والے کہتے ہیں کہ اسلام میں عورت کی گواہی آدھی مانی جاتی ہے یعنی دو عورتوں کی گواہی ایک مانی جاتی ہے۔ اسی طرح باپ کی جائیداد میں بھی عورت کا حصہ آدھا ہے یعنی دو بیٹیوں کا حصہ ایک بیٹے کی برابر ہوتا ہے، لہذا کہنے والے کہہ رہے ہیں کہ چونکہ عورت کے حقوق اسلام نے غصب کر لیے ہیں، اس لیے معاشرتی لحاظ سے عورت کمزور اور بے عزت ہو گئی ہے، اور اسلامی معاشرے میں عورت کا معاشی اور معاشرتی استحصال حد سے زیادہ ہے۔

یہاں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ جو کچھ اسلامی ممالک میں ہو رہا ہے وہ سب اسلامی تعلیمات نہیں ہیں بلکہ ان معاشروں کی اپنی روایات اور نظام ہے جو انھوں نے مذہب کے نام پر اپنے لوگوں پر مسلط کیا ہے ورنہ مذہب میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ جب عورت کام کرے تو اس کی اجرت ادا نہ کروں یا اس کی اجرت آدھی ادا کروں اسلامی تعلیمات تو یہ ہیں کہ مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کروں۔ یہاں مذکر اور مونث کا صیغہ استعمال نہیں کیا گیا بلکہ ایک ہی صیغے میں دونوں کو شامل کر لیا گیا ہے۔ ام المومنین حضرت سودہ رضی اللہ عنہ دستکاری کرتی تھی اس لیے انہیں کبھی نان نفقہ کا مسئلہ نہیں رہا اگر اس طرح کا کوئی حکم ہوتا تو یا تو ان کو اجرت ہی نہیں ملتی یا عورت ہونے پر آدھی ملتی لیکن ایسا کچھ دیکھنے میں نہیں آیا۔

اب آتے ہیں اپنے موضوع پر یعنی عورت کی گواہی۔ کیا اسلام نے عورت کی گواہی ہر مسئلے پر آدھی مانی ہے۔ نہیں ایسا نہیں ہے اسلام نے عورت کی گواہی کو دو حصوں میں بانٹ دیا ہے ایک گواہی اس کی اپنی ذات اور اپنے گھر کے حوالے سے ہے اور دوسری گواہی باہر کے معاملات پر ہے۔ عورت کی گواہی مذہب نے باہر کے معاملات میں آدھی رکھی ہے کیونکہ باہر کے معاملات میں اکیلی عورت مردوں سے نہیں لڑ سکتی اس لیے فرمایا گیا کہ دو عورتوں کی گواہی ایک مانی جائے گی۔

یہاں اس حکم میں حکمت دیکھیے کہ رسولﷺ نے عورتوں کو یہ بات سکھائی ہے کہ جب بھی کوئی بیرونی معاملہ ہو اکیلی مت لڑو بلکہ اپنے ساتھ دوسری عورتوں کو شامل کرو اور اکٹھی ہو کر اپنے حقوق کے لیے لڑو اس لیے آپ دیکھیں گے تہذیب یافتہ معاشروں میں بھی جو عورتیں اکیلی لڑتی ہے وہ تب تک نہیں جیتتی جب تک ان کے ساتھ دوسری عورتیں شامل نہیں ہوتیں جبکہ ان ممالک میں عورت کی گواہی پوری مانی جاتی ہے۔

اس کی ایک مثال شہزادی ڈیانا ہیں۔ وہ اپنے شوہر کے تعلقات ایک شادی شدہ خاتون سے ختم نہیں کروا سکی کیونکہ ان کا ساتھ دیگر خواتین نے نہیں دیا۔ اس جھگڑے کی وجہ سے وہ ڈپریشن کا شکار ہوئیں، شادی ناکام ہوئی اور بالآخر ان کی موت واقع ہوئی۔ اگر ان کا ساتھ کم ازکم ان کے گھر کی خواتین ہی دیتیں تو یقیناً ان کے اپنے شوہر کے ساتھ معاملات بہت پہلے ہی ٹھیک ہوچکے ہوتے۔

اسلام نے ایک طرف عورت کی گواہی باہر کی دنیا کے لیے آدھی رکھی ہے وہی گھر کے معاملات میں اس کی گواہی پوری مانی ہے جیسے نکاح کا معاملہ کہ اگر عورت کہے کہ میں نے نکاح کے لئے ہاں نہیں کی ہے۔ میرے گھر والے یا جو زبردستی شوہر بنا ہے جھوٹ بولتا ہے تو وہ نکاح بھی نہیں مانا جاتا بھلے ہی اس کے ولی نے اس کا نکاح کرایا ہو اس کی مثالیں ہمیں سیرت النبی کی کتابوں سے مل جاتی ہے۔ اسی طرح طلاق اور عدت کا معاملہ، اگر عورت کہہ دے کہ شوہر نے طلاق دے دی ہے اس عورت کی گواہی گواہ نہ ہونے پر بھی معتبر مانی جاتی ہے بھلے ہی شوہر اقرار نہ کر رہا ہوں تب بھی وہ شادی مشکوک ہی تسلیم کی جائے گی اور عورت کو خلع لینے کا حق دیا ہے بلکہ علماء کرام نے فرمایا ہے کہ ایسی مشکوک شادی سے عورت جلد از جلد اپنی جان چھڑائے۔

اب ایسا ہی عدت کا معاملہ ہے، اگر عورت کہہ دے کہ میری طلاق تو چھ ماہ پہلے زبانی طور پر ہو چکی تھی میرے پاس کوئی مناسب جگہ رہائش کے لئے نہیں تھی اس لیے اس آدمی یعنی سابقہ شوہر کے گھر میں رہ رہی تھی تو بھی اس کی گواہی کافی اور مکمل مانی جائے گی اس کی عدت کو مکمل مانا جائے گا اور عدت کی مدت گزرنے کے بعد وہ عورت نکاح کے لئے آزاد ہوگی۔ ہم دیکھتے ہی کہ آئے روز مرد اپنے بچے مار دیتے ہیں کہ ہمیں شک تھا کہ یہ ہمارے بچے نہیں ہے اس معاملہ میں بھی پہلی گواہی عورت کی مانی جائے گی اگر وہ اسے الزام کہہ کر رد کردے تو کوئی اس سے زبردستی تسلیم نہیں کرا سکتا اور بغیر کسی ثبوت کے اس کا شوہر یا کوئی اور اس پر الزام لگائے گا تو اسے پھر بہتان کہے گے اور بہتان کی سزا 80 درے ہیں یہ درے شوہر کو بھی پڑ سکتے ہیں اگر وہ بیوی پر مسلسل بدکاری کا الزام لگاتا رہے۔ اس عورت کو یا بچوں کو جان سے مارنے کی بات تو بہت دور کی ہے۔

اگر اسلامی تعلیمات کے احکامات کو غور سے پڑھیں توہم پر یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اسلام نے عورت کو صرف شخصی آزادی نہیں دی ہے بلکہ معاشرتی آزادی بھی دی ہے وہ اپنے معاملات آزادی کے ساتھ اور صرف اپنی گواہی پر حل کر سکتی ہے اسے اپنی ذات کے حوالے سے کسی کا محتاج ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

ایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ عورت کا پہلا ڈومین اس کا گھر ہے یا یہ کہہ لیں اس کی پہلی حکومت اس کا گھر ہے جب وہ اپنے گھریلو معاملات اور اپنی ذات کو بہت ساری گندگیوں سے بچا لیتی ہے تو باہر کی دنیا اس کے لیے ویسے ہی آسان ہوجاتی ہے اس لیے آپ دیکھیں گے کہ جتنی کامیاب خواتین ہیں ان کی کامیابی کے پیچھے ان کے گھر کے مرد کھڑے ہوتے ہیں چاہے وہ رحمی رشتوں کی شکل میں ہوں یا شوہر کی صورت میں ہوں۔ اکیلی عورت بغیر اپنی جیسی عورتوں کی مدد کے یا اپنے قریبی مردوں کے بغیر کامیاب نہیں ہوتی۔ کم از کم ہمارے مشاہدے میں ایسا نہیں آیا۔

اسلامی تاریخ میں ایک مشہور واقعہ حضرت زید بن حارث کا ہے۔ ان کا نکاح نبی کریم ﷺ کی پھوپھی زاد بہن حضرت زینب سے ہوا ان کے بچے بھی نہیں تھے ان کی اپنی بیوی سے نہیں بنی۔

حضرت زینب خود بھی رہنا نہیں چاہتی تھی۔ جب گھر کے لڑائی جھگڑوں کی خبر باہر کے لوگوں کو ہوئی تو انھوں نے ٹوہ لینا شروع کی۔ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ حضرت زینب رضی اللہ عنہ سے آپ کا کیا مسئلہ چل رہا ہے تو انھوں نے فرمایا وہ میری بیوی ہے میں ان کے بارے میں آپ کو کیسے بتاؤں فرمانے لگے اگر بیوی نہیں ہوتی تو آپ کو بتاتا اس کے بعد وہ شخص ان کی طلاق کے بعد پھر پوچھنے کے لیے آیا تو فرمانے لگے وہ اب میرے لیے غیر عورت ہیں میں اب ان کے لیے کوئی بات نہیں کر سکتا۔

 سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ان تمام خود ساختہ سختیوں اور برائیوں کو مذہب کا نام دیا جاتا ہے عورت کا استحصال کیا جاتا ہے چاہے وہ عورت کمزور ہو یا طاقتور۔

Facebook Comments HS