زنگ خوردہ زنجیر عدل
میں پچھلے دنوں آسٹریلیا میں تھا۔ وہاں پر ایک منسٹر کا بیٹا جو کہ ٹرک ڈرائیور تھا اس نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی تو ٹریفک کے محکمے نے اس کا ڈرائیونگ لائسنس منسوخ کر دیا۔ اس کے والد نے اپنے آفیشل لیٹر پیڈ پر ٹریفک وارڈن کو اپنی طرف سے ایک خط لکھا جس میں بتایا گیا تھا کہ اس کا بیٹا اپنے بیوی بچوں کا واحد کفیل ہے۔ وہاں عام طور پر میاں بیوی دونوں ہی کام کرتے ہیں۔ ڈرائیونگ لائسنس منسوخ ہونے کی وجہ سے اس کے خاندان کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے کیوں کہ اس کی وجہ سے ڈرائیونگ وہ کر نہیں سکتا اور کوئی دوسرا پیشہ وارانہ ہنر اس کے پاس موجود نہیں ہے۔
اس لیے اس کے کیس پر ہمدردانہ غور کیا جائے۔ اس کے ڈرائیونگ لائسنس کی منسوخی کے فیصلے کو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر جرمانے میں تبدیل کر دیا جائے اور یہ جرمانہ اس کی تنخواہ میں اقساط میں وصول کر لیا جائے۔ بظاہر تو یہ ایک والد کی طرف سے اپنے بیٹے کے مسائل کے پیش نظر ایک عام سی درخواست تھی۔ لیکن اس سے پورے ملک میں وہ شور و غوغا بلند ہوا کہ الحفیظ و الدمان سب سے بڑا اعتراض لوگوں کو یہ تھا کہ اس نے اپنے سرکاری اختیارات اور عہدے کی بنیاد پر ٹریفک کے محکمے کے معاملات میں بے جا مداخلت کی ہے۔ اس کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونا چاہیے اور آخر کار اسے استعفیٰ دینا پڑا۔ اس طرح باپ بیٹا دونوں ہی بے روزگاروں کی صف میں شامل ہو گئے۔
اس کے برعکس وطن عزیز میں تو باوا آدم ہی نرالا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہاں کسی وزیر کے بیٹے کو ٹرک ڈرائیوری کر نے کی کیا ضرورت ہے آئین اور قوانین کے سارے دیوتا اور آسائش و آرائش کی ساری دیویاں اس کی خدمت کے لیے ہمہ وقت مستعد اور چاق و چوبند رہتی ہیں۔ ملکی وسائل اس کی دسترس میں ہوتے ہیں اور ان وسائل کو اپنے ذاتی استعمال میں لاتے ہوئے وہ مبینہ طور پر اپنی آنے والی کئی پشتوں کے عیش و آرام کے اہتمام کو ہی اپنا فرض اولین سمجھتا ہے۔
دراصل بات میں اس نوٹیفیکیشن کے بارے میں کرنا چاہتا تھا جو ائر پورٹ سیکیورٹی فورس کی طرف سے جاری کیا گیا ہے۔ جس میں بتا یا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے 21 ستمبر 2023ء کو ائر پورٹ سیکیورٹی کو لکھے گئے خط کے جواب میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس یا کسی بھی سرونگ جج کو اس کی بیوی یا خاوند کے ساتھ ہونے کی صورت میں تلاشی سے مستثنیٰ قرار دیا جاتا ہے۔ مذکورہ خط کے متن سے ظاہر ہوتا ہے۔ کہ پہلے سپریم کورٹ آف پاکستان نے یہ سہولت حاصل کرنے کے لیے ائر پورٹ سیکیورٹی کو خط تحریر کیا اور جواب آں غزل کے طور پر متعلقہ عدالت کے چیف جسٹس اور باقی تمام حاضر سروس ججوں کو مطلوبہ سہولت مہیا کر دی گئی۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مذکورہ خط آئین پاکستان کی کھلی خلاف ورزی نہیں ہے۔ کیا آئین پاکستان وطن عزیز کے تمام شہریوں کو مساوی اور یکساں حقوق فراہم نہیں کرتا۔ اگر سپریم کورٹ کے ججوں کو جو سہولت میسر ہے۔ وہ ہائی کورٹس کے ججوں کو کیوں نہیں۔ بلکہ پاکستان کے ہر شہری کو کیوں نہیں۔ جب کہ حقوق سب کے لیے برا بر ہیں۔ سپریم کورٹ وہ ادارہ ہے جس نے پاکستان کے آئین کی حفاظت کا حلف اٹھایا ہوا ہے۔ ویسے تو آئین اور قانون کا جو حشر وطن عزیز میں کیا گیا ہے۔
بلکہ یہ عمل پوری شدت سے جاری و ساری ہے۔ یہ بات کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ اسی تناظر میں عالمی رینکنگ میں ہمارے انصاف کے اس فرسودہ نظام سے نیچے شاید ہی دنیا کے کسی اور ملک کا نام آتا ہو اور ہم نے یہ مقام یو نہی نہیں حاصل کی لیا۔ بلکہ اس میں برسوں سے انصاف کے کیے گئے خون کا تسلسل ہے۔ جو آج بھی بڑے شد و مد کے ساتھ جاری ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ کو اپنے چیف جسٹس اور دیگر ججوں کے لیے یہ سہولت حاصل کرنے کی ضرورت پیش کیوں آئی۔
ہمارا نظام تو طاقت ور کو پہلے ہی بہت سی غیر تحریری اور غیر قانونی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔ ان کا مقام و مرتبہ آئین پاکستان کے برعکس عام شہری سے پہلے ہی بہت زیادہ بلند و بالا ہے۔ اس کو ضبط تحریر میں لانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔ بلکہ پچھلے دنوں سپریم کورٹ کے ایک معزز و محترم جسٹس اس بات پر شدید خفگی کا اظہار کر رہے تھے۔ کہ ان کی عدالت عالیہ میں بار بار شہری حقوق کا تذکرہ کیوں کیا جاتا ہے۔ ہماری عدالتوں کے فیصلوں کا بیرون ملک مذاق اڑایا جاتا ہے۔
جس قدری سرعت اور تیز رفتاری سے میاں نواز شریف کو دی گئی سزاؤں کو معاف کیا جا رہا ہے۔ وہ بھی اپنی اس عدلیہ کی کارگردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ وہ تحقیقات، وہ رپورٹس پر مشتمل دس والیم، وہ سپریم کورٹ کا مانیٹرنگ بینچ وہ وقت اور سرمائے کا ضیاع اگر وہ سب کچھ غلط تھا تو اس کی تحقیقات اور ذمہ داریوں کی سزا ملنی چاہیے۔ اور اگر وہ بھی سارا عمل درست تھا تو اب برق رفتاری سے دیا جانے والا انصاف پہ مبنی دارو آج کل جونہی کسی قومی مسئلے پر کوئی بینچ تشکیل دیا جاتا ہے۔
تو لوگ اس مسئلے کی قانونی حیثیت کو دیکھنے کی بجائے بینچ میں موجود ججوں کو دیکھ کر فیصلے کا اندازہ لگاتے ہیں۔ جو عموماً درست ہوتا ہے۔ کنگرو کورٹس چمک اور وکیل کی بجائے جج کرنے کی اصطلاحات بکثرت استعمال کی جاتی ہیں۔ بلکہ اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تعیناتی کا طریقہ کار ہی متنازع ہے جن عدالتوں میں جج صاحبان کی تعیناتی کسی بھی قسم کی تعلیمی قابلیت اور پیش وارانہ کارگردگی کی بجائے محض سفارشات پر کی جائیں گی تو اس سے نتائج ایسے ہی نکلنے گے اور ظاہر ہے کہ جن لوگوں کی سفارشات پر یہ لوگ بھرتی ہو کر آتے ہیں۔
ان کے مرہون منت تو یہ ساری سروس کے دوران ہی رہتے ہیں۔ ویسے تو وطن عزیز کے کسی بھی اونٹ کی کوئی کل سید بھی نہیں ہے۔ لیکن اگر اسے سدھارنا مقصود ہے تو اس کا نقطہ آغاز یہیں سے ہونا چاہیے۔ ان کی تعیناتی مختلف فورم کی سفارشات کی بجائے لوئر جوڈیشری سے کارگردگی کی بنیاد پر کی جانی چاہیے اور لوئر جوڈیشری کا انتخاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔


