عبداللہ حسین اور آج کا ڈیلیما (4)
ان وجوہات کا تعین کرنے کی خاطر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے سمیت تین اعلیٰ ترین ججوں پر مشتمل ایک کمیشن آف انکوائری مقرر کی گئی۔ اپنی تفتیش اور تحقیق کے نتیجے کے طور پر کمیشن اس نتیجے پر پہنچی کہ یہ محض ایک عسکری شکست نہ تھی بلکہ ایک عظیم سیاسی اور اخلاقی ہار تھی۔ دو مارشل لاؤں کے دوران پاکستان کے فوجی حکمران اخلاقی طور پہ اس قدر گر چکے تھے اور اتنے بدعنوان ہو چکے تھے کہ ان میں جنگ لڑنے کی سکت نہ رہی تھی۔
کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ اخلاقی گراوٹ اس وقت شروع ہوئی جب سینئیر افسران انیس سو اٹھاون کے مارشل لاء کی انتظامیہ میں ملوث ہو گئے۔ اس صورتحال نے اس وقت انتہائی شکل اختیار کر لی جب مارچ انیس سو انہتر میں یحییٰ خان نے دوسرا مارشل لاء نافذ کر دیا۔ کمیشن کی رائے میں مشرقی پاکستان میں حالات اس وقت سنگین نوعیت اختیار کر گئے جب پچیس مارچ کو یحییٰ خان نے وہاں ملٹری ایکشن شروع کر دیا۔
محمد اشرف نے جو اس وقت ڈھاکہ کا ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر تھا، کمیشن کو بیان دیتے ہوئے کہا : ”مشرقی پاکستان کے لوگ اپنے ہی ملک کے اندر اجنبی بنا دیے گئے تھے“ ۔
بریگیڈیئر اقبال الرحمن شریف نے کمیشن کو بیان دیتے ہوئے کہا ”جنرل حسن اپنے جوانوں سے پوچھا کرتا تھا، تم نے کتنے لوکل آدمی مارے ہیں؟“ ۔
ایک اور گواہ نے کمیشن کو بیان دیا : لفٹیننٹ جنرل اے۔ کے۔ نے، کمانڈر مشرقی پاکستان، کا عہدہ سنبھالتے ہی ماتحت فوجیوں سے کہا ”یہ دشمن کا علاقہ ہے۔ جو اٹھا سکتے ہو اٹھا لو۔ برما میں ہم یہی کیا کرتے تھے“ ۔
کمیشن کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ میجر جنرل نذر حسین شاہ، جی۔ او سی 16 ڈویژن، میجر جنرل اے۔ ایچ۔ انصاری، جی۔ او۔ سی اور بریگیڈیئر باقر صدیقی، چیف آف سٹاف، ایسٹرن کمانڈ، نے کمیشن کے روبرو اپنے بیانات میں انکشاف کیا کہ سات سینئر افسران اور ان کی یونٹیں وسیع پیمانے پر لوٹ مار میں ملوث تھے۔ اس لوٹ مار میں نیشنل بنک کی سراج گنج برانچ سے ایک کروڑ پینتیس لاکھ روپے کی چوری بھی شامل تھی۔ ان سات افسران میں ایک بریگیڈیئر، چار لیفٹیننٹ کرنل اور ایک میجر شریک تھا۔ ان کے نام جو کمیشن کی رپورٹ میں شامل ہیں، یہ ہیں۔ ”۔
اعجاز پڑھتا جا رہا تھا اور سننے والوں کے قلم تھم چکے تھے۔ وہ لکھنا لکھانا بھول کر منہ اٹھائے، آنکھیں پھاڑے، اعجاز کو دیکھ رہے تھے، جیسے کہ ان کی تمام تر قوت آنکھوں اور کانوں میں مجتمع ہو چکی ہو۔
” کمیشن کی رپورٹ میں“ اعجاز کہہ رہا تھا ”مندرجہ ذیل سفارشات شامل ہیں۔
۔ 1۔ : کہ جنرل یحیٰی خان، جنرل عبداللہ خان، لفٹیننٹ جنرل ایس۔ جی۔ ایم۔ میجر جنرل۔ ، لیفٹیننٹ جنرل۔ حسن اور میجر جنرل۔ نے آپس میں مجرمانہ سازش کر کے پچیس مارچ انیس سو انہتر کو فیلڈ مارشل ایوب خان سے غیر قانونی طور پر اقتدار چھینا تاکہ اقتدار جنرل یحیٰی خان کے سپرد کیا جائے اور اگر اس مقصد کے لیے طاقت استعمال کرنی پڑے تو وہ بھی کی جائے۔ اس حرکت کے بدلے مذکورہ افسران پر کھلا مقدمہ چلایا جائے۔ علاوہ ازیں، اپنے مشترکہ مقصد کے حصول کی خاطر افسران کا یہ گروہ دھمکی اور لالچ کے ملے جلے حربے کو استعمال کر کے سیاسی جماعتوں پر اثر انداز ہوا تاکہ انتخابات کا نتیجہ ان کی مرضی کے مطابق برآمد ہو۔
بعد ازاں یہی حربے استعمال کر کے مذکورہ افسران کے گروہ نے سیاسی جماعتوں کو مجبور کیا کہ وہ تین مارچ، انیس سو اکہتر کو نیشنل اسمبلی کے ڈھاکہ اجلاس میں شریک نہ ہوں۔ اس کے علاوہ آپس میں مشترکہ فیصلہ کر کے مشرقی پاکستان میں ایسے حالات پیدا کیے جو وہاں پر سول نافرمانی کی تحریک کے موجب بنے۔ ان افسران پر کھلا مقدمہ چلایا جائے۔
۔ 2 : مشرقی اور مغربی پاکستان کے اندر اپنے جنگی فرائض میں مجرمانہ کوتاہی برتنے پر ان افسران پر یا کھلا مقدمہ چلایا جائے یا کورٹ مارشل کیا جائے۔
۔ 3۔ : کہ ایک اعلیٰ اختیاری کورٹ آف انکوائری قائم کی جائے جو اس دور کے مشرقی پاکستان کے حالات کی تفتیش کرے، اور اس کورٹ کی تمام تر کارروائی کا کھلا اعلان کیا جائے، تاکہ اپنے قومی ضمیر کو مطمئن کیا جا سکے۔ 4۔ : کہ ان حالات کی ڈیپارٹمنٹل انکوائری کی جائے جن میں کہ میجر جنرل۔ ۔ خان، جو آج کل پاکستان فوج کے چیف آف جنرل سٹاف ہیں، اور جو کہ مشرقی پاکستان میں اپنے زیر کمان 39 ایڈہاک ڈویژن کی فوج کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے، کیسے اور کیونکر، کسی ڈی بریفنگ اور انکوائری کے بغیر، اپنے موجودہ اعلیٰ عہدے پر فائز کیے گئے ہیں۔
۔ 5۔ : کہ اسی طرح ڈیپارٹمنٹل انکوائری پاکستان نیوی کے کمانڈر۔ زرین کے بارے میں کی جائے جن کے بارے میں کہا گیا کہ وہ احکامات کے بغیر، کھلنا نیول بیس سے اپنے جہاز پی۔ این۔ ایس۔ تیمور کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔
۔ 6۔ : کہ اسی طرح کی ڈیپارٹمنٹل انکوائریاں مندرجہ ذیل افسران کے بارے میں کی جائیں :۔
لیفٹیننٹ جنرل۔ احمد خان، کمانڈر 1 کور
میجر جنرل۔ زاہد، جی۔ او۔ سی 15 ڈویژن
میجر جنرل۔ مصطفیٰ، جی۔ او۔ سی 18 ڈویژن۔
۔ 7۔ : کہ مذکورہ بالا تمام افسران کو محض ریٹائر کر دینا کافی نہیں ہے۔ اگر ان پر اپنے فرائض میں مجرمانہ کوتاہی برتنے یا بزدلی دکھانے کا الزام ثابت ہو جائے تو ان پر مقدمہ چلا کر سزا دی جائے۔ ۔ ”۔
اعجاز نے اپنا کاغذ تہہ کر کے جیب میں رکھ لیا۔ کمرہ لوگوں سے بھرا ہوا تھا مگر ایسے لگتا تھا جیسے وہاں پہ کوئی ذی روح موجود نہ ہو۔ ایک ہو کا عالم تھا۔ کسی جانب سے سانس کی آواز تک نہ آ رہی تھی۔ ”یہ تو رہے اعلیٰ افسران“ اعجاز نے کہا ”میں کہتا ہوں کہ کیا ایک معمولی سپاہی کو بھی عدالت کے سامنے لایا گیا ہے؟ کیا اس سانحے کا سارا بوجھ ہم کروڑوں غریب لوگوں پر ہی ڈال دیا گیا ہے، جو اس کی جکڑ سے آج تک آزاد نہیں ہو پائے اور اندھیرے کے غار میں بتدریج گرتے ہی چلے جا رہے ہیں؟ خدارا کوئی آؤ اور ہمیں اس قید سے آزاد کرو! کہا جاتا ہے کہ اگر کمیشن کی رپورٹ کو منظر عام پر لا کر اس پر عمل درآمد ہوتا تو فوجی جوانوں کے مورال پر برا اثر پڑ سکتا تھا۔ کتنے نادان ہیں وہ لوگ جو ایسا سوچتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کیا سچ بولنے سے مورال ڈاؤن ہوتا ہے یا کہ جھوٹ کے پردے ڈالنے سے ہوتا ہے۔ ”۔
سچ بولنے سے تو ساکھ بحال ہوتی ہے۔ ”۔
اعجاز اپنی رو میں بولتا چلا گیا۔
( نادار لوگ ”از عبداللہ حسین۔ صفحہ 731 تا 740“ )
۔ چار روز کے بعد سرفراز کو سب سے پہلے حسن کا فون پہنچا کہ اس کا باپ تین دن سے گھر نہیں آیا۔ حسن کو مزید کسی تفصیل کا علم نہیں تھا۔ سرفراز نے کئی سوالات کیے ، جن کے جواب میں حسن نے صرف اتنا کہا ”بی بی نے کہا ہے چاچے کو فون کرو کہ ابا تین دن سے ’غیب‘ ہے۔ سرفراز نے اس سے کچھ اور سوال کیے اور کہا کہ ان کے جواب معلوم کر کے دوبارہ فون کرے۔ پھر اس نے نسیمہ کو فون کیا اور اسے اطلاع دینے کے بعد اپنے سوال دہرائے۔ “ لالہ گھر سے اکیلا گیا تھا؟ اگر نہیں تو کس کے ساتھ گیا تھا؟ جاتے وقت کیا کہہ کر گیا تھا؟ پہلے بھی وہ دو دو چار چار دن گھر سے باہر رہا کرتا تھا۔ اب تشویش کی کیا وجہ تھی؟ کوئی اور متعلقہ بات؟ خود جاؤ اور جتنی بھی معلومات مل سکتی ہیں حاصل کرو۔ ”۔
اگلے روز نسیمہ کا فون موصول ہوا۔ ”کچھ پتہ نہیں چلا۔ بی بی کہتی ہے ایک آدمی آیا تھا، سادے سے لباس میں تھا، پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ وہ ایک پیغام دے کر چلا گیا۔ اس کے فوراً بعد لالہ یہ کہہ کر کہ ابھی واپس آتا ہے، موٹر سائیکل پر سوار ہو کر گھر سے نکل گیا تھا، آج چوتھا روز ہے مڑ کے نہیں آیا“ ۔
” میں کب سے انتظار کر رہا ہوں“ سرفراز نے چیخ کر کہا ”اتنی دیر لگا دی؟“ ۔
” بھئی میں نے پھر شبو کو بتایا۔ اس کی طرف سے اطلاع ابھی ملی ہے“ ۔
” کیا اطلاع ہے؟“ ۔
” کچھ بھی نہیں۔ اس نے سارے تھانے وغیرہ کھنگال مارے ہیں، کوئی خبر نہیں ملی، نہ ہی لالے کا موٹر سائیکل ہی کہیں دکھائی دیا ہے“ ۔
” عجیب بات ہے! “ ۔
۔ ۔ ۔ ۔
۔ سرفراز دو دن کی ایمرجنسی چھٹی لے کر آیا تو اعجاز ایک روز پیشتر ہی گھر پہنچ چکا تھا۔ ”جب تم نے فون پہ بتایا کہ آرہے ہو تو کچھ ہی دیر کے بعد مجھے اطلاع ملی کہ لالہ گھر پہنچ گیا ہے“ ۔ نسیمہ نے اسے بتایا ”میں نے سوچا اول تو تم چل پڑے ہو گے، ویسے بھی تمھارا آنا ضروری تھا۔ لالے کی حالت ٹھیک نہیں۔ “ ۔
اعجاز تانگے پہ سوار ہو کر گھر پہنچا تھا۔ وہاں سے اسے بیوی اور بیٹوں نے سہارا دے کر اندر چارپائی پہ آ لٹایا۔ اس کے کپڑے صحیح سلامت تھے مگر اس کا بدن ٹوٹ چکا تھا۔ اس نے اپنی چھ روزہ غیر حاضری کے بارے میں کوئی بات نہ کی۔ سب سے پہلے اس نے سب کو ہدایت کی کہ سرفراز کو اس واقعہ کی اطلاع نہ دی جائے۔ ”حسن نے اسے ٹیلیفون کر دیا تھا“ سکینہ نے بتایا۔ ”نسیمہ بھی آئی تھی۔ “ ”یہ تو نے ٹھیک کام نہیں کیا“ اعجاز نے کہا ”اس کی نوکری ہے، ان قصوں میں اسے شریک کرنا درست نہیں“ ۔
” ہمارا اور کون ہے؟ ایک سرفراز ہے جس کی کوئی پوزیشن ہے۔ ابا اور باسا تو بس مرنے مارنے پر تیار بیٹھے رہتے ہیں۔ لڑکے بھی ان کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔ ذرا کوئی دوسرا کام آ پڑے تو سب صفر ہیں۔ نسیمہ کچھ عقل والی ہے، اس نے دوڑ بھاگ کی۔ چھ دن اور چھ راتیں تمھاری نہ کوئی خبر نہ اخبار۔ سیکل تک کا نشان نہیں ملا۔ میں پھر کیا کرتی؟“ سکینہ نے ایک بار پھر رونا شروع کر دیا۔ وہ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد روتی اور پھر خاموش ہو جاتی، جیسے رونے سے اس کے وقت کا حرج ہو رہا ہو۔
” چل اب چپ کر جا“ اعجاز نے کہا۔ کچھ بگڑا بگڑایا نہیں۔ چھوٹے موٹے زخم ہیں، ٹھیک ہو جائیں گے ”۔
” چھوٹے موٹے ہیں؟ ایک ٹانگ سوج کر کپا ہو گئی ہے۔ اندر پتہ نہیں کیا گند بلا پک رہا ہے“ ۔
” ٹھیک ہو جائے گا۔ اب چھوڑ اس بات کو۔“ ۔
جب سرفراز اور نسیمہ پہنچے تو سکینہ سرفراز سے لپٹ کر ایک بار پھر چند لمحے کے لیے روئی۔ مگر اب اس کی آنکھیں خشک ہو چکی تھیں اور ان میں سے وحشت جھانک رہی تھی۔
” تم اتنی دور سے کس لیے آئے ہو“ اعجاز نے سرفراز سے کہا۔ ”ایسی بھی کیا بات تھی۔“ ۔
” چھ دن تم گھر سے غائب رہے ہو، کوئی انفرمیشن نہیں، کوئی پیغام نہیں، کسی کو کچھ پتہ نہیں کہ کہاں پر ہو، بی بی پریشان۔“ ۔
اعجاز بستر پر کروٹ لیتے ہوئے درد کے مارے آنکھیں سکیڑ کر ہنسا۔ ”بی بی تو کہتی تھی میں کسی عورت کے ساتھ بھاگ گیا ہوں“ ۔
” ہائے میری زبان پہ کوئلہ، میں نے کب کہا تھا،“ سکینہ نے دہائی دی۔
۔ ۔ ۔ ۔
” سرفراز، تو ان باتوں سے سروکار نہ رکھ“ اعجاز نے کہا۔ ”تیری بی بی تو بے وقوف ہے۔ تجھے فون شون کروانے کی کیا ضرورت تھی؟“ ۔
” کیوں سروکار نہ رکھوں لالہ۔ کیا بات کرتے ہو! “ ۔
” تیری نوکری فوج کی ہے، اس پر دھیان دے، ترقی کر، ہم سب کا فائدہ اسی میں ہے۔ تو نے اپنے حصے کی سزا کاٹ لی ہے۔ میری خیر ہے“ ۔
” یہ خیر ہے؟“ سرفراز اس کی ٹانگ اور گردن کی جانب اشارہ کر کے بولا، جہاں بڑے بڑے ابھرے ہوئے سرخ چٹاخ دکھائی دے رہے تھے۔ جواب دینے کی بجائے اعجاز دوسری طرف کروٹ لے کر لیٹ گیا۔
۔ ۔ ۔
” لالہ؟“ سرفراز نے دوبارہ اعجاز کو بلایا تو نسیمہ باورچی خانے سے اٹھ آئی۔
” آرام کرنے دو“ وہ ہولے سے بولی۔ ”بعد میں بات کر لینا۔ چاچا آپ بھی باہر چل کر بیٹھیں۔ لالے کو آرام کی ضرورت ہے“ ۔
سرفراز اور چاچا احمد اٹھ کر صحن میں چارپائی پہ جا بیٹھے۔ چاچے احمد نے حقے کا لمبا کش لیا۔ ”سرفرازے، تیری منگیت عقل والی ہے“ وہ بولا جیسے اس کو پہلی بار اس کا دھیان آیا ہو۔
( جاری ہے )


