فلسطین اور بلوچستان کے مسائل پر بولنے والے عوام


ایک طرف فلسطینیوں پر ظلم ہو رہا ہے، جس کے تقریباً تین مہینے ہونے والے ہیں۔ ساری دنیا کے مسلمان اس ظلم پر آواز اٹھا رہے ہیں اور حتی الوسع اس کی ہر پہلو پر بات کر رہے ہیں اور دیگر لوگوں پر اس کی حقیقت واضح کر رہے ہیں۔ دوسری طرف بلوچوں پر، ان کے مطابق، اپنی ہی ریاست نے زمین تنگ کر رکھی ہے۔ جس پر عرصے سے بلوچ قوم سراپا احتجاج ہیں۔ پچھلے کچھ دنوں سے وہ لوگ اپنے گھروں سے نکل پڑے ہیں اور انصاف کے لیے اسلام آباد تک پہنچ چکے ہیں، مگر وہاں حکومت وقت نے ان کے ساتھ کیا رویہ اختیار کیا، اس سے بھی سب باخبر ہیں۔

اب بات آتی ہے، ان دونوں مسائل پر بولنے والوں کا تقابل کرنے والوں کی۔ پچھلے کچھ دن سے دیکھ رہا ہوں کہ کچھ لوگ ہیں جو کہہ ہیں کہ ”جو لوگ صرف فلسطین پر جاری ظلم پر بات کر رہے ہیں اور بلوچوں پر ہونے والے ریاستی ظلم پر خاموش ہیں، وہ سب سے بڑے منافق ہیں“ ۔ یہ بات تو ٹھیک معلوم ہوتی ہے کہ فلسطینی ایشو پر بات کرنے والوں کو چاہیے کہ بلوچوں پر بھی بات کریں یہ کیونکہ دونوں انسان ہیں اور ان پر جاری مظالم پر بات ہونی چاہیے اور ہر پلیٹ فارم پر ان کے لیے آواز اٹھنی چاہیے، مگر انھیں یہ کہنا کہ یہ سب سے بڑے منافق ہیں، یہ کہنا مناسب نہیں ہے۔

ہاں البتہ یہ بات اگر وہ لوگ کریں جو پہلے سے فلسطینیوں پر جاری مظالم پر بات کرتے آرہے ہوں اور اب بلوچوں پر بھی بات کر رہے ہوں اور وہ ان لوگوں سے مطالبہ کریں جو پہلے سے فلسطینیوں پر بات کر رہے تھے اور اب بلوچوں پر نہیں کر رہے، تو بات سمجھ آتی ہے۔ مگر، ان کے علاوہ، وہ لوگ، جنھوں نے کبھی فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم پر بات ہی نہیں کی یا اگر کی بھی ہے تو صرف فلسطینیوں کو ہی سب کچھ کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے، یا اس لحاظ سے ان کا ذکر کیا ہے، جس میں ان پر طنز کیا گیا ہو یا کسی نہ کسی طریقے سے ان کی جدوجہد اور مزاحمت کی اہمیت گھٹانے کی کوشش کی گئی ہو، تو انھیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ ایسی کوئی بھی بات کریں، جس میں ایسا کوئی بھی تقابل کیا گیا ہو۔

ویسے تو، یہ بات ہی لایعنی ہے کہ فلسطین اور بلوچستان میں ہونے والے مظالم کو الگ الگ نظروں سے دیکھا جائے، کیونکہ ہم اگر بطور انسان ان دونوں مسائل دیکھتے ہیں تو بھی یہ یکساں درجے کے مسائل ہیں کیونکہ وہ دونوں انسان ہیں اور اگر بطور مسلمان ان کو دیکھتے ہیں تو بھی یہ یکساں مسائل ہیں کیونکہ دونوں مسلمان بھی ہیں۔ اس لیے حسب توفیق ان دونوں مسائل پر بات ضروری ہے۔

اب یہاں پر مسئلہ یہ ہے کہ یہ دونوں مسائل اب نظریات کی علامات بن گئی ہیں اور ان مسائل پر جو بول رہے ہیں، ان کا اسلوب ہی ظاہر کرتا ہے کہ وہ کس نظریے کا علمبردار ہے۔ فلسطین پر بولنے والے عموماً اہل مذہب ہوتے ہیں، جبکہ بلوچستان پر بولنے والے زیادہ تر وہ ہیں جو مذہب کی جگہ قوم پرستی اور علاقائی حیثیت کو پیمانہ بناتے ہیں۔ اس تقسیم کی وجہ بھی وہ کم فہم لوگ بنتے ہیں جو ان مسائل کو الگ الگ سمجھ کر بغیر علم کے اس میں کود پڑتے ہیں۔

علم کے بغیر، جذبات کی بنیاد پر فیصلہ کرنے والا شخص کبھی بھی معتدل ہو کر حقائق کی بنیاد پر تجزیہ نہیں کر سکتا اور بات کرتے ہوئے اس میں کسی ایک طرف زیادہ جھکاؤ دیکھنے کو ملتا ہے۔ ہاں، یہ اگر تنقیدی سوچ کے ساتھ ہو تو ٹھیک ہے، مگر اس کے برعکس اس کا پیمانہ جذبات ہوں، تو مشکل ہے۔

یہ تو ویسے بھی ممکن نہیں کہ ہر کوئی ان دونوں مسائل پر بات کرسکے، کیونکہ دونوں بالکل ہی الگ نوعیت کے مسائل ہیں اور دونوں کے الگ الگ علم اور مطالعے کی ضرورت ہے۔ اس پر صرف وہ بول سکتا ہے، جو ان مسائل کے بارے میں جانتا ہے۔ اس لیے، جو فلسطین پر بول رہا ہے، اسے اس پر بولنے دیا جائے اور جو بلوچستان پر بات کر رہا ہے، وہ اس کی مرضی ہے۔ مزید یہ کہ، اگر کوئی فلسطین پر بات کر رہا ہے اور بلوچستان کے بارے میں جانتے ہوئے بھی اس پر بات نہیں کر رہا تو ٹھیک نہیں کر رہا، لیکن اگر کوئی صرف بلوچستان پر بات کر رہا ہے اور اس سے پہلے فلسطین پر اس نے ایک لفظ تک نہیں کہا تو یہ بھی یکساں مجرم ہے۔ یہ بات مدنظر رہنی چاہیے۔

مختصر یہ کہ ان دونوں کے مسائل کو الگ الگ نہیں رکھا جاسکتا۔ چاہے اہل مذہب ہوں یا ان کے علاوہ نظریات رکھنے والے ہوں۔ دونوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ایسا قطعی نہ ہونا چاہیے کہ ہر کوئی صرف ایک ہی رٹے جملے کو پکڑ کر ہر وقت اسی پر ہی رطب اللسان رہے۔

کسی مسئلے پر بات کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ بندے کو اس کا پورا علم ہو۔ جب کسی بندے کو ایک چیز کا علم ہی نہ ہو تو وہ اس پر کیسے بول سکتا ہے؟ اس لیے اگر آپ چاہتے ہیں کہ جس مسئلے پر ہم بول رہے ہیں، دوسرے بھی اس پر بولنا شروع کر دیں تو پہلے آپ کا حق بنتا ہے کہ لوگوں کو ایجوکیٹ کریں، تو ہی وہ کچھ بولنا سیکھ جائیں گے، مگر یہ بات ذہن میں رہے کہ طنز و تشنیع کے تیروں کے سائے میں کسی کو راضی کرنا بہت مشکل ہے۔

Facebook Comments HS