کچھ جناح کے بارے میں

علامہ اقبال نے خواب دیکھا اور محمد علی جناح نے اس خواب کو اپنی ذہانت، سیاست فہمی اور تدبر سے حقیقت بنا دیا۔ قائد کی صلاحیتوں کی دنیا متعقد ہے۔ برطانیہ سے آزادی کی مہم میں شریک رہے۔ کانگرس کے ممبر بنے لیکن پھر مسلم لیگ میں شرکت کر لی اور الگ وطن کے لیے جان لڑا دی۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ ہند کے مسلمان مذہبی رہنما ان کے سخت مخالف تھے۔ انہیں مسلمانوں کا اپنے لیے الگ مملکت کا مطالبہ بے معنی لگتا۔
ان مذہبی رہنماؤں کا خیال تھا کہ الگ وطن کی کیا ضرورت ہے۔ برطانیہ کے جانے کے بعد ہم سب ہی آزاد ہوں گے۔ یہ مخالفت اتنی بڑھی کہ قائد اعظم کو کافر اعظم کہا گیا اور پاکستان کو ناپاکستان۔ اتنی شدید مخالفت کے باوجود جناح نے اقبال کے خواب کو زندہ تعبیر بنا دیا۔ علامہ اقبال نے بھانپ لیا تھا کہ ملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد اور یہ بات انہوں نے جناح کو بھی سمجھا دی کہ ایک ایسا ملک بنایا جائے جو سب کا ہو۔
جہاں اسلام کے بنیادی قوانین نافذ ہوں۔ جہاں عدل و انصاف ہو، رزق کی مساوی تقسیم ہو۔ ہر ایک کو تعلیم اور ترقی کے یکساں مواقع مل سکیں۔ ایک مکمل فلاحی ریاست۔ بالکل ایسا ہی جو ہمارے اس وطن ناروے میں ہے۔ لیکن ہوا کچھ یوں کہ یہی مولوی حضرات جو پاکستان کی مخالفت کر رہے تھے ایک ایک کر کے یہاں آ بسے اور تقاضا کیا کہ ملک کا دستور شریعت کے مطابق بنے گا۔ لیکن عقیدے الگ الگ شریعت اپنی اپنی۔ اور یوں پاکستان میں اسلام نافذ ہی نہ ہوسکا۔
اب ایک فرضی صورت حال بناتے ہیں۔ جناح کی سالگرہ ہے اگر آج جناح زندہ ہوتے اور وہ سب بھی جو اب اس دنیا میں نہیں ہیں زندہ ہوتے تو جناح اپنی سالگرہ کیسے مناتے؟ جناح تھری پیس سوٹ، ٹائی اور ہیٹ میں ملبوس ہوتے۔ گورنر ہاؤس میں ایک ٹی پارٹی کا اہتمام ہوتا۔ گھر میں بیک کیا ایک فروٹ کیک ہوتا۔ بیٹھک میں یقیناً ایک کرسمس ٹری بھی ہوتا لیکن اس کے نیچے کوئی تحفے نہیں ہوتے۔ وہ اپنی پسندیدہ کرسی پر بیٹھتے شاید ان کے ایک ہاتھ میں شیری کا گلاس اور دوسرے میں کیوبن سگار ہوتا۔
کمرے میں آتش دان روشن ہوتا اور ان کا پالتو ڈاگی وہاں بڑے ناز سے بیٹھا ہوتا وہ کبھی لپک کر قائد کے پاس جاتا۔ قائد پیار سے اسے تھپکی دیتے سہلاتے۔ وہ پیار وصول کر کے پھر آتش دان کے پاس جا بیٹھتا۔ مہمانوں میں ان کی کابینہ کے ارکان ہوتے۔ ان میں مسلم (جو کوئی بھی خود کو مسلم کہتے اور سمجھتے ) کرسچن، ہندو اور پارسی شامل ہوتے۔ کابینہ میں عورتوں اور مردوں کی تعداد مساوی ہوتی۔ جناح اپنا گلاس اٹھاتے اور ملک کی سلامتی اور خوشحالی کی تمنا کرتے۔
وہ شاید دائیں بازو کی کچھ جماعتوں کے احساس برتری پر ہنستے اور اپنے ہیٹ کا ایک کونا چھو کر ڈاکٹر روتھ، ڈاکٹر عبدالسلام اور عبدالستار ایدھی کو خراج تحسین پیش کرتے۔ فاطمہ جناح اور بیگم رعنا لیاقت علی خان غراروں میں ملبوس تمکنت اور وقار سے اپنی نشستوں پر بیٹھی ہوتیں۔ انہیں قائد کا فرمان تقویت بخش رہا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا ”دنیا میں کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک اس قوم کے مردوں کے ساتھ ساتھ عورتیں بھی آگے نہ بڑھیں“ ۔
قائد کی کرسی کے دائیں بائیں نوابزادہ لیاقت علی اور سر ظفر اللہ خان ہوتے اور ان کے برابر خواجہ ناظم الدین۔ قائد کی بالکل سامنے والی کرسی پر جوگندر لال منڈل بیٹھتے۔ ان کے کانوں میں ابھی تک قائد کا کراچی میں پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی سے پہلا خطاب گونج رہا تھا ”آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے۔ آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے اور ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے۔
آپ کا تعلق کسی بھی مذہب ذات یا نسل سے ہو۔ ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں“ ۔ کیک کٹتا اور چائے سرو کی جاتی۔ مہمان دھیمے لہجے میں ایک دوسرے سے بات چیت کرتے۔ جناح صاحب جیب سے گھڑی نکال کر دیکھتے جو اس بات کا اشارہ ہوتا کہ سالگرہ کی تقریب اختتام کو پہنچ گئی مہمان رخصت ہوتے۔ جناح صاحب فاطمہ جناح سے تقریب میں خرچ ہونے والی رقم کا حساب مانگتے تاکہ وہ اپنی جیب سے اس کی ادائیگی کر سکیں۔ قائد اب دنیا میں نہیں ہیں۔
لیکن ہم ہیں۔ اور ہم کیا کر رہے ہیں؟ پچھلے کچھ عرصے سے جناح صاحب کے بارے سوشل میڈیا پر منفی باتیں پھیلائے جا رہی ہیں۔ شاید یہ آج کا فیشن ہے کہ کبھی اقبال کبھی سر سید اور کبھی قائداعظم پر الزامات لگائے جائیں۔ قائد کے مذہب اور مسلک کو لے کر نت نیا تماشا رچایا جاتا ہے۔ ان کے پاکستان بنانے کے مطالبے کو ایک غلط ضد بتایا جا رہا ہے۔ کچھ اس پر نالاں ہیں کہ جناح صاحب مذہب کی نمائش نہیں کرتے تھے۔ انہیں نماز تک پڑھنی نہیں آتی تھی۔
شاید روزے بھی نہیں رکھتے تھے۔ کبھی حج پر بھی نہیں گئے۔ اور یہ کہ وہ سیکیولر تھے۔ گویا سیکیولر ہونا بھی ایک عیب ہے۔ پھر ایک طبقے نے ان کا دفاع کیا اور انہیں مذہبی ثابت کرنا شروع کیا۔ ان کی عید کی نماز پڑھتے اور شیروانی میں ملبوس تصاویر سے ثابت کرنا شروع کیا کی جناح ایک نہایت مذہبی انسان تھے۔ جناح صاحب بے دین نہیں تھے لیکن خدارا انہیں مولوی ثابت کرنے کی کوشش مت کریں۔ وہ ملائیت کے مخالف تھے۔ وہ کبھی بھی مذہب کی بنیاد پر کسی سے تفریق نہیں کرتے۔
وہ ایک ماڈرن سوچ رکھنے والے انسان تھے۔ انسان ہی تھے اور انسان میں کمی خامی بھی ہو سکتی ہے۔ یہ جو رنگ برنگے عمامے والے مذہبی گروہ آپ دیکھتے ہیں جناح کا ان سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ عماموں کے رنگ بتاتے ہیں کہ قوم مذہب کے نام پر کتنی بٹی ہوئی ہے۔ قائد نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ وہ ہمارے لیے صرف ملک ہی نہیں بلکہ اسے چلانے کے لیے لائحہ عمل بھی دے گئے ہیں۔ ان کی تقاریر اور فرمودات میں ہمارے لیے رہنمائی ہے۔
ہدایت ہے۔ معاشرے میں عورتوں کے کردار کی اہمیت ہو یا اقلیتوں کے حقوق، نوجوانوں کی ہمت افزائی ہو یا ملٹری کے کردار کا تعین۔ بہت کچھ انہوں نے بتا دیا۔ زندگی مہلت دیتی تو وہ اور بھی بہتر طریقے سے ملک کا طریقہ کار بتاتے۔ اتحاد، یقین محکم اور تنظیم یہ تو ہم دہراتے رہتے ہیں نا۔ بس اسی پر عمل کر لیں۔ سالگرہ مبارک قائد
(رواں ہفتے اوسلو ناروے میں قائد اعظم محمد علی جناح کی سالگرہ کے سلسلے میں منعقدہ تقریب میں پڑھا گیا)





فاطمہ اور رعنا لیاقت شارٹ سکرٹ میں ملبوس ہوتیں،