سمجھوتہ


 

یہ مئی 1977 کی بات ہے جب وطن پاک میں سیاسی کشیدگی اور ہنگامہ خیزی عروج پر تھی۔ حکومت وقت نے تعلیمی ادارے بند کر دینے تھے۔ ان فرصت کے لمحات کو مصروفیت میں بدلنے کی خاطر میں بڑے بھائی کے پاس لاہور جانے کی تیاری کرنے لگا۔ بھائی کی دکان بیرون موچی گیٹ میں واقع تھی۔

میں چنیوٹ سے لاہور جانے کے لئے بس اسٹینڈ روانہ ہوا اور لاہور جانے والی بس میں سوار ہوا۔ جن صاحب کے برابر نشست ملی وہ لگ بھگ پچاس سال کی عمر کے تھے۔ میں اپنی نشست پر براجمان ہو گیا، اور اپنے برابر والے شخص سے اپنا تعارف کرایا۔ انہوں نے اپنا نام محمد قاسم بتایا، سرگودھا کے ایک شمالی چک کے مکین تھے۔ شکل و صورت سے بہت اچھی شخصیت کے مالک، چھوٹی سی زمینداری تھی۔ انٹر تک تعلیم حاصل کی تھی۔ تین بچے تھے۔

ہماری بس لاہور کی جانب فراٹے بھرتی جا رہی تھی۔ چنیوٹ سے لاہور جاتے ہوئے مغل بادشاہ شاہ جہاں کے وزیر سعد اللہ کے گاؤں سے بھی گزر ہوا۔ نگاہوں میں تاریخ ماضی کے بوسیدہ اوراق سامنے آ گئے۔ سعد اللہ نے چنیوٹ میں بادشاہی مسجد بنوائی جو آج بھی قابل دید ہے اور مغلیہ دور کی یاد دلاتی ہے۔

وقفہ وقفہ سے محمد قاسم سے مختلف موضوعات پر گفتگو کا سلسلہ جاری رہا۔ سڑک کے دونوں جانب خوبصورت کھیت جن میں کماد، چاول اور کپاس کی فصلیں بہار دکھا رہی تھیں۔ کبھی موسیقی کبھی حالات حاضرہ اور پاکستان کے مستقبل کی صورت حال، شادی بیاہ اور رسم و رواج وغیرہ پر گفتگو کا سلسلہ چلتا رہا۔ اسی اثنا میں ہم پنڈی بھٹیاں کے قریب پہنچ چکے تھے۔ ایک بار پھر ماضی کی یادیں ابھر آئیں۔ بچپن میں والدہ مرحومہ کے ساتھ کئی بار پنڈی بھٹیاں آنا ہوتا تھا کہ والدہ مرحومہ کے ننھیال آج بھی یہیں مقیم، سبھی پیار بھرے بزرگ جن میں والدہ کی نانی اماں اور والدہ کے مرحوم ماموں قابل ذکر۔ اللہ ان کے درجات بلند فرمائے۔

دوران گفتگو محمد قاسم صاحب نے اپنی داستان محبت و داستان حیات کے خوبصورت پنے مجھ سے شیئر کیے ۔

” میں ایک چھوٹے سے زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں۔ ہم تین بہن بھائی، ایک بڑا بھائی اور ایک چھوٹی بہن۔ میرے والد زمینوں کی دیکھ بھال اور کاشت کاری کی ذمہ داریاں پوری کرتے تھے۔ والدہ گھر کے کام کاج، بڑا بھائی میٹرک کے بعد والد صاحب کا ہاتھ بتانے لگا، میں مزید تعلیم کی غرض سے سرگودھا کالج جانے لگا۔ انٹر تک تعلیم حاصل کی۔ اور پھر میں بھی زمینداری سے منسلک ہو گیا۔ اپنی تعلیم کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی زمینداری میں کچھ جدت شامل کی جو اپنی زمینداری کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوئی۔ نئی ٹیکنالوجی کی بدولت ہم نے اپنی زمینداری کو بہتر بنایا“ ۔

محمد قاسم صاحب کی شخصیت کافی متاثر کن تھی، مضبوط گٹھا ہوا جسم، خوبصورت شکل و صورت۔ ان کی شبابیت اب بھی برقرار تھی، بھر پور جوانی میں تو اور اور بھی شادابی اور خوبصورتی رہی ہوگی، نجانے کتنی ہی الہڑ مٹیاروں کی دل کی دھڑکن رہے ہوں گے۔ محمد قاسم صاحب ایک لمحہ کے لئے کھڑکی سے باہر کھیتوں کو دیکھتے ہوئے کہیں کھو سے گئے، اور پھر اپنی داستان محبت سنانے لگے۔

”گاؤں میں نسرین نامی بہت سوہنی کڑی رہتی تھی، اٹھتی جوانی۔ حسن کا شاہکار۔
جھیل سی آنکھیں گال گلابی کالی زلفیں رنگت شادابی
سوہنا مکھڑا چہرہ مہتابی پتلی کمر نین شرابی
اٹھتی جوانی کا خمار اک سوہنی الہڑ مٹیار

میں بھی سترہ اٹھارہ برس کا گھبرو جوان، وہ اکثر کنویں پر پانی بھرنے اور کبھی کپڑے دھونے آتی تھی۔ نجانے اس میں ایسی کیا بات تھی کہ دیکھتے ہی دل میں ایک عجب سی چاہت کی پھلجھڑیاں چلتی تھیں۔ کبھی کبھار گاؤں کی پگ ڈنڈیوں پر آنکھوں ہی آنکھوں میں چاہت کے پیغامات کا تبادلہ ہونے لگا۔

ضروری تو نہیں کہہ دیں لبوں سے داستان اپنی
زبان اک اور بھی ہوتی ہے اظہار تمنا کی

دل نے دل کو پکارا اور ہم ایک دوسرے کے بہت قریب آ گیے۔ ہم اکثر گاؤں کی سرمئی شاموں میں کنویں پر ملتے، کبھی دوپہر کی روپہلی دھوپ میں درختوں کی چھاؤں میں بیٹھ کر مستقبل کے تاج محل تعمیر کرتے۔ ہماری محبت وقت کے ساتھ پروان چڑھتے ہوئے جوان ہو چکی تھی۔ گاؤں میں ہماری محبت کے چرچے ہیر رانجھا جیسے مشہور ہو چکے تھے۔ ہم دونوں جنم جنم کا ساتھ نبھانے کی قسمیں، جھلمل ستاروں بھرا آنگن، ساون کے جھولوں میں پیار کی پینگیں کے تصورات لئے پہروں پیار کی باتیں کرتے، سہانے مستقبل کے سپنے دیکھتے۔ جنم جنم کا ساتھ نبھانے کی قسمیں۔

چائیں گے تجھے عمر بھر نبھائیں گے یہ قسم بچھائیں گے پلکیں ہمسفر چلیں گے سنگ ہر قدم
نیند ہماری خواب تمہارے آنکھوں میں بسائیں گے ہم زندگی تمہاری سانس ہمارے جیون یوں ہی بتائیں گے ہم
تاروں کی بارات چلیں گے ساتھ ہر پل ہر قدم ہاتھوں میں ہاتھ چھوٹے نہ ساتھ کسی پل کسی جنم

اور پھر ایک ایسی انہونی ہوئی جس کا تصور بھی نا ممکن تھا۔ لیکن تقدیر کے آگے کس کا زور چلتا ہے۔ ہمارے خوابوں کا گھروندہ مسمار ہو گیا۔ دو چاہنے والے دل توڑ دیے گئے، جدائی کا صدمہ ہمارا مقدر بنا دیا گیا۔

آندھیاں غم کی یوں چلیں باغ اجڑ کے رہ گیا۔

محمد قاسم صاحب کے چہرے کے تاثرات ان کہی داستان بیان کر رہے تھے۔ اپنی زندگی کی کہانی جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ ہماری محبت برادری اور گاؤں کی رسم و رواج کی بھینٹ چڑھ گئی۔ میری ہمشیرہ کے رشتے کی بات چل رہی تھی، لیکن لڑکے والوں نے اس شرط پر رشتہ قبول کیا کے بدلے میں مجھے ان کی بیٹی سے شادی کرنی ہوگی۔ میں نے اپنے تئیں بہت سمجھانے کی کوشش کی جو کہ بیکار ثابت ہوئی۔ رسم و رواج جیت گئے، میرے اوپر تو بجلیاں گر گئیں۔

ایسے لگ رہا تھا جیسے کسی نے منوں برف کے تودے میں دفن کر دیا ہو۔ ہماری محبت، ہماری چاہت، ہمارے ادھورے سپنے، ہماری امنگوں کے نامکمل تاج محل، سب ریت کے گھروندے تھے کیا۔ میں نسرین کو کیا جواب دوں گا، کیسے اس کا سامنا کروں گا۔ نسرین کو کس جرم کی پاداش کی سزا ملے گی۔ نسرین کی محبت کو اس کے احساسات و جذبات کو وٹہ سٹہ کی بھینٹ چڑھا دیا جائے گا۔ میں نے تو فلک ناز کو دیکھا تک نہیں۔ کیا میں اسے اپنی محبت دے سکوں گا، کیا جیون بھر ساتھ نبھا سکوں گا۔

میں نے کچھ مہلت کی استدعا کی، والدین سے اپنی مجبوری اور نسرین سے محبت کا بھی کھل کر بتایا، ہمشیرہ سے بھی گفتگو کی، نتیجہ بے سود۔ نسرین سے بھی ملا اور حالات کی نزاکت سے آگاہ کیا۔ اس کی تو حالت غیر ہو گئی۔ کاٹو تو لہو نہیں بدن میں۔ ایک سکتہ کا عالم۔ والدین کی مجھ سے منت سماجت، اور بہن کے بہتر مستقبل کی خاطر مجھے اپنی محبت کی قربانی دینی پڑی۔ ہماری محبت کو منزل نہ مل سکی۔ جگ کی رسموں کی نذر ہو گئی۔

سوچا تھا کیا کیا ہو گیا کیا ہو گیا

پھر میں فلک ناز سے رشتہ ازدواج میں بندھ گیا۔ فلک ناز بھی بہت پر کشش اور خوبصورت۔ لیکن شادی کے ابتدا میں اسے دل سے قبول نہ کر سکا، اس کو اپنی محبت دینے میں تامل رہا۔ لیکن شاہد قدرت نے فلک ناز کو بیشمار خوبیوں سے نوزا تھا۔ اس نے ایک دن بھی میری بے اعتنائی کا شکوہ نہیں کیا، بلکہ اپنی ساری محبت مجھ پر نچھاور کر دی۔ ایک بہترین جیون ساتھ ثابت ہوئی۔ میرے ماضی کو جانتے ہوئے بھی کبھی نسرین کا ذکر تک اپنی زبان پر نہیں لائی۔

اس کی بے لوث محبت نے مجھے بھی اس سے محبت کی ڈور میں باندھ دیا۔ اس دوران اللہ نے ہمیں اولاد جیسی نعمت سے نوازا۔ فلک ناز کے حسن سلوک سے والدین بھی بہت خوش تھے۔ اس کی عبادت اور دعاؤں نے میری زندگی میں بھی ایک انقلاب برپا کر دیا۔ میرا رجحان بھی صوم و صلاۃ کی طرف ہو گیا۔ اور پنج وقتہ نماز کی پابندی میری زندگی کا جزو بن گئی۔ تلاوت قرآن ترجمہ اور فہم کے ساتھ روز کا معمول۔

تلاوت قرآن سے یہ احساس جان گزیں ہوا کہ قدرت کے اپنے فیصلے ہوتے ہیں، اس کی اپنی تدبر ہوتی ہے جس کی حکمت سے ہم نا آشنا ہوتے ہیں۔ انسان بظاہر جسے اپنے لئے خراب سمجھتا ہے وہ رب کی نظر میں خیر کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔

اللہ نے فلک ناز کی صورت میں ایک بہترین جیون ساتھ سے نوازا جس نے اپنی بے لوث محبت اور حسن اخلاق سے میری زندگی کو ایک نئی جہت دی۔

کسی مہربان نے آ کر میری زندگی سجا دی۔
اللہ نے خوبصورت اولاد بھی عطا کی۔ اور ہمارا چھوٹا سا گھرانا بے شمار خوشیوں کا گہوارہ۔

زندگی میں انسان بے شمار مراحل کا سامنا کرتا ہے، لیکن کامیابی ان کا مقدر ٹھہرتی ہے جو حالات کے ساتھ سمجھوتہ کر کے صبر و تحمل اور قوت ایمانی سے اپنی منزل کی جانب گامزن رہتے ہیں۔ اور فلک ناز کی صورت میں اللہ نے مجھے ایک بہترین تحفہ عطا کیا۔

محمد قاسم صاحب کی داستان زندگی اور مختلف پہلو جان کر دیر تک یہ سوچتا رہا کہ واقعی ہم اللہ کی قدرت پر یقین رکھیں تو کامیابی مقدر بن جاتی ہے۔ لاہور کا جنرل بس اسٹینڈ آ چکا تھا۔ میں نے محمد قاسم صاحب سے بہت گرم جوشی سے الوداعی مصافحہ کیا اور اپنی منزل کی جانب چل دیا۔

زندگی کا سفر ہے یہ کیسا سفر کوئی سمجھا نہیں کوئی جانا نہیں۔

Facebook Comments HS