ماس کمیونیکیشن پڑھیں، معاشرے کا کارآمد فرد بنیں


ماس کمیونیکیشن فی زمانہ ایک ثمر مند اور بھرپور اکیڈمک شعبہ ہے۔ اس کی مارکیٹ ڈیمانڈ بھی ہے، روزگار کے موقع بھی اور ظاہری رعب و دبدبہ بھی۔ مختصر یہ کہ ابلاغیات ایک چارمنگ ڈیپارٹمنٹ کے طور پہ جامعات میں جگہ بنا چکی ہے۔ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے تعلیمی و تحقیقی حلقوں میں اس کا شہرہ ہے۔ دنیا کو گلوبل ولیج بنانے میں میڈیا کمیونیکیشن اور ٹیلی کمیونیکیشن کا بنیادی کردار ہے۔ اس گلوبل ولیج میں میڈیا کا زور ہے۔ میڈیا بولیں تو اب یہ صرف پیسے والے اخبار و چینل مالکان کا ادارہ نہیں، بلکہ آپ خود ایک میڈیا ہو سکتے ہیں، میڈیا پرسن بن سکتے ہیں۔ اب سٹریٹ میڈیا ہے، سٹیزن میڈیا ہے، ڈیجیٹل میڈیا ہے، سوشل میڈیا ہے۔ لیکن ظاہر ہے صرف کیمرہ پکڑ کے آپ میڈیا پرسن تو نہیں بن سکتے۔ سو

میڈیا ہے کیا؟ میڈیا اثر دار کیسے ہو سکتا ہے؟ خبر کو سونگھنا کیسے ہے، خبر نکالنی کیسے ہے؟ خبر بنانی اور چلانی کس طرح ہے؟ خبر کے اندر خبریت کہاں سے آتی ہے؟ خبر بنتی کیسے ہے اور پیش کیسے کرنا ہے؟ خبر کا مقصد کیا ہوتا ہے؟ اس کا ٹارگٹ کون ہوتا ہے؟ یہ سب آپ کو سیکھنا ہے۔ ان کی ٹریننگ لینی ہے۔ علاوہ ازیں

نیوز مین سے ہٹ کے بھی ماس کمیونیکیشن کا بڑا سکوپ ہے۔ آپ اپنا پروڈکشن ہاؤس چلا سکتے ہیں۔ فلم میکنگ کی طرف جا سکتے ہیں۔ تقریبات/ ایونٹس کی وڈیوز کو موثر طور پہ کیسے ایڈیٹ کرنا ہے۔ یہ بھی میڈیا ڈیپارٹمنٹ سکھاتا ہے۔

پبلک ریلیشنز بھی ایک بڑا میدان ہے، یعنی لوگوں کے ساتھ، اداروں کے ساتھ تعلقات بناتے کیسے ہیں، تعلقات کو دیرپا نبھانا کس طرح ہے اور ان تعلقات کا اپنے اور اپنے سرکل، کمیونٹی کے لیے بہتر استعمال کیسے کیا جاتا ہے؟ یہ سکھانا بھی میڈیا ایجوکیشن والوں کی ہی گر ہے۔

ڈیولپمنٹ سپورٹ کمیونیکیشن بھی اسی ادارے کا خاصہ ہے۔ مطلب یہ کہ اپنے گاؤں، علاقے، حلقے، کمیونٹی کی ترقی، ڈیویلپمنٹ کے لیے کمیونیکیشن کا استعمال کیسے کرنا ہے؟ میڈیا کو کس طرح بروئے کار لانا ہے؟ یہ وظیفہ بھی ماس کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کا ہے۔ اس کے علاوہ بھی ماس کمیونیکیشن کی کئی جہتیں ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ میڈیا پڑھ کے آپ بہترین کمیونیکیٹر بن سکتے ہیں۔ اچھے ابلاغ کار ہو سکتے ہیں۔ اپنا مدعا جامع و موثر انداز میں دوسروں تک پہنچانے والا ماہر آدمی بن سکتے ہیں۔

ماس کمیونیکیشن اس وقت پاکستان میں سوشل سائنسز، آرٹس فیکلٹی کا سب سے اثر دار اور سکوپ والا ڈیپارٹمنٹ ہے۔ ملک میں 100 سے زائد چینلز کام کر رہے ہیں۔ بے شمار اخبارات روز شائع ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا تو بہت بڑی دنیا ہے۔ یعنی میڈیا کمیونیکیشن ایک بھرپور انڈسٹری رکھتا ہے۔ ملازمت کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔

سو اگر آپ نیوز مین بننا چاہتے ہیں۔ بطور میڈیا کر اپنا کیریر بنانا چاہتے ہیں۔ جینوئن صحافی بن کے اپنے علاقے، قوم اور ملک کی ترقی میں اپنا قلمی کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ خود اپنے آپ کو ایک ثمر مند شخصیت میں ڈھالنا چاہتے ہیں تو شہر شاداب اسلام آباد کے خوبصورت مقام پر فیڈرل اردو یونیورسٹی قائم ہے۔ اس یونیورسٹی کا ماس کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ پوری طرح سے فعال ہے۔ یہاں شاندار انفراسٹرکچر ہے۔ اکیڈمکس بہترین ہے۔ ماحول بھی ویسا ملے گا جیسا ایک دانش گار کا ہونا چاہیے۔ اور کوالیفائیڈ ٹیچرز تو ہیں ہی۔

سو ڈیپارٹمنٹ آف ماس کمیونیکیشن ہر اس طالب علم کے لیے چشم براہ ہے جو میڈیا پرسن بننا چاہتا ہے۔ سمیسٹر سپرنگ کے ایڈمیشن اتوار 24 دسمبر سے شروع ہو چکے ہیں۔ تفصیلات کے لیے یونیورسٹی ویب سائیٹ دیکھیں

میں صاحب اثر بھی نظر بھی خبر بھی تھا

Facebook Comments HS

ڈاکٹر سکندر علی زرین

سکندر علی زرین کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے۔ ماس کمیونیکیشن کے پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔ گزشتہ دس برس سے جیو نیوز سے بطور ایسوسی ایٹ اسائنمنٹ ایڈیٹر منسلک ہیں۔ گلگت بلتستان کے اخبارات کے لیے رپورٹنگ کرتے ہیں اور کالم بھی لکھتے ہیں۔ سیاست، تاریخ، اردو ادب، ابلاغیات ان کے پسندیدہ میدان ہیں

sikander-ali-zareen has 48 posts and counting.See all posts by sikander-ali-zareen