قائدِاعظم کے نام
امید ہے وہاں جنت میں آپ اضطراب کا شکار نہیں ہوں کیونکہ وہاں تو راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔ آپ کے نام میرا یہ مکتوب اگر باعث اضطراب ہو تو شراب طہور سے غم غلط کر لیجیے گا۔ مجھے ہمیشہ اس بات کا افسوس رہا کہ میں کنفیوز انسان ہوں۔ شاید اسی لیے میں نے زندگی کے بہت سے اہم ترین فیصلے غلط کیے جن میں سے ایک دبئی سے پاکستان واپس آنا بھی تھا۔ آپ بھی انگلستان گئے اور پھر واپس آ گئے۔ آپ کو تو علامہ سر محمد اقبال نے خطوط لکھ کر قائل کیا تھا مجھے تو کسی نے خط نہیں لکھا نہ مجھے کوئی بڑا کارنامہ سر انجام دینا تھا کہ میرا آنا ضروری ہوتا۔
ہاں میں بتا رہا تھا میں کنفیوز انسان ہوں مگر آپ کے اور پاکستان بنانے کے فیصلے پر میں کبھی کنفیوز نہیں ہوا۔ جب جب لوگ کہتے تھے مطالعہ پاکستان جھوٹ ہے یا آپ کی ولادت پر کوئی نستعلیق (کمنٹ) لکھتا کہ ”شکریہ جناح صاحب کنفیوز پاکستان دینے کے لیے“ تو مجھے برا لگتا تھا۔ مجھ جیسے دیگر کروڑوں محب الوطن پاکستانیوں کو بھی یقیناً برا لگتا ہو گا۔ یہ سن کر آپ کو برا لگے گا (شراب طہور کا جام پاس رکھ لیں ) کہ اب ہم میں سے اکثریت سوچنے کی بیماری میں مبتلا ہو گئی ہے کہ کیا ہم صحیح سوچتے تھے؟
سبھی بڑے رہنماؤں نے کتابیں لکھی جس سے ان کی آئیڈیالوجی واضح ہوتی ہے اور ان کے پیروکار ان کتابوں سے استفادہ کرتے ہیں۔ آپ نے کوئی کتاب کیوں نہ لکھی؟ ممکن ہے آپ کو جدوجہد سے فرصت نہ ملی ہو مگر آپ کی تقاریر میں بھی تو کوئی واضح راستہ نہیں جس پر ہمیں چلنا ہے۔ سیکولر ازم کے داعیوں کے خیال میں آپ ایک پاکستان چاہتے تھے جس میں مسلمانوں کے معاشی مفادات کا تحفظ ہو مگر مذہب ہر کسی کا ذاتی معاملہ ہو۔ گیارہ اگست کی تقریر ان کی اس دلیل کے لیے پیمانہ ہے۔
مولوی (جی ہاں وہی جو آپ کو کافر اعظم اور پاکستان کو نا پاکستان کہتے تھے ) اور پاکستان کو کٹر مذہبی ریاست بنانے کے حامی آپ کی ان تقاریر سے استنباط کرتے ہیں جن میں آپ نے قرآن شریف کے قانون بنانے کی بات کی ہے۔ ڈاکٹر تیمور رحمان کہتے ہیں۔ آپ جس طرح کی مذہبی ریاست کی بات تھے وہ روح میں سیکولر ہی ہوتی۔ ڈاکٹر اسرار کہتے ہیں سیکولر ازم صیہونیوں کا منصوبہ ہے (ہندوستان کے مسلمان جانے کیوں مصر ہیں کہ وہاں سیکیولرازم ہونا چاہیے جبکہ نریندر مودی سر توڑ کوشش کر رہے ہیں کہ سیکولر ازم کا نام باقی رہے البتہ ریاست مکمل مذہبی ہو) ۔
آپ نے کوئی کتاب لکھی ہوتی تو کم از کم آپ کیا چاہتے تھے واضح ہو جاتا حالانکہ ہم نے کرنی اپنی ہی تھی۔ آپ جس قسم کی بھی ریاست بنانے کے خواہاں تھے یہ کم از کم وہ نہیں ہے۔ آپ تو انگریزوں کے خلاف بھی جمہوری اور قانونی جدوجہد کے قائل تھے اور ہمارے ہاں جمہوریت اس قدر ہی ہے جیسے ابن الرشد مسلمان تھے۔ یعنی ملک کا نام جمہوریہ ہے مگر تین مارشل لاءز کے علاوہ الیکشن ہونے کے باوجود بھی طاقت کا سرچشمہ وہی ہیں جن کا نام نہیں لیتے۔
آپ نام نہ لینے سے یہ مت سمجھیے گا کہ ’بانی ایم کیو ایم یا بانی پی ٹی آئی‘ طاقت کا سرچشمہ ہیں کیونکہ وہ لوگ تو شجر ممنوعہ قرار پا چکے ہیں۔ طاقت کا سرچشمہ وہ ہیں جنہوں نے آپ کے جانے کے بعد انتخابات نہ ہونے دیے۔ گورنر جنرلوں اور وزیر اعظموں کو بدلا کیے۔ پھر ان کو داد کہ براہ راست اقتدار پر قابض ہوئے اور دس سالہ جشن ترقی منایا مگر اس ترقی میں مشرقی حصہ کہیں پیچھے رہ گیا۔ پھر مشرقی حصے نے اپنی نالائقی کو چھپانے کے لیے ہم سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کیا۔
یہ سن کر آپ کا غم شاید شراب طہور سے بھی غلط نہیں ہو سکے کہ وہ ”نالائق“ اب ہم سے آگے نکل چکے ہیں اور ہم اس کا دوش کس کو دیں کچھ نہیں جانتے۔ پھر انہوں نے ایک وزیراعظم کو پھانسی دے دی جس کی پھانسی کو آج کل ہماری عدالت عظمیٰ غلط قرار دینے کے درپے ہے اور وہ بھی ان ہی کی چھتر چھایا تلے (یعنی ماضی میں جو ہوا وہ غلط ثابت کیا جائے گا اور حال کو ماضی بننے تک نہیں چھیڑا جائے گا) ۔ ہم نے افغانستان کو سرخوں سے بچانے کا بیڑا بھی اٹھایا اور اسے جہاد کا نام دیا مگر وہ ہڈی ہمارے گلے میں ایسی پھنسی ہے کہ
”ہم نہ جیتے ہیں اور نہ مرتے ہیں
درد بھیجو نہ تم دوا بھیجو ”
معذرت کہ خط طویل ہو رہا ہے۔ مختصر یہ کہ پھر ہم نے ایک اور جنگ لڑی ”دہشتگردی کے خلاف جنگ“ اور ان کے خلاف بھی جو ”گولی ماری پہاڑ پر چڑھ جاتے تھے“ ۔ دونوں جنگیں ابھی تک کسی نہ کسی طرح جاری ہیں۔ ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر ہے۔ جمہوری آزادیوں کے نام پر وہی ”جمہوری تماشا“ جاری ہے جو آپ کو سمجھانے کے لیے ایک علیحدہ خط لکھنا پڑے گا۔ نوجوان نالاں ہیں اور پاکستان سے ”زندہ بھاگنا“ چاہتے ہیں۔ سندھیوں اور پختونوں کو ہم پنجابیوں سے شکایات ہیں مگر بلوچ کچھ زیادہ نالاں ہیں۔
جوانوں کے ”مسخ شدہ لاشے“ ملنے پر بھی وہ وفاداری کا دم بھریں یا نہیں میں اس پر بھی ہمیشہ ہی کی طرح کنفیوز ہوں۔ آج کل ایک پاگل لڑکی بنام ماہرنگ بلوچ حقوق کے نام پر شورو غوغا کر رہی ہے مگر میں کم سنتا ہوں صد شکر کہ ریاست بھی بہری ہے اور ہم اس ملک کے رہنے والے گونگے بہرے سو امید ہے اس کی آواز بھی دبا دی جائے گی۔ وہ جس انقلاب کی داعی ہے وہ بلوچستان میں آنے کا خوف مجھے ڈراتا ہے کہ سنا ہے وہاں کے لوگوں میں آواز اور سماعت واپس آنے کا سلسلہ جاری ہے حالانکہ ہم ”وفادار سرداروں“ کے ذریعے کوشش کر رہے ہیں کہ یہ سلسلہ تھم سکے۔
آپ شراب طہور سے غم غلط کریں اور میں کوشش کرتا ہوں کہ ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کی آواز کو خود تک پہنچنے سے روکنے کے لیے ان حقائق پر غور کروں جن کے مطابق یہ ”را“ کی سازش ہے اور ایسے مسخ شدہ لاشے بھی وہی ہتھیار کے طور بنا کر بھیج رہے ہیں تاکہ معصوم بلوچوں اور ہم کم سننے والے غیر بلوچوں کو گمراہ کر سکیں۔ ۔ آپ کو سالگرہ مبارک ہو


