صنفی برابری کے حصول کا خواب!


دنیا کے تمام ملک چونکہ ارتقائی عمل کے مختلف مدارج میں ہوتے ہیں لہٰذا چند مشترک بنیادی شعبوں کے حوالے سے عالمی صورت حال کو جانچنے کے لئے درجہ بندی کا طریقہ کار اپنایا جاتا ہے۔ ہر سال کے اختتام پر یہ تجزیہ کیا جاتا ہے کہ دنیا کے مختلف ملکوں میں معاشی و سماجی ترقی، صحت، ماحول، انسانی حقوق اور صنفی فرق جیسے معاملات میں ماضی کے مقابلے میں منفی یا مثبت کیا پیش رفت ہوئی ہے؟ ایسے موقع پر میری یہ جاننے کی کوشش رہتی ہے کہ جانے والا سال خواتین پر مشتمل دنیا کی نصف آبادی کے لیے کیسا ثابت ہوا ہے؟

اس امر سے انکار نہیں کہ انسانی حقوق کے عالمی منشور اور تمام مہذب جمہوری ملکوں میں عورتوں کو مساوی حقوق کی آئینی ضمانت فراہم کی گئی ہے۔ تاہم، تلخ سچ یہ ہے کہ صنفی مساوات اور برابری کے بلند آہنگ اعلانات اور وعدوں کے باوجود اکیسویں صدی کی تیسری دہائی میں بھی صنفی برابری کا حصول ایک خواب اور سراب ہی محسوس ہوتا ہے۔

مذکورہ بالا تناظر میں ورلڈ اکنامک فورم کی سالانہ رپورٹ کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ صنفی عدم مساوات میں کمی کی رفتار افسوس ناک حد تک اتنی کم ہے کہ اس کے 100 فیصد ختم ہونے میں 130 سال بھی لگ سکتے ہیں۔ اس حقیقت سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ کرہ ارض کی آدھی آبادی کو مساوی اور برابری کا مقام دینے کے لیے، پوری دنیا کے ملکوں کی حکومتیں کتنی ”سنجیدہ کوششیں“ کر رہی ہیں!

زیر نظر تجزیے میں، میری زیادہ توجہ نسبتاً یورپی ملکوں پر مرکوز رہے گی۔ سب سے کم صنفی فرق والے دس سر فہرست ملکوں میں آئس لینڈ، ناروے، فن لینڈ، نیوزی لینڈ، سویڈن، جرمنی، نمیبیا، لیتھونیا اور بیلجیئم شامل ہیں۔ ان سر فہرست ممالک میں صنفی فرق اوسطاً % 80 کم ہے یعنی مرد اور عورت کے درمیان % 20 نا برابری پائی جاتی ہے۔ یہ جان کر آپ کو شاید حیرت ہو گی کہ سر فہرست ملکوں میں اول مقام رکھنے والا ملک آئس لینڈ، جس کی آبادی صرف 3 لاکھ 72 ہزار سے کچھ زیادہ ہے وہ بھی اپنی ڈیڑھ لاکھ عورتوں کو مکمل مساوی حیثیت دینے میں ناکام ثابت ہوا ہے۔ تاہم، یہ ملک اس بات پر اگر چاہے تو ضرور فخر کر سکتا ہے کہ وہاں صنفی فرق % 91.2 کم ہے۔ آئس لینڈ دنیا کے 195 ملکوں میں ایسا واحد ملک ہے جو نہ صرف صنفی فرق کو % 90 سے زیادہ کم کرنے میں کامیاب ہوا ہے بلکہ اس حوالے سے وہ پچھلے 14 برسوں سے تمام ملکوں پر سبقت بھی لیے ہوئے ہے۔

آئس لینڈ کے بعد ناروے، فن لینڈ اور سویڈن % 87.9۔ % 86۔ % 81.5 کے ساتھ دوسرے، تیسرے اور پانچویں درجے پر ہیں۔ اس درجہ بندی میں نیوزی لینڈ % 86.6 کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔ دنیا کے پہلے پانچ سرفہرست ممالک میں مشرقی ایشیا و پیسیفک کا صرف یہی ملک یورپ سے باہر واقع ہے۔ یورپ کو دیگر خطوں پر اس حوالے سے بھی برتری حاصل ہے کہ سب سے کم صنفی عدم مساوات رکھنے والے دس ملکوں میں سے سات کا تعلق اسی براعظم سے ہے جب کہ باقی تین ممالک میں نیوزی لینڈ کے علاوہ لاطینی امریکا کا ملک نکاراگوا ساتویں اور افریقہ جیسے غریب ترین خطے کا ملک نمیبیا آٹھویں درجے پر ہے۔ یہاں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ لاطینی امریکا اور افریقہ کے ان دو ملکوں میں، یورپ کے لیتھونیا اور بیلجیم سے کم صنفی فرق پایا جاتا ہے جو نویں اور دسویں درجے پر ہیں۔

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ معاشی مواقعوں کی فراہمی اور سیاسی خود مختاری کے حوالے سے موجود بھیانک فرق کو ختم کیے بغیر صنفی عدم مساوات کا خاتمہ محض ایک خواب ہی رہے گا۔ عالمی طور پر ان دونوں حوالوں سے صورت حال بے حد مایوس کن ہے۔ معاشی شعبوں میں 40 فیصد عورتوں کو کسی بھی طرح کے کوئی مواقع حاصل نہیں ہیں۔ جہاں تک سیاسی طور پر با اختیار ہونے کا تعلق ہے تو دنیا کی صرف 20 فیصد عورتیں با اختیار ہیں جب کہ 80 فیصد عورتیں سیاسی اختیار سے قطعی طور پر محروم ہیں۔ ان دو بنیادی عوامل کے باعث کہا جاتا ہے کہ صنفی عدم مساوات کے خاتمے کی منزل ابھی بہت دور ہے۔

اسی رپورٹ میں اگر جاپان کے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو ناقابل یقین حد تک آپ حیرت میں مبتلا ہو جائے گے۔ جاپان کے بارے میں زیادہ تر مثبت خبریں ہی سننے کو ہی ملتی ہیں اور عموماً سب اچھا کا تاثر پایا جاتا ہے۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی جاپان صنفی فرق کی فہرست میں 125 پوزیشن پر موجود ہے۔ سیاسی خودمختاری کے حوالے سے جاپان عالمی درجہ بندی میں سب سے نچلے درجے پر پایا جاتا ہے۔ پارلیمان میں خواتین کی شمولیت تقریباً 10 فیصد ہے۔ اب تک کی تاریخ میں کوئی خاتون سر براہ مملکت کے منصب تک نہیں پہنچ سکی ہے۔ تاہم تعلیم اور صحت کے شعبوں میں صنفی برابری پائی جاتی ہے۔

صنفی فرق میں کمی کے مجموعی تناظر میں اگرچہ یورپ کے کئی ملک عالمی درجہ بندی میں سر فہرست نظر آتے ہیں لیکن یورپ کے بہت سے ملکوں میں صنفی عدم مساوات کے اوپر بیان کردہ، دو اہم ترین شعبوں میں عورتوں کی صورت حال بڑی مایوس کن ہے۔ معاشی عمل میں شرکت اور مواقعوں تک عورتوں کی رسائی کے حوالے سے یورپ میں 69.7 فیصد صنفی فرق موجود ہے۔ اس اہم موازنے میں یورپ، شمالی امریکا اور ایشیا پیسیفک سے پیچھے ہے اور تیسرے نمبر پر آتا ہے۔

مذکورہ پس منظر میں اگر صرف یورپی ممالک کا جائزہ لیں تو ناروے، سویڈن اور آئس لینڈ میں، معاشی شرکت اور مواقعوں تک عورتوں کی رسائی میں مساوات کی سطح بلند ترین ہے جب کہ کم ترین مساوات والے ملکوں میں اٹلی، شمالی مقدونیا، بوسنیا اور ہرزیگوینا شامل ہیں۔ میں یہاں یہ ذکر بھی کرتی چلوں کہ اٹلی صنفی فرق مساوات کی عالمی درجہ بندی میں 79 اور یورپ میں 30 ویں درجے پر ہے۔ پاکستان کا منظر نامہ کہیں زیادہ دردناک ہے۔ صنفی فرق کی عالمی درجہ بندی میں پاکستان، نچلے ترین پانچ ملکوں میں شامل ہے۔ پوری دنیا میں سب سے زیادہ صنفی فرق اور عدم مساوات، افغانستان، چاڈ، الجیریا، ایران اور پھر پاکستان میں پائی جاتی ہے۔ کیا اسے محض اتفاق کا نام دیا جائے کہ یہ پانچوں اکثریتی ملک مسلم ہیں۔

Facebook Comments HS