آئیں ہمارے سنگ اڑیں
کراچی سے اسلام آباد کی پرواز پر سفر کرنے کا نادر تجربہ ہوا۔ سوچا کہ اس کہانی سے آپ کو کیوں محروم رکھیں۔ تو پھر آئیں، ہمارے سنگ اڑیں۔
ٹکٹ پر ساڑھے تین بجے کا ٹائم لکھا تھا اور تاکید تھی کہ دو گھنٹے پہلے حاضر ہونا ہے۔ ہم جہاں موجود تھے، وہاں سے کام ادھورا چھوڑ کر بھاگ کر نکلے، مارے جلدی کے وہاں لنچ بھی نصیب نہ ہوا، نماز بھی گرتے پڑتے ٹیکسی میں پڑھی اور ابھی راستے میں تھے کہ فون کی گھنٹی بجی۔ غور کیا تو برقی پیغام موصول ہوا کہ معزز مسافر سے معذرت کے خواستگار ہیں کہ طیارہ صرف چار گھنٹے دیر سے پرواز کرے گا۔ فوری طور پر کچھ سمجھ میں نہ آیا کہ اب ہم کیا کریں کہ بیچ کراچی میں، ٹیکسی کے اندر، آگے چار گھنٹے اور پیچھے چالیس میل۔ سواری میں پس آئینہ ایک مسجد کے مینار نظر آئے تو دل یہ سوچ کر گرفت میں آ گیا کہ ہم نے بھاگ کر سفری نماز ادا کرنے کی ٹھانی تو خدا نے سفر کو دراز کر دیا۔ گھبرا کر ٹیکسی والے کو وہیں روک کر ایک کثیر رقم یوں ادا کی جیسے ہم خدا سے غفلت برتنے پر کفارہ ادا کرنا چاہتے ہوں اور مسجد میں گھس گئے۔
وہاں سجدے میں گر کر اپنے گناہوں کی معافی مانگتے مانگتے نیند آ گئی اور آنکھ کھلی تو سات بجنے میں سات منٹ رہتے تھے اور اگلی نماز کی اذان ہو رہی تھی۔ ہم نے دل پر پتھر رکھ کر پھر ائرپورٹ کی جانب دوڑ لگائی اور اگلی نماز ٹیکسی میں پڑھتے ہوئے آنکھیں نم ہو گئیں کہ پھر بے ادبی کر بیٹھے ہیں۔ مگر ہم کیا کرتے کہ صرف پندرہ منٹوں میں جہاز پر سوار ہونا تھا۔ ابھی ائرپورٹ پر پہنچا ہی تھا کہ فون کی گھنٹی بجی اور ایک نیا برقی پیغام موصول ہوا جس میں درج تھا کہ مسافر کی پرواز مزید تین گھنٹے تاخیر سے روانہ ہو گی۔ اس دفعہ انہوں نے معذرت بھی نہیں کی تھی۔ ادھر ادھر دیکھا تو قریب کوئی مسجد بھی نہ تھی۔ سوائے سر جھکا کر انتظار گاہ میں بیٹھنے کے کوئی اور چارہ نہ تھا، سو ہم نے وہی کیا جو درکار تھا۔
بیٹھ کر ہونقوں کی طرح ادھر ادھر دیکھتے رہے۔ کہیں مظلوم شوہر بیگمات کے بیگ اور اپنے بچے اٹھا کر جاتے نظر آئے اور کہیں گنجے دفتری بابو گلے میں پھندا ڈالے اپنی بیلٹیں ڈھیلی کر کے صوفوں میں اڑسے دکھائی دیے۔ ہم بس یہ اہتمام کر سکے کہ نیند سے دور رہیں اور دیکھتے رہیں۔ نماز عشاء کا وقت ہوا تو سوچا کہ بھاگ کر انتظار گاہ کے کسی کونے میں فرض پڑھ لیں۔ اتنا اطمینان ضرور تھا کہ جہاز راں آغاز سفر کا اعلان تو کرتے ہی ہیں۔ نماز پڑھ کر دل کا بوجھ ہلکا ہو گیا۔ سلام پھیر کر ادھر ادھر دیکھا تو لاؤنج کچھ خالی خالی نظر آیا۔ جوتوں کے تسمے باندھے بغیر بھاگم بھاگ کاؤنٹر پر پہنچے، پرواز کا پوچھا تو استفسار ہوا کہ اچھا آپ بھی اسی جہاز کے مسافر ہیں جس کا دروازہ بند ہونے کو ہے؟ ہم نے اثبات میں سر ہلا کر پوچھا کہ آپ نے اعلان کیوں نہیں کیا؟ گویا ہوئے کہ سارے مسافر سر پر چڑھ کر گھنٹوں سے گھور رہے تھے، ہم نے سمجھا کہ اعلان کی ضرورت نہیں۔ ہم نے بس رکاوٹ ہٹائی اور سارے جہاز میں چلے گئے، آپ بھی چلے جائیں۔
مابدولت کو جہاز کی دم پر آخری سیٹ ملی۔ برابر میں ایک گول مٹول صاحب بیٹھے تھے جن کا پیٹ ان کی اپنی سیٹ سے اوور فلو ہو کر ہماری سیٹ پر لڑھک رہا تھا۔ ہم نے ان کی توجہ اس امر کی جانب مبذول کروائی تو انہوں نے یہ کہہ کر منہ دوسری طرف پھیر لیا کہ اب میں اس کو کہاں رکھوں۔ چارو نا چار ہم اسی سیٹ کے بقیہ حصے پر سمٹ کر بیٹھ گئے۔ وہ صاحب جب سانس اندر کھینچتے تھے تو ہمیں کچھ موقع مل جاتا تھا اور ہم پاؤں پر زور لگا کر سیٹ میں فٹ ہونے کی کوشش کر لیتے۔ ایک دفعہ ان کے پیٹ میں ایک گڑگڑاہٹ ہوئی جس سے ہماری کمریا میں موجود مہرے ہلتے محسوس ہوئے مگر ہم ڈٹے رہے اور باقی سفر اسی گاؤ تکیے پر کمر ٹکائے ہچکولے لیتے گزرا۔
اتنے میں پائلٹ کی منمناتی ہوئی آواز آئی کہ پرواز تیار ہے، جہاز کا دروازہ بند کر کے انتظامات کیے جائیں۔ اس اعلان کے ساتھ ہی کچھ خوبصورت پریاں جہاز کے کونوں کھدروں سے نکل کر ہر طرف پھیل گئیں، کسی کو تکیہ دیا کسی کو دلاسا، بالائی خانے پٹخ پٹخ کے بند کیے، ہر کسی کے پیٹ پر عقابی نگاہیں گاڑ کر دیکھا کہ سیٹ بیلٹ باندھی ہے یا نہیں اور یہ جا وہ جا۔ ہماری باری آئی تو اس حسینہ نے کہا کہ سیٹ بیلٹ باندھیے گا۔ ہم نے اپنے اوپر نچھاور ساتھ والی سواری کے پیٹ کو ٹہوکا دیتے ہوئے کہا، اس کو ہٹائیے گا۔ اس نازنین نے ایک نگاہ غلط انداز سے اس موٹے کو دیکھا تو اس نے سانس باہر نکالی اور ہم نے مہلت کو غنیمت جان کر کمر بند کس لیا۔
لاؤڈ اسپیکر پر ائرہوسٹس نے اپنی نقرئی آواز میں بسم اللہ پڑھ کر حفاظت کی دعائیں پھونکیں اور ہم کھڑکی میں نظریں گاڑے بیٹھ گئے کہ جہاز کو ہوا میں چھلانگ لگاتے ہوئے محسوس کر سکیں کہ اچانک خاموشی شدید ہو گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد پائلٹ کی منمناہٹ سنائی دی۔ ’خواتین و حضرات! کسی وجہ سے جہاز کا انجن سٹارٹ نہیں ہو رہا۔ ہم مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔ جیسے ہی انجن سٹارٹ ہوا، ہم اپنی منزل مقصود کی طرف روانہ ہوں گے۔ اس وقت تک آپ اپنی نشستوں پر تشریف جاری رکھیں‘ ۔ ساتھ بیٹھے میرے اس فربہ ہمسفر نے یہ سن کر سانس اندر کھینچی، ہماری ہڈیاں چٹخنے کی آوازیں آئیں اور ہماری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔ بیدار ہوئے یا پھر یوں کہیے کہ ہوش میں آئے تو دیکھا کہ جہاز محو پرواز تھا اور کچھ بچے زور زور سے چیخ رہے تھے۔
پہلے تو یہی سمجھا کہ جہاز گر رہا ہے اور سواریاں شور مچا رہی ہیں۔ ہڑبڑا کر ادھر ادھر دیکھا تو دائیں طرف والی سیٹ پر دو ننھی منی بچیاں موجود تھیں جو سیٹ پر کھڑے ہو کر شور مچا رہی تھیں کہ ’ابو ہمیں ڈرائیور والی سیٹ نظر نہیں آ رہی‘ ۔ ان کے ابو ان سے پچھلی رو میں کسی خاتون کے ساتھ نشستن تھے۔ نہیں معلوم ہو رہا تھا کہ وہ خاتون ان کی کون تھیں۔ خاتون نے اپنی پنڈلیاں ان کی گود میں رکھی ہوئی تھیں اور وہ صاحب انہیں مٹھیاں بھر رہے تھے ؛ یقیناً ان کی اہلیہ ہوں گی۔ وہ خاتون آنکھیں بند کیے چھالیہ چبا رہی تھیں اور باآواز بلند کسی سے مخاطب تھیں کہ ’اماں، بچیوں کو چھالیہ نہ دیجو، ان کا گلا خراب ہو جائے گا‘ ۔ وہ اماں ان بچیوں سے ایک سیٹ دور کسی اور کے ساتھ بیٹھی لاحول ولا پڑھ رہی تھیں اور بچیوں کو ہونٹوں پر انگلی رکھ کر خاموش رہنے کا اشارہ کر رہی تھیں کیونکہ وہ چھالیہ انہیں دے چکی تھیں۔ ایک بچی بولی، ’دادی، اور چھالیہ دو ورنہ امی کو ابھی بتاتی ہوں‘ ۔ اتنے میں دوسری بچی نے کال بیل دبا کر ائرہوسٹس کو بلا لیا۔
ائرہوسٹس جھاڑو والی جادوگرنی کی طرح اڑتی ہوئی آئی تو بچی کے پاس کچھ کہنے کو نہ تھا۔ اس کے باپ نے خفت مٹانے کے لئے آواز دے کر کہا کہ ایک تکیہ عنایت کیجیے گا۔ وہ محترمہ تکیہ دینے آئیں تو دونوں بچیوں نے کہا کہ ہمیں بھی تکیہ چاہیے۔ اس پر ان کے ابو نے اپنی اماں کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ بھی تکیہ لے لیجیے۔ وہ ناکتخدا نہ جانے کہاں کہاں سے تکیے اکٹھے کر کے لائی تو بچیوں نے چائے مانگ لی۔ ابھی چائے نہیں آئی تھی کہ ایک بچی چیخی، ابا لنچ کب ملے گا۔ جواب میں ان کے ابے کی بجائے، ان کی اماں کی آواز گونجی ’اماں، بچیوں کو بھوک لگی ہے، ان کو چھالیہ نہ دیجو، ان کا گلا خراب ہو جائے گا‘ ۔ اس پر میرے ساتھ بیٹھے میرے ہم سفر نے ان خاتون کو ٹیڑھی آنکھوں سے دیکھ کر گہری سانس لی اور میرے ایک دفعہ پھر کڑاکے نکل گئے۔
بچوں کے معاملے میں ہم ذرا نابلد رہے ہیں۔ اس لیے ساتھ بیٹھے بچوں کی حرکات و سکنات سے ہمارے اوسان خطا ہو رہے تھے۔ کھانا کھا کر ویسے ہی میٹھے میٹھے جھولے آ رہے تھے۔ اچانک ایک بچی بول اٹھی، ’ابا! آنٹی نے جو آکسیجن ماسک دکھایا تھا، وہ کب گرے گا؟‘ ان کے ابو نے شفقت کا دامن ہاتھ سے چھوڑے بغیر جواب دیا، ’بیٹا! جب جہاز خراب ہو گا تو وہ خود بخود آپ کے سامنے آ جائے گا‘ ۔ بچی کی خوشی کی انتہا نہ رہی اور ساتھ بیٹھی بہن کو تھپڑ مار کر بولی، ’کتنا مزا آئے گا‘ ۔ یہ سن کر میرے ساتھ بیٹھے موٹے مسافر کی سانس دھونکنی کی طرح چلنا شروع ہو گئی اور ہم ایسا محسوس کر رہے تھے جیسے ہم کسی اونٹ پر بیٹھے سفر کناں ہیں۔
ابھی یہ کیفیت طاری تھی کہ جہاز یک دم نیچے جاتا محسوس ہوا اور پھر پھر دوبارہ اوپر جا کر پھڑپھڑایا۔ اسی اثنا میں پائلٹ کی منمناتی آواز سنائی دی جو بچیوں کی چیخ و پکار میں کسی کو سنائی نہ دی۔ ایک بچی بولی، ’ابا! جہاز کا پر ہل رہا ہے‘ ۔ اچانک جہاز نے پھر غوطہ لیا اور ساتھ بیٹھے شخص نے بھی سانس اندر کھینچی۔ اب دوسری بچی بولی، ’ابا! جہاز کے ونگ کو آگ لگ گئی ہے‘ ۔ ہماری ریڑھ کی ہڈی میں ایک سنسناہٹ دوڑ گئی۔ ایک لمحے میں ساری عمر کے قصے فلم کے ٹریلر کی طرح آنکھوں کے سامنے کھیتوں میں ناچتی ہیروئن کی طرح گزر گئے۔ ہم نے سوچا کہ موبائل فون نکال کر اپنا آخری وڈیو پیغام ہی ریکارڈ کر لیں۔ لیکن ابھی سوچ ہی رہے تھے کہ اس تکلف کی ضرورت ہی کیا ہے کہ بچیوں کے ابو کی شفقت بھری آواز پھر سنائی دی، ’بیٹا! یہ سورج کی روشنی کا عکس چمک رہا ہے، ابھی آگ نہیں لگی۔‘ پھر ہنس کر بیگم کو مٹھیاں بھرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بہت شرارتی بچیاں ہیں۔
اتنے میں ایک زوردار دھماکا ہوا۔ لوگ سیٹوں پر سے اچھل پڑے۔ کچھ کی چیخیں نکل گئیں اور کچھ کا کھایا پیا باہر آ گیا۔ ہم سمجھے کہ ہم نے جو نمازیں نہیں پڑھیں تھیں، ان کی جواب دہی کا وقت آ گیا ہے۔ آنکھیں تھوڑی تھوڑی کھول کے دیکھا تو ایک بچی چپس کے پیکٹ پر مکہ مار کر دانت نکال رہی تھی۔ اس دفعہ، ساتھ نتھی مسافر نے سانس اندر نہ کھینچی۔ ہم نے مڑ کر دیکھا تو وہ ساکت تھے۔ مجھے ایک اور فکر پڑ گئی کہ خدانخواستہ ان کو کچھ ہو گیا تو ہم اس بوجھ کے نیچے سے کیسے نکلیں گے۔
قدرت نے ہر درد کے ختم ہونے کا اہتمام کر رکھا ہے مگر ہم پتہ نہیں کس سوچ میں ڈوبتے چلے گئے۔ ایسا لگا جیسے ہم کسی صحرا میں اونٹ پر سوار کہیں جاتے ہیں، ہر طرف آہ و بکا ہے، پہاڑ تکیوں کی طرح گر کر اچھل رہے ہیں اور فضا میں نمک، مرچ اور مصالحے کے جھکڑ چل رہے ہیں۔ ہم ایک لحظے کو بھول ہی گئے کہ ہم کون ہیں۔ اچانک ایک گلاب کی پنکھڑیوں کے کھلنے کی آواز آئی۔ وہ کہتی تھی، ’جناب! اٹھیے! ‘ ہم نے غنودگی میں پوچھا، کیوں؟ وہ پھر بولی، ’جائیے‘ ۔ ہم نے آنکھیں کھول کر پوچھا کہ کہاں؟ وہ سٹپٹا کہ بولی، ’جناب جہاز خالی ہو چکا ہے، گھر کو جائیے‘ ۔ ہم نے آنکھیں کھول کر پوچھا، کس کے گھر۔ سامنے گلاب کے کانٹے نمودار ہوتے نظر آئے تو پھر کہیں جا کر ہوش آیا کہ ہم کون ہیں۔
طیارے سے باہر نکلے تو ہمارا سامان کسی بیلٹ پر نہیں تھا۔ ساری سواریاں چلی گئیں۔ وہ دو بچیاں بھی اٹکھیلیاں کرتے جاتی دکھائی دیں۔ ہمارے جہاز کی ائر ہوسٹسیں بھی کسی اور کی ویگن میں بیٹھ کر روانہ ہو گئیں۔ ہمارے ساتھ بیٹھنے والا دیو شکم بھی ہماری آنکھوں کے سامنے زمین روندتا چلا گیا۔ ہم اکیلے رہ گئے۔ سامان کی بیلٹ خالی ہو گئی اور پھر رک گئی۔ نہیں معلوم کہ ہمارا سامان کہاں رہ گیا۔ دفتر شکایات میں پہنچ کر لکھوایا کہ پرواز پر سامان ساتھ نہیں آیا، شاید کراچی میں ہی رہ گیا ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ سامان میں کیا کچھ تھا؟ ہم نے لکھوایا کہ کچھ خاص نہیں، بس دس کلو حبشی حلوہ، ایک بوری نمکو اور ایک ٹوٹا ہوا دل۔

